Baaghi TV

Tag: کپ

  • ٹینی شیس پولو کپ:ڈائمنڈ پینٹس،شیخو اسٹیل اورماسٹر پینٹس نےزبردست میچ کھیل کرکامیابیاں حاصل کیں

    ٹینی شیس پولو کپ:ڈائمنڈ پینٹس،شیخو اسٹیل اورماسٹر پینٹس نےزبردست میچ کھیل کرکامیابیاں حاصل کیں

    لاہور:جناح پولو فیلڈز میں پولو سیزن 2022-23 کا پہلا ٹورنامنٹ ٹینی شیس پولو کپ 2022ء سپانسرڈ بائی گوبیز پینٹس کےتیسرے روز آج ڈائمنڈ پینٹس/شیخو اسٹیل اور ماسٹر پینٹس نےجناح پولو فیلڈز میں اپنے اپنے میچ کھیل کرزبردست کامیابیاں حاصل کیں

    ذرائع کے مطابق جناح پولو فیلڈز میں آج کھیلے جانے والے میچ کو شائقین کی ایک اچھی تعداد نے دیکھا اور ان سے لطف اندوز ہوئے ، اس موقع پر کھلاڑیوں کے اہل خانہ بھی یہ میچ دیکھنے کےلیے تشریف لائے تھے ، ۔

    اس موقع پر جناح پولو فیلڈ کلب کے صدر لیفٹیننٹ کرنل شعیب آفتاب (ر)، سیکرٹری میجر بابر محبوب اعوان اور دیگر منتظمین نے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدیدکہا اور خود بھی میجز سے لطف اندور ہوتے رہے ،

    دن کے پہلے میچ میں ڈائمنڈ پینٹس/شیخو اسٹیل نے ریمنگٹن پولو/گارڈ گروپ کی ٹیم کو دلچسپ مقابلے کے بعد 7-6 سے شکست دی۔ میر حذیفہ احمد نے پانچ شاندار گول کیے جبکہ ڈائمنڈ پینٹس/شیخو اسٹیل کی طرف سے بلال حئی اور محمد مطلوب ایزد نے ایک ایک گول کیا۔ ریمنگٹن پولو/گارڈ گروپ کی طرف سے تیمور علی ملک نے پانچ اور ثاقب خان خاکوانی نے ایک گول کیا۔

    دوسرے میچ میں ماسٹر پینٹس نے حاجی سنز کی ٹیم کو 5-4 سے شکست دی۔ مینوئل کارانزا نے تین جبکہ صوفی محمد ہارون اور صوفی محمد عامر نے ایک ایک گول کیا۔ حاجی سنز کی طرف سے ممتاز عباس نیازی نے تین اور عمر اسجد ملہی نے ایک گول کیا۔

    یاد رہے کہ ٹورنا منٹ کے پہلے میچ میں ریجاس پولو زیڈ ایس نے حاجی سنز پولو ٹیم کو 8.5-6 گولوں سے ہرایا۔ ریجاس پولو/زیڈ ایس کی طرف سے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی نے چار اور احمد زبٹ نے تین گول سکور کیے جبکہ ٹیم کو ڈیڑھ گول ٹیم کو ہینڈی کیپ ایڈوانٹیج حاصل تھا۔

    حاجی سنز کی طرف سے ممتاز عباس نیازی نے چاراور عمر اسجد ملہی نے دو گول سکور کیے۔ دوسرے میچ میں ایف جی /دین پولو ٹیم نے ڈائمنڈ پینٹس /شیخو سٹیل کی ٹیم کو 11-3.5 سے ہرا دیا۔ ایف جی /دین پولو کی طرف سے میاں عباس مختار اور لیفٹیننٹ کرنل عمر منہاس (ریٹائرڈ) نے چار چار جبکہ شیخ محمد رافع نے دو جبکہ شیخ محمد فرہاد نے ایک گول سکور کیا۔ کل بدھ کو بھی میجز کھیلے گئے تھے

  • ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست

    ایشیا کپ، افغانستان کی سری لنکا کو با آسانی شکست

    ایشیا کپ میں پہلے ٹی ٹونٹی میچ کے دوران افغانستان نے سری لنکا کو با آسانی شکست دیدی۔ 105 رنز کا ہدف 11 ویں اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔

    افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے حریف ٹیم سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو نیسانکا اور کوشل مینڈس نے اننگز کا آغاز کیا۔ آئی لینڈرز کو پہلے ہی اوورز میں دو نقصان اٹھانا پڑ گئے۔ دونوں اوپنرز بالترتیب تین اور دو سکور بنا کر آؤٹ ہوئے۔

    اس کے بعد دیگر کھلاڑی بھی کریز پر زیادہ دیر تک نہ رُک سکے، راجا پاکسے 38 رنز بنا کر ٹاپ سکورر رہے، اسالانکا 0، گوناتھیکلے 17، ڈی سلوا 2، شناکا 0، کرونارتنے 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، فضل الحق فاروق نے تین شکار کیے، مجیب الرحمان اور محمد نبی نے دو دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔

    افغانستان کی ٹیم نے ہدف کا تعاقب 11 ویں اوورز میں حاصل کر لیا۔ حضرت اللہ زازائی 28 گیندوں پر 37 رنز ، نجیب اللہ زردان دو رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، رحمن اللہ گرباز 40، ابراہیم زردان 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ہاسا رنگا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

  • ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    ابھینندن کا کپ پاکستان میں اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں ۔۔۔ اسد عباس خان

    تاریخ گواہ ہے ہندوستان نے جب جب پاکستان کے خلاف چوری چھپے سازش کی یا کھلم کھلا دھوکہ دہی، ہمیشہ ناکام و نامراد ہوا خواہ کھیل کا میدان ہو یا جنگی محاذ ! اور تماشہ بھی پوری دنیا نے دیکھا رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کی چمکدار روشنی میں۔۔۔۔۔۔۔! ہندوستانی وایو سینا کے ابھینندن نے لائن کراس کر کے مار کھائی تو سینا کے نشان زدہ گلوز پہن کر کھیلنے پر اصرار کرنے والے سینائی سپوت دھونی نے لائن کراس نہ کر کے "سوا سو کروڑ” کے دیش واسیوں کی لٹیا ڈبو دی۔ ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پانچ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی دو طرفہ سیریز میں دو صفر کی برتری حاصل ہونے کے بعد "بنیے” کے سازشی دماغ میں پاکستان مخالفت کی "کُھرک” ہوئی تو کرکٹ جیسے مہذب افراد کے کھیل میں بھی سیاست گھسیڑ دی۔ تیسرے ایک روزہ میچ میں ہندوستانی کھلاڑی بھارتی فوج کی ٹوپی پہن کر گراؤنڈ میں اترے تو پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی عثمان خواجہ نے پورے ہندوستان کو ہی ٹوپی پہنا دی۔ اس میچ میں سینچری بنانے والے عثمان خواجہ نے اگلے دونوں میچز میں بھی شاندار کارکردگی دکھائی اور آسٹریلیا دو کے مقابلے میں تین میچز جیت کر سیریز پر قابض ہو چکا تھا اور عثمان خواجہ مین آف دی سیریز کا حق دار قرار پایا۔ آج ورلڈ کپ کے میچ میں ہندوستان صرف ہارا نہیں ذلیل و رسواء ہوا ہے، ذلالت کی وجہ وہی میچ ہے جو پاکستان کو سیمی فائنل میں جانے سے روکنے کے لیے انگلینڈ سے جان بوجھ کے ہارا تھا۔
    ہاں ہاں جان بوجھ کر ہارا تھا۔۔۔۔۔۔!
    اس میچ کے لیے ایک بار پھر ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ میں بیٹھے پنڈتوں نے سیاسی چال چلی اور ہندو توا کے خاص زعفرانی رنگ کی جرسی پہن اُتری مقصود وہی تھا جو آسٹریلیا کے ساتھ سیریز میں سوچا گیا۔ انگلینڈ کی ٹیم مضبوط اپنی جگہ لیکن اس ورلڈ کپ میں ہندوستان سے مقابلے سے قبل دو ایشیائی ٹیموں نسبتاً کمزور سری لنکا اور پاکستان سے عبرت ناک شکست کھا چکی تھی۔ اس میچ میں پہلے ہندوستان کے باؤلرز نے انگلش بیٹسمینوں سے دل کھول کر پٹائی کھائی اور گراؤنڈ میں واضح دیکھا جا سکتا تھا کہ ہندوستانی کپتان یا کسی ایک کھلاڑی کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ بیٹنگ کا موقع آیا تو روہت شرما جو سب ٹیموں پر برس رہے تھے اچانک بھیگی بلی بنے نظر آۓ سینچری تو بنائی لیکن نہایت سست روی سے۔ البتہ میچ میں ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان جیت سکتا ہے لیکن پھر میدان میں دھونی کی آمد ہوئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پانچ وکٹ باقی ہونے کے باوجود "فنشر” کا خطاب یافتہ "دھونی” آخری اوور تک اس خیال سے بیٹنگ کرتا رہا کہ کہیں غلطی سے بھی باؤنڈری نہ لگ جائے۔ ہندوستان کے لیے کھیلتے ہوئے ہدف کے تعاقب میں 47 باریوں میں محض یہ دوسرا موقع تھا جب دھونی ناٹ آؤٹ رہا اور اس کی ٹیم ہار گئی۔ آئی پی ایل میں چنائی سپر کنگ کے کپتان رہنے والے دھونی کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے باعث دو سال تک پابندی کا شکار بھی رہی ہے یہ بات تو سب جانتے ہیں۔ سابق ہندوستانی کرکٹر سارو گنگولی جو اس میچ میں کمنٹری کر رہے تھے وہ بھی اپنے ساتھی کمنٹیٹرز کو اس سست روی سے بیٹنگ کرنے کا کوئی جواز نہ پیش کر سکے اور ہندوستان میچ ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    اس ہار کے اختتام پر ہندوستان میں جشن کا سا سماں تھا۔ کرکٹ کی پوجا اور کرکٹرز کو بھگوان کا درجہ دینے والے ہندوستانی بالخصوص سوشل میڈیا پر اندرونی غلاظت انڈیل رہے تھے۔ علی الاعلان کہا جا رہا تھا کہ ہندوستان نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی ہے دھونی کو ونگ کمانڈر ابھینندن سے ملایا گیا۔ زعفرانی رنگ کے بھی چرچے رہے۔ سوائے اس میچ کے میری نظر میں کھیل میں کوئی مقابلہ ایسا نہیں گزرا جب ہارنے والی ٹیم نے پٹاخے پھوڑے ہوں۔ مگر ہاں اسی سال 27 فروری کو دو جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر کی تباہی 20 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت اور ونگ کمانڈر ابھینندن کا زندہ پکڑے جانے کے بعد عوام سے پڑنے والی چھترول پر ہندوستانیوں کو فخریہ جشن منانا دیکھ چکا تھا۔
    خیر پاکستان سیمی فائنل کھیلنے والی نیوزی لینڈ سے پوائنٹ برابر ہونے کے باوجود بھی سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا حالانکہ اس نیوزی لینڈ ٹیم نے سیمی فائنلسٹ ٹیموں میں سے کسی ایک کو بھی شکست نہیں دی۔ جبکہ پاکستان دو سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کو ہرا کر بھی "متنازعہ” نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر باہر ہو چکا تھا۔ چور دروازے سے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھنے والے ہندوستان کو سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے روند ڈالا۔ اور آج کے مقابلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ کی توفیق سے پاکستان کے دشمنوں کا ہر وار الٹا اسی کے گلے کا پھندا بنا۔ جیت نیوزی لینڈ کی ہوئی ماتم ہندوستان میں اور سرخرو پاکستان ہوا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ
    ابھینندن کا کپ لاہور میں
    اور کوہلی کا کپ انگلینڈ میں رہ گیا۔۔۔۔!
    اب "ٹیم انڈیا” کے استقبال کے لیے ہندوستان میں ٹماٹر ختم ہوگئے ہیں تو پاکستان دے سکتا ہے آخر ہمسائے ہیں ہمارے۔

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد