Baaghi TV

Tag: کچھوا

  • دنیا کا معمر ترین کچھوا اپنی 190 ویں سالگرہ منا ئے گا

    دنیا کا معمر ترین کچھوا اپنی 190 ویں سالگرہ منا ئے گا

    فرانسیسی بادشاہت کے دور میں پیدا ہونے والا کچھوا اپنی 190 ویں سالگرہ منا ئے گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا معمر ترین ’جوناتھن‘ نامی کچھوا فرانسیسی بادشاہ نیپولین بونا پارٹ کی ہلاکت کے بعد پیدا ہوا تھا جس کی دور دراز جنوبی بحر اوقیانوس میں سینٹ ہیلینا پر کم و بیش 190 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    رپورٹ کے مطابق دنیا کا معمر ترین کچھوا سینٹ ہیلینا کے گورنر کی سرکاری رہائش گاہ پلانٹیشن ہاؤس میں آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے، جہاں اس کی سالگرہ تقریبات منائی جارہی ہے جس میں خصوصی ڈاک ٹکٹ کا اجرا بھی شامل ہے۔

    جوناتھن کی سالگرہ تقریب کل یعنی 4 دسمبرکو اس کی پسندیدہ خوراک سے بنے ’سالگرہ کیک‘ کے ساتھ منائی جائے گی جبکہ اس کی دیکھ بھال کرنے والوں کو کہنا ہے کہ وہ خاص طور پرگاجر، لیٹش، ککڑی، سیب اور ناشپاتی کھاتا ہےاپنی لمبی عمر کے باوجود وہ ایما نامی مادہ کچھوے کا بھی ساتھی ہے جو محض 50 برس کی ہیں۔

    سابق گورنر لیزا فلپس نے کہا کہ جوناتھن کو دنیا کے قدیم ترین زمینی جانور کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کا خطاب دیا گیا ہے اور اس ماہ اب تک کا سب سے معمر ترین کچھوا بھی قرار دیا گیا۔

    انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی

    جوناتھن کی خاص دیکھ بھال کرنے والے ایک ریٹائرڈ ویٹرنری اہلکار جو ہولنس نے کہا کہ جب آپ سوچیں کہ اس کی پیدائش 1832 میں ہوئی تھی تو یہ ضرور خیال آتا ہے کہ دنیا میں کتنی تبدیلیاں آئی ہوں گی اس دوران عالمی جنگیں، برطانوی سلطنت کا عروج و زوال، کئی گورنر، بادشاہ اور ملکہ رہ چکے ہوں گے اور یہ بہت غیر معمولی پہلو ہے،کہا جاتا ہے کہ یہ 1832 میں پیدا ہواجس کو 50 برس بعد برطانیہ لایا گیا تھا-

    جنوبی بحر اوقیانوس کا سینٹ ہیلینا وہ علاقہ ہے جہاں شکست خوردہ فرانسیسی شہنشاہ نیپولین بونا پارٹ 1821 میں جلاوطنی کی حالت میں ہلاک ہوئے تھے۔

    سوچا جاتا تھا کہ وہ 1832 کے آس پاس پیدا ہوا تھا، جوناتھن کو سر ولیم گرے ولسن جو بعد میں گورنر بنے کو تحفے میں دیا گیا تھا وہ 1882 میں سیشلز سے سینٹ ہیلینا پہنچے۔ اس کے بعد کی دہائیوں میں مزید 31 گورنر آئے اور چلے گئے۔

    سینٹ ہیلینا کے سیاحت کے سربراہ میٹ جوشوا کے مطابق، سچ میں، جوناتھن کی عمر 200 سال بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کوئی بھی اس کی صحیح عمر نہیں جانتا ہے۔

    انہوں نے سی این این کو بتایا جوناتھن اصل میں 200 سال کا ہو سکتا ہے کیونکہ جزیرے پر اس کی آمد کے بارے میں معلومات درست نہیں ہیں اور اس کی پیدائش کا کوئی حقیقی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    اس کی عمر کا مزید ثبوت اس وقت سامنے آیا جب 1882 اور 1886 کے درمیان لی گئی ایک پرانی تصویر کا پردہ فاش ہوا۔ اس میں، ایک مکمل بالغ جوناتھن کو سینٹ ہیلینا کے گورنر کی رہائش گاہ پلانٹیشن ہاؤس کے باغ میں دیکھا جا سکتا ہے،جہاں اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے۔

    پچھلا سب سے پرانا چیلونین توئی ملیلا تھا، ایک ریڈی ایٹڈ کچھوا جس کی عمر کم از کم 188 تھی۔ برطانوی ایکسپلورر کیپٹن جیمز کک نے 1777 میں ٹونگا کے شاہی خاندان کو پیش کیا تھا، توئی ملیلا کا انتقال 1965 میں ہوا۔

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

  • کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے بچے سمیت 7 افراد ہلاک

    کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے بچے سمیت 7 افراد ہلاک

    افریقی ملک تنزانیہ میں کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے 3 سالہ بچے سمیت 7 افراد ہلاک ہو گئے ہیں.

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق تنزانیہ کے جزیرے پیمبا میں کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے سب سے پہلے 3 سالہ بچہ ہلاک ہوا،جس کے بعد رات کو مزید 2 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ اگلی صبح 4 افراد کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد 7 ہو گئی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھوے کا گوشت کھانے والے 38 افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جن میں صرف تین لوگ اب بھی اسپتال میں موجود ہیں ڈاکڑز کا کہنا ہے کہ کچھوے کا زہریلا گوشت سب سے زیادہ بچوں کو ہی متاثر کرتا ہے۔

    کراچی سفید شیر کی ہلاکت: شوبز فنکار انتظامیہ پر برہم، چڑیا گھر بند کرنے کا مطالبہ

    ٹویٹر پر ایک پیغام میں، زنجبار کے صدر حسین میونی نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

    ٹرٹل فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ زہر کا سب سے زیادہ اثر بچوں اور بوڑھے لوگوں پر پڑ سکتا ہے، حالانکہ صحت مند بالغ افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں انڈونیشیا، مائیکرونیشیا اور ہندوستان کے بحر ہند کے جزائر میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    یاد رہے تنزانیہ کے جزائر اور ساحلی علاقوں میں کچھوے کے گوشت کو پسند کیا جاتا ہے لیکن اب حکام کی جانب سے کچھوے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کچھوے کا گوشت محفوظ تصور کیا جاتا ہے لیکن بہت کم مرتبہ کچھوے کے گوشت میں پائے جانے والے شینلائنوٹاکسنز کی وجہ سے گوشت زہریلا ہو جاتا ہے۔

    کراچی: تین ہٹی کے قریب جھگیوں میں آگ کیسے لگی؟ پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی