Baaghi TV

Tag: کھال

  • مخالف کے کھال میں کرنٹ لگانے سے کسان جانبحق

    مخالف کے کھال میں کرنٹ لگانے سے کسان جانبحق

    قصور
    حویلی سانولے والی بشمولہ گاؤں بلیر تحصیل پتوکی ضلع قصور تھانہ صدر پھولنگر میں سرکاری کھال پر لگائی گئی بجلی کی غیر قانونی تار سے محمد اصغر ولد باغ علی کسان جانبحق
    تفصیلات کے مطابق بااثر زمیندار نے سرکاری کھال پر اپنی طاقت کے بل بوتے پر بجلی کی تار لگا کر کرنٹ چھوڑ دیا جس سے نوجوان کسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا
    رات نو بجے کے قریب محمد اصغر ولد باغ علی سکنہ حویلی سانوے والی بشمولہ بلیر تحصیل پتوکی حدود تھانہ صدر پھولنگر کا رہائشی رات ہو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پانی لگانے گیا جس کے ساتھی صبح صادق سے پہلے گھر آ گئے جبکہ اصغر نے ابھی مذید پانی لگانا تھا کہ صبح 6 بجے کے قریب ہمسایہ زمیندار کی بدمعاشی کے بل بوتے پر سرکاری کھال پر لگائی گئی بجلی کی تار سے ٹکڑا گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی حالانکہ ہمسایہ کسان کو پانی کی باری کا پتہ بھی تھا مگر پھر بھی اس نے کھال پر لگی تار سے کرنٹ نا بند کیا
    ہمسایہ کسان سے اصغر کی رنجش بھی چلی آرہی تھی جس کی بابت ہمسایہ کسان نے جان بوجھ کر تار میں کرنٹ چھوڑ رکھا تھا جو کہ انتہائی غیر قانونی فعل ہے چونکہ کھال سب کی مشترکہ سرکاری ملکیت ہے اور کھال پر پانی لگائے جانے کے دوران ہر بار کھال پر سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے ان جگہوں پر کرنٹ نہیں لگایا جاسکتا اور نا ہی کوئی باڑ لگائی جا سکتی ہے
    اہل علاقہ نے فوری طور پر ہمسایہ کسان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
    پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لے لیا ہے

  • اوورسیز کرپشن کا بے تاج بادشاہ

    اوورسیز کرپشن کا بے تاج بادشاہ

    قصور
    کنگن پور محکمہ انہار کا اوورسیز کرپشن کا بے تاج بادشاہ ایک کھال کا سالانہ ڈھائی لاکھ جگا لینے لگا کسان مجبور
    تفصیلات کے مطابق کنگن پور کے نواحی گاؤں چاہل نول حلقہ نہری بی آر بی (بمبانوالی راوی بیدیاں) میں زرعی رقبہ جو کہ تقریبا 14 ایکڑ ہے کو کوئی کھال نا تھا جسے 2006 میں سردار حسن اختر مؤکل نے عوامی سہولت کے پیش نظر بنوا دیا جو کہ کافی عرصہ تک کسانوں کو پانی فراہم کرتا رہا تاہم گورنمنٹ نے کھال منظور نا کیا اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محکمہ انہار کے اہلکاروں نے کسانوں سے رشوت لینا شروع کر دی اور رشوت نا دینے پر کھال کو پانی دینا بند کر دیا جاتا رہا جس پر کسانوں نے مجبور ہو کر دو چار سو روپیہ فی ایکڑ سالانہ دینا شروع کر دیا تاہم کچھ عرصہ قبل آنے والے عبدالقدیر پراچہ جو کہ نہری کوٹھی کنگن پور کا اوورسیز ہے ،نے کسانوں سے مطالبہ کیا کہ فی ایکڑ 20 ہزار لونگا بصورت دیگر پانی نہیں ملے گا اس پر مجبور ہوتے ہوئے کسانوں نے ظالم و جابر اوورسیز کو ڈھائی لاکھ روپیہ جگا دے دیا تاکہ وہ فصل کاشت کر سکیں کیونکہ دھان کی کاشت جاری ہے جس کیلئے پانی انتہائی اہم ہے جبکہ ٹیوب ویل کا پانی کافی مہنگا ہے
    لوگوں نے ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر کھال کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے اور راشی اوورسیز کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے