Baaghi TV

Tag: کھراسچ

  • ملتان ٹیسٹ بدترین شکست،مبشر لقمان کا بابراعظم و دیگر کے اثاثوں کی چھان بین کا مطالبہ

    ملتان ٹیسٹ بدترین شکست،مبشر لقمان کا بابراعظم و دیگر کے اثاثوں کی چھان بین کا مطالبہ

    ملتان ٹیسٹ میں بدترین شکست کے بعد سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان پی سی بی، کھلاڑیوں پر برس پڑے،کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلی اننگز میں 500 پلس سکور کرنے کے بعد ٹیسٹ میچ ہارنے والی تاریخ کی پہلی ٹیم بن گئی۔ نہ صرف ٹیم بلکہ کوچز، منیجرز اور خود بورڈ کی بھی کتنی شرمناک کارکردگی ہے۔ میں نے ایک ماہ قبل اس بارے میں خبردار کیا تھا اور پی سی بی حکام نے میرا مذاق اڑایا تھا۔مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم، شاہین آفریدی، رضوان اور چھ دیگر کے سینٹرل کنٹریکٹس فوری ختم کئے جانے چاہئے۔ ان کے اثاثوں کی تحقیقات ہونی چاہئیں خاص طور پر بنگلہ دیش بورڈ کے ساتھ روابط کی انکوائری ہونی چاہیے۔ پیسے کی بہت سی ناجائز پگڈنڈیاں وہاں سے نکل سکتی ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ Jason Gillespie میں اگر تھوڑی سی شرم بچی ہے تو انہیں فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہیے (مجھے ذاتی طور پر شک ہے کہ) آپ نے جس معاہدے پر دستخط کیے ہیں اس کے لیے آپ ایک بے شرم انسان ہیں،اس معاہدے کو بھی پبلک کریں۔ گھر واپسی کی ابتدائی پرواز پکڑیں ​​کیونکہ کرسمس کے وقت ٹکٹ زیادہ مہنگے ہو جائیں گے۔

    واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو اننگز اور 47 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور قومی ٹیم نے ٹیسٹ کرکٹ کا بدترین ریکارڈ اپنے نام کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 500 سے زائد رنز بنا کر اننگز کی شکست سے دوچار ہونے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی ،ملتان میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور کپتان شان مسعود، عبداللہ شفیق اور آغا سلمان کی سنچریوں کے ساتھ ساتھ سعود شکیل کے 82 رنز کی بدولت 556 رنز بنائے تھے،جواب میں انگلینڈ نے جو روٹ کی ڈبل اور ہیری بروک کی ٹرپل سنچری کے ساتھ ساتھ دونوں کے مابین ریکارڈ ساز 454 رنز کی شراکت کی بدولت 7 وکٹوں کے نقصان پر 823 رنز بنا کر پہلی اننگز میں 267 رنز کی برتری حاصل کی تھی۔

    میچ کی دوسری اننگز میں پاکستان کی ٹاپ آرڈر بری طرح فلاپ ہوئی اور 82 رنز پر چھ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے، آغا سلمان اور عامر جمال نے نصف سنچریاں بنا کر میچ میں شکست کو ایک دن کے لیے ٹال دیا لیکن وہ بھی ٹیم کو اننگز کی شکست سے نہ بچا سکے اور پوری ٹیم 220 رنز پر ڈھیر ہو گئی،اس طرح انگلینڈ نے میچ میں اننگز اور 47 رنز سے فتح حاصل کر لیا اور ایک بدترین ریکارڈ پاکستان کے نام ہو گیا۔

    ٹیسٹ کرکٹ کی 147 سالہ تاریخ میں پاکستان پہلی اننگز میں 500 یا اس سے زائد رنز بنا کر اننگز کی شکست سے دوچار ہونے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی ہے اور آج تک دنیا کی کسی بھی ٹیم کو پہلی اننگز میں 500 رنز بنانے کے بعد اننگز کی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

    یہ میچ انگلینڈ کے لیے کئی لحاظ سے یادگار رہا جس نے متعدد ریکارڈز اپنے نام کر لیے،یہ ناصرف انگلینڈ کی ایشیا میں اب تک کی سب سے بڑی فتح ہے بلکہ اس براعظم محض دوسری مرتبہ انہوں نے اننگز سے فتح حاصل کی تھی،اس سے قبل انگلینڈ نے ایشیا میں اننگز سے واحد فتح 1976 میں بھارت کے خلاف دہلی ٹیسٹ میں حاصل کی تھی اور اننگز اور 25 رنز سے حاصل کی گئی یہ فتح اب تک انگلینڈ کی براعظم ایشیا میں سب سے بڑی فتح تھی،تاہم اب انگلش ٹیم نے پاکستان کو اننگز اور 47 رنز سے مات دے دی اور یوں یہ ان کی ایشیا میں سب سے بڑی فتح بن گئی ہے،انگلینڈ نے میچ میں پہلی اننگز 7 وکٹوں کے نقصان پر 823 رنز بنا کر ڈکلیئر کردی تھی جو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں اب تک کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا اسکور ہے،اس کے علاوہ ہیری بروک اور جو روٹ نے چوتھی وکٹ کے لیے 454 رنز کی ساجھے داری بھی بنائی جو چوتھی وکٹ کے لیے انگلینڈ کی جانب سے بنائی گئی سب سے بڑی شراکت ہے،

    ایف آئی اے کاروائی کرے،166کھلاڑیوں کی لسٹ تیار،بابر کنگ نہیں کوئین نکلا

    احساس ہو تو کچھ شرم ہوناں،احمد علی بٹ بابر اعظم پر پھٹ پڑے

    بڑا فیصلہ،مبشر لقمان سپریم کورٹ، نیب جانے کو تیار،پی سی بی ،کرکٹرزپر جوڈیشل کمیشن بنے گا؟

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

    ہم نے سچ بولا،شوق پورا کرنا ہے تو کر لیں، احمد شہزادبابر اعظم پر پھر برس پڑے

    ملتان ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی

    پی سی بی نے ایک بار پھر نئی قومی سلیکشن کمیٹی کا اعلان کیا ہے

  • جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کا دن لگتا ہے آر یار پار، میں کلیئر بتا دوں کہ تحریک انصاف بڑی تیزی سے تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بنتے جار ہی ہے، عمران خان کا آغاز مینار پاکستان لاہور کے سائے تلے ہوا جس کا اختتام لاہور کی مویشی منڈی میں ہو گااب طے ہو گیا کہ پی ٹی آئی مویشی منڈیوں میں ہی بھٹکے گی تا کہ اسکی جعلی انقلاب کی بدبو سے ہمارا معاشرہ محفوظ رہ سکے.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں ،بلکہ عمران خان کے کرموں کا پھل کہ پی ٹی آئی کو مینار پاکستان جلسہ نہ کرسکی،مویشی منڈی میں بھی جلسے کے لئے ذلت آمیز شرط رکھی گئی، انتظامیہ کو پی ٹی آئی نے یقین دلایا کہ علی امین گنڈا پور معافی مانگیں گے،اگر ایسا نہ ہوا تو پھر امپائر بینڈ بجائے گا، پولیس بھی نومئی کے ملزمان کو ڈھونڈ رہی ہے، کوئی بھی اشتہاری نہیں گھس سکے گا، لاہور میں تمام راستے کھلے ہیں، جلسہ گاہ میں چند ٹولیاں موجود ہیںَ شہر میں کوئی ایسی ریلی نہیں جو مویشی منڈی جا رہی ہو، پشاور سے لوگ آ رہے لیکن وہ لاہور پہنچیں گے یا نہیں کچھ نہیں کہا جا سکتا، سوشل میڈیا پر راستوں کی بندش کا شور ویسے کیا جا رہا کیونکہ انکو پتہ کہ جلسہ وڑ گیا، کارکن اب نہیں نکلتے ،انکو پتہ ہے کہ اکسانے والے خود بیمار بن گئے اور ہمیں جلسے میں بلا لیتے، آج میں کہتا ہوں کہ پوری پارٹی پی ٹی آئی وڑ گئی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں پریکسٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے، اگلے دو سے تین دن میں سپریم کورٹ ایک بار پھر متحرک دکھائی دے سکتی ہے، آئین کے خلاف کوئی فیصلہ آیا تو تسلیم نہیں کیا جائے گا، پارلیمنٹ اور عدلیہ کھل کر سامنے آ چکی ہے، آر یا پار والا معاملہ ہے،اس بار حکومت مزاحمت کے موڈ میں ہے،اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے کھڑی ہے،فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ پارلیمان کے ساتھ ہے، قومی اسمبلی کے سپیکر نے نئی پارٹی پوزیشن جاری کر دی، پارلیمانی سیاست سے پی ٹی آئی کا وجود ختم ہو چکا، سنی اتحاد کونس اب سب سے بڑی جماعت ہے.

    حماد اظہر جلسہ گاہ پہنچ گئے، حکومت پر کڑی تنقید

    جلسہ میں خالی کرسیاں،مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کو دکھایا آئینہ

    پانچ پانچ ہزار دیہاڑی پر مہاجر کیمپوں میں جلسے کیلئے لوگ لائے جا رہے،انکشاف

    پی ٹی آئی لاہور جلسہ کا وقت شروع،خالی کرسیاں،قیادت نہ پہنچی

    لاہور جلسہ کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان نے "پلان بی” بتا دیا

    لاہور جلسہ،پی ٹی آئی اجازت کی منتظر،علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی تیار

    اجازت دیں یا نہ دیں ہم جلسہ کریں گے،شعیب شاہین

    پی ٹی آئی کا لاہور جلسہ روکنے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ہم پر کربلا بنا دیں جلسہ تو ہر صورت کریں گے،علیمہ خان

    تحریک فتنہ فساد کا جلسہ،سب راستے کھلے ہیں،عظمیٰ بخاری

  • فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں کہتا تھا ناں آپ کو،بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے،اب بھی یہی کہتا ہوں کہ پی ٹی آئی اب بھی ایک اور نومئی کرنے کے درپے ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹکراؤ کے لئے تانے بانے بن رہی ہے،تصادم کا ماحول تیار کر رہی ہے،کل کے جلسے نے میرے خدشات درست ثابت کر دیئے میں نےکہا تھا جلسہ گاہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے وہاں سے بارودی مواد برآمد ہوا ہے، میں نےکہا تھا کہ اشتعال دلائیں گے، جلسہ گاہ میں مقررین نے زہر اگلا، 26 نمبر چونگی پر کیا ہوا، پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس پر پتھر برسائے، لاٹھیاں ماریں،کئی اہلکار زخمی ہوئے، یہ ایک ریہرسل تھی،فائنل راؤنڈ کے لئے، انقلاب کے نام پر اپنے انجام سے بچنے کے لئے، علی امین نے جو زہر اگلا اسکو سمجھنے کی ضرورت ہے،یہ وہی گںڈاپور ہے جو اپنی زمین پر سے اگنے والی فصل کو طالبان کو بھتہ دیئے بغیر نہیں اٹھا سکتا، جس کے صوبے میں جج اغوا کر لیےجاتے ہیں تاوان دے کر رہائی ہوتی ہے، جس کے حقلے سے پاک فوج کے کرنل اور اسسٹنٹ کمشنر بھائی کو مسجد سے اغوا کیا گیالیکن یہ کچھ نہ کر سکے، اس لئے علی امین گنڈا پور نے ریاست کو للکارا اور کہا کہ عمران کو رہا نہ کیا گیا تو اڈیالہ جیل جائےگا اور رہا کروائے گا،کیا جمہوری جدودجہد اسے کہتے ہیں،مریم نواز،خواتین صحافیوں کے بارے میں گنڈا پور نے جو زبان استعمال کی ہماری ثقافت اس کی اجازت نہیں دیتی، علی امین اب صوبے کے وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے، وہ ٹوٹلی ناکام ہو چکے ہیں، اس لئے صوبے کو وسائل کو تصادم میں دھکیل دیا ، اس کا نشانہ پنجاب ہے،جلسے کی آڑ میں تصادم چاہتا ہے ،تصادم ہوا تو خونی اور نومئی سے خطرناک ہو گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ذرا تصور کریں کہ لاہور میں جلسے کی آڑ میں سڑکوں پر بلائے گئے کرائے کے افغان امن امان کو تہس نہس کرنے کی کوشش کریں گے توکیا پنجاب حکومت تماشا دیکھے گی؟ ن لیگ نے گنڈا پور کا چیلنج قبول کر لیا، سب ن لیگی رہنماؤن نے یک زبان ہو کر جواب دیا، اب تصادم کی تاریخ کا اعلان باقی ہے، پی ٹی آئی سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کر چکی ہے، پی ٹی آئی نے تقسیم کی دیوار کھڑی کی، سوسائٹی میں نفرت کا زہر گھولا، نوجوان نسل کو اداروں کے سامنے کھڑا کرنے کی سازش کی، جلسے میں مراد سعید جو چھپا بیٹھا ہے، اپنے ویڈیو پیٍغام میں فائنل راؤنڈ کے لئے اکسا رہا ہے، نوجوان نسل سے باہر نکلنے کے لئے حلف لے رہا تھا.

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • کچے کے ڈاکو بے لگام،12 جوان شہید،کسی کو نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم ان ایکشن

    کچے کے ڈاکو بے لگام،12 جوان شہید،کسی کو نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم ان ایکشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی لگتاہےکہ ہم جنگل سے بھی بدتر جگہ پر رہ رہے ہیں کیونکہ شاید جنگل کابھی کوئی قانون ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں قانون کی عملداری کےعلاوہ باقی سب کچھ دیکھائی دیتاہے ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انتہائی افسوسناک واقعہ رحیم یارخان میں ہوا جہاں ڈاکوؤں نےکچےکے علاقے ماچھکہ میں پولیس کی دو گاڑیاں جب بارش میں پھنسیں تو راکٹ لانچروں سے جوانوں پر حملہ کیا۔ جس کےنیتجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق بارہ پولیس اہلکار شہید اور چھ زخمی ہوگئے جب کہ پانچ لاپتہ تھے جن کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ اسکے بعد صدر، وزیراعظم سے لے کر نیچے تک مذمتی بیانات شروع ہوگئے ۔پر یقین رکھیں کچے کے ڈاکوں کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر پائے گا۔ کیونکہ پتہ نہیں کتنی حکومتیں آئیں اور کتنی گئیں ۔ ان کی کاروائیوں میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ بہرحال پولیس جو انوں کےسا تھ ہوایہ انتہائی افسوسناک ہے۔ مگروہاں کی عوام کےساتھ یہ روز ہو رہا ہے سرعام شہریوں کو اغوا کرکے جسمانی تشدد کی ویڈیوز بناتے اور اہل خانہ سے کروڑوں روپے تاوان مانگتے ہیں۔ تاوان نہ ملنے کی صورت میں اغوا کنندہ کو بے دردی سے قتل کرکے لاش ویرانے میں پھینک دی جاتی ہے ۔ قومی شاہراہوں، موٹرویز پر انتظامیہ کی طرف سے واضح اعلانات لکھے نظر آتے ہیں کہ ان شاہراہوں پر دن کے اوقات میں قافلوں کی صورت اور شام کے بعد سفر سے گریز کریں۔ کیونکہ ڈاکو جب چاہیں، جیسے چاہیں، جس سے چاہیں، مسافر گاڑیاں روک کر بھتہ وصول کرتے ہیں۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مسافروں کی طرف سے مزاحمت پر انہیں فائرنگ کرکے قتل تک کردیا جاتا ہے اور قانون یہاں بالکل بے بس نظر آتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ڈاکو کچے سے نکل کر پکے یعنی شہری علاقے تک پہنچ چکے ہیں۔پھران ڈاکوؤں کی وارداتیں آج سے نہیں عرصہ چار عشروں سے جاری و ساری ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مزے کی بات کہ نگران حکومت کےدور سےابھی بھی وہاں آپریشن جاری تھا۔ ماضی میں ایسے بہت ٹوپی ڈرامے دیکھے ہیں، نام نہاد پولیس آپریشنز کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کر دیئے جاتے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ مورچوں کا دورہ کرکے اہلکاروں کو شاباش دیتے ہیں، کروڑوں کے بجٹ، اسلحہ گولہ بارود، خصوصی الاؤنسز کے نام پر خرچ کردیئے جاتے ہیں نتیجہ صفر جمع صفر، جواب صفر۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب ، سندھ کی پولیس ابھی تک ان پرقابو پانے میں ناکام ہے۔ بھارتی سرحدی علاقےسے منسلک کچے کے علاقے میں ان ڈاکوؤں کے پاس جدید ترین بھارتی اسلحہ، راکٹ لانچر سندھ پنجاب پولیس سے چھینی گئی بکتر بند گاڑیاں، وائرلیس سسٹم تک موجود ہیں۔ ڈاکوؤں نے اپنے دفاع کے لیے چاروں طرف خندقیں کھود رکھی ہیں اور مٹی کے بڑے بڑے بند باندھے ہوئے ہیں اور یہاں سے باہر جانے کے لیے صرف موٹر سائیکل کے لیے راستہ چھوڑا گیا ہے۔ یوںوہ ایک حکمت عملی کے تحت لوٹ مار کا باقاعدہ نظام چلا رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب پولیس کا حوصلہ بڑھانے خود رحیم یار خان پہنچ گئیں

    اللہ کا واسطہ مجھے بچا لیں، ماچھکہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال پولیس اہلکار کی دہائی

    اطلاع دیں،ایک کروڑ انعام پائیں، خطرناک ڈاکوؤں کی تصاویر جاری

    رحیم یار خان،پولیس اہلکاروں کی شہادت پر مقدمہ درج

    کچے کے علاقے میں شہید 12 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    رائفل پکڑ لو لگتا ہے آخری ٹائم ہے،حملے سے قبل پولیس اہلکاروں کی ویڈیو وائرل

    پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،حملے کا مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

  • فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ فیض حمید کی گرفتاری کی جب سے اطلاع آئی، سوشل میڈیا پر مکمل خاموشی، ایسے لگتا ہے کہ کوئی ٹرولز تھے ہی نہیں سب کو سانپ سونگھ گیا،آئی ایس پی آر کی جو پریس ریلیز آئی ہے اس سے نہیں لگتا کہ فیض حمید کے بچنے کا کوئی امکان ہے۔ فوج نے جو قدم اٹھا لیا ہے اس سے ان کے لئے واپس جانا مشکل ہوجائے گا۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ آرمی نے بڑا سخت پیغام دیا ہے۔ پھرفیض حمید آئی ایس آئی کے پہلے سربراہ ہیں جنہیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ ان کے چند پیشرووں کی مختلف وجوہات کی بناء پر جانچ پڑتال کی گئی۔ایک دو نے کام روکنے کا انتخاب کیا اور کچھ کو وقت سے پہلے ہی گھر بھیج دیا گیا۔ مجھے تواب بڑی امید ہے کہ پاکستان آگے بڑھےگا ۔ مزید یہ کہ اب عدالتوں پر بھی پریشر بڑھے گاکہ وہ خاص طورپرنو مئی والے معاملے پر مجرموں کو سزا دیں اورکیفرکردارتک پہنچائیں ۔ کیونکہ فوج نےپھر ثابت کردیا ہے کہ جو غلطی کرے گاجرم کرےگا سزا بھگتے گا۔ کیونکہ یہ صرف فیض حمید نہیں کرنل (ر) اکبر حسین کو جولائی دوہزارچوبیس میں بغاوت پر اکسانے کے جرم میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے چودہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اکتوبر دوہزار تئیس میں پاکستان آرمی نے اپنے دو سابق افسران ۔ عادل راجہ اور حیدر مہدی ۔کو بغاوت پر اکسانے اور ریاست کے مفادات کے خلاف کام کرنے پر کورٹ مارشل کیا۔ راجہ کوچودہ سال قید کی سزا سنائی گئی، مہدی کو بارہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔میر ا نہیں خیال اب حکومت یا عدلیہ کو کسی کنفوژین کاشکارہوناچاہیئے ۔انکو اب نو مئی والےمیں تمام کرداروں کو انجام تک پہنچاناچاہیے ۔ میں اتنا جانتاہوں کہ فیض حمید کو تحویل میں لینے اور کورٹ مارشل کا اقدام پاک فوج کے احترام اور عزت میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر میں نے جو کل کے وی لاگ میں دعوی کیا تھا اس کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ انکشاف کر کے کر دی ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے نواز شریف اور شہباز شریف کو پیغام بھجوائے کہ مجھے آرمی چیف بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے معافیاں مانگیں، ہماری صفوں سے ایک بندے سے بھی رابطہ کیا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ جنرل باجوہ مزید توسیع یا فیض حمید کی بطور آرمی چیف تقرری چاہتے تھے، آخر میں انہوں نے ہماری حکومت کو مختلف آپشن بھی دیے کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل فیض کو آرمی چیف نہیں بناتے تو فلاں کو بنا دیں مگر موجودہ آرمی چیف عاصم منیر کو نہ لگائیں۔ ان کا مزید کہناتھاکہ فیض حمید کی ریٹائرمنٹ کے بعد جو واقعات ہوئے ان میں شرکت سے وہ باز نہ رہ سکے، ان واقعات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر فیض حمید ملوث تھے مگر وہ اکیلے ملوث نہیں تھے، انھوں نے ان واقعات کے لیے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی، ٹارگٹ طے کیے اور سازش کا تجربہ فراہم کیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اکثرسیاستدانوں کے خیال میں آئی ایس پی آر کے بیان میں موجود ایک سطر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا اشارہ اس سطر کی طرف ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔پاکستان آرمی ایکٹ انیس سو باون میں صاف تحریر کیا گیا ہے کہ فوج کا کوئی بھی افسر ریٹائرمنٹ کے دو برس تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر لوگ شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کیا بڑے بڑے اقدامات ہوئے ہیں پاکستان کے اندر جس میں آئی ایس آئی کا ایک سابق چیف جو کہ پی ٹی آئی کے بھی بڑا قریب رہا وہ متحرک تھا۔ایک تو دوہزار چوبیس کے انتخابات تھے اور اس وقت انھوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا، لیکن میرے خیال میں یہ کوئی مجرمانہ سرگرمی نہیں ہے کیونکہ ہر شخص ہی پنا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے انتخابات میں۔ مگراشارے ایسے ملتے ہیں کہ شاید فیض حمید اس ساری مہم کو بھی کنٹرول کر رہے تھے۔ کیونکہ فوج نے اپنے بیان میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کو شروع کرنے کی بات کی ہے اوریہ اس ہی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف انکوائری ہو چکی ہے اور فوج کے پاس ثبوت موجود ہوں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لیےفیض حمیدکی گرفتاری بھی پاکستان کے لیے زبردست فیصلہ ہوا ہے، جو ملک کو نقصان پہنچائےگا اس کا احتساب ہوگا، ہمیں اس وقت جشن منانا چاہیےکہ پاکستان حقیقی طور پر ترقی کی طرف جا رہاہے، ہم سب کا یہی طریقہ ہونا چاہیےکہ سیاست کریں اور اداروں کو ان کا کام کرنے دیں، اب ملک میں احتساب کا عمل نظر آئےگا۔

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

  • خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں سوشل میڈیا نے جب سے عروج کیا ہے، دو نمبر ڈاکٹر اور شعبدہ باز فلاسفر چند ٹکوں کے لئے اپنا منجن بیچ رہے ہیں ایک خلیل الرحمان قمر جو رات کے اندھیرے میں نکلتا ہے اور صبح واپس آتا ہے،پریس کانفرنس کرنی ہو تو دوپہر میں بھی کر لیتاہے، دوسرا ہے ڈاکٹر عمر عادل جو اپنی فیلڈ میں تو کچھ نہیں کر سکا،لیکن ہر جگہ ان دونوں‌کو انگل دینوں کا بڑا شوق ہے ان کی زبان کے شر سے کوئی محفوظ نہیں، کتنے گھٹیالوگ ہوں گے کہ روزانہ کی بنیاد پر کوئی ایسی بات گھڑ دیتے ہیں کہ تماشا لگا رہے، مزےکی بات دونوں کپتان کے پکے فین ہیں، عمران کےلئے ہر وقت مرنے مارنے کو تیار رہتے ہیں، ایسے کریکٹر پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ کرتے دکھائی دیں گے،کیونکہ یہ ڈالر کا معاملہ ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ قمر،جس نے چن چڑھایا اب وہ مسلسل انٹرویو دے رہا ہے،معاملے کو مزید کیش کر رہا ہے، جبکہ وہ ہماری خواتین کو کردار کے حوالے سے جو لیکچر دیتے رہے ایسے انکشافات ہوتے رہے کہ سر شرم سے جھک جائے، معلوم یہ ہو رہا کہ جب وہ وہاں گئے تو آمنہ کے پیر تک بھی چومتے رہے، ویڈیو ز بھی ہیں جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ سامنے آ جائیں گی، اس کو کونسی غیرت یا شرم ہے،واٹس ایپ چیٹ ایک لیک ہوئی ہے بھائی صاحب کی اس کے بعد کم از کم وہ کچھ دن انٹرویو نہ دیتا، چیٹ میں خوبصورتی،آواز کی تعریف کی گئی ہے.مشی خان نے خلیل الرحمان قمر کو انٹرویو کی بجائے آرام کا مشورہ دیا اور کہا کہ ضرورت کیا تھا وہاں جانے کی رات کے وقت ، رابی پیر زادہ نے کہا کہ تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، آمنہ مجرمہ نہیں اگر پیشہ ور ہوتیں تو خلیل زندہ نہ بچتے، رابی پیر زادہ کی بات میں دم ہے، میرے خیال میں ہر مرد ٹھرکی ہے لیکن ساتھ بیوقوف ہونا ضروری نہیں، اس میں خلیل میں بیوقوفی نظر آئی.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عمر عادل نے جو زبان استعمال کی مجھے تو اسکے انسان ہونے پر شک ہے،عائشہ جہانزیب کے حوالے سے ان کی ایک ویڈیو خوب وائرل ہے ۔ ڈاکٹر عمر عادل سوال اٹھاتے ہیں کہ جب عائشہ جہانزیب کو شادی کے کچھ ہی دن بعد پتا چل گیا تھا کہ ان کے شوہر صحیح آدمی نہیں ہے تو پھر چند سال میں ہی تین بچے پیدا کرنا مناسب تھا؟ انہیں ڈر ہے کہ اب شوہر سے صلح کے بعد عائشہ جہانزیب کے ہاں ایک اور بچے کی پیدائش ہوسکتی ہے، اس لیے اب ضروری ہے اور حکم صادر کیا جائے کہ عائشہ جہانزیب کی نس بندی کردی جائے، کیوں کہ اس عمل سے سب کا بھلا ہوگا۔ انہوں نے اسی معاملے پر بات کرتے ہوئے تمام خواتین کو مخاطب ہوتے ہوئے طنزیہ انداز میں بھی کہا کہ اب خواتین نکلیں گی اور کہیں گی کہ ساڈیاں ٹوبیاں، ساڈا حق! ۔ اب اس پر زیادہ تر لوگوں نے انہیں ذہنی مریض قرار دیا ہے جب کہ بعض افراد نے لکھا کہ وہ پاگل ہو چکے ہیں۔ ایک ااور انٹرویو میں اس سے بھی بڑی بونگی ماری اور کہا کہ کچھ خواتین مارننگ شو کے لئے بستر گرم کرتی ہیں، اینکر نے کہا ایسی باتیں نہ کریں آپ کے خلاف محاذ کھلے گا جس پر اس نے کہا کھلنے دیں محاذ، عمر عادل نے غریدہ فاروقی کے بارے بھی گھٹیا گفتگو کی اور کہا کہ ہمارے ہاں میڈیا میں جتنی بھی خواتین ہیں وہ کسی نہ کسی کی رکھیل ہیں، عمر عادل کی اس بات پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، مجھے تو وہ خواجہ سرا لگتاہے، مرد تو وہ ہے نہیں،اسکا ضمیر مردہے، سستی شہرت کے لئے گھٹیا الزام لگا نے والے عمر الزام کو اسکا حساب بھگتنا چاہئے،نس بندی عمر عادل کے دماغ اور اس کی زبان کی ہونی چاہئےیہ سب ڈالرز کی لالچ میں کر رہے ہیں، تمام خواتین کو اسکا بائیکاٹ بھی کرنا چاہئے.

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

  • یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    لاہور:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟اس حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور اقتدار میں جس چیز پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس تھے۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو ہر جگہ ڈِیفینڈ کیا، اور ہم ایک عرصہ تک یہ سنتے رہے کہ عثمان بزدار کام سیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب حیران کن انکشاف ہوئے ہیں کہ عثمان بزدار نے اپنے پہلے سال کی نسبت چودہ گنا کام سیکھا اور کارکردگی بھی دیکھائی لیکن یہ کارکردگی ملک اور قوم کی عوام کے لیے نہیں بلکے اپنے اثاثے بنانے کے لیے دیکھائی گئی۔ عثمان بزادر پر اقتدار کے پہلے سال ایک ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ اگلے دو سالوں میں انہوں نے مبینہ طور پر چودہ ارب روپے کی کرپشن کی۔ کرپشن کرنے کے نئی سائنسی اور پرانے روائیتی طریقوں پر انحصار کیا گیا۔ کہاں کیسے کس طرح اور کس چیز میں انہوں نے کیسے پیسے بنائے، کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی ۔۔آج میں تمام تہلکہ خیز انکشافات آپ کے سامنے رکھوں گا جو آپ نے نہ تو پہلے سنے ہوں گے اور نہ ہی کہیں دیکھے ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، جناب عثمان بزدار منظم مالی بدعنوانی کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال اور پبلک سیکٹر کے فنڈز میں غبن میں ملوث رہے۔ بدعنوانوں بیوروکریٹس کی ایک ٹیم کی مدد سے عثمان بزدار نے کرپشن میں مہارت حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے طریقے اور غبن کا حجم بدعنوانی کے ایک نفیس اور باضابطہ نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے پہلے سال کے دوران، عثمان بزدار نےگیارہ مبینہ کیسوں میں ایک ارب سولہ کروڑ روپے بنائے۔وہ گیارہ کیس کون سے ہیں ان کی تفصیل میں آگے جا کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لیکن اگلے تین سالوں میں عثمان بزدار نے بدعنوانی اور کرپشن کی نئی بلندیوں کو چھولیا۔ انہوں نے منظم کرپشن کے لیے ایک باضابطہ نیٹ ورک تیار کیا ہے جس میں بدمعاش بیوروکریٹس اور بدنام زمانہ فرنٹ مین شامل تھے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں کے دوران عثمان بزدار کی مبینہ کرپشن کم از کم 15.3 بلین روپے تھی اور ہر آنے والے سال اپنے ہی ریکارڈ کو مات دی ۔آج کے پروگرام میں ۔۔ میں آپ کو یہ بھی بتاوں گا کہ عثمان بزدار اور اس کے اعلان کردہ اور بے نامی اثاثون کی ثابت شدہ ٹریل کیا ہے۔لیکن اس سے پہلے آپ کو پہلے سال میں سوا ارب کی مبینہ کرپشن کی تفصیل بنا دوں۔

    ان کا کہناتھا کہ عثمان بزدار نے اپنے ساتھی مختیار احمد جتوئی کوTMO Tounsa مقرر کیا اور 50 ملین روپے کی منظوری دی۔ ایم سی تونسہ میں ترقیاتی کاموں کے لیے زمین پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور پانچ کروڑ کا چونا لگا دیا گیا۔لاہور میں Unicorn Prestige Hotelکے لیے الکوحل کا لائسنس۔ ستر لاکھ روپے لینے کا الزام۔عثمان بزدار نے سمیع اللہ چوہدری (ایم پی اے بہاولپور) کے ساتھ چینی پر سبسڈی دینے کے لیے 50 ملین روپے کی کابینہ کی منظوری کا انتظام کیا۔Hubb Gull Khanعثمان بزدار کے فرنٹ مین تھے ،نے بغیر کسی نیلامی کے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔ اور تقریبا سوا کروڑ روپے سالانہ بنائے

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ ڈی ایس پی عامر تیمور (چچا) کو ڈی پی او بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔ اسے پولیس اہلکاروں کی ہر مطلوبہ پوسٹنگ پر پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے ملنا شروع ہو گئے۔کیپٹن (ر) اعجاز جعفر (کزن) Ex-ACS Punjab نے دس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے لے کر افسران کی متواتر پوسٹنگ شروع کر دی۔ ان کی مدت کے دوران، ہر افسر کی اوسط مدت تقریبا دو ماہ تھی۔عمر خان بزدار (بھائی) نے تونسہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بند کروانے کے لیے دوکاندارون سے تیس لاکھ روپے وصول کیئے۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عطا الرحمان پر اکیس سالہ لڑکی سدرہ سلیم کے ساتھ گیارہ ماہ تک زیادتی کے کیس میں مدد فراہم کرنے کے لیے عثمان بزدار کے قریبی دوست طاہر چیمہ نے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے وصول کیئے۔ اس کیس میں میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو گئی تھی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار نے ڈی جی خان میں براہ راست زمینوں پر قبضہ کی سرپرستی بھی کی۔ جبکہ دوسرا بھائی طور خان بزدار اپنے فرنٹ مینوں کے لیے سڑکوں کے ٹھیکوں کا انتظام کرتا رہا۔یہ تو وہ معمولی سی مبینہ کرپشن ہے جو اناڑی عثمان بزدار نے کی، لیکن کھلاڑی عثمان بزدار نے کام سیکھ کر جو گل کھلائے ۔ آپ کو ابھی بتاتا ہوں۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگر عثمان بزدار کے مبینہ Un declared اثاثوں اور کاروبار کی بات کی جائے تو اس میں199کنال ایگری لینڈ Tuman khosa میں، بتیس کنال جگہ میاں چنوں میں، 35 کنال جگہ ملتان میں اور اکتیس مرلے رہائشی پلاٹ کی صورت میں ملتان میں ہی ہیں۔اگر کاروبار کی بات کی جائے تو ۔۔ تونسہ میں ایک پٹرول پمپ، سخی سرور روڈ ڈی جی خان میں ایک ٹیکسٹائل مل، انصاف فلور مل ۔۔کوٹ موڑ تونسہ شریف۔بحثیت انویسٹر ایک Toyota show room D G khan.Syed crush plant basti Buzdar یہ سب چیزیں وزیر اعلی کی نامزدگی کے بعد سامنے آئی ہیں جبکہ جو جائیداد وزیر اعلی بننے کے بعد بنائی ہے اس میں،4 acre Spanish villah multan.Tuff tile factory tounsaدوست محمد بزدار جو Brother in law ہے نے سوزوکی چوک ڈی جی خان میں چار کنال کمرشل جگہ کی ایک ڈیل فائنل کی جس کی مالیت ایک ارب کے قریب ہے۔عثمان بزدار کا دوست جاوید قریشی بحرین میں انویسٹمنٹ کرتا رہا۔اپنی آبائی زمینیوں پر سرکاری خرچے سے انفراسٹرکچر بنا کر ڈھائی ارب روپے کا فائدہ اٹھایا گیا۔ جبکہ درجنوں پراپرٹیز ایسی ہیں جو کبھی بھائی تو کبھی فرنٹ مین اقبال عرف دالی اور دیگر لوگوں نے مختصر عرصے میں خریدی ہیں۔

    اب بات کرتے ہیں جب عثمان بزدار کرپشن کے کھلاڑی بن گئے تو پھر کیا ہوا۔۔؟عثمان بزادر کے مرحوم والد جناب فتح محمد بزدار کے پاس پونے چار ارب روپے کی آٹھ پراپرٹیاں تھی جس کے آٹھ وارث ہیں۔ عثمان بزدار نے اپنے نام پر تقریبا بیس کروڑ روپے کی پراپرٹی ڈکلیئر کی ہیں۔ لیکن عثمان بزدار کے نام کے ساتھ بے تحاشا، غیر اعلانیہ اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں جڑی ہوئی ہیں تقریبا بیس کروڑ روپے کے غیر اعلانیہ اثاثے۔۔ ستائیس کروڑ روپے کے کاروبار اور دس ارب روپے کی جائیدادیں اور اثاثے جو مبینہ طور پر حال ہی میں حاصل کیئے گئے ہیں۔ایک ایک کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہسابق وزیر اعلی عثمان بزدار کا پنجاب میں کرپشن کا نیٹ ورک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پہلے سے بنے ہوئے کرپشن نیٹ ورک سے کسی بھی صورت کم نہ تھا۔اور ان کے تمام معیاروں پر پورا اترتا تھا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگرچہ پبلک سیکٹر کے فنڈز کی آمد محدود رہی ،لیکن عثمان بزدار حکومت کے دوران کرپشن نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے کی مد میں آخری سال بڑے پیمانے پر فنڈز آنے کے بعد، بزدار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے غیر معمولی بدعنوانی کی کوشش کی گئی جس کے گورننس اور صوبے کی مالیاتی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔شروع میں بدعنوانی انفرادی سطح پر کی گئی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منظم کرپشن میں تبدیل ہو گئی۔ سابق پرنسپل سکریٹری مسٹر طاہر خورشید جسے عثمان بزدار کی مکمل حمایت اور منظوری حاصل تھی نے بدعنوانی کے مشترکہ ایجنڈے کے تحت کلیدی اداروں اور محکموں کے سربراہان کی تقرریاں کی ۔ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اور کرپشن کے نظام کو رواں دواں رکھنے کے لیے بار بار پوسٹنگ، ٹرانسفر کا طریقہ کار اپنا یا گیا۔ پیسے بنانے کے دیگر طریقوں میں ٹھیکے دینے کے دوران رشوت اور کک بیکس کی وصولیاں بھی شامل تھیں۔

    پنجاب میں تمام مالیاتی متعلقہ تقرریاں جن میں صوبائی سیکرٹریوں سے لے کر ہائی ویز میں ایس ای ، ایکس ای اینز ، ایس ڈی اوز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور منافع بخش حلقوں کے پٹواریوں تک کو عثمان بزدار اور ان کے ساتھیوں نے فروخت کیا۔ ایسا مایوس کن معاملہ انتہائی آمرانہ حکومتوں میں بھی نہیں ہوا۔پنجاب میں بدعنوانی اور حکمرانی کا فقدان بھی بیوروکریسی کے صفوں اور فائلوں میں مایوسی اور ناراضگی کو جنم دے رہا تھا، جہاں ایماندار بیوروکریٹس کو کسی نہ کسی بہانے اہم بلوں سے انکار کیا جاتا رہا۔ عثمان بزدار کی غلط حکمرانی اور بدعنوانی کا ایسا بے لگام جادو پنجاب میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ کرپشن کے دوسرے مرحلے میں طاہر خورشید، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ سارے کھیل کے مرکزی کردار تھے،

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ جب وہ ڈی جی خان قبائلی علاقے میں خدمات انجام دے رہے تھے تو وہ عثمان بزدار سے واقف تھے۔بزدار نے انہیں اپنے ابتدائی مرحلے میں کمشنر ڈی جی خان تعینات کر دیا۔ طاہر خورشید نے بزدار خاندان کے معاملات اس قدر اچھے طریقے سے چلائے کہ وزیراعلیٰ کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو مقرر کیا جہاں انہوں نے اربوں کمائے۔ اس کیس پر ان کے خلاف نیب انکوائری بھی جاری ہے۔پنجاب حکومت نے جب لوکل گورنمنٹ اور LG &CDکے لیے پچاسی ارب روپے کی منظوری دی تو عثمان بزدار نے طاہر خورشید کو ان فنڈز کی ترسیلات کے لیے سیکرٹری LG & CD لگا دیا۔ جب عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ تعینات کیا تو طاہر خورشید نے ہم خیال بیوروکریٹس کی پوسٹنگ کا انتظام شروع کر دیا۔ جس سے ماہانہ ایک سے پانچ کروڑ روپے رشوت کا راستہ صاف کیا گیا۔ جبکہ دیگر بیوروکریسی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے خوف اور غلط الزامات کا سہارا لیا گیا۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں طاہر خورشید کی تعیناتی نے منظم طریقے سے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے سائنسی طریقہ کار کی راہ ہموار کی۔ایک ہاوسنگ سوسائٹی جولاہور میں ہے ۔۔ کو ٹیکنیکل Approvalکے بغیر پندرہ دن میںNOC دے دیا گیا، اور پچیس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔نظام کو ٹھیک کرنے کے دعوے داروں نے123پٹواریوں کو ایک دن میں پندرہ لاکھ فی پٹواری حاصل کر کے تعینات کر دیا۔ اور ایک ہی دن میں اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ روپے بنا لیے گئے۔طاہر خورشید نے کمشنر ساہیوال پر ہڑپہ ٹیکسٹائل ملز کی 800 کنال زمین کو صنعتی سے رہائشی میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حثیت کی تبدیلی سے زمین کی قیمت میں چالیس ارب روپے کا اضافہ ہوا اور آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی ڈیل کی گئی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ملتان میں سٹی ہاؤسنگ کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ پچاس کروڑ کی مبینہ کرپشن۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمر بزدار کے فرنٹ مینوں نے ادویات کی مقامی خریداری اور ڈی جی خان میں ٹرانسپورٹ سے ٹول ٹیکس کی وصولی میں ملوث ہو کر ماہانہ ایک کروڑروپے کمائے، ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوریاں دے کر سالانہ پچاس کروڑ روپے کمائے گئے۔جعفر بزدار (بھائی) نے سرکاری پوسٹنگز کروا کر دو کروڑ روپے ماہانہ کہ بنیاد پر کمائے۔ CEO LWMCنے مشینری کی خریداری کے لیے چھ ارب روپے کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جس میں دو ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ محکمہ صحت میں لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میںLocal purchase کی مقدار ڈیڑھ ارب ہے، سپیشلائزڈ ہیلتھ کے ذریعے سابق وزیر اعلی کو بڑا حصہ دیا جاتا ۔ فارما کمپنیوں اور ہیلتھ انسپکٹرز کا ایک منظم گروپ تھا جو اس وصولی کا انتظام کرتا تھا۔صرف ایک ارب روپے توسرکاری افسران کی پوسٹنگ،تبادلوں پر کما لیئے گئے۔طور خان بزدار کو ڈی جی خان میں سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ چوبیس کروڑ روپے میں دیا گیا۔اورنگزیب چوہدری جو طاہر خورشید کا فرنٹ مین ہے نے ایم ایم عالم روڈ پر چار کنال کا بنگلہ خریدا۔زمین کی خریداری کے بعد، اسی گلی کو نئی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ماڈل روڈ کا نام دیا گیا۔ اور ان سارے کاموں میں مبینہ طور پر پندرہ ارب روپے کے گھپلے کیئے گئےعمران خان کی بشری بی بی سے شادی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ عوام کو تو یہ بتایا جاتا ہےکہ بشری عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں مگر سرکاری کاغذات کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں ۔ کیونکہ بشری بی بی کا پاسپورٹ دیکھیں ۔ ایف بی آر کے ڈاکیومنٹ دیکھیں تو اس میں ان کا نام بشری خاور فرید ہے ۔ جبکہ شوہر کانام مانیکا خاور فرید ہے ۔ پاسپورٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایف بی آر کے ڈاکیومنٹس دیکھیں تو بشری بی بی کی جانب سے 2021کا ٹیکس ریٹرن جمع کروایا گیا اس میں بھی انکا نام بشری خاور فرید مانیکا ہے ۔ اسی طرح جب عمران خان اوربشری بی بی سعودی عرب گئے تو جو ویزے کا اجراء کیا گیا اس کے مطابق بھی ان کا نام بشری خاور فرید مانیکا ہی ہے ۔

    وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ سمیت ویزہ اور جو 2021 میں بشری بی بی نے اپنی پہلی ریڑن جمع کروائی اس میں ان کا پرانا نام کیوں ہے کیونکہ قوم کو تو بتایا گیا تھا کہ 2018میں عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح ہوا تھا ۔ اس سے پہلے یقیناً طلاق ہوئی ہوگی ۔ سرکاری طریقہ کار یہ ہے کہ طلاق نامہ پہلے ثالثی کونسل کے پاس جاتا ہے ۔ تو اس کا نوے دن کا procedureہوتا ہے ۔ پھر نوے دن کے بعد وہ Divorce certificateدیتی ہے ۔ وہ بڑے بڑے کھڑپینچ رپورٹرز نے کوشش کی کہ نکل آئے پاکپتن ، دیپالپور کسی جگہ سے نہیں ملا ۔ اچھا نکاح کی بات کی جائے تو اس حوالے سے دو رائے ہیں کہ بنی گالہ میں نکاح ہوا ۔ دوسرا فرح گجر کے گھر لاہور میں ہوا ۔ مگر ان دونوں جگہوں سے بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ۔ یہاں سے اب میں آپکو پھر پیچھے لے کر جاوں گا کہ بار بار سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بشری بی بی کا پاسپورٹ ، ایف بی آر اور ویزا اجراء میں نام کیوں تبدیل نہیں ہوا ۔ پرانا نام کیوں چلا آرہا ہے ۔ کیونکہ ملکی قانون اور اسلام کے مطابق بیٹی کے ساتھ والد کا نام لگتا ہے اور شادی کے بعد یہ عورت کی چوائس ہے کہ وہ والد کانام لگائے یا شوہر کا ۔۔۔اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ اب اس حوالے سے جب طلاق ہوجاتی ہے تو Divorce certificateملنے کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں عورت کے نام کے ساتھ شوہر کا نام ہٹ جاتا ہے اور والد کا نام آجا تا ہے ۔ پھر جب وہ عورت شادی کرتی ہے تو نئے شوہر کا نام لگوانا چاہے تو آئی ڈی کارڈ اس حوالے سے اپڈیٹ ہوجاتا ہے ۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ یہ کہانی بڑی ہوش ربا اور انکشافات سے بھرپور ہے ۔اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ءکو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

  • خاتون اول کون؟ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز شریف کی بیوی تہمینہ درانی کا پہلا انٹرویو

    خاتون اول کون؟ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز شریف کی بیوی تہمینہ درانی کا پہلا انٹرویو

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کا کہنا ہے کہ مبارکباد کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی ضرورت ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے پی این این نیوز کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان میں نو منتخب وزیراعظم کی اہلیہ تہمینہ درانی بذریعہ فون کال شامل ہوئیں جس میں میزبا ن کے سوالات کے جوابات دیئے-

    شہبازشریف کی رہائشگاہوں کو وزیراعظم ہاؤس کا درجہ دے دیا گیا

    میزبان کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعظم شہباز شریف کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ جب شہباز شریف عہدے کا حلف لے رہے تھے میری جانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اتنے لوگوں میں جہاں میری ضرورت ہوتی ہے وہاں میں ضرور ہوتی ہوں-

    مبشر لقمان کی جانب سے شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دیئے جانے پر تہمینہ درانی نے کہا کہ مبارکباد کے ساتھ ساتھ بہت دعائیں بھی دیں اس لئے کہ جس موڑ پر ہمارا ملک کھڑا ہوا ہے اس موڑ پر میاں شہباز شریف کو جو ہاتھ میں ملا ہے میں سمجھتی ہوں کہ ان کے کندھوں پر صرف نہیں بلکہ بہت زیادہ میرے کندھوں پر بھی بوجھ آگیا ہے-

    تہمینہ درانی نے کہا کہ میاں صاحب کے ساتھ میری شادی کو 19 سال ہوگئے ہیں ان سے بہتر اور جو لوگ مجھے جانتے ہیں جو میری کتابیں پڑھ چکے ہیں جو میرا ایدھی صاحب سے رشتہ جانتے ہیں وہ سب جانتے ہوں گے کہ میں ایسے ہی کسی کے ساتھ نہیں کھڑی رہ سکتی-

    ا مید ہےپاکستان کی نئی حکومت چین کیساتھ دوستی کو یقینی بنائے گی،چین پاکستان تعلقات…

    انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف سے زیادہ قابل زیادہ پُر عزم زیادہ غریب نواز ،ہر چیز کو دیکھنے والا ،ایک سیکنڈ‌ کے لئے بھی آرام نہیں کرنے والا میں نے انہیں سارے وقت میں آرام کرتے دیکھا ہی نہیں وہ سارا وقت بھاگ دوڑ کر رہے تھے اس وقت جو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ کام دے دیا یہ رب کا کام ہے یہ کوئی بادشاہت یا تاج نہیں ہے یہ بہت بڑی نوکری مل گئی ہے ان کو تو اللہ تعالیٰ ان کو ہمت دیں ان کی مدد کریں کہ وہ اس نوکری کو نبھا سکیں وہ کچھ کر سکیں اور اپنے غریب عوام جو غریبی کی چکی میں پسے ہوئے ان کے لئے نوکری کریں گے میں کروں گی اپنی طرف سے رہوں گی میں تہمینہ درانی ہی کیونکہ میں نے اس نام کے لئے بہت جدو جہد کی مشکلات سہیں ہیں-

    مبشر لقمان نے کہا کہ میاں صاحب کی ایڈمنٹریشن قابلیت کے بہت زیادہ لوگ مداح ہیں لیکن یہ ایک بڑا سوال ہے کیا میاں صاحب میں اتنے سالوں میں اتنی تبدیلی آئی ہے کہ وہ ان سب سوالات کو لے کر اپنے ساتھ چلیں حکومت کو اور ملک کو اور عوام کو ریلیف پہنچا سکیں

    تہمینہ درانی نے کہا کہ جب میاں نوز شریف کی حکومت گئی میاں صاحب نے بھائی کا ہاتھ نہیں چھوڑا ساتھ نہیں چھوڑا سب سمجھتے تھے بھائی کے ساتھ نہیں ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ بھی ہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی ہیں عوام ، بزنس کمیونٹی ،بیوو کریسی کے ساتھ بھی ہیں اور سیاسی جماعتیں جنہوں نے اتنا مشکل کام کیا سب نے مل کر کیا تو یہ اتنی دور نکل آئے ہیں تو میاں صاحب ضرور آگے نکلیں گے-

    بھارتی ،اور ترک صدر کی شہباز شریف کو وزیراعظم بننے پر مبارک باد

    میزبان نے کہا کہ تہمینہ درانی سالہا سال سے ایک دس مرلے کے گھر میں رہتی ہیں تمام محلات اور آسائشات چھوڑ کر اس کی کیا وجہ ہے؟

    جس پر شہباز شریف کی اہلیہ نے کہا کہ جو ایدھی صاحب کے گھر میں 3، 3 سال پانی ائیر کنڈیشنر کے بٰغیر رہ آتی ہوں ابھی بھی میں جا رہی ہوں بلقیس ایدھی کو ملنا ایدھی صاحب کی حاضری دینی ہے میں پرسوں کراچی چلی جاؤں گی میری اوقات تو وہی ہے شروعات تو وہی ہے اس سے زیادہ تو میں کچھ ہوں نہیں دس مرلہ اس لئے ہے کہ یہ غریب ملک ہے بزنس مین بنائیں اپنے بڑے بڑے گھر بنائیں محل بنا سکتے ہیں-

    مگر آپ پبلک سرونٹ ہیں اگر آپ سیاستدان ہیں اور قوم کی خدمت کرنے آئیں ہیں تو پھر آپ چھوٹی طھوٹی جگہوں پر رہیں گے تو ان کی عزت ہو گی ناں آپ کی اگر دس مرلے کے گھر میں کوئی بچی یا بچہ بیٹھا ہو تو ان کی بھی کیٹیگریز ہیں کہ بھئی دس کنال کے گھر کا یہ رشتہ ایک کنال کے گھر کا یہ رشتہ اور 5 کنال کے گھر کا یہ رشتہ ہے وہ بھی کیٹیگرائز ہو گیا لیکن محلت چھوڑ کر 10 مرلے کے گھر میں بہت عزت ہے میں اس کی عزت بنانا چاہتی ہوں کہ کیونکہ ہم نے تو مڈل کلاسز کو تباہ کر دیا تو دس مرلے میں مڈل کلاس رہتی ہے نا تو میں مڈل کلاس ہوں تو اب میں کہہ رہی ہوں آپ کا وزیراعظم بھی مڈل کلاس ہے تو اب آپ کی خاتون اول جیسی بھی ہوں میں تہمینہ درانی ان کی بیوی تو ہوں میں مڈل کلاس میں رہ رہی ہوں اب اس کی شاید عزت بن جائے –

    پروگرام کے میزبان مبشر لقمان نے سوال پوچھا کہ اسلام آباد جانے سے پہلے آپ نے میاں صاحب کو کوئی نصیحت کی تھی حکومت کیسے چلانی ہے جس پر ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان کو پتہ کیسے کام کرنا ان کو نصیحت کی ضرورت نہیں ان کی فیلڈ الگ ہے میری الگ ہے لیکن کسی ایک جگہ پر جا کر راستے مل جاتے ہیں-

    شہباز شریف اور ان کی حکومت کے سامنے کئی چیلنجز ہیں،بلاول بھٹو زرداری

    سئینئیرصحافی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی وجہ سے اللہ نے پاکستان پر بہت مہربانی کی ہے ابھی انہوں نے حلف لیا نہیں تھا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر 8 روپے کم ہوگیا ہے اسٹاک مارکیٹ میں آج سارا دن میں 1700 پوائنٹس کی بڑھوتری ہوئی ہے اور برینٹ آئل کی قیمتوں میں عالمی منڈی میں کمی ہونا شروع ہوئی ہے یہ تو لگتا ہے جیسے غیبی مدد آنا شروع ہوئی ہے –

    جس پر شہباز شریف کی اہلیہ نے کہا کہ اللہ ہماری غیبی مدد کرے غیبی مدد کے بغیر جتنا بھی کام کریں گے کم ہی ہوگا میں نے میاں صاحب کو کہا یہ ڈرانے کا وقت نہیں ڈرنے کا وقت ہے آہستہ آہستہ قدم بڑھائیں-

    تہمینہ درانی نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو شہباز شریف سے بہتر پرائم منسٹر نہیں مل سکتا تھا ان کی قدر کریں ان کا ہاتھ بٹائیں بہت بے صبرے نا ہوں ایسے بہت سے معجزے یکدم نہیں ہو سکتے بہت صبر کی ضرورت ہے وہ بہت کوشش کریں گے ہم سب نے ان کے ساتھ مل کر ان کی مدد کرنی ہے یہ ایک آدمی کا ایک پارٹی کا تمام سیاسی پارٹیوں کا کام نہیں ہم سب کا کام ہے ہم سب نے کچھ بدلنا ہے اپنے آپ کو اور بہت محنت کرنی ہے پھر نکلیں گے اس بحران سکیں-

    انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی غیرملکی پاسپورٹ نہیں وہ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ رہ رہی ہیں-

    امید ہے شہباز شریف ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکال سکیں گے،شاہد آفریدی

    https://www.youtube.com/watch?v=CQ_McXWQezQ

  • پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کو سالگرہ مبارک

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کو سالگرہ مبارک

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے زندگی کی 58 بہاریں دیکھ لیں-

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی واینکر پرسن 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں 50 اور 60 کی دہائی کے فلم ڈائریکٹر پروڈیوسر ، لقمان کے ہاں پیدا ہوئے- مبشر لقمان نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔

    سینئر صحافی واینکر پرسن نے بطور میزبان چینل بزنس پلس سے صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ٹیلی وژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران ، سینئیر اینکر پرسن نے پاکستان کے بہت سے معاشی و معاشی اور سیاسی مسائل کا احاطہ کیا تھا۔ ملک کے متعدد اہم امور کے بارے میں اپنے شاندار موقف کی وجہ سے صحافت کے میدان میں اپنی الگ شناخت بنائی-

    اس کے بعد وہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ، ایکسپریس نیوز میں بطور میزبان پروگرام پوائنٹ بلینک میں شامل ہوئے ، اور پھر بعد میں دنیا نیوز میں منتقل ہوگئے اور پروگرام کھری بات ود لقمان کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے-

    اس کے بعد انہوں نے کھرا سچ کی میزبانی میں اے آر وائی نیوز میں شمولیت اختیار کی ، جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کے کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک مایہ ناز اور پاکستان کے صف اول کے صحافی بلکہ انہوں نے شوبز میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں اور انہوں نے کئی سال تک پاکستان کی اشتہاری صنعت میں کام کیا اور کوکا کولا ، نیسلے اور بہت سے دوسرے ممالک سمیت پاکستان کے اعلی مقامی اور ملٹی نیشنل برانڈز کے اشتہار کے لئے اپنی اسکرپٹ کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد ، مبشر لقمان نے اپنی ایک پروڈکشن کمپنی قائم کی جس نے پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز کے لئے سافٹ ویئر اور مواد تیار کیا تھا۔

    بعد ازاں انہوں نے ریشم اور علی تابش کی اداکاری میں 2006 میں فلم پہلا پہلا پیار کی ہدایتکاری بھی کی صرف یہی نہیں مبشر لقمان 2007 اور 2008 میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، مواصلات پنجاب کےنگران وزیربھی رہے اور اب فی الحال وہ پی این این میں ایک ٹاک شو کھرا سچ کی میزبانی کررہے ہیں جو رواں برس کے آغاز پرٕ دوبار ہ شروع کیا گیا ان کا پروگرام کھرا سچ عوام میں مقبول ترین پروگراموں میں سے ہے ۔

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

     

    https://twitter.com/umesalma_/status/1480589562468610058?s=20

    https://twitter.com/CCtheLegendd/status/1480589893256585220?s=20

    https://twitter.com/jnab__/status/1480593580309708801?s=20