باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چند گھنٹوں میں اہم سیاسی ڈیولپمنٹ ہوئی ہیں، رات گئے سپریم کورٹ کے دروازے کھلے، الیکشن کیس کی ہنگامی سماعت ہوئی، ایک سماعت نے پاکستان کا سیاسی منظرنامہ بدل دیا، اچانک نگران وزرا کے استعفے بھی آنا شروع ہو گئے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا رات کا تاریخی فیصلہ تھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آٹھ فروری کی جو الیکشن کی تاریخ دی تھی اسکا پاس رکھا،پی ٹی آئی کے عمیر نیازی نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی، عمران نے عمیر نیاز ی کو کہا کہ درخواست دیں، لاہور ہائیکورٹ میں درخؤاست ہوئی اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل ہوا، الیکشن کمیشن نے پھر ٹریننگ روک دی، تحریک انصاف کا اعتراض یہ ہے کہ آر اوز عدلیہ سے لئے جائیں، الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے آراوز مانگے تھے تا ہم سب نے انکار کر دیا، 2013 کے الیکشن میں عدلیہ سے آر اوز لئے گئے تھے اور عمران خان الیکشن ہار گئے تھے ،اور اسلام آباد دھرنا دینے پہنچ گئے تھے،یہی وہ دن تھے آج کا ہی دن تھا جب سانحہ اے پی ایس ہوا،بہت ہی خوفناک، دردناک سانحہ تھا، آج تک ان بچوںکی تصویریں میرے سامنے گھومتی ہیں، جب وہ سانحہ ہوا تو دھرنا بھی ختم ہوا، عمران خان نے الزامات لگائے، 2018 کے الیکشن ہوئے تو بیوروکریسی سے سارے آر اوز تھے،عمران خان جیت گئے تب تو کوئی اعتراض نہیں کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کافی برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ الیکشن کے بارے تاخیر ہو،جج کے بارے کہا گیا کہ ایک ہی فیصلے سے جمہوریت کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کی، چیف جسٹس کا حکم واضح تھا، عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے الیکشن شیڈول جاری کر دیا ہے،جیسے ہی عدالت کا فیصلہ آیا نگران حکومت کے پتے بکھرنے لگ گئے، سرفراز بگٹی کا استعفیٰ آیا، جو منظور ہو گیا وجہ یہ بتائی گئی کہ سرفراز بگٹی علاقائی سیاست کرتے ہیں وہ الیکشن لڑیں گے، ممکنہ طور پر وہ ن لیگ میں شامل ہو سکتے ہیں، بلوچستان کے دو نگران وزرا نے بھی وزارت سے استعفیٰ دے دیا،اچانک استعفے آنا شروع ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ الیکشن میں تاخیر کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں، جب سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا، الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کیا تو صورتحال واضح ہو گئی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سب سے زیادہ جس جماعت کو مشکل درپیش ہے وہ تحریک انصاف ہے، اسکی وجہ عمران خان جیل میں، پرویز الہی جیل میں، قیاد ت مفرور، ہزاروں لوگ پارٹی چھوڑ چکے، سوائے وکلا کے کوئی ٹکٹ لینے والا سامنے نہیں آ رہا ابھی تک پارٹی نشان بھی نہیں ملا، قانونی طور پر کاغذوں میں پی ٹی آئی موجود ہی نہیں نہ ہی وہ ٹکٹ جاری کر سکتی، پی ٹی آئی مسائل کی دلدل میں گھر چکی ہے، دوسری طرف ن لیگ ہے،انکے لئے اس سے بھی بڑا چیلنج ہے، وہ حجرے سے باہر نہیں نکلے، دفتر تو آتے ہیں، انٹرویو کرنے پھر واپس چلے جاتے ہیں، اب نواز شریف کو باہر نکلنا ہو گا، حلقوں میںجانا ہو گا، بیانیہ دوبارہ سے بنانا ہو گا،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر سمینہ رانا نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے دروازے رات کو کھلے ہیں، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ کر لیا، الیکشن شیڈول جاری ہوجائے گا، قاضی فائز عیسیٰ بہت سیریس لے رہے ہیں، باقی لوگوں کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں جو الیکشن وقت پر نہیں چاہتے، ہائیکورٹ کے ججز کی بھی بڑی باز پرس ہو رہی ہے، کہ یہ اپنی عدالت کے خلاف فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں،
سمینہ رانا نے سوال کیا کہ وہ لوگ جو الیکشن نہیں چاہتے انکو سمجھ آ گئی ہو گی، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو سب کو سمجھ آ گئی ہے، سیکورٹی، لااینڈ آرڈر کی صورتحال نظر آ رہی ہے، دو صوبوں میں الیکشن کروانا بہت ہی مشکل ہے،
ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب یہ خبر رات کو آئی تھی کہ فیض حمید کو بھی عدالت نے نوٹس دے دیئے، میرے ذہن میں آیا اب اللہ خیر کرے، عدالت نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزام لگائے، عدالت سمجھتی ہے جن پر الزام ہے انکو موقع دیا جائے، نوٹس جاری ہوا، عرفان رامے کو بھی نوٹس جاری ہوا، اس کیس میں عمران خان کا نام بھی آیا ، چیف جسٹس کا کہناتھا کہ فیض حمید یہ فیصلہ کیوں چاہتے تھے، اب یہ بات رکنی نہیں ہے،اس ملک میں کرپشن ہو رہی ہے، مجھے پتہ ہے کہ اعلیٰ حضرات نے کرپشن کی،لیکن اسکو ثابت کیسے کیا جائے، شوکت صدیقی کی بات میں وزن ہے لیکن وہ اس کو پروف کیسے کریں گے؟
ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دوران عدت نکاح کیس میں میری ذاتی رائے ہے کہ دنیا چاند پر پہنچ چکی اور ہم ابھی تک نکاح، عدت میں پھنسے ہوئے، اس سے باہر نہیں نکل رہے، پتہ نہیں کب تک گول چکر کھاتے رہیں گے، اگر عدت کی وائلیشن کی تو کوڑے کرو، سنگسار کرو، جو کرنا ہے کرو، لیکن یہ سرکس ختم ہونا چاہئے، آج جسٹس قدرت اللہ نے کہا کہ عمران خان کی ویڈیو لنک سے حاضری یقینی نہیں ہو سکتی، آئندہ حاضری یقینی بنائیں، خاور مانیکا درخواست گزار ہیں، عون، مفتی سعید گواہ ہیں، سو لتر تو کم از کم خاور مانیکا کو بھی پڑنے چاہئے، گھر میں ہوتے ہوئے نوکر کو اس نے بھیجا کہ کمرے سے باہر نکالو، ہم پاکستانی بھی اسی کو ڈسکس کر رہے ہیں.دنیا کو پتہ ہے کہ نکاح سے پہلے آنا جانا تھا، دو نکاح پڑھائے گئے، اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے، عینی گواہ ہیں، اتنے اوپن کیسز میں بھی وقت لینا ہے اور خبریں چلنی ہیں، ہم لوگ کس لیول پر گر چکے ہیں، سزا دیں اور آگے نکلیں،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اینکر سمینہ رانا نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے سوال کیا کہ نواز شریف نے خطاب کیا اور دل کی باتیں کیں، کیا ہوا،کیسے ہوا، ساتھ ہی پریقین نظر آئے کہ آٹھ فروری کو عوام فیصلہ سنائیں گے کیا ججمنٹ ہو سکتی ہے جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے 2017 میں ہونیوالے معاملات پر بات کی کہ سازش کی گئی، عمران خان کو کس طرح لایا گیا، لگتا ہے کہ تمام حالات ن لیگ کے حق میں ہیں وہ مطمئن ہیں، وہ جیت سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں سے انہوں نے الیکشن نہیں جیتنا، اس سے ووٹ نہیں ملیں گے، یا تو وہ لوگوں کوامید دے کہ اس وجہ سے حالات بہتر ہوں گے لیکن وہ پرانی کاروائیاں، دکھ سنا رہے، عمران خان کو بھی ہم یہی کہتے تھے کہ چودہ سال سے ایک ہی تقریر کر رہے ہو، اب میاں صاحب بھی عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے، الیکشن کے حوالہ سے نیا بیانیہ نہیں دے رہے،نواز شریف بار بار وہی بات دہرا رہے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں
اینکر سمینہ رانا نے سوال کیا کہ ایک اور گرفتاری ہوئی ہے شیر افضل مروت کی لاہور سے، اس گرفتاری کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت وکیل ہیں، میرے کیس میں بھی وکیل تھے اور وہ کیس جیت گئے تھے، میں انکا شکر گزار ہوں، انکو آج جو گرفتار کیا گیا ہے وہ تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، وہ دلیر آدمی ہیں، کے پی میں ان پر کئی پرچے ہیں، کئی بار وہاں گرفتاری کی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ گئے، گرفتار ہو گئے تو کوئی بڑی بات نہیں وہ نکل آئیں گے، سیاسی طور پر مروت کو اس گرفتاری کا بڑا فائدہ ہو گا
مبشر لقمان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ جتنی پی ٹی آئی کو چھوٹ ملی رہی، ہمارا عدلیہ سے اعتبار اٹھ گیا،علیمہ خان کو غلط بیانی کرنے کی عادت ہے، حقیقت کے برعکس ہوتا ہے انکا بیان، ابھی تک ڈونلڈ لو کے خلاف کیس نہیں کیا، ملاقاتیں ضرور ہوتی ہیں، علیمہ خان سے اس بارے پوچھنا چاہئے، یو اے ای میں ایک کیس کرنا تھا وہ نہیں ہوا، شاہزیب خانزادہ پر کیس کرنا تھا دبئی، لندن میں ، ایک جگہ بھی نہیں ہوا، عمران خان کے بیٹے کیسے کیس کریں گے وہ باپ کو تو ملتے نہیں ہیں، عمران خان پاکستان شہری ہے، اس پر برطانوی عدالت کیسے کیس سن سکتی ہے؟ علیمہ نے بس بیان دے دیا، اور کچھ نہیں ہے، علیمہ نے یہ بشری کو سنانےکے لئے یہ سب کیا کہ میں عمران کے بچون اور جمائما کے قریب ہوں، وہ صرف بشریٰ بی بی کو "ساڑ” رہی ہے ، جب وہ نکلے گا تو وہ ادھر جائے گا کیونکہ اسکے بچے ادھر ہیں، علیمہ بشری کو ڈرا رہی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج آپ کے سامنے ایک کیس رکھ رہا ہوں، ایک مسئلہ عوام کے سامنے رکھ رہا ہوں، عوام فیصلہ کرے، عوام کی آواز وہی نقارہ خدا ہے، یہ مثال بہت مشہور ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جمعیت علماء اسلام کہنے کو تو اسلامی جماعت ہے، اسکے اندر کتنے کالےبھیڑیئے ہیں وہ بتاؤں گا، ابھی تو انکی سیاسی حکومت بھی نہیں، عبوری حکومت ہے،جب عبوری حکومت میں لوگوں کا ایسا حال ہوتا ہے تو سیاسی حکومت میں لوٹ مار کا کیسا بازار ہو گا ؟ میں آپکو سنی سنائی بات نہیں کر رہا ،ایک سرکاری ملازم محکمہ صحت کا ملازم گریڈ 16 کا معذور شخص ہے، انتہائی معذور، اب اسکو اٹھاکر کسی نے تبادلہ کر دیا، تبادلہ کوہاٹ سے ٹل کر دیا، یہ جگہ مثال کے طور پر بتا رہا ،یہ تیس چالیس میل کا روز کا فیصلہ تھا، اس نے محکمے کو کہا کہ اگر تبادلہ کر دیا تو وہاں سرکاری سہولیات بھی دے دیں، اسکو کہا گیا کہ تم کوئی سیکرٹری ہو؟ ڈی جی ہو کسی محکمے کے؟ گریڈ 16 کے نوکر ہو، نوکر کی طرح کام کرو، اس نے کہا کہ میں معذور ہوں، اتنا سفر روز نہیں کر سکتا، اسکو کہا گیا کہ معذور ہم نے کیا؟ اب اس شخص نے کسی نہ کسی طرح مجھ سے رابطہ کیا، میں نے جب پورا کیس سنا تو میں نے کہا کہ ایسا کریں پروگرام نہ کروائیں، حق میں پروگرام فائدہ نہیں، سرکاری رولز درمیان میں آ جائیں گے،رولز میں لکھا ہوتا کہ تبادلہ کہیں بھی کسی بھی وقت ہو سکتا ہے،ہم لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل کریں، میں نے جے یو آئی کے کرتا دھرتا،مولانا کے خاص نمائندے کو بتایا کہ یہ خاص کیس ہے، اسمیں کچھ کر دیں تو غریب آدمی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، میرا کہنا تھا کہ غریب آدمی کی دوڑیں لگ گئیں، پھر میں نے جے یو آئی کے سینیٹر کو پکڑ لیا، میں نے کہا کہ معذور ہے، اسکو واپس کر دیں، یا کوئی مکان وغیرہ دے دیں، کس طرح یہ آئے جائے گا، جس علاقے میں مولانا کہہ رہے ہیں عالم یہ ہے کہ وہاں الیکشن کی کیمپئن نہیں کر سکتے وہاں اس معذور شخص کے لئے کتنا مسئلہ ہو گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر گورنر تک انوالو ہو گئے، اکرم درانی کا نام بھی مجھے بتایا گیا کہ ان تک سفارش پہنچ گئی ہے، مولانا کے گھر تک بھی پہنچی، پھر کہا گیا کہ صاحب نے بلایا ہے، اس نے بلا کر کہا بات سنو، تم لوگوں سے کہلوا رہے ہو، ڈیڑھ لاکھ روپیہ دو اور اپنا تبادلہ کروا لو، یہ پتہ چلا تو میں نے اور زور لگایا، ہر بندے سے جس سے رابطہ تھا بات کی،یہ سب اوپر بات ہو رہی تھی، ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے اس بات کو، چار دن پہلے دوبارہ اسکو بلایا اور کہا کہ جب تک پیسے نہیں دیتے تبادلہ نہیں ہو گا، پھر اس نے ایک لاکھ روپیہ دیا، اور اسکو کہا گیا کہ یہ کمائی اگر میں نے لینی ہوتی تو تبادلہ ہو جاتا یا رک جاتا، یہ کمائی اوپر تک جانی ہے، اس طرح تو سو سفارشیں دن میں آتی ہیں، ہم ایک دن کی کروڑ روپے کی دہاڑی چھوڑ دیں، یہ نیچے سے اوپر تک سب میں کمائی تقسیم ہو رہی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب دیکھئے ، لوگ آپ کے گھر تک انگلیاں اٹھا رہے ہیں، اگر ایک اسلامی جماعت کے اندر بھی چیک اینڈ بیلنس نہیں تو اقتدار میں آ کر کھڈا احتساب کرے گی، کس منہ سے کہے گی کہ اسلامی قوانین لے کر آئیں گے، اگر آپ اپنے گھر، پارٹی، معذور آدمی کی معذوری کو نہیں دیکھ سکتے ، اس سے پیسے کھا رہے ہیں تو پھر ….
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی کا اجلاس قائمقام چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق،سینیٹر صابر شاہ اور سینیٹر افنان اللہ نے شرکت کی.
اجلاس میںپشاور فلائنگ کلب کے فروخت ہونے والے جہاز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، حکام نے کہا کہ پشاور فلائنگ کلب کا ایک جہاز فروخت کیا گیا ہے ، سینیٹر صابر شاہ نے کہا کہ بتایا جائے یہ جہاز کن کو فروخت کیا گیا ہے،بتایا جائے جہاز فروخت کرنے کے لیے کیا طریقہ کار ختیار کیا گیا ،اجلاس میں سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ وہ جہاز مبشر لقمان کو فروخت کیا گیا ہے
قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران پشاور فلائنگ کلب کا جہاز مبشر لقمان کو فروخت کئے جانے کے حوالہ سے جب سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے باغی ٹی وی نے موقف لیا تو مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "ٹھیک ہے، یہ دس بارہ سال پہلے کی بات ہے،مجھے یاد نہیں، اس کا دو بار ٹینڈ ر ہوا تھا اور اوپن ٹینڈ ر ہوا تھا جس کے ذریعے میں نے یہ جہاز لیا تھا،تاہم اب اس کا کیوں اور کیا ذکر ہو رہا ہے؟ اس کا مجھے نہیں پتہ”
اجلاس میں مشیر ہوا بازی نے کمیٹی کو بتایا کہ 7 اگست کوسابقہ کابینہ نےپی آئی اے کو نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا تھا ،ستمبر کے آخرمیں پی آئی اے کو مکمل طور پر نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا ہے ۔پی آئی اے کی 22ارب روپے ماہانہ آمدن تھی جو 10عشاریہ 5ارب قرض کی ادائیگی میں چلے جاتے تھے 1.4ارب روپے منافع ہوتا تھا ۔10ارب میں 5ارب سود اور باقی 5ارب اصل رقم۔واپس ہوتی تھی ۔پی ایس او سے کریڈٹ پر تیل پی آئی اے لیتا تھا جب پی ایس او کا اپنا مسئلہ ہوا تو تیل کا مسئلہ ہوا۔ 80سے 90فلائیٹ چلتی تھی جس کے بعد تیل کی وجہ سے آدھے 45فلائیٹس ہو گئے نومبر میں 76فلائیٹس بحال ہوگئیں ۔اکتوبر میں تیل کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا۔اب ہم اپنے اصل ٹارگٹ پر پہنچ گئے ہیں ۔جو فلائٹس نقصان میں چل رہی تھی ان کو بند کردیا ہے ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں آج مشکل کام کرنے جا رہا ہوںَ دلخراش واقعہ ہوا، اس نے سب کو سوگوار کر دیا، خاص طور پر ماں باپ کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے، ایسے واقعہ کو نظرانداز کرنا، ایک حادثہ ہوا ڈی ایچ اے لاہور میں جس میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد پر قیامت آ گئی اور انکی موت ہوئی، مجھے یاد ہے، میںبیٹے کے ساتھ آ رہا تھا ہم نے دو گاڑیاں دیکھیں مین بلیوارڈ پر لگی ہوئی تھیں، میں نے بیٹے کو کہا کہ اللہ رحم کرے، جتنا بڑا حادثہ ہوا کوئی زخمی نہ ہوا ہو، اس رات تو ہمیں پتہ نہ چلا اگلے دن خبر آنا شروع ہو گئی کہ چھ افرا د کی موت ہوئی، حادثاتی موت بھی شہادت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ سوگواران کو صبر دے،آمین،اسکے بعد میں نے دیکھا کہ جس طرح خبریں آنا شروع ہوئیں ان میں سب سے پہلے یہ آئی کہ لڑائی ہوئی تھی، ہاتھا پائی ہوئی،لڑکیوں کو چھیڑنے کی بات ہوئی پھر کہا کہ ڈی ایچ اے میں نہیں رہنے دوںگا، میں سوچ رہا تھا کہ یہ باتیں کہاں سے آ رہی ہیں، انکا گواہ کون ہے؟ حادثہ کا تو سب کو سمجھ آتا ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ ملتا ہے، لیکن رکنا ، گالم گلوچ کرنا یہ کہاں سے نکلا؟ ہم نے اس کیس کو دیکھنا شروع کیا، مظلوم فیملی جن کی اموات ہوئی انکے والد نے میڈیا ٹاک کی، میں نے وہ سنی، بچے کی ایک ویڈیو آئی اور میں نے ایک ویلاگ میں کہا کہ پولیس اس بچے کی ویڈیو کیسے وائرل کر سکتی ہے یہ کم عمر ہے، پولیس کا کون کیا کر سکتا ہے، زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لئے سسپینڈ ہو جائیں گے، پھر آہستہ آہستہ دہشت گردی کا پرچہ ہو گیا، جج نے کہا کہ میں نہیں سن سکتا، یہ اے ٹی سی کورٹ سنے گی، آج صبح مجھے پتہ چلا کہ بچے کا مزید ریمانڈ مل گیا، پولیس ایک ماہ کا ریمانڈ مانگ رہی تھی تا ہم پانچ دن کا عدالت نے دیا، اس کی وجوہات بہت ہیں، آج کار حادثہ کے ملزم افنان کے والد شفقت ہمارے ہمراہ ہیں
مبشر لقمان نے افنان کے والد شفقت سے سوال کیا کہ بہت بڑا ظلم ہو گیا ہے، جس پر شفقت کا کہنا تھا کہ ایسی ہی بات ہے، یہ ایک حادثہ تھا، ایک ہی فیملی کے چھ لوگ چلے گئے، اس سے بڑا اور ظلم کچھ نہیں کہہ سکتے، ہماری تمام تر ہمدردیاں اسکے ساتھ ہیں، میں نے کل بھی میڈیا پر بات کی، ہم اس کےبارے بات نہیں کر سکتے ،اتنا بڑا حادثہ ہوا، یہ اللہ کی مرضی تھی اور ہمارے بچے سے یہ ہونا تھا، یہ ایک حادثہ تھا اسکو جس رنگ میں پیش کیا گیا اور جس طرح روز چیزیں بدلتی گئیں ہمارے لئے وہ اور فکر کی بات تھی، ہمیں اس فیز میں دھکیل دیا گیا کہ ہم ہمدردی بھی نہیں کر سکتے، دعا کے لئے بھی نہیں جا سکتے، جب حادثہ ہوا تو میرا بیٹا اسی وقت گرفتارہو گیا، ایف آئی آر ہو گئی، اگلے دن ہماری کوشش تھی کہ جب میتیں آئیں گی تو ہم جنازے میں شرکت کریں گے، کچھ فیملی کے لوگ تیار تھے، میری بھی کوشش تھی کہ جاؤں، اس وقت یہ بات کر دی گئی کہ قتل کیا گیا، ہم پوسٹ مارٹم کروا رہے ہیں،یہ ایف آئی آر کے اگلے دن بعد کا بیان ہے، جب 302 کے بیان کی بات آئی تو ہم محتاط ہو گئے کہ انکے جذبات پتہ نہیں کیا ہوں گے، قتل کیسے ہوایہ وہ جانتے ہیں، پہلے کبھی میری ان سے ملاقات نہیں، کوئی لڑائی جھگڑا نہیں،مدعی کا بیان ہے کہ میں بھی ساتھ تھا لیکن میں ساتھ نہیں تھا، میں عسکری الیون تھا اور گھر سے نکل رہا تھا، اسکی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، بیٹا الگ تھا ، آٹھ چالیس ، پینتالیس کو رات کو بیٹا گاڑی لے کر نکلا مجھے پتہ تھا کہ یہ نکلا ہے، ہم لوگ فلیٹ میں رہتے ہیں،
مبشر لقمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پڑھا ہے کہ آپ بہت بڑے پراپرٹی ٹائیکون ہیں، جس پر شفقت کا کہنا تھا کہ یہ آن دی ریکارڈ ہے کہ میں فلیٹ میں اور رینٹ پر رہتا ہوں، اپنا گھر نہیں ہے، بچوں کو اچھی تعلیم دے رہا ہوں، ہر والد کی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو اچھی تعلیم دی جائے، اس کوشش میں میں اپنا گھر ابھی تک نہیں بنا سکا، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا سوال یہ ہو گا کہ کیا تعلیم دی بچوں کو کہ کم عمر بچہ گاڑی چلا رہا، شفقت کا کہنا تھا کہ یہ بات ٹھیک ہے، اس معاملے میں صرف میں نہیں ہوں، ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں، بچے جاتے ہیں، اسکا مطلب یہ نہیں کہ بچے نافرما ن ہیں میرے بچے نے کبھی نشہ نہیں کیا، اپنی سائیڈ پر سیدھا جانا تھا اس نے سپیڈ کا نہیں کہتا کہ کم تھی یا زیادہ، سپیڈ پچاس تھی یا ڈیڑھ سو ، یہ بحث نہیں بندے تو مرے ہیں انکا دکھ کرنا چاہئے، فرض کریں ہم پچاس کی سپیڈ کہہ دیتے لیکن بندے تو مرے،جب یہ گیا اسکے پندرہ بیس منٹ بعد بیٹے کی کال آئی کہ بابا گاڑی لگ گئی، میں اسوقت فیز فائیو میں تھا، اسکی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ہے، مجھے وہاں پہنچتے دس پندرہ منٹ لگے، اسوقت لوگوں نے اسکو گھیرا ہوا تھا ، تشدد کر رہے تھے، نو بجکر 11 منٹ پر پہلی کال چلی، اسکے بعد پولیس اس کو لے کر گئی.پولیس اور ریسکیو دیر سے آئے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ چڑیل بڑی خبریں لے کر آئی ہے،اتنی کہ میں ساری نہیں بتا سکتا، بشریٰ بی بی باہر نکلی تو لوگ جمع ہو گئے کالا جادو مردہ بار کے نعرے لگے، ویڈیو وائرل ہوئی، یہ مکافات عمل ہے، بہت پہلے پی ٹی آئی کے دوستوں کو کہا تھا کہ جو کرتے ہو یہ نازیبا حرکت ہے، سڑک پر نکلنے والے کو کیوں تنگ کرتے ہو ، عابد شیر علی فیملی کے ساتھ کھانا کھا رہا اسکو ٹرول کر رہے ویڈیو بنائی گئیں، پھر ا س طرح تو ہونا تھا ، اب گھر کے باہر بھی لوگ جمع ہوں گے، جو بویا ہو گا وہی کاٹنا پڑتا ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے متعلق چڑیل بضد ہے کہ انکی طبعیت اب ایسی نہیں رہی کہ نواز شریف وہ وزارت عظمی کا بوجھ سنبھال سکیں، نواز شریف اپنے قریبی ساتھیوں کو نہیں پہچان رہے، انکو بتانا پڑتا ہے کہ یہ کون ہے، عمر زیادہ ہو جائے تو ایسا ہوتا ہے، ہمارے گھروں میں بھی لوگوں کو یہ بیماری ہوتی ہے، میں طنز میں بات نہیں کر رہا،اب انکی وہ فزیکل کنڈیشن نہیں کہ وہ وزیراعظم بنیں، لیکن انکے لوگ بضد ہیں کہ میاں صاحب وزیراعظم بنیں، اب نواز شریف نے ایک شرط رکھ دی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ دو تہائی ملے گی تو وزیراعظم بنوں گا، اس پر پی ایم ایل این میں اوس پڑ گئی، ایک تہائی ملنا بھی معجزہ ہو گا، انکا خیال ہے کہ عمران خان کی حکومت جانے تک اگر الیکشن ہوتے تو پچیس تیس سیٹیں ملتی اب ساٹھ ستر ملیں گی، نواز شریف بڑے کلیئر ہیں، انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ 170 سے زیادہ سیٹیں ہوں گی تو وہ وزیراعظم بنیں گے، انکو بتایا جا رہا ہے کہ اسی نوے کے قریب سیٹیں ملیں گی ایسے میں شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی چڑیل کے مطابق ہو سکتا ہے چھوٹ جائیں ، وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بنیں گے اور الیکشن بھی لیڈ کریں گے، اگر قریشی مہم لیڈ کریں گے تو بلے کا نشان ہو گا، چالیس کے قریب سیٹیں پی ٹی آئی کو آسانی سے مل جائیں گی،الیکشن ہو رہے ہیں، پرسوںتک ہمارا خیال تھا کہ شاید الیکشن نہ ہو، لیکن اب الیکشن ہو رہے ہیں،الیکشن میں پی ٹی آئی چالیس 45 سیٹیں کیسے لے گی؟ لاہور میں نواز شریف فیملی کی چار سیٹوں پر وہ لڑ رہے ہیں، ن لیگ کے اندر ایک بہت سخت ڈپریشن ہے کہ محنت ہم کریں، جلسے ہم کریں، بریانیاں ہم کھلائیں اور الیکشن یہ لوگ لڑیں، اگر نواز شریف ، شہباز شریف ایم این اے کا الیکشن لڑ رہے ہیں تو شہباز ایم پی اے کا الیکشن کیوں لڑ رہے، حمزہ دونوں سیٹوں پر لڑیں گے، مریم بھی لڑے گی، حمزہ شہباز کی سیاست اب تقریبا ن لیگ کے اندر ختم ہو چکی ہے،حمزہ شہباز چند دنوں میں امریکا چلے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ انکی بیٹی کا علاج ہونا ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ اس نتیجے پر پہنچی کہ لاہور کی سیٹیں زیادہ وہ ہار رہے ہیں،ا نہوں نے باقی شہروں سے سیٹیں لینی ہیں، اربن ایریا ن لیگ ہار رہی ہے،آزاد امیدوار اس الیکشن میں بہت بڑی فورس بن کر ابھریں گے، مولانا فضل الرحمان نے کے پی کا صوبہ مانگ لیا ہے، بلوچستان میں بھی شیئر مانگ لئے،نواز شریف نے ملاقات میں مولانا سے کچھ وعدہ کیا ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل میں ایک ریکارڈنگ کے لئے گیا تھا لوگ کہتے ہیں کہ آج کل آپ کی سوچ کیا ہے، اپنے دشمن کیوں بنے ہوئے ہیں،آج کل جو اقتدار میں ہوتا ہے اسکی حمایت صحافت کو چار چاند لگا دیتی ہے لیکن آپ کو دیکھتے ہیں تو سمجھ نہیں آتی کبھی آپ کینٹینر پرہوتے ہیں تو کبھی خلاف ہو جاتے ہیں، ابھی انکے بھی خلاف ہیں،2018 تک تو شریف خاندان حکومت میں تھا اس پر تنقید کرتے تھے ،ہر روز کرپشن دکھاتے تھے، کل منصور نے بھی یہ سوال کیا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سن لیں ایون فیلڈ کے کاغذات سب سے پہلے ہم نے سکرین پر دکھائے، رائیونڈ کی کرپشن ہم نے سب سے پہلے بے نقاب کی،اتفاق فاونڈیز کے درجنوں کیسز سامنے لے کر آئے، کبھی چینل سے نکالے گئے تو کبھی عدالت کے حکم پر آف ایئر کر دیئے گئے ، کبھی مقدمات میں گھسیٹا گیا کبھی دھمکیاں دی گئیں، کبھی پولیس نے گھر پر چھاپے مارے، کبھی گاڑیوں کو ٹکر ماری گئی، کینٹیر پر عمران خان کی تبدیلی کا پہلا جو ہوا کا جھونکا وہ بھی ہماری ذمہ داری ہے، عمرا ن کی حکومت آئی تو ہمارے لئے گرم ہوا چلنی شروع ہو گئی تین ماہ بعد ہی ہمیں آف کر دیا گیا،دو سال بعد عمران حکومت کی دھجیاں بکھیرنے لگ گئے، معید پیرزادہ جیسے مفاد پرست کروڑوں لے گئے، ڈھائی سال ہم نے عمران خان کے ہر غلط کام کو بے نقاب کیا، جو لوگ آج پریس کانفرنس میں کر رہے یا انٹرویو کروا رہے وہ ہم نے پہلے کردیا تھا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نواز شریف میرا وی لاگ سننا شروع ہو گئے تھے،یہ بھی حقیقت ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے، جو کچھ ہو رہا یہ پہلی دفعہ تو ہو نہیں رہا،آپ بھول گئے 2014 میں جب میں عمران خان کو سپورٹ کر رہا تھا تو میرے اوپر مقدمے بنے،ابھی تک ہیں، کیسے زبان بندی ہوئی، کیسے آف ائر کیا گیا، کیسے ای سی ایل میں ڈالا گیا، یہ ایک کھیل کا حصہ ہے، ایک بات بتا دوں کہ جو سمجھتے ہیں کہ مجھے آف ایئر کر کے اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے یہ ان کی بڑی بھول ہے،دو ما ہ بعد الیکشن ہیں، میں دو ماہ میں جو کچھ سامنے لانے والا ہوں اسکا اندازہ بھی نہیں کر سکتے، سب حیران ہوں گے اور ڈوریاں ہلانے والے پریشان ہوں گے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا، سالہا سال کا کیریئر ہے، تکلیف دوں گا تو کتنی دوں گا مجھے ہے حکم اذاں ،لاالہ الااللہ. ہر کوئی سوال کرتا ہے یہ تو میں نے سوچھا کھل کر بتا دوں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستا ن کے حالات کیوں ٹھیک نہیں ہوتے، یہاں ہر روز ایک نیا جادوگر لانچ ہوتا ہے،کسی بھی وزیراعظم نے مدت پوری نہیں کی،بحیثیت قوم ہمارا کردار اہم ہے، مسیحا آتے ہیں یا لائے جاتے ہیں،جو بھی آتا ہے قوم کے مسائل کے حل کے لئے آتا ہے لیکن پھر عمر بھی اقتدار چاہتے ہیں، اگر نواز شریف امیر المومنین بننے کی کوشش نہ کرتے تو شاید انہیں نہ نکالا جاتا، اگر عمران خان بھی اس طرح نہ کرتے تو انہیں بھی شاید نہ نکالا جاتا.جب ترقی کے لئے کسی کو لایا ہی نہیں جاتا تو پھر بعد میں رویا کیوں جاتا ہے، ملک کبھی مذہب، کبھی بھارت کی دشمنی، کبھی ضد، کبھی برداری، کبھی بریانی کی پلیٹ پر برباد کیا گیا،پھل وہی ملے گا جو بویا ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ جس چیز کا انتخاب ہی نہ کیا ہو وہ مل جائے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان میں ہزاروں بچے مر جائیں تو یہ ویڈیو آپ کے لئے نہیں ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں ایسے مریض ہوں جنکی بیماریاں قابل علاج تھیں لیکن علاج نہیں کرنا اور زندہ مار دینا پھر اس ویڈیو کو دیکھنے کی ضرورت نہیں، چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر، طبی عملے کا حال یہ ہو کہ وہ ہاتھوں میں مردے دے رہے ہوںتو یہ ویڈیو آپ کے لئے نہیں ہے
مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ لیکن اگر آپ یہ نہیں چاہتے کہ معصوم بچوں کی جانیں چلی جائیں، لوگ سسک سسک کر تکلیف سے مرتے جائیں اور ان کی زندگی کا دورانیہ تھوڑا ہو جائے، تو یہ ویڈیو آپ کے لئے ہے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ سمجھ لیں کہ عام الفاظ میں بتا رہا ہوں، میں یہ نہیں سمجھ رہا کہ کون اس ویڈیو کو دیکھ رہا، میں چاہتا ہوں مائیں، باپ ، حکومت کے لوگ اس ویڈیو کو دیکھیں، 24 کروڑ عوام کے بچے ایک آزمائش میں پڑ گئے ہیںَ اس ملک کے حکمرانوں کی بے حسی بتانا چاہتا ہوں ،انکی کرپشن کی کہانی بتانا چاہتا ہوں، انسان کا خون بھی پی کر انکی ہوس نہیں ختم ہوتی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی ایک ادارہ ہے، پاکستان میں ڈینٹل پالیسی ہے ہی نہیں کوئی بھی، کہنے کو ہم پی ایم سی، پی ایم ڈی سی،پی ایم اے کر دیتے ہیں، ہماری پالیسی جن لوگوں نے بنانی ہوتی ہے، جو ذمہ دار ہیں، جو سیکرٹری ہیلتھ بنتے، ڈریپ کے ہیڈ بنتے یا ایسے جتنے بھی ادارے، انکو پتہ ہم نے پیسے کیسے بنانے ہیں، اور جب انکے علاج کی باری آتی ہے تو فوری ایک نسخہ لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انکا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اور ایک فلائٹ سے بیرون ملک چلے جاتے ہیں،سوال یہ ہے کہ یہاں پر لوگ اپنے بچوں کی لاشیں کب تک دیکھیں، میں ایک بیماری کی بات کر رہا ہوں، ٹی بی، سمجھتے ہیں ٹی بی عام نہیں ، ہر تین کے بعد چوتھا آدمی اسکا شکار ہے،دنیا میں نوے فیصد لوگوں کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ انکو ٹی بی ہے،جب تک اسکی تشخیص نہیں ہوتی علاج نہیں ہوتا، اسکے لئے ٹیسٹ ہوتے ہیں کسی بیماری کے تو سامنے آتا کہ ٹی بی بھی ہے، اسکا علاج کیسے ہو گا؟ لاہور میں کیسے علاج ہو گا، جہاں سموگ ہی سموگ ہے، دنیا کی بدترین فضا ہے، سانس لینے سےجہاں اچھا خاصا آدمی بیمار ہو رہا ہے، ٹی بی کی دوائیاں بھی خاص ہیں ،اسکا را میٹریل بھی کٹھن طریقوں سے امپورٹ کرنا پڑتا ہے، مشنیری نہیں ہے، ٹیکنالوجی نہیں،ہیومن ریسورس نہیں جو آ کر بنا لے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا میں دو ارب ٹی بی کے مریض ہیں، اسکی آگاہی ہونی ضروری ہے، علاج کے متعلق بھی آگاہی ضروری ہے، پاکستان میں کیا مسئلہ ہوا، یہ لمبی کہانی ہے، چالیس سال سے چل رہی ہے، ہماری جو ڈریپ اور وزارت صحت ہے، جنتی کرپٹ ہے، او ر قاتل وزارت ہے، چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے میں پڑیں پتہ چلے کہ یہ کتنے بڑے قاتل ہیں، انکے علاج تو باہر ہوتے ہیں، سیاستدانوں، افسروں کے علاج باہر ہونے ہیں، انکی دوائیاں آ جانی ہیں، لیکن اگر میرے کسی رشتے دار بچے کو دوائی چاہئے تو کہاں سے لے گا، ٹی بی کی جو دوائیاں بناتے ہیں،27 نومبر سے یہ فیکٹریاں پاکستان میں بند ہو جائیں گی اور ارباب اختیار کل کی تاریخ میں بھی اپنے فیصلے کو لے کر بیٹھے ہیں، سوچ و بچار کر رہے ہیں،پاکستان میں وہ جتنا سوچیں گے اتنے بچوں کی موت ہو گی، پاکستان میں ہر ایک منٹ میں بچہ مر رہا ہے، اسکی کئی وجوہات ہیں،ہماری مجرمانہ غفلت کی وجہ سے بچے مر رہے ہیں، ہم ڈاکٹر سے لڑائیاں کرتے ہیں، ان پر تابڑ توڑ حملے کرتےہیں جب کوئی موت ہو، ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتے، انکو پتہ ہے کہ آپ انکو مریض دیں گے تو وہ لاش واپس کریں گے کیونکہ ان کے پاس دوائی ہی نہیں ہو گی، پاکستان میں پیر سے یہ دوائیاں بننی بند ہو جائیں گی،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوائیاں مہنگی ہونے کی اور وجوہات ہیں، انہی کی چوری کی وجہ سے مہنگی ہوتی ہیں،پاکستان میں دوائیوں کے پلانٹ ڈبلیو ایچ او تصدیق کرتی ہے، اب یہ ہو رہا ہے کہ ہماری حکمت عملی خواہ وہ کوئی بھی حکومت ہو ،کسی کی سیاست کی بات نہیں کر رہا، جب اکانومی کو کنٹرول نہیں کرتے، ڈالر بڑھ جاتا ہے، تین سال پہلے پاکستان میں ٹی بی کی دوائی بنانے کے لئے ساٹھ کروڑ کی لائنز لگانی ہیں،اب ڈالر بڑھ چکا ہے، تو حساب لگائیں اس پر کتنی مالیت چاہئے ہو گی،
جب ملک بھر میں سیاسی ہنگامہ آرائی جاری ہے تو ایک صنعت خاموشی سے تباہی کے دہانے پر اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے جس سے پاکستان میں کمزوروں خصوصاً بچوں کے لیے تباہ کن نتائج کا خطرہ ہے۔پاکستان کے معروف تحقیقاتی صحافی اور ٹاک شو کے میزبان مبشر لقمان کو لکھے گئے خط میں فارماسیوٹیکل کمیونٹی نے اپنی زندگیوں کی جنگ لڑنے والے بہت سے بچوں کی صحت کو ترجیح دینے کی کوشش میں، فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنا معاملہ پیش کیا۔ فارماسیوٹیکل کمیونٹی جو پاکستان میں 1951 سے کام کر رہی ہے، خط کے ذریعے پاکستان کی صحت کی دیکھ بھال اور ادویات سازی کی صنعت کی حمایت میں اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے، کمیونٹی نے ٹی بی (تپ دق) کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ دوا تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
خط میں کہا گیا ہے، ٹی بی ایک ایسی بیماری ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد ہلاک ہوتے ہیں لیکن حکام اس حقیقت سے "غافل” رہتے ہیں کہ "نسلیں تباہ ہو رہی ہیں” جس کے نتیجے میں ملک میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، پاکستان کو دنیا کا 5واں بوجھ والا ملک قرار دیا گیا ہے جہاں "مارکیٹ میں کوئی دوا فروخت کے لیے نہیں ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ پہلے سے ہی ایک متزلزل معیشت میں جکڑے ہوئے ملک کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث کیوں بن رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کے اعدادوشمار کے مطابق صرف 2022 میں تقریباً 1.3 ملین جانیں ٹی بی کی وجہ سے ضائع ہوئیں جن میں سے 167,000 ایچ آئی وی پازیٹیو تھے۔
اگرچہ 2030 تک ٹی بی کی وبا کا خاتمہ اقوام متحدہ (UN) کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کا صحت کا ایک لازمی ہدف ہے، لیکن پاکستان اس کی گہرائی میں گرتا جا رہا ہے جس کا کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔ صرف گزشتہ چند سالوں میں، ملک 7ویں سے 5ویں نمبر پر آگیا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ جیسا کہ خط میں بجا طور پرکہا گیا ہے، ملک میں ٹی بی کی ادویات کی تیاری مہنگی ہے، اس کے خام مال کو ڈالر میں درآمد کرنے کی ضرورت ہے، پیداواری لاگت بہت زیادہ ہے، اور ڈبلیو ایچ او کی فارمولیشنز کے مطابق معیار کی لاگت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو اس سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ٹیبلٹ مینوفیکچرنگ لائن قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کی لاگت تین سال قبل 580 ملین ڈالر تھی۔ جو اب بالترتیب 800-900 ملین ڈالر کے درمیان پہنچ گئی ہے.
لیکن ان پیداواری سہولیات پر اتنی لاگت کیوں آرہی ہے جس کے نتیجے میں پوری صنعت ختم ہو جائے گی؟ خط میں دلیل دی گئی ہے کہ اس کی وجہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین پر توجہ مرکوز کرنے والی پالیسی اور نظام کے باوجود، خاص طور پر پچھلے چند سالوں میں اس پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ 2022 کے جنوری-فروری میں، صنعتوں نے ضروری مصنوعات کی قیمتوں پر غور کرنے کے لیے ایک کیس جمع کرایا جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس وقت، ڈالر 176 PKR پر تھا، اور وکلاء اور ریگولیٹری محکمے بغیر کسی پیش رفت کے گھنٹوں عدالتوں کے باہر گزارتے تھے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس دسمبر 2022 میں بلایا گیا، ایک سال بعد جب ڈالر 226 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ معاملہ کابینہ کے پاس چلا گیا۔ تب سے، فارماسیوٹیکل کمیونٹی انتظار کر رہی ہے۔
ای سی سی کے مسترد ہونے سے اسے ڈریپ کو نظرثانی کے لیے موخر کر دیا گیا ہے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس عمل میں، ڈالر بڑھ کر 308 PKR اور واپس 282 PKR پر پہنچ گیا ہے لیکن اس کے باوجود قومی دواسازی کی صنعت کو کوئی ریلیف نہیں ملا ہے جو ملک بھر میں ضروری صحت کی دیکھ بھال اور ادویات کی بہتر پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل حکومت سے ریلیف کی تلاش میں ہے۔خط میں انکا کہنا ہے کہ واحد حل سالانہ افراط زر اور امریکی ڈالر کی اتار چڑھاؤ کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ PKR کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافے کو طے کرنا انڈسٹری کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔
خط کے مطابق نہ صرف مینوفیکچرنگ لائنوں اور اس سے منسلک صنعتوں کا خاتمہ اور بندش ناگزیر ہے۔ فارماسیوٹیکل کمیونٹی کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے پاس علاج کے بغیر مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ وہ زور دیتے ہیں، کہ بچوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع پر جوابدہ ہونے کے لیے کسی کو فلسطین جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو پاکستان میں بچوں کی ٹی بی اس سال کافی بچوں کو ہلاک کر دے گی۔ہم کئی سالوں سے خاموش ہیں لیکن معصوم بچوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکاری ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لوگ قیاس آرائی کر رہے ہیں کہ بلاول اور آصف زرداری کی لڑائی ہوئی،پہلے بلاول دبئی گئے تو پھر آصف زرداری بھی دبئی پہنچ گئے پیپلز پارٹی والے کہہ رہے ہیں کہ ملنے گئے ہیں، کوئی اہم میٹنگ ہے، دو چار دن میں سب واپس آ جائیں گے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی میں شدید قسم کی لڑائی چل رہی ہے، اسکے پیچھے کئی محرکات ہیں، پیپلز پارٹی کا انٹرنل انفراسٹرکچر آمنے سامنے کھڑا ہے، کل فرحت اللہ بابرنے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استفعیٰ دیا، وہ جنرل سیکرٹری تھے،الیکشن شیڈول اگر فرض کریں کہ دسمبر میں آنا ہے اور وہ ابھی استعفیٰ دے رہے تو یہ بڑا مسئلہ بن گیا ہے، یہ الیکشن کمیشن میں جائے گا، پارٹی جس نے الیکشن لڑنے ہیں، ا س کے جو ٹکٹ ہوں گے وہ سیکرٹری جنرل بھیجتا ہے کہ یہ فلاں فلاں ہمارا امیدوار ہے اسکو پارٹی نشان دیں، اگر الیکشن شیڈول سے دس دن قبل سیکرٹری جنرل استعفیٰ دیتا ہے تو اسکا طریقہ کار ہے.آپکو پارٹی کا الیکشن کرانا پڑے گا، لیکن اس کی بھی ایک ٹائم لائن ہوتی ہے، کاغذ جمع ہوں گے ، سکروٹنی ہو گی، اور پھر فیصلہ ہو گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فرحت اللہ بابر کا استعفیٰ ، پیپلز پارٹی کی فور پی جماعت کے سیکرٹری جنرل تھے، کچھ سال پہلے کی طرف جائیں، سال، ڈیڑھ برس قبل بلاول نے قومی اسمبلی میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ بزرگ گھر بیٹھ جائیں اب پچھلے ایک ہفتے سے وہ مسلسل یہ کہہ رہے تھے، مولانا فضل الرحمان سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا بلاول کے والد بھی بزرگ ہیں و ہ اپنے والد کو کہہ رہے ہیں،مولانا نے اشارہ بتا دیا کہ گھر میں لڑائی ہو ہی ہے، مجھے پتہ چلا ہے کہ جو وجہ بنی ہے کہ آصف زرداری سمجھتے ہیں کہ ان پر بہت زیادہ پریشر ہے کہ نواز شریف سے الحاق کرنا چاہئے، اس سے کم از کم وہ سندھ بچا لیں گے، اگر سندھ بچا لیں گے تو وفاق میں بھی سیٹیں لے سکتے ہیں، انکو کہا جا رہا ہے کہ حکومت بچائیں لیکن بلاول بالکل اس کے الٹ چل رہے ہیں، بلاول نے نواز شریف پر سیاسی جملے کہے، مہنگائی لیگ کہا،