پروگرام کھرا سچ میں میزبان مبشر لقمان نے بیرسٹر عامر حسن نے سوال کیا کہ آپ کو کبھی ، جب چیف جسٹس کا کردار دیکھتے ہیں تو شرم نہیں آتی، جس پر بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ سر اب تو عادت ہو گئی ہے،ہمیں دیکھ کر شرم آئے ،اور کسی کو ہو کر شرم نہ آئے تو کیا کیا جائے، گڈ ٹو سی یو یہ سب کو کہتے ہیں؟ جسے کہنا تھا کہہ دیا، جس کو کہنا تھا جاؤ کافی پیو،کہہ دیا، ججز انٹری سے کوئی نہیں آتا، یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو انکو بھی نہیں آنے دیا گیا ہماری بدقسمتی ہے کہ بونے کرسی پر ہیں، علوی کا رونا روئیں، بندیال کا رونا روئیں، کس کس کا روئیں،
بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ جناح کا پاکستان صرف رکھا ہوا ہے، بس، اسکے علاوہ کچھ نہیں، فلاحی ریاست کا خواب کسی کو اب نظر نہیں آ رہا، فلاحٰی ریاست کب بنے گی؟ کیا یہ فلاحی ریاست ہے،یہ ایسی ریاست ہے جہاں تگڑا آدمی ریاست کے پیسوں پر پل رہا ہے اور غریب آدمی مزدوریاں کر رہا ہے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے خط سے عارف علوی کو ٹھنڈ نہیں پڑی، لا منسٹر کو بھی ملے ہیں، جو مرضی کر لیں، جب مرضی الیکشن کا اعلان کر دیں، نہ میں نے الیکشن لڑنا ہے اور نہ ہی الیکشن لڑنے والوں سے کوئی امید ہے، جمہوریت جمہوریت کی باتیں سنیں گے اور جمہوریت کا حسن بھی دیکھیں گے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عارف علوی نوے دن کے اندر الیکشن کی تاریخ کا اعلان کر دیں،
مریم کے لندن جانے کی خبروں کے سوال پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فتح صرف پاکستان کو کیا ہوا ہے، لندن میں کوئی گورا نہیں آ کر ملتا، ایجنسیوں کے اہلکار صرف آ کر ملتے ہوں گے، نواز شریف وہاں رہتے ہیں شہباز گئے ہیں کبھی کوئی بڑی یا حکومتی شخصیت انکو ملنے آئی، بس یہ فیملی ٹرپ ہے لوگ ادھر مری چلے جاتے ہیں اور یہ لندن چلے گئے ہیں، کچھ بندر بانٹ ہو گی، کہ واپس آنا ہے تو کس کو کیا ذمہ داری ،وزارت ملنی ہے،پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہو گا، یہ سب باتیں ہونی ہیں، ہماری قسمت ہم نے سمجھا تھا کہ 1947 میں آزادی لے لی ہے لیکن ہمارے فیصلے تو اب بھی لندن میں ہو رہے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آزادی کا ایک نشہ ہوتا ہے، جنہوں نے لی انکی نیت اچھی تھی، خواب پاک اور نیک تھے، ان خوابوں کی تعبیر میں ہم نے کھوٹ ڈالی تو انکا تو قصور نہیں،کئی فیصلے آنیوالے دنوں میں ہیں، ستمبر کا مہینہ پاکستان میں بڑا اہم ہے، عمر عطا بندیال جا رہے ہیں، وہ جانے سے پہلے کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں، کافی چیزیں غیر متوقع ہو سکتی ہیں، شیخ رشید خبروں کے مریض ہیں، وہ کوئی خبر چھوڑ دیتے اور پھر دو دن اسی پر بات ہوتی رہتی،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے وکیل ہی انکو مرواییں گے ،یہ وکیل ہی مرواتے ہیں، کبھی پیشی پر نہیں جاتے، کبھی نئے گواہان کا کہہ دیتے ہیں، وکیل اچھا وہ ہوتا ہے جو اپنے کلائنٹ کو درست سمت بتائے اور اچھا کیس لڑے،کوئی چھپائے نہیں
فرانس انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دائرے کار میں، برکینا فاسو اور مالی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو مزید آگے بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں دونوں ممالک سے فرانسیسی فوجیوں کا انخلا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے فرانس کی جانب سے اپنی سابق کالونیوں پر دباؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
جنوری 2023 میں، برکینا فاسو نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعہ فرانسیسی فوجیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔ ویگنر گروپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے، جو کہ ایک روسی نجی ملٹری کمپنی ہے، جس کے روسی حکومت سے تعلقات ہیں، فرانس کے ساتھ معاہدے کی تحلیل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مالی میں ویگنر گروپ کی کارروائی، سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کے پہلے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو افریقی ریاستوں کے لیے تیار کردہ اسٹریٹجک منصوبہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ روس، ویگنر گروپ کے ساتھ، پسندیدگی حاصل کر رہا تھا کیونکہ فرانسیسی فوج مطلوبہ رفتار سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں ناکام رہی۔ نئے شراکت داروں کی تلاش کی خواہش باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے، اپنی سابقہ کالونیوں کے تئیں فرانس کے سمجھے جانے والے تکبر سے پیدا ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی مدد حاصل کرنے اور سونے کی کانوں جیسے قیمتی وسائل پر کنٹرول دینے کا عمل منفرد نہیں ہے، کیونکہ یہ فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
آج چین افریقی ممالک کے اقتصادی اور تجارتی منظرنامے میں ایک غالب قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ تاہم، چین کی شمولیت کے حوالے سے سوالات باقی ہیں، جن میں "قرضوں میں پھنسی معیشتوں” کی ممکنہ تخلیق کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
افریقی ریاستیں اپنی مخلوط معیشتوں پر فخر کرتی ہیں، اور انہیں کڑی مشکلات کا سامنا ہے، پھر بھی 2023-24 میں ان کی متوقع ترقی کے بارے میں پرامید ہے، جو دنیا کی دوسری تیز ترین شرح شمار ہوتی ہے۔ ایک امید افزا اشارہ، ملازمت کی تخلیق میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، نئی صنعتوں کا ابھرنا، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہے۔ مثلا، جنوبی افریقہ نے 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 784,000 ملازمتوں (5.0%) میں قابل ذکر اضافہ کیا۔ان پیش رفتوں کی روشنی میں، افریقہ تیزی سے عالمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کے حوالہ سے بڑی خبریں آ رہی ہیں آج، جو بڑی خبر ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کاروباری شخصیات سے میٹنگ دی ہیں، ان میٹنگ میں انہوں نے رائے کم دی اور اپنا ویژن زیادہ بتایا،میرا خیال ہے کہ اس میں انہوں نے خود بتایا کہ انکا ویژن کیا ہے
مبشر لقمان آفیشل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت بڑی خبر آئی ہے کہ نواز شریف کے اوپر ریڈ لائن ختم ہو چکی ہے، نواز شریف، مریم نواز پر ریڈ لائن ختم ہو چکی، اب نواز شریف پاکستان آنے کا پروگرام بنا رہے ہیں، اکتوبر میں، انکا ارادہ ہے کہ وہ آئیں گے ، ڈیل ہو جائے گی، جیل بھی نہیں جائیں گے، الیکشن میں ایک نئی مسلم لیگ لے کر بھر پور مقابلہ کریں گے، تب تک تحریک انصاف تتر بتر ہو جائے گی اور خاص کر پنجاب کی حد تک راستہ کلیئر ہو جائے گا، دوسری جانب خبریں آ رہی ہیں کہ پی پی کے خلاف کریک ڈاؤں شروع ہو چکا ہے، میری کچھ دوستوں سے بات ہوئی انکا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی پالیسی نہیں،پہلے جنرل راحیل شریف کے زمانے میں بھی ایسا ہوا تھا جس وقت زرداری صاحب نے کہا تھا کہ تین سال کے لئے تم آتے ہو، ہم یہین پر رہتے ہیں، ہماینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، یہ اسوقت بھی شروع ہوا تھا، اور اب بھی،لیکن اب اور اس میں فرق ہے، پہلے پی پی کے سامنے ایم کیو ایم، پی ایس پی کولایا گیا، اب احساس ہوا کہ پیپلز پارٹی کا زور کم کرنا ہے تو انٹیریئر سندھ میں ہیوی قسم کا آپریشن کرنا پڑے گا، اطلاعات یہ ہیں کہ آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں،سندھ میں کریک ڈاؤن کس پارٹی پر ہو گا، وہ سب جانتے ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کاکڑ صاحب اور انکی کابینہ کی خواہش ہے کہ کم از کم ایک سال رہیں اور حکومت کریں لگتا مجھے یہ ہے کہ چھ ماہ تک یہ نہیں چلیں گے، جنوری فروری کے درمیان الیکشن کی توقع رکھ سکتے ہیں،نگران حکومت کی کئی وزارتوں نے اسٹیبلشمنٹ کی نیندیں اڑا دی ہیں، خاص کر وزارت خزانہ، نہ وہ لوگوں کو اعتماد میں لے رہیں، نہ کام کر رہیں، ڈالر کو دیکھیں کیا ہو رہا، افغانستان میں کوئی کاروبار نہیں، بیکنگ رابطہ نہیں لیکن ڈالر سٹیبل ہے، ایران پر پابندی ہے لیکن ڈالر سٹیبل ہے، پاکستان جو پوری دنیا سے کاروبار کر رہا ہے ،پوری دنیا سے پیسے آ رہے وہاں ڈالر ان سٹیبل ہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سے ڈالر افغانستان اور ایران سمگل کیا جا رہا ہے، اطلاعات مل رہی ہیں کہ منی چینجر کا کام بند کرنے کا بریف وزیراعظم کے پاس ہے اور اس پر کافی غور ہو رہا ہے کہ اگر منی چینجر بند کر دیئے جائیں اور بینک کے ذریعے فارن کرنسی ہینڈل ہو تو اچھا ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 15 وزیروں کے نام آ رہے ہیں کہ نیب انکے خلاف کام شروع کر دے گا، ان میں سے اکثر پیپلز پارٹی کے وزیروں کا ہے، سوشل میڈیا پر پی پی کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے ،دوسری طرف عمران خان کے خلاف بھی وکیل والی مہم چل رہی ہے، ہر مہم کے پیچھے کسی نہ کسی کی خواہش ضرور ہے،
استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان، فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،
پروگرام کھرا سچ میں میزبان ،سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ کوالیفائڈ ڈاکٹر ہیں کیا آپ کو نہیں لگتا تھا اپنے لیڈر کو دیکھ کر کہ وہ ڈرگ لیتا ہے، جواب دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پتہ تو ہمیں تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پہلی لڑائی اسی بات پر تھی کہ نشہ آور تمام لوازمات جو بنی گالہ میں میرا لیڈر استعمال کرتا تھا، کہا گیا تھا کہ اس کو چھوڑا جائے،پہلے تین مہینے اس نے چھوڑا تھا، تین ماہ اس نے کسی نشہ آور کو ہاتھ نہیں لگایا،اسکو کہا گیا تھا کہ بطور وزیراعظم آپ کو نشہ نہیں کرنا چاہئے ،اگر یہ سامنے آ گیا تو قوم کے لئے بہت بڑا سانحہ ہو گا، تین ماہ تک عمران خان نے نشے سے خود کو دور رکھا، تین ماہ بعد جو طور طریقے تھے وہ دوبارہ اختیار کئے،
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ کمٹمنٹ کو وائلیٹ کیا گیا ہے، جس پر عمران خان نے برا منایا کہ میرے گھر تک، بیڈ روم تک، ریڈ لائن کراس کی ہیں، اسکا مطلب ہے کہ ہر جگہ مجھے مانیٹر کیا جا رہا ہے، جس پر کہا گیا کہ وزیراعظم کی سیکورٹی یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے، آپ وزیراعظم ہیں، ہمیں یہ کرنا ہے، یہ آپکا جو رول ہے اسکو ہر حال میں قوم کے مسیحا اور لیڈر کے طور پر ایک فزیکلی فٹ اور مینٹلی ویل ہونا چاہئے،وزیراعظم کا بیڈ روم بگ نہیں تھا، سپلائی کی جو چین تھی وہ کسی کی مانیٹرنگ میں تھی اور وہ ایکسپوز ہو گئی تھی،تین ماہ سپلائی چین ٹوٹی تھی لیکن اسکے بعد اسی طرح آگے بڑھتی گئی
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر کانفرنس ایک ریگولر بات ہے، وہ ریگولر ہوتی ہے، اب پاکستان میں الیکشن کے علاوہ بھی ہزار چیزیں ہیں کور کمانڈر کو بیٹھ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں، جہاں تک پارٹیوں کا تعلق ہے الیکشن کے قریب پارٹیاں بنتی ہیں،بدلتی ہیں،الحاق ہوتے ہیں، میں نے پرسوں کہا تھا کہ یہ ہفتہ ملکی سیاست میں بزی ہفتہ ہے اور بڑی بڑی خبریں آنی ہیں
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دو اہم چیزیں ہیں پرویز خٹک اور محمو دخان دونوں عمران خان کے رائیٹ ہینڈ تھے، انتہائی قابل اعتماد، انتہائی فاضل انکے مطابق، انتہائی کام کرنیوالے، ان دونوں نے عمران خان کو چھوڑ دیا اور لوگوں نے بھی، یہ دو لوگ مین ہیں، اب عمران خان کیا کہیں گے، یہ تو انکی کرپشن کے بھانڈے پھوڑ رہے ہیں،کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے پلین نے کے پئ کو دیوالیہ کر دیا، ابھی تک کے پی بچا ہوا تھا،پنجاب ، سندھ آزاد کشمیر سے توڑ پھوڑ ہو گئی تھی، آج کے پی میں آفیشیلی تحریک انصاف ٹوٹ گئی ہے، اب تو پارٹی شروع ہوئی ہے، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی کون چلائے گا عمران خان کے ذہن میں نہیں کیونکہ یہ عمران خان کو وہی پلین ہے کہ سو دن میں کرپشن ختم کر دینی ہے، دو سو لوگوں کی ٹیم ہے جو پاکستان کو ٹھیک کر دے گی، پچاس لاکھ گھر بنا دیں گے، نوکریاں دیں گے، یہ بھی اعلان تھے، اسکے ذہن میں کوئی پلان نہیں،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان اناؤنس کر دیں اسے وہ بندہ یا بندی مستحکم ہو گا،تاخیر کیوں کر رہے ہیں، بتا دیں، عمران خان کوئٹہ کیوں نہیں جا رہے کے سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہاسکو پتہ ہے کوئٹہ گیا اور ضمانت نہ ملی تو گرفتار ہو جاؤں گا اور پھر مچھ جیل، پیسی کہیں اور ریلیف کوئی اور عدالتیں دے رہیہیں، اب عمران خان کو جانا پڑے گا اور ضمانت کینسل ہو گی پھر گرفتار ہونا پڑے گا، بعد میں کوئی درخواست جائے گی، خان صاحب کے لئے اب برا وقت ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ عمران خان کو ملٹری کورٹ سے کیسے بچا لے گی، قانون اور آئین کے تحت بات ہو رہی ہے، سپریم کورٹ نیا آئین تو نہیں بتا سکتی وہ صرف تشریح کر سکتی ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، سپریم کورٹ کو یہ کیس نہیں سننا چاہئے، اس پر اپیل بھی ہو گی، یہ قابل سماعت نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس کی یوٹیوبر کے ساتھ جو گفتگو سامنے آئی اسکے بعد تو وہ پارٹی بن گئے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی سے میری تفصیلی بات ہوئی ہے ، جو وہ کہہ رہے ہیں وہ سمجھ میں آتا ہے، میں جو بات کرنے لگا ہوں لوگوں کو تکلیف ہو گی، انڈیا نے اپنا سپیس مشن بھیج دیا، ناسا کا مشن کتنی کم قیمت پر انہوں نے کیا وہ اب چاند پر لینڈ کریں گے اسکے بعد خلائی دوڑ میں وہ تین چار ممالک میں آ جائیں گے جنہوں نے چاند پر لینڈنگ کی، اور ہم ابھی تین بلین ڈالر ادھار کر قوم کو مبارکباد دے رہے ہیں، شاہد خاقان عباسی بڑی دیر سے کہہ رہے کہ اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر اکنامک پالیسی پر سائن کرنا ہیو گا کہ جو بھی دس سال حکومت ہو اکنامک پالیسی وہی چلے گی، ورنہ بہت مشکلات ہیں، دوسرا میرا خیال ہے کہ مریم نواز جب سے چیف کو آرڈینیٹر بنیں شاہد خاقان عباسی تب سے پارٹی میں ان فٹ ہیں،
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کے حوالہ سے سترہ رکنی بینچ فیصلہ دے چکا، آرمی ایکٹ عمران خان کے دور میں استعمال ہوا اور اب وہی اسکے خلاف پٹیشنر ہے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کافی خبریں ہیں جو مجھے مل رہی ہیں، میں آج کافی خبریں دے رہا ہوںَ قربانی کی عید ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ گائے دو ہیں اور چھری ایک ہے، چھری کس پر پھرے گی؟ کیا عید قربان سے پہلے قربانی ہو سکتی ہے تو جواب ہے ہو سکتی ہے، چھری تیز ہو رہی ہے اور بہت زیادہ تیز کی جا رہی ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عید قربان سے پہلے ہو سکتا ہے بشریٰ بیگم گرفتار ہو جائیں، پھر انکی ضمانت کیسے ہو گی، عید کی چھٹیاں آ جائیں گی، کیس لمبا ہو جائے گا، گرمی بڑی ہے، اسی لئے گھر میں لڑائی ہوئی ہے،نتیجہ بھی بتاؤں گا، ہو سکتا ہے کہ بشریٰ کو کوئی ریلیف کسی بھی عدالت سے مل جائے اور وہ کہہ دیں کہ گرفتار نہ کریں، پھر یہ بھی فیصلہ ہو چکا کہ ایک بڑے کو گھر جانا پڑے گا،اور ہو سکتا ہے وہ بڑا عید سے پہلے گھر جائے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گھر جانے کی بات ہو رہی ہے تو بتا دوں کہ عمران خان کے گھر لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن نہیں آئے بلکہ عمران خان خود چل کر لطیف کھوسہ کے گھر گئے، پرویز خٹک کی اہلیہ کی وفات پر عمران خان نہیں گئے، کتنے گھروں میں نہیں گئے، کتنے لوگوں کو انہوں نے کہا کہ آزادی کی جنگ میں جو ورکر شہید ہوئے ایک بھی گھر میں عمران خان گھر میں فاتحہ کے لئے نہیں گیا، ظل شاہ کے والد کو بھی گھر بلایا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ڈرامہ کیا، عمران خان کسی کے گھر نہیں جاتا، وہاں کیوں گیا تھا؟ وہاں پر کسی اور کو بھی آنا تھا ،وہ اور کون تھا؟ اس نے پٹیشنر بننا تھا، دو خواتین ہیں جو نو مئی کے واقعہ میں اندر ہیں اور انکو بچانا ہے، لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن کو عمران خان نے پیغام دیا اور پھر وہی کھوسہ اور اعتزاز چیمبر میں چیف جسٹس کو بھی ملے، ایک طویل میٹنگ ہوئی، اور اس چیمبر میں پوری پلاننگ ہوئی کہ کس طرح سے پٹیشن داخل ہو گی، بینچ میں کون کون ہو گا، سب طے ہوا،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جسٹس جواد کے رشتے دار ہیں، دو خواتین ہیں انکی وجہ سے پٹیشن دی گئی ،پوری منصوبہ بندی اسکے لئے کی گئی، قاضی عیسیٰ نے بتا دیا کہ یہ بینچ ہی غلط ہے،اب کیا ہو گا؟ خواجہ آصف نے انڈی کیشن دے دی ہے، رانا ثناء اللہ نے بھی کہا ہے کہ مئی کے فیصلے کی طرح ہو گا،کوئی چیف جسٹس کی بات نہیں مانے گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل علیم خان نے ایک انٹرویو چلا ہے،علیم خان نے کہا کہ عاملہ ہے یا سوکالڈ جادوگرنی ہے، ٹونے کرنی والی وہ پورا ملک چلاتی ہے، اکیسویں صدی،لیکن ہمارے ملک میں وزارتیں، پوسٹیں، عملیات اور پتہ نہیں کیا کیا کر کے دی جاتی رہیں، ہر پوسٹنگ کی تصویر بشریٰ کو دکھائی جاتی پھر وہ پوزیشن بتاتی کہ صحیح ہے یا نہیں، لوگوں کو اس پر حیرانی ہوئی گی مجھے نہیں، میری جب ایک بار ملاقات ہوئی تو بشریٰ بی بی نے کچھ کہا تو میں نے انکار دیا،جس پر بشریٰ نے عمران خان کو کہا کہ خان صاحب یہ آپکے دوست صحیح نہیں ہیں،
آرمی ایکٹ کے تحت سزا بھی دینی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا پتہ چلا ہے کہ وہ پاکستان سے غائب ہو گئے ہیں جن کو اتھارٹیز ڈھونڈ رہی ہیں،حسان نیازی غائب ہو گئے کل مجھے پتہ چلا کہ وہ ایران میں ہیں، اسی طرح مراد سعید افغانستان میں ہیں، تین خواتین خاص ہیں اور وہ تینوں دبئی میں ہیں، دو بیدیاں کے رہنے والے لوگ انکی دوڑیں لگی ہوئی ہیں، کیونکہ جنرل عاصم منیر نے فیصلہ کیا ہے کہ جو مرضی ہو جائے ایک بار نہ صرف سبق سکھانا ہے بلکہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا بھی دینی ہے،
عمران خان کو دیکھیں وہ جھوٹوں کا آئی جی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب بورس جانسن کے حلقے میں الیکشن ہونے والے ہیں لندن میں، اسکا قصور کیا تھا، عمران خان کو دیکھیں وہ جھوٹوں کا آئی جی ہے، بورس جانسن نے جب کرونا شروع ہوا تھا تو اس نے ایک ڈنر کر لیا تھا اس میں کافی لوگ تھے،کسی اخبار والے نے اس کو رپورٹ کیا کہ وزیراعظم نے گھر میں ڈنر کیا، اس پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کرونا ایس او پیز کا خیال رکھا، پھر بات آگے چلی ، اوراب زلت و رسوائی انکا مقدر بنی ہوئی ہے،بورس پر پارلیمنٹ بیٹھے گی اور بحث کرے گی کہ اس کو دس سال کے لئے بین کرنا چاہئے یا اتنی سزا کافی ہے، یہی اگر رول عمران خان پر اپلائی ہو تو عمران خان پھر ہر روز ہی دس سال کے لئے بین ہو،
سب کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فیاض الحسن چوہان جب پی ٹی آئی میں تھا تو حریم شاہ کو لے کر آیا تھا اب انکشاف کر رہا ہے، جب ہم کہتے تھے تو کوئی نہیں مانتا تھا، بزدار کی کرپشن میں نے بتائی تھی اب سب کہتے ہیں وہ بشریٰ کا فرنٹ مین تھا، یہی بات میں نے پہلے بتائی، فیاض الحسن چوہان اور فواد کو پکڑ کر پہلے اندر کرنا چاہئے کیونکہ انہوں نے عوام کے ساتھ جھوٹ بولا،کرپشن پر ساتھ رہے، تمہیں کیوں چھوڑا جائے، اگر اس ملک نے واقعی ترقی کرنی ہے تو جو جو زمہ دار ہے لوگوں سے جھوٹ بولنے کا ان سب کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ،اسوقت بھی زمان پارک کے اندر مرچیں جلائی جا رہی ہیں ، دنیا کہان سے کہاں اور یہاں ریاست مدینہ کا نام لیوا سب سے بڑا مشرک اور بدعتی ہمارے درمیان موجود ہے،اللہ تعالی ان سب کو ٹھیک کرے اور پاکستان کو اپنی امان میں رکھے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مارشل لاء کے ابھی امکانات نہیں کوشش لوگ کر رہے ہیں کہ لگ جائے، پی ٹی آئی والے چاہتے ہیں کہ ہو ،لیکن ابھی حکومت کے پاس ایمرجنسی کا آپشن ہے، رانا ثناء اللہ نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے یہ بات کی اور کہا کہ کوشش کی جائے گی کہ افہام وتفہیم سے معاملہ حل ہو اور نہ ہوا تو پھر ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے،
مبشر لقمان کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ حکومت عدالت کا فیصلہ کیسے مانے؟ کابینہ کو دیکھ لیں،نواز شریف کو فارغ کر دیا گیا،فیصل واوڈا کو نہین کیا، پنجاب اسمبلی کے معاملے پر دونوں فیصلوں سے تحریک انصاف کو ریلیف ملا، پارلیمانی لیڈر کی بات ہوئی تو چوھدری شجاعت کو فارغ کر دیا، جس طرح کی یہ بینچ فکسنگ جاری ہے یہ نظام عدل کے ساتھ مزاق ہے، ایک جج فیصلہ کرتا ہے تو دوسرا کچھ اور کہہ دیتا ہے، سپریم کورٹ جس نے پورے پاکستان کو بتانا کہ کیا صحیح کیا غلط وہ خود آپس میں الجھے ہوئے، کیا اس سے سپریم کورٹ کمزور نہیں ہو گی، نو رکنی بینچ تین پرپہنچ گیا، کب تک مرضی کا حساب چلے گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ایک دفعہ تو نہیں نکالے گئے، تین دفعہ نکالے گئے انکا بنتا ہے،پیپلز پارٹی بھی اسی طرح ہے،اس ملک کے ساتھ کیا کیا ظلم کئے گئے، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا الیکشن ہوں گے، مریم نواز نے ججز پر تنقید کی جو خان کو واپس لانا چاہتے ہیں، شہباز شریف کے استعفی کی بات پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے پھیلائی، اس طرح کی خبریں وہ اڑاتے ہیں جب انکے پاس کچھ نہ ہو، میرا نہیں خیال کہ انکا استعفیٰ تیار ہے،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی قسمت دیکھیں نہ وہ عدت کی تاریخ کو مانتا ہے نہ انتخابات کی تاریخ کو مانتا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مذاکرات کا حامی ہوں،جب کارکنان کو روکا گیا تشدد کیا گیا توپٹرول بم پھینکے گئے،حالات ہی ایسے بنا دیئے گئے تھے، الیکشن تاخیر کا شکار ہوئے تو یہ آئین شکنی ہو گی،
پروگرام کھرا سچ میں میزبان مبشر لقمان کے سوال کہ پی ٹی آئی نے پرویز الہی کو صدر بنایا ، پھر ایک مشاورتی کمیٹی بنائی لیکن اس کمیٹی میں پرویز الہیٰ کا نام شامل نہیں ایسا کیوں ہے، کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایسی بات نہیں ہے اس کمیٹی میں اور بھی اہم اوربڑے لوگ جو پارٹی میں ہیں انکا نام بھی نہیں ہے، عمران خان کے کہنے پر کمیٹی بنائی ،اللہ کرے گا اسکی ضرورت نہیں پڑے گی، عمران خان خود سربراہی کریں گے، اگر ضرورت پڑے گی تو کمیٹی فیصلے کرے گی، ایک اور سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وقت پر الیکشن نظر نہیں آرہے، یہ جو بیانات آ رہے ہیں احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ کے اس سے لگتا ہے کہ یہ الیکشن نہیں چاہتے ، کہتے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں، کبھی کہتے ہیں سیکورٹی کا مسئلہ ہے، یہ سب کچھ ہے لیکن اصل بات ہے آئین کیا کہتا ہے، آئین کہتا ہے کہ نوے روز الیکشن کروانے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے، اگر یہ تاخیر کرواتے ہیں تو یہ آئین شکنی ہو گی، کوشش کر رہے ہیں کہ مشترکہ اجلاس بلا رہے ہیں، وہاں کوئی قرارداد آ سکتی ہے لیکن اس سے انکی پوزیشن مزید کمزور ہو گی، لوگوں میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ یہ سامنا کرنے کو تیار نہیں’
شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا یہی اعلان ہے کہ ہماری جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں ہو گی، یہ ہماری پالیسی ہے، اس دن جو واقعات سامنے آئے،اس دن کیا ہوتا ہے؟ زمان پارک کی سڑک دیکھی ہے مال کی سائیڈ سے سیل کر دی گئی، دوسری طرف سے بھی سیل کر دی گئی، دھرمپورہ کی طرف سے بھی، لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں، اور وہاں چڑھائی کر دی گئی، لوگ کیا کرتے ، لوگ جان بچانے کے لئے کیا کرتے، اس دن میں بھی باہر آیا اور میڈیا کے ذریعے کارکنان سے گزارش کی کہ قانون ہاتھ میں نہیں لینا، جبر ہو رہا ہے ظلم لیکن موقع نہیں دینا،شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف مذاکرات کے لئے تیار ہے، سیاست میں گفت و شنید ہوتی ہے ہم اسکے لئے تیار ہیں لیکن حکومت کیا کر رہی ہے ،پکڑ دھکڑ جاری ہے گرفتاری پہلے پرچے بعد میں ہوتے ہیں ، پارٹی کو کالعدم قرار دینے کی بات ہو رہی، لاٹھی چارج کیا جاتا، عورتوں پر حملہ، ایسے میں مذاکرات کیسے، اگر مذاکرات کرنے ہیں تو ماحول اور ہو گا،