Baaghi TV

Tag: کھرا سچ

  • چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    چڑیل مخبری لے آئی،ڈیل آخری مراحل میں، قومی حکومت دور نہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج صبح صبح بڑی خبریں آ گئی ہیں، آج 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ ہونا تھا میں صبح اٹھ کر بیٹھ گیا تھا کہ 11 بجے تک فیصلہ آ جائے گا پتہ چلا کہ جج عدالت آ گئے اور اسکے بعد ساڑھے دس بجے واپس چلے گئے، غصے میں تھے اور کہا کہ دو دفعہ ملزم عمران کو بلایالیکن وہ نہیں آئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ چڑیل کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ایک نیاٹواسٹ آ گیا ہے،لیکن آج جب عدالت کی سماعت شروع ہوئی تو جج ناصر جاوید رانا کو کافی اضطراب تھا، انہوں نے دو تین بار ملزم عمران خان کو بلوایا لیکن عمران نہ آئے، اس وجہ سے فیصلہ مؤخر ہو گیا، اب 17 جنوری کو فیصلہ سنایا جائے گا،پی ٹی آئی وکلا کی ٹیم انہوں نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ یہ غلط بات ہے، ہمیں کل بتایا تھا کہ 11 بجے فیصلہ آنا ہے، ہم عدالت پہنچ رہے تھے، تو یہ پہلے کیسے اٹھ کر چلے گئے، ان کے ذہن میں کیا ہے،بشریٰ بھی راستے میں ہے اور عدالت ،جیل آ رہی ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے، اور اس کے اوپر پوری دنیا کی نظریں ہیں، پوری دنیا کے لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیا فیصلہ آنا، کیا کیا سزا ہو سکتی ممکنہ طور پر دونوں ملزمان کو،پھر سلمان اکرم راجہ نے اسی پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر کے ساتھ بیان دیا ، اس میں سے آپ کو جواب بھی ملے گا،انہوں نے کہا کہ 15 تاریخ سے مذاکرات شروع ہونے وہ اہم ہیں ہم نہیں چاہتے کوئی ڈیل ہو،لیکن اصول کے مطابق ہونے چاہئے، اب لگتا ہے کہ فیصلہ مؤخر کرنے کا فیصلہ دونوں سائیڈوں سے ہے کہ 15 تاریخ کو دیکھ لیں کیا ہوتا ہے ،پہلی باری یہ بتانے لگا ہوں کہ اگر آپ پی ٹی آئی کے فالورز ہیں تو آپ کے لیے خبر ہے کہ شاید واقعی کچھ پیچھے ہو رہا ہے، اتنا آسان نہیں کہ دو دو دن کے وقفے سے فیصلہ مؤخر کریں پہلے دسمبر میں پھر جنوری کے پہلے ہفتے میں، پھر اب تیسری بار آج مؤخر ہونا، یہ ایسے نہیں ہو رہا، اسکا مطلب ہے کہ کوئی کھچڑی پک رہی ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے سلسلے میں عمران رہائی لیتے ہیں تو وہ انکی سیاسی موت ہے،عوام میں تو کہہ رہے کہ کارکنان کی رہائی چاہتے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ عمران رہائی کے لئے بیتاب ہے، مذاکراتی ٹیم کہتی ہے کہ ہمیں خان صاحب نے نہیں کیا لیکن ہم انکی رہائی کا مطالبہ ضرور کریں گے، ہو سکتا ہے کہ کوئی عبوری حکومت آئے اور اس کو اگلے ایک ڈیڑھ سال الیکشن لے جائے، وہ عبوری حکومت قومی حکومت کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، اس وقت جو حالات ہیں کوئی بھی جماعت اپوزیشن میں نہیں رہنا چاہتی، کوئی بھی جماعت،سب اقتدار میں آنا چاہتی ہیں،ن لیگ وہ اس وقت سب سے کمزور وکٹ پر ہے کیونکہ بلاول زرداری کی بڑی خواہش ہے کہ وہ وزیراعظم بن جائیں ،پیپلز پارٹی میں بھی بڑے لوگ ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ بلاول وزیراعظم کے طور پر آ سکتے ہیں اب چڑیل جو خبر لےکر آئی وہ کہہ رہی کہ بلاول کے وزیراعظم بننے میں رکاؤٹ آصف زرداری ہیں،آصف زرداری اس وقت صدر پاکستان ہیں، بلاول اگر وزیراعظم بنتے ہیں تو آصف زرداری کو اپنی صدارت چھوڑنا پڑے گی، کیا عمر کے اس حصے میں پہنچ کر اپنی صدارت کو چھوڑیں گے، ذرا سا مشکل ہے، وہ اپنی ٹرم پوری کرنا چاہیں گے، بلاول کی وزیراعظم بننے کی خواہش کے سامنے کوئی رکاوٹ ہے تو وہ انکے گھر میں ہے،لیکن قومی حکومت کب بن سکتی ہے، اگلے ایک دو ماہ میں تو نہیں، کیونکہ مئی میں بجٹ آنا ہے، آئی ایم ایف جا کر ناک کی لکیریں رگڑنی ہیں،یقین دہانیاں کروانی ہیں جو بھی کچھ ہو گا، مئی یا جون، بجٹ آنےکے بعد ہو گا.اسکے لئے کافی لوگوں نے لابنگ شروع کر دی ہے،ایک سابق وفاقی وزیر نے ایک بڑا تھنک ٹینک بنا لیا،کس کے اشارے پر، دو موجودہ حکومت کےو فاقی وزرا بھی بڑے خواہشمند ہیں، فیصل واوڈا سندھ کے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں،وہ کوشش کر رہے ہیں، انکو پتہ ہے کہ اسکے علاوہ کوئی چانس نہیں ہے،

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

  • امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    امریکہ کی کینیڈا کو دھمکی،اسرائیل اپنے مشن میں کامیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میں کچھ دنوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فالو کر رہاہوں، وہ روز نیا بیان دے رہے ہیں،کچھ لوگ اس کو مذاق سمجھ رہے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے، امریکہ میں جو صدر منتخب ہوتا ہے اسکے پیچھے بہت بڑا تھنک ٹینک ہوتا ہے، ذہین لوگ ہوتے ہیں جو اسکے لیے ڈیٹا جمع کرتے ہیں پھرپالیسی بیان آتا ہے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جو بیان دے رہے ہیں اس میں سی آئی اے کا بھی ان پٹ ہوتا ہے،اور بھی اداروں کا، اب جو ٹرمپ کے بیانات آ رہے ہیں یہ صرف چار سال کے لئے نہیں ہیں، امریکہ ایک کروٹ لینے لگا ہے، اگلے 15 بیس سال دنیا پر اور خاص کر ہمارے ملک میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے، میں جب اپنے ملک کو دیکھتا ہوں‌تو لوگ اس بات پر لڑ رہے کہ مریم نواز نے یو اے ای کی ولی عہد سے ہاتھ کیسے ملایا،کوئی یہ دیکھ رہا ہے کہ شیر افضل مروت، سلمان اکرم راجہ کی لڑائی کہاں تک جائے گی لیکن ہمیں احساس ہی نہیں اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا پلان پایہ تکمیل تک پہنچ گیا اور 2025 گریٹر اسرائیل کا فیز ٹو مکمل ہو گا جس میں جورڈن کا بیشتر حصہ آئے گا، یمن آئے گا اور کچھ اور علاقے آئیں گے، عرب ممالک کی صحت کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، جو آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے اسکی آںکھیں کھل جائیں گی اور پھر وقت نہیں ملے گا،

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گلف آف میکسیکو کا نام میں نے گلف آف امریکہ رکھنا ہے، وہ امریکن تاریخ کو ری رائیٹ کر رہے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اب اسکا نام آئے کہ یہ آدمی آیا اور امریکہ کو دوبارہ عظیم بنا دیا، ٹرمپ کو یہ پتہ ہے کہ چین کا ٹیرف کیا ہے، چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ ٹریلین آف ڈالر میں ہے،اس کا 68 فیصد چائنہ کا ٹریڈ امریکہ کے ساتھ، باقی پوری دنیا کے ساتھ ہے، آج اگر امریکہ کوئی اس پر چابی کستا ہے تو چائنہ بلبلائے گا، امریکہ روس کو کہتا ہے کہ یوکرین میں جہاں تک آ گئے یہ علاقہ تمہارا، اس پر صبر کرو، تمہاری پابندیاں ختم کر رہے ،لڑائی ختم کرو اور چائنہ سے دور ہو جاؤ کیونکہ اس کو ہم نے سبق سکھانا ہے، پھر کیا ہو گا، ٹرمپ نے کینیڈا کو کہہ دیا ہے کہ کیوں نہ کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ ملایا جائے، یہ مذاق کی باتیں نہیں،جب ہیڈ آف سٹیٹ بات کرتا ہے تو اسکے پیچھے بڑی سوچ ہوتی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ پانامہ کینال کو لینا ہے،گرین لینڈ کو لینا ہے، گرین لینڈ ڈنمارک کے زیر اثر ہے، اب ڈنمارک میں خوف کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی ہیں.

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پانامہ کینال اور گرین لینڈ کے لئے ٹرمپ کوشش کر ے گا وہاں امریکن ٹریڈ کر رہے ہیں، انکا خیال ہے کہ یہ بنانے کے پیسے ہم نے دیئے تھے،ٹرمپ کا خیال ہے کہ پانامہ پر قبضہ کریں اور چین کی ٹریڈ روک دیں،جو مرتا ہے مرے، گرین لینڈ کے اوپر بھی سیکورٹی کی بات ہوئی، کہا کہ امریکن سیکورٹی کو خطرہ ہے، اسکی کئی وجوہات ہیں ،جب صدر سیکورٹی کی بات کرے تو ہر امریکی اٹھ کربیٹھ جاتا ہے اور اس کی بات غور سے سنتا ہے،ٹرمپ نے اسرائیل کے لئے بھی کام کرنا ہے، فیز ٹو کے لئے تیار کرنا ہے، 2025 ٹرمپ کا ان چار چیزوں پر نکلے گا، 2026 میں لگتا ہے کہ ابتدائی چار ماہ میں ایران کی باری ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق چلو، اسکے بعد پاکستان کی باری ہے، پاکستان کو انگوٹھے کے نیچے کرنا آسان ہے، ایک آئی ایم ایف قسط نہ ملے یا تاخیر ہو ،سعودی عرب تیل نہ دے تو پھر کیا ہو گا، محمد بن سلمان ٹرمپ کا بہترین دوست ہے، آپ بھول جائیں کہ محمد بن سلمان کے ساتھ کیا دوستی ہے کیسے تعلقات ہیں،کیونکہ ہماری اوقات نہیں ہے اس پردوستی جتانے کی،

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  • میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    آج پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان نہ صرف ایک کامیاب اینکر ہیں بلکہ ان کا شمار پاکستان کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر کھری اور بے لاگ بات کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے وہ موضوع کتنا ہی تنازعہ کیوں نہ ہو۔

    مبشر لقمان کی صحافت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف حکومتوں کے خلاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اُن طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہیں اور اپنے تجزیے اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی ترمیم یا مصلحت سے بچتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف سچ کا احاطہ کرنا ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورتحال کا پتا چل سکے۔تحقیقاتی صحافت مبشر لقمان کا شیوہ ہے،بنا کسی خوف،لالچ کے انہوں نے سب کی کرپشن کو بے نقاب کیا،

    مبشر لقمان نے اپنے پروگراموں میں پاکستان دشمن قوتوں اور انتہا پسند جماعتوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کی جرات مندی اور بے خوفی کی بدولت کئی سنجیدہ مسائل عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔عمران خان کے قریب تر رہنے والے مبشر لقمان نے جب عمران خان اور بشریٰ کی کرپشن دیکھی تو سب سے پہلے آواز بلند کی اور نہ صرف عمران خان،بشریٰ بی بی بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کرپشن کے حوالے سے مبشر لقمان نے سب سے پہلے پردہ اٹھایا اور قوم کے سامنے انکی حقیقت لے کر آئے،

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات نہ صرف ان کے پروگرامات کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنی بے باک رپورٹس کے ذریعے پاکستانی عوام کی نظر میں ایک محنتی اور سچا صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحافت میں کبھی بھی ذاتی مفاد یا سیاسی تعلقات کا دخل نہیں رہا، اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب مبشر لقمان کی طویل زندگی اور کامیاب صحافتی سفر کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح اپنی جرات مندانہ صحافت کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے سچ لاتے رہیں گے، تاکہ ہم سب حقیقت سے آگاہ رہیں اور ملک کی ترقی کی راہوں پر قدم رکھ سکیں۔

    مبشر لقمان کا "کھرا سچ”، ان کی محنت اور لگن کا عکاس ہے، اور ان کا یہ عہد کہ وہ ہمیشہ سچائی کو منظر عام پر لائیں گے، ان کے پروگرام کھرا سچ کو عوام میں اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو بے دھڑک سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبشر لقمان کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے اور ان کے مشن میں کامیاب کرے۔آمین

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

  • سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ ہے۔سالگرہ کے موقع پر مبشر لقمان کو مختلف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے ہیں

    مبشر لقمان 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔مبشر لقمان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر لاہور سے حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا۔مبشر لقمان نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز چینل بزنس پلس سے بطور میزبان کیا تھا۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران انہوں نے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایکسپریس نیوز میں پروگرام "پوائنٹ بلینک” کی میزبانی کی اور پھر دنیا نیوز میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے "کھری بات ود لقمان” کے نام سے پروگرام کیا۔

    مبشر لقمان نے اے آر وائی نیوز میں "کھرا سچ” کے پروگرام کی میزبانی کی جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کی کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” عوام میں بے حد مقبول ہوا اور اس کے ذریعے انہوں نے کئی سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی رائے دی۔مبشر لقمان مختلف ٹی وی چینلز میں کھرا سچ پروگرام کرتے رے، آج کل 365 نیوز پر انکا پروگرام کھراسچ جمعہ سے اتوار شام آٹھ بجے نشر ہوتا ہے، اس دوران، ان پر کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں کئی مقدمات بھی درج کیے گئے، مگر عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلے دیے اور ان کی سچائی کو تسلیم کیا۔

    ml
    مبشر لقمان نے اپنے صحافتی سفر میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں اور انہیں ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا اندازِ صحافت، ان کی جرات مندانہ تحقیقات اور سچائی کی تلاش نے انہیں میڈیا کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا ہے۔مبشر لقمان کی سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والی خصوصیت ان کی بے باک صحافت اور سوالات اٹھانے کی جرات ہے۔
    وہ کئی بڑے نیوز چینلز کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں اور ان کی تحقیقاتی رپورٹنگ نے عوامی سطح پر گہری تاثیر ڈالی ہے۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک قابل صحافی ہیں بلکہ انہوں نے سیاست میں بھی اپنی موجودگی کو محسوس کرایا ہے۔ وہ 2007 اور 2008 میں پنجاب کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات بھی رہے ہیں۔ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کے ذریعے، انہوں نے نہ صرف حکومتی کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ عوامی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی۔

    mubasher

    مبشر لقمان کی ایمانداری اور بے باکی کی بدولت وہ ایک اہم شخصیت بن چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مبشر لقمان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی رہا، اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، تاہم وہ ہمیشہ اپنی سچائی پر قائم رہے اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ مبشر لقمان کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی یہ اعتراف کیا کہ وہ ایک بہادر صحافی ہیں جو طاقتوروں کی کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں۔مبشر لقمان نے ہمیشہ حقائق کو سامنے لانے اور حکومتی کرپشن کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ پاکستان کے واحد اینکر ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچ بولنے کی جرات دکھائی اور حکمرانوں اور اپوزیشن دونوں کو آئینہ دکھایا۔

    مبشر لقمان پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی کے سی ای او بھی ہیں ۔ باغی ٹی وی اردو انگریزی، چینی زبان، پشتو ، دری میں شائع ہو رہا ہے، مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بھی پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں سے ہے۔بیباک تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ کھرا سچ اور پھر اس پر ڈٹ جانا مبشر لقمان کی پہچان ہے، انہوں نے مفاد کی خاطر کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا بلکہ علی الاعلان کلمہ حق کہا یہی وجہ ہے کہ ان پر نہ صرف مقدمے بنائے گئے بلکہ متعدد بار انکے پروگرام کو بھی بند کروانے کی مذموم کوشش کی گئی.

    mubasher

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، دو برس قبل لاہور میں انہوں نے ایشیا اور مڈل ایسٹ کے برج فیڈریشن کے تحت مقابلہ جات کروائے جس میں بھارت سمیت کئی ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی.پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے نائب صدر بھی ہیں. یہ نہ صرف مبشر لقمان اور پاکستان برج فیڈریشن کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے جبکہ ملک پاکستان کیلئے بھی اعزاز ہے کہ مبشر لقمان کو اس کھیل کے میدان میں عالمی سطح پر انہیں اپنی خدمات پر سراہا جارہا ہے.

    pbf ml

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

    ml

  • فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے میں نے ایک پروگرام کیا تھا جس میں بتایا تھا کہ او جی ڈی سی میں کس حد تک کرپشن ہو رہی ہے، آج اسکا پارٹ ٹو بتاؤں کہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی، نااہلی، غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا،نقصان ہو رہا، کرپشن کے انبار ہیں، کتنا پیسہ کس کو گیا کیسے لوٹا گیا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار ہے کیا، لاگت کتنی آتی ہے، اس کے برعکس امریکہ میں کتنی لاگت آتی ہے، حکومتی وزرا میڈیا پر آ کر سرعام جھوٹ بولتے ہیں، وزرا نوازشات کی برسات کر رہے ہیں، گیس کی پیداوار میں گھپلے کیسے ہو رہے، ماری پٹرولیم لمیٹڈ کی نوے فیصد پیدوار اور آمدنی ماری گیس فیلڈ سے آتی ہے ، ایکس اون،اسکا تجارتی نام ایس او ہے، پاکستان میں فی مکعب فٹ گیس کی پیداواری لاگت چھ لاکھ ڈالر ہے، امریکہ میں دو سے تین لاکھ ڈالر ہے، پاکستان میں گیس کی قیمتیں اس لئے زیادہ کیونکہ پیدواری لاگت دگنا ہے، یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے،زرون گیس فیلڈ کی ماہانہ آپریٹنگ لاگت چار لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکہ میں صرف 30 ہزار ڈالر لاگت ہے،ماری پٹرولیم لمیٹڈ کے اخراجات سولہ فیصد یا امریکہ سے بھی آگے ہیں، اس میں قصور حکومت یا موجودہ نظام کا ہے، نہ کمپنی میں بہتری لا سکے، نہ اپنی پرفارمننس بہتر کر سکے، ماری پٹرولیم میں ڈرلنگ کے اخراجات ایم پی ایل بین الاقوامی معیار سے بہت زیادہ ہیں دس ہزار فٹ کنویں کی لاگت 50 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگتا ہے، امریکہ میں ایک کنویں کو 3 ملین ڈالر اور تین ہفتے لگتے، یہ فرق نہ صرف ماڑی پٹرولیم کی ناکامیوں نااہلی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ممکنہ مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یکم جنوری کو گیس کی کرپشن پر پروگرام کیا جس پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا میں نے بتایا تھا کہ کیسے مہنگی گیس پیدا کی جا رہی جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا،حکومتی عہدیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ احتساب کریں بلکہ مجھے چپ رہنے کا کہہ دیا گیا، میں چپ نہیں رہوں گا، سوال بھی اٹھاؤں گا اور کرپشن بھی بے نقاب کروں گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وسائل بے دریغ استعمال کئے جاتے ہیں، کون تھا جو کرپشن کے بازار گرم کر کے بیٹھا تھا ، ایک شخص جو ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ میں آتا، فہیم حیدر ماری پٹرولیم کے سی ای او ہیں،یہ 2020 سے ابتک مسلسل یہاں موجود ہیں.تین سال کے لئے انکو لگایا گیا تھا، 12 اگست کو دوبارہ بورڈ آف ڈائریکٹر نے ایم ڈی مقرر کر دیا، دوبارہ تقرری پھر تین سال کے لئے کی گئی، اس شخص پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا، کمپنی نے حکومت کے خزانے سےپیسہ نکلوایا اور حکومت نے پھر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوایا، سال 2023 میں فہیم کو جو تنخواہیں اور پیسے ملے چار لاکھ چورانوے ہزار ڈالر تنخواہوں اور دیگر کی مد میں ادا کئے گئے جو پاکستانی 13 کروڑ سے زائد ہیں، 2024 میں 27 کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ ادا کئے گئے، یعنی ایک سال میں ہی فائدوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا، اس ادارے میں 803 لوگ ایگزیکٹو میں شمار کئے جاتے ہیں جن کو 2023 میں 8 بلین سے زائد تنخواہیں و دیگر دی گئیں، 2024 میں ایگزیکٹو نے عیاشی کی زندگی گزاری کیونکہ حکومت ن لیگ کی ہے لہذا لوگوں کو نوازا جاتا ہے،یہ کام مصدق ملک کی نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتا، حکومت کی غیر ضروری نوازشات سرکاری کمپنیوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہیں جس کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے.فہیم حید رنے جو تجربہ بتایا وہ اسکا نہیں ہے،

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی، غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والا گرفتار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

  • ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے، 2025 کا پہلا شو ہے جوپاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ کس لیول کی کرپشن ہو رہی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امپورٹ میں بڑا حصہ پٹرولیم کی امپورٹ کا ہے، 35 سے 40 فیصد اسکا حصہ ہے،اسی پر حکومت یا ریزور یا عام عوام کی جیب سب متاثر ہوتے ہیں، کسی نے پٹرول ،ڈیزل بھرواناہےکسی نے انرجی کے لئے استعمال کرنا ہے، پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپشن کو ایک جگہ بند کرنا ہو تو اسکو بڑے آرام سے او جی ڈی سی میں بند کر سکتے ہیں، اوجی ڈی سی پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، اس میں لالچ ہے، کاروائی ہے جو ہمارے بیوروکریٹ نے ڈالی ہے، کیا مصدق ملک نالائق ہیں،کیا چیئرمین او جی ڈی سی کو کام نہیں آتا ،ہو کیا رہا ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تفصیلی پروگرام بھی کروں گا کہ پاکستان میں تیل کے نام پر کیسے فراڈ ہو رہا ہے، اوجی ڈی سی پوری طرح ڈرلنگ کرتا ہے تو میرا دعویٰ ہے کہ ایک ڈالر کا بھی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ نہیں کرنا پڑتا، تمام ضروریات لوکلی پوری کر سکتے ہیں، خام تیل کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، ملکی معیشت کے لئے ایک المیہ ہے ، گیس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے،کمی 4.4 فیصد سالانہ ہے،سال 2023 میں ٹوٹل 47 کنویں کھودے گئے،15 تلاشی اور 32 ترقیاتی کنویں، او جی ڈی سی نے دس کنویں ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 8 کنویں، ماڑی پور پٹرولیم نے تین کنویں، بے شمار مسائل سامنے آئے، پاکستان پٹرولیم نے کنواں جو 16 ہزار فٹ ہے جس کو ڈرل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا، اس کا موازنہ امریکا سے کیا جائے تو امریکہ میں یہی ایک کنواں 3 ہفتوں میں اور پیسے بھی کم لگے، امریکی کنویں 10 ہزار فٹ عمومی دس ملین ڈالر کی لاگت میں کھودا جاتا ہے، 20 ملین ڈالر کی لاگت سے تین کنویں انہوں نے کھودے ، وہ کام جس کی لاگت امریکا میں سات ہزار ڈالر ہے وہ کام پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرمیں کیا جا رہاہے، کمپنی کے شراکت دار سب سے پہلے ماڑی پور پٹرولیم ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم ہے ،اسکے بعد اوجی ڈی سی، جس کے ذریعے روزانہ خالص ،خام تیل ، گیس کی پیداوار ہے، حیران کن طور پر آپریٹنگ اور ترقی اخراجات میں ناکامی ہے، کمپنیوں کو چونا لگایا جا رہا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مہنگی گیس اور پٹرول حقیقت میں یہ کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    پاکستان کے معروف سینئر صحافی و اینکر پرسن، مبشر لقمان، جنہیں عوام نے مختلف ٹی وی چینلز پر اپنے تجزیوں اور بے باک انداز کی وجہ سے پہچانا ہے، اب اپنے مداحوں اور فالوورز کے ساتھ ایک نئے طریقے سے رابطے میں ہیں۔ مبشر لقمان نے اپنے واٹس ایپ چینل کا آغاز کیا ہے جس میں وہ اپنے پروگرام "کھراسچ” کے حوالے سے اہم معلومات، تجزیے، اور اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔

    مبشر لقمان کا واٹس ایپ چینل ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پر وہ اپنے پروگرام "کھراسچ” کی قسطوں کے علاوہ، سیاست، معیشت، سماجی مسائل اور دیگر اہم موضوعات پر اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔ اس چینل کے ذریعے مداحوں کو روزانہ کی خبریں، خصوصی تجزیے اور موجودہ صورتحال پر اہم بصیرت ملے گی۔مبشر لقمان کا پروگرام "کھراسچ” ایک ایسا پروگرام ہے جو سیاست، معیشت، اور ملک کے دیگر مسائل پر سچی اور بے لاگ بات کرتا ہے۔ اس پروگرام میں مبشر لقمان اپنے مشہور انداز میں حقائق کو بے نقاب کرتے ہیں اور عوام تک سچائی پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ واٹس ایپ چینل کے ذریعے اب عوام کو پروگرام کھرا سچ کی ویڈیوز اور اہم تجزیے موبائل پر براہ راست ملیں گے۔

    واٹس ایپ چینل کے ذریعے مبشر لقمان کے مداح اور فالوورز نہ صرف پروگرام کے اپ ڈیٹس حاصل کریں گے بلکہ ان کو فوری طور پر خبریں، تجزیے، اور اہم معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس چینل میں شامل ہونے کے لیے کسی پیچیدہ عمل کی ضرورت نہیں، آپ صرف واٹس ایپ پر چینل کو جوائن کر کے تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔

    مبشر لقمان کے واٹس ایپ چینل کو جوائن کرنے کے لیے، آپ کو بس ایک سادہ سا طریقہ اپنانا ہوگا:
    سب سے پہلے اپنے موبائل میں واٹس ایپ ایپ کھولیں۔
    اس کے بعد چینل کے لنک کو کلک کریں
    لنک پر کلک کرنے کے بعد آپ براہ راست چینل میں شامل ہو جائیں گے اور پروگرام کے تمام اپ ڈیٹس، خبریں اور تجزیے حاصل کر سکیں گے۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ چینل کے ذریعے وہ اپنے مداحوں اور عوام تک براہ راست اور فوری معلومات پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور مسائل سے آگاہ رہیں۔ ان کا مقصد ہے کہ سچ اور حقیقت تک عوام کی رسائی آسان ہو اور وہ مختلف موضوعات پر ایک جرات مندانہ رائے قائم کر سکیں۔

    اگر آپ بھی مبشر لقمان کے "کھراسچ” پروگرام سے جڑے رہنا چاہتے ہیں اور ان کے تجزیوں اور خبروں کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو واٹس ایپ چینل جوائن کرنا ایک بہترین موقع ہے۔

    Follow the Mubasher Lucman channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb0kWRy2v1IpmJoqRW0Z

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    وزیر اعلیٰ پنجاب کو کینسر ؟ مبشر لقمان نے اصل سچ سامنے رکھ دیا

    صحافت ایسی کریں کہ کوئی قیمت نہ لگا سکے، مبشر لقمان

    جھوٹے لا کھانی کی ایک اور ویڈیو ،مبشر لقمان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ؟ منہ توڑ جواب

    کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان