Baaghi TV

Tag: کھرا سچ

  • محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ کے علاوہ اوربھی بہت دکھ ہیں ۔غلطی سے آپ کبھی اخبار اٹھا کر صرف جرائم کا صفحہ پڑھ لیں ۔ بس پھر آپ کانوں کو بھی ہاتھ لگائیں گے اور دعائیں بھی کریں گے کہ خدانخواستہ کبھی آپ یا آپکا جاننے والا اس سپچوئیشن میں نہ پھنسے ۔

    مبشر لقما ن آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہناتھا کہ بہرحال گزشتہ روز مجھےسے اخبار اٹھانے کی غلطی ہوگی اور سیدھا میں نے جرائم کا صفحہ کھول لیا کہ دیکھوں توصحیح ملک میں چل کیا رہا ہے پھر کیا تھا ۔ وہ وہ انکشافات ہوئے کہ کرکٹ میں ہار ، بجٹ ، سیاست کے مسائل یہ سب کچھ بہت چھوٹا لگنے لگے اور اصل بڑے مسائل یہ معاشرتی مسائل لگنے لگے ۔ بہرحال ایک اسٹوری تو میں نے کئی دنوں سے سن رکھی تھی کہ کراچی میں سیکورٹی گارڈ نے ٹک ٹاکر کو گولی مار دی ۔ اب جناب معاملہ یہ ہے کہ یہ کیسسز بڑھنا شروع ہوگئے ہیں ایک واقعہ تو اسی ہفتے لاہور میں ہوگیا جہاں سیکورٹی گارڈ نے اپنی مالک کو گولی مار دی پھر ایک اور واقعہ کراچی میں پھر رپورٹ ہوگیا ۔ پتہ نہیں پولیس اور حکومت کب جاگیں گے ۔ کہ عجیب ملک ہے کہ لوگ اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہونے لگے ہیں ۔ ویسے اس گرمی کے موسم میں سخت چھبنے والے کپڑے پہن کر ،بھاری بھرکم بوٹوں کے ساتھ ڈیوٹی کرنا کسی غذاب سے کم نہیں ہے ۔ اور جو معاشی صورتحال چل رہی ہے ۔ پھر جو سیکورٹی کمپنیاں ان لوگوں کا استحصال کرتی ہیں وہ ایک علیحدہ کہانی ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کی ناحق جان لے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی سے شروع کریں تو سخی حسن سرینا موبائل مارکیٹ کے سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کر کے ٹک ٹاکر کو قتل کر دیا۔ اسی وقت پولیس نے گارڈ کو گرفتار کرکے کلاشنکوف اپنے قبضے میں لے لی ہے ۔ مقتول دو بچوں کا باپ اور بے روزگار تھا جو گزر بسر کے لیے ٹک ٹاک اور وی لاگنگ کرتا تھا۔ جو اسٹوری رپورٹ ہوئی ہے اس کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے والا شخص مارکیٹ میں دکانداروں اور دیگر افراد سے پاک بھارت کرکٹ میچ کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کے لیے ویڈیو بنا رہا تھا اور جاتے ہوئے اس نے سیکیورٹی گارڈ سے بھی میچ کے حوالے سے سوال کیا لیکن اچانک اس نے گالی دی اور اسلحہ لوڈ کرکے سعد کو گولی مار دی ۔ تاہم مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران ٹک ٹاکر کا رویہ اچھا تھا ایسی کوئی بات نہیں دیکھی جو ناگوار ہو۔مقتول سعد احمد کے بارے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی ملنسار اور لوگوں کے کام آنے والا تھا، مقتول والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور بفرزون کا ہی رہائشی تھا جس نے چند ماہ قبل ہی ٹک ٹاک اور وی لاگنگ کا کام شروع کیا تھا۔ پھر واقعہ کی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں سیکیورٹی گارڈ احمد گل ولد زواتا خان کو انتہائی قریب سے سعد احمد کو گولی کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ سیکیورٹی گارڈ احمد گل نے ابتدائی طور پر بتایا کہ نوجوان ٹک ٹاک بناتے ہوئے میری طرف اشارے کررہا تھا۔ عین ممکن ہے کہ یہ شخص ذہنی مریض ہو ۔ کسی کلچرل شاک کا شکار ہو ۔ مطلب کسی دور دراز کے ایسے علاقے سے ہو جہاں یہ چیزیں عام نہیں اور کراچی جیسے بڑے شہر اور وہ بھی موبائل مارکیٹ میں آکر یہ سب کچھ اس کے لیے قابل قبول نہ ہو ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے ایک دوست ہیں جو فوج میں ہیں تو جب ان کی لاہور میں پوسٹنگ تھی تو انھوں نے ایک دن بتایا کہ جو لوگ دور درازعلاقوں یا باڈر سے ڈیوٹی کرکے جب لاہور آتے ہیں تو اکثر سے سڑک پار نہیں کی جاتی ۔ ایکسڈنٹ سمیت اور بہت سے مسائل ہیں جن کا ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور سیٹ ہونے میں کئی ماہ لگتے ہیں ۔ بہرحال سعد احمد کے اہلخانہ احتجاج کر رہے ہیں کبھی پریس کلب جا رہے ہیں تو کبھی کہیں ۔ کہ ہمیں انصاف دیا جائے ۔ پر ان کو کون بتائے اور سمجھائے اس ملک میں عام بندےکو انصاف کہاں ملتا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جس کمپنی کے لیے یہ سیکورٹی گارڈ احمد گل کام کرتا تھا اس کا لائسنس کینسل ہوتا ۔ جس دوکان پر یہ کھڑا ہو تاتھا اس کے مالک پر پرچہ ہوتا ۔ جبکہ ریاست سعد احمد کے اہلخانہ اور اس کمپنی سمیت دوکاندار سے اچھی خاصی رقم بطور ہرجانہ لے کر دیتی ۔ جبکہ قتل کرنے والے گارڈ کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی اور جلد سے جلد ۔ یہ نہیں کہ دس دس سال بیس بیس سال کیس سیشن کورٹس میں چلتا ۔ پھر ہائی کورٹس جاتا ، پھر سپریم کورٹ ۔ جو عام معمول ہے پاکستان میں ۔ اسی لیے میں نے کہا ہے کہ غریب اور عام بندے کے لیے کوئی انصاف نہیں ہے اس ملک میں ۔آپ دیکھیں جب چور اور ڈکیت آتے ہیں تو ان گارڈ ز سے گولی چلتی نہیں اور عام معصوموں کی یہ جانیں لے رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ تحقیقات میں گارڈ احمد گل کی سیکیورٹی کمپنی تعاون سے گریز کررہی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جواب نہیں دے رہے ،آفرین ہے ویسے پولیس والوں پر بھی یہاں ڈنڈا نہیں چلا رہے کوئی عام یا سادہ بندہ ہوتا توڈنڈے مار مار بندہ مار دیتے ۔اس کے گھر والوں کو اٹھا لیتے ۔ بڑے بندے کو دیکھ کر پتہ نہیں پولیس والوں کی کیوں سیٹی گم ہوجاتی ہے ۔ بہرحال سیکیورٹی کمپنی سے کسی بھی شخص نے بیان ریکارڈ نہیں کرایا، بس اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ سیکیورٹی گارڈ احمد گل چار ماہ قبل سرینا موبائل مارکیٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ واقعہ تو میڈیا پر آنے کے بعد نظر میں آگیا ۔ میں آپکو بتاؤں اور بھی بہت سے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ جیسےکراچی میں ہی سیکورٹی گارڈ نے کچرا چننے والے بچے کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ پھر ماڈل کالونی کی رہائشی عمارت کے سکیورٹی گارڈ نے جھگڑے کے دوران ساتھی گارڈ پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں دوسرا گارڈ زخمی ہوگیا۔اور دو دن پہلے لاہور کی غالب مارکیٹ میں سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کرکے اپنی ہی نجی سکیورٹی کمپنی کے مالک کو قتل کردیا ۔ جس کے بعد گارڈ کو گرفتار کرلیا گیا ۔ گرفتار گارڈ نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ نجی سکیورٹی کمپنی کا مالک ملازمین پر سختی کرتا تھا۔پولیس نے سکیورٹی گارڈ مدنی جلیل کا بیان ریکارڈ کرلیا ہے ، جس میں سکیورٹی گارڈ نے نجی کمپنی کے مالک غلام رسول پر جادوٹونے کا الزام لگا دیا ہے ۔ کہ صبح اٹھتا تو منہ سے خون آتا اور کہیں بھی مجھے نوکری نہیں ملتی تھی۔ پانچ سال پہلے نجی کمپنی میں کام کرتا تھا مالک نے نکالا تو اسکے بعد کام نہیں ملا۔ پولیس نے ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد تفتیش کے لئے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا۔واقعہ کی کلوز سرکٹ فوٹیج میں دیکھا گیاہے کہ مقتول غلام رسول اپنی گاڑی پر دفتر کے سامنے پہنچ کر گاڑی کی ڈکی سے سامان نکال رہا تھا، اسی دوران سکیورٹی گارڈ مدنی نے آکر مقتول سے ہاتھ ملایا اور ڈکی سے مقتول کی گن نکال کر فائرنگ کر دی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام واقعات اسی ماہ کے ہیں ۔ یقیقنا اس کے علاوہ بھی ہوں گے ۔ مگر آپ کو بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری حکومت ہر معاملے میں سوئی ہوئی ہے ۔ کسی کواسلحہ دیکر کھڑے کر دینا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ سب سے پہلے ماہانہ بنیاد پر اس کا دماغی معائنہ بہت ضروری ہے ۔ پھر اسلحہ صرف ایسی جگہوں پر گارڈ نے پاس ہونا چاہیئے جہاں چوری ڈکیتی کا خطرہ ہو ۔یا کسی کی جان کو خطر ہ ہو ۔ جیسے بینک ، جیولری شاپس یا جہاں بہت زیادہ پیسہ کا لین دین ہوتا ہو ۔ یہ ہر جگہ گارڈ کو گن دیکر کھڑے کردینے کا کوئی تک نہیں ہے ۔ پھر وفاقی سمیت صوبائی حکومتوں نے عام بندے کی تنخواہ اب تو سینتس ہزار مقرر کردی ہے ۔ جوکہ مجھے معلوم ہے کوئی بھی سیکورٹی کمپنی گارڈ کو نہیں دیتی ۔ پھر اس سخت موسم میں گرم کپڑے، بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ کا نہ ہونا ، بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی ۔ یہ سب عوامل مل کر کسی بھی جرم کا سبب بن سکتے ہیں یہ مت سمجھیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا اس کے پاس اسلحہ اور اس اسلحہ کا رخ وہ کب آپ کی طرف موڑ دے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ فورا ان سیکورٹی کمپنیوں کو پراپرریگولیٹ کیا جائے ۔ ان کے بھرتی کے نظام کی سخت سے سخت نگرانی کی جائے ۔ اور سخت چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے ۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ نقوی صاحب تو کرکٹ کے معاملہ میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو کیا معلوم کہ ملک میں چل کیا رہا ہے ۔ بہرحال کم ازکم صوبوں کو اس حوالےسے لازمی قانون سازی کرنی چاہیے ۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

  • پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو لگاتار تین مرتبہ وزیر اعظم بنے۔اس ریکارڈ کو اب جا کر مودی نے توڑا ہے۔ اور یہ بھی لکھ لیں ۔جلد مودی ایک اور ریکارڈ بھی توڑےگا وہ ہے بھارت کو توڑنے کا ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میری نظر میں اس سال کی سب سے دھماکا خیز خبر بھارتی انتخابات کے نتائج تھے۔ جس کو عالمی میڈیا نے بھر پور کوریج دی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی انتخابات کے نتائج خطے کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف پاکستان بد ترین سیاسی اور معاشی عدم استحکام سے دو چار ہے۔ ان حالات میں مودی کا دو تہائی اکثریت نہ لے پانا پاکستان کے لیے نیک شگون ہے۔ ورنہ پاکستان کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔شرارتیں تو مودی اب بھی کرے گا ایسا نہیں کہ وہ باز آجائے کیونکہ انسان کی خصلت نہیں بدل سکتی ۔ آپ دیکھیں ابھی مودی کو لولی لنگڑی حکومت سنبھالے صرف دو دن نہیں گزرے اوربھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بنگلادیشی سرحد کے نزدیک ایک نہتے شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔جبکہ اس سال کے چار پانچ ماہ میں بھارتی فوج کی سرحد پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے بنگلادیشی شہریوں کی تعداد دس سے تجاوز کرچکی ہے ۔ پھر گزشتہ دو انتخابات میں مودی نے اپنی جیت پر سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعو کیا تھا۔ لیکن اس دفعہ سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعو نہیں کیا گیا ہے حیرانی کی بات ہے۔ شاید شاک بہت گہرا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کی شرانگیزیوں کا اندازہ پاکستان اور چین سمیت اب کینیڈ ا کو بھی مکمل طور پر ہو چکا ہے ۔ آپ دیکھیں ہردیپ سنگھ کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے پر کینیڈا میں ہزاروں افراد نے بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اور یہ کوئی چھوٹا موٹا مظاہرہ نہیں تھا پچاس ہزار سے زائد افراد مودی سرکار کے خلاف اور پردیپ سنگھ سے اظہاریکجہتی کیلیے وینکوور کی سڑکوں پر نکل آئے۔یہ نعرے بھی لگے کہ خالصتان بن کر رہے گا۔ پھر آپ دیکھیں حکومت تشکیل پاتے ہی مودی کی مسلم دشمنی سامنے آچکی ہے ، کیونکہ مودی حکومت کی بہتر رکنی کابینہ میں تیس وزرا ء اور اکتالیس وزرائے مملکت شامل ہیں، جبکہ پانچ اقلیتی اراکین شامل ہیں مگر کسی مسلمان رکن کو شامل نہیں کیا گیا۔اور ایسا پلان کرکے جان بوجھ کر کیا گیا ہے ۔ ویسے مودی کی نئی کابینہ میں کسی مسلم وزیر کے نا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے اتحاد کی کسی دوسری جماعت سے بھی کوئی مسلمان الیکشن جیت کر رکن اسمبلی منتخب نا ہو سکا تاہم بھارتی آئین کے مطابق نریندر مودی کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ کسی بھی غیر منتخب شخص کو وزیر مملکت یا مشیر مقرر کر سکتے تھے جسے کے لیےچھ ماہ کے اندر الیکشن لڑ کر منتخب ہونا ضروری تھا، تاہم انہوں نے ایسا کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ بھارتی آبادی کے چودہ فیصد مسلمانوں کی لوک سبھا میں نمائندگی پانچ فیصد سے بھی کم ہے جبکہ الیکشن میں جو چوبیس مسلمان امیدوار کامیاب ہوکر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ان میں سے اکیس کا تعلق اپوزیشن اتحاد ۔۔انڈیا۔۔ سے ہے، ایک رکن کا تعلق انڈیا مجلس اتحاد مسلمین سے جبکہ دو مسلمان امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوکر لوک سبھا پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسر ی جانب دنیا بھر کے سربراہان مملکت کی طرح پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ن لیگ کے صدر نواز شریف نے مودی جی کو مسلسل تیسری بار وزیراعظم بننے پر گرمجوشی سے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں مسلسل تیسری بار کامیابی بھارتی عوام کے اعتماد کا اظہار ہے، آئیں ہم نفرت کو امید سے بدل کر اسےدو ارب انسانوں کی ترقی کا موقع بنائیں۔بات تو اچھی تھی مگر مودی نے اس کا الٹا مطلب لیا بلکہ یوں کہیں ۔ کتے کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوتی ۔ردعمل میں مودی نے کہا کہ بھارت کے عوام ہمیشہ امن، سیکیورٹی اور ترقی پسند خیالات کےحامی رہے ہیں، بھارتی عوام کی سیکیورٹی اور خوشحالی ہمیشہ ہماری ترجیح رہے گی۔جبکہ یاد ہو تو اسی سال مارچ میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انڈیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بحالی کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس وقت بھی انڈین قیادت کی جانب سے سرحد پار دہشتگردی اور سکیورٹی جیسے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ اب ایک بار پھر نواز شریف نے مودی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جن کے ساتھ ان کا اچھا ذاتی تعلق ہے اور شہباز شریف بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے حوالے سے ماضی میں بات کر چکے ہیں۔ اس پر میں یہ ہی کہوں گا کہ سمجھ سے باہر کہ ن لیگ انڈیا کے معاملے پر پتہ اتنا کیوں نیچے لگ جاتی ہے ۔ یہ پہلے بھی مودی کی اماں کو ساڑھیوں اور آموں کے تحفے بھیجتے رہے ہیں جبکہ بغیر ویزے کے اپنی شادیوں پر بھی مود ی کو مدعو کر تے رہے ہیں مگر بھارت نے ہر بار اس جذبہ خیر سگالی کا جواب نفرت سے دیا ہے ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جب تک مودی ہے پاک بھارت تعلقات معمول پر نہیں آسکتے ہیں کیونکہ ان کی سیاست کا تمام دارومدار ہی پاکستان اور مسلم دشمنی پر ہے ۔ تو وہ کیسے اپنی اس پالیسی کو بدلیں گے ۔ اب آپ دیکھیں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے دوسری بار وزیر خارجہ کا حلف اٹھاتے ساتھ کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ برسوں پرانے دہشت گردی کے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔ جس میں دراندازی کا معاملہ بھی شامل ہے۔حالانکہ یہ معاملہ پاکستان کا اٹھانا بنتا ہے گزشتہ چند سالوں میں بھارت نے چن چن کر پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کروائی ہے ۔ جس کے ثبوت دفتر خارجہ دنیا بھر کے سامنے رکھ چکا ہے ۔ پھر کلبوشن یادو جیسا جاسوس پاکستان کی سرزمین سے پڑا گیا اس سے بڑا پاکستان میں بھارتی دراندازی کا ثبوت کیا ہوگا ۔ پتہ نہیں ہم اتنا ڈرتے کیوں ہیں ۔ بہرحال بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی کہا ہے کہ اُن کے ساتھ کچھ سرحدی مسائل ہیں اور ہماری توجہ اس بات پر ہوگی کہ انہیں کیسے حل کیا جائے۔

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

  • شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نواز کی آخری حکومت ہے بلکہ حکومت میں کسی قسم کا عمل دخل بھی آخری بار ہو رہا ہے، ن لیگ کے کرتا دھرتاؤں کو شاید پتہ ہے ،اسی لیے ن لیگی رہنما پارٹی پالیسی کے برعکس بیانات دے رہے ہوتے ہیں، یہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں ن لیگ عنقریب تاریخ کا حصہ بننے جا رہی ہے، یہ جب نکلے گی تو بہت زیادہ ہو گیا تو ق لیگ بن کرنکلے گی یا جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کی طرح ہو جائے گی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد وزیراعظم نے وفاقی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے،مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں سے سینئر سیاسی رہنماؤں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کو کابینہ کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے اور احسن اقبال کو اہم ٹاسک دے دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی کو وزارتوں کے حوالہ سے مشاورت جاری ہے،وزیراعظم کی صدر مملکت سے ہوئی، احسن اقبال اس کے بعد متحرک ہو گئے ہیں، احسن اقبال نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور قمر زمان کائرہ سے بھی رابطہ کر لیا ہے، میں ڈیڑھ ماہ پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آئے گی اور بجٹ کے بعد آئے گی، بجٹ میں وہ کہیں گے یہ ہمیں منظور نہیں عوامی بجٹ نہیں لیکن اسکے بعد وہ کابینہ میں شامل ہوجائیں گے، پی آئی اے کی نجکاری بارے بھی پیپلز پارٹی کہے گی کہ یہ تو اب ہو چکا ہم کیا کر سکتے ہیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کا ہم سب کو پتہ ہے وہ دو تین لوگوں کے ساتھ ملکر نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں، تین چار سال بعد اس جماعت کی بڑی گنجائش ہو گی، ن لیگ کے ناراض لوگ اس میں آئیں گے، پی ٹی آئی کے ناراض بھی اس میں آئیں گے، دیگر جماعتیں جو اپنے وزن تلے دب رہی ہیں انکے لوگ بھی اس میں آئیں گے، وقت سے پہلے کہہ رہا ہوں کہ ن لیگ کی آخری حکومت ہے، اسکی ایک وجہ ہے، 2013 میں نئے ووٹ ن لیگ کے خلاف پڑے، 2018 میں جو الیکشن ہوئے اس میں بھی نئے ووٹرز ن لیگ کے خلاف پڑے ڈیڑھ کروڑ کے قریب، اب جو الیکشن ختم ہوئے، اس میں نئے ووٹ ن لیگ کے خلاف پڑے ہیں، 2028 میں نئے ووٹرز کی تعداد دو سوا دو کروڑ ہو گی جو ن لیگ کے حق میں نہیں ہوں گے، دیگر ووٹ بینک بھی کم ہو گا، اسی لئے شاہد خاقان عباسی جو اب پارٹی بنا رہے ہیں، وہ کسی کی برائی نہیں کر رہے عمران خان کو کہتے ہیں سیاسی طور پر ڈیل کرنا چاہئے اسی طرح پیپلز پارٹی کو بھی، وہ وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں، وہ ہر ایک کو قابل قبول ہیں، نہ وہ وی آئی پی پروٹوکول کے خواہشمند ہیں،

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

  • بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ میرا خیال تھا ابھی تک بھونچال آ گیا ہو گا، محسن نقوی نے استعفیٰ دے دیا ہو گا، بورڈ کے ممبران نے استعفیٰ دے دیا ہو گا ،بابر سمیت دیگر کھلاڑیوں نے استعفیٰ دے دیا ہو گا ،لیکن مجھے ایسی کوئی خبر نہیں ملی ، محسن نقوی فرماتے ہیں کہ سرجری کی ضرورت ہے،اب وہ جنرل سرجن بھی بننا چاہتے ہیں کسی ہسپتال کے، یا کوئی اور وزارت لینا چاہ رہے ہیں،ا نہوں نے اظہار کر دیا ہے کہ وہ ٹیم کی سرجری کریں گے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے ویلاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ استعفے وہاں آتے ہیں جہاں قوم میں غیرت ہو، کوئی شرم کوئی حیا ہو، کوئی اپنی ناکامی پر خود کشی، کوئی استعفیٰ دے،یہ اتنے غیرتمند نہیں، اپنی ناکامی دوسروں پر ڈالتے ہیں، یہ پوری ٹیم دیکھیں، اقربا پروری کی ،جہالت کی بہت بڑی مثال ہے، ایک ہفتے کے لئے یہ کاکول گئے وہاں انکو فزیکل ٹریننگ کروائی گئی،ایک ہفتے میں سب کچھ ہو گیا جوکہیں نہیں ہوتا، دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور ہم بہت پیچھے ہیں، اگر ہم سمجھتے ہیں کہ سٹوپڈ قسم کے لوگ جو آخر میں دس بارہ رنز مار دیں گے تو شاید ہم احمقانہ دنیا میں رہتے ہیں، روہیت شرما نے بہت غلطیاں کیں اگر پاکستان میچ جیت جاتا تو انڈین نے اس کا سر اتار دینا تھا.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ رضوان نے سلو سکورنگ کی، اسکو آخر تک لے کر جانا چاہئے تھا تا کہ گیم جیتیں لیکن ہیرو بننے کے لئے شارٹس ماریں، جہاں سنگل لینے تھے وہاں ہٹ آؤٹ کرتے رہے، وکٹ واقعی بری تھی ،نسیم شاہ نے جو چند بالیں کھیلیں ہمیں پتہ چل گیا کہ اس میں کتنا دم ہے، اگر نسیم شاہ مار سکتا ہے تو وہ چاچا نہیں مار سکتا تھا، شاداب نہیں مار سکتا تھا، انکو اسی لئے ٹیم میں ڈالا گیا تھا لیکن فینسی قسم کے آل راؤنڈر جو ٹیم میں ڈالے گئے جو آل راؤنڈ ر بھی نہیں، پھر یہی ہونا تھا، گیارہ گیارہ لوگ ٹیم منیجمنٹ کے گئے ہوئے، بابر اعظم کا پورا خاندان امریکہ بیٹھا کون پیسے دے رہا، انکے خرچے کون کر رہا کیا ان کے کنٹریکٹ میں اتنے پیسے ہیں، بورڈ دے دیا یا بکی دے رہے،اس پر بھی کہیں نہ کہیں تحقیقات ہونی چاہئے.قوم دعائیں کرتی رہی لیکن دعائیں اس کے لئے کریں جو قابل ہوں، یہاں بورڈ کھلاڑیوں کو اور کھلاڑی بورڈ کو بلیک میل کرتے ہیں، سرجری ہونی چاہئے لیکن چیئرمین بورڈ سے ہونی چاہئے، انکو چیئرمین بورڈ کس نے لگایا؟ کھلاڑی ہمارے شاپنگ کر رہے تھے، شاپنگ مالز میں گھوم رہے تھے، لوگ بتا رہے ہیں، نیویارک میں کھلاڑی کدھر کدھر شاپنگ کرنے گئے سب علم میں آ چکا ہے، جب سیلفیوں کے 25 25 ڈالر لینا شروع کر دیں تو آپ طوائفوں کی ٹیم بن چکے ہیں، ہیرا منڈی ہیں، ہیرا منڈی میں یہی ہوتا ہے،جب ہر چیز کا ریٹ لگ جاتا ہے تو پھر آپ طوائف ہیں کوٹھے پر بیٹھنے والی.

  • چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں الیکشن ہوں ، پی ایس ایل ہو ، عید ہو ، چودہ اگست آنے والی ہو ، کوئی شادی کا فنکشن ہو ، کرکٹ ورلڈ کپ ہو رہا ہو ۔ غرض دنیا میں کوئی بھی بڑا ایونٹ ہو رہا ہو ۔ اگر ایک شخص ان اہم ایونٹس میں اپنے فن کا مظاہر ہ نہ کرے تو مزہ نہیں آتا ۔ مجھے نہیں پتہ یہ کامیڈین ہیں یا سنگر ہیں یا اداکار ہیں ۔ پر جو بھی ہیں ہیں بڑے فنکار کیونکہ جب صرف وہ اپنے مخصوص انداز میں یہ ہی کہتے ہیں ۔۔اسلام وعلیکم ۔۔ تو لوگوں کے چہروں پر ہنسی کے غبارے پھوٹ پڑتے ہیں ۔ جی میں بات کر رہا ہوں چاہت فتح علی خان کی ۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری نظر میں تو یہ ایسا لیجنڈ فنکار ہے جس نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو اپنا ایسا گرویدہ بنا لیا ہے ۔ کہ اس کے کروڑوں فالورز ہیں ۔ مزے کی بات ہے کہ ان کے بنائے گانوں پر میمز کا طوفان بنتا ہے اور جو لوگ ان کے ہی انداز میں دوبارہ ۔۔ری ڈو۔۔ کرکے ویڈیوز بناتے ہیں ۔ ان میں بڑے بڑے سیلبرٹیز ہیں ۔ اب حالیہ ان کا ۔بدو بدی ۔ تواتنا مشہور ہوچکا ہے کہ نیپالی ، پاکستانی ، انڈینز ،امریکی ، برطانوی ٹاک ٹاکرسمیت مشہور شخصیات ز تک نے ویڈیوز بنائی ہیں ۔ بلکہ بھارتی سپر اسٹار دلجیت دوسانج تک نے چاہت کے گائے گانے پر ویڈیو بنا کر انسٹا پر ڈالی ہوئی تھی ۔ یعنی اب بڑے بڑے سپر اسٹارز چاہت کو فالو کر رہے ہیں ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یوٹیوب نے اس گانے کو ڈیلیٹ کر دیا ہے حالانکہ صرف اس ایک گانے کی بات کروں تو ایک ماہ پہلے یہ اپلوڈ کیا گیا ۔ اور اب تک اسکو دو کروڑ ستر لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں ۔ حالانکہ اوریجنل گانے کو ۔۔اَکھ لڑی بدو بدی۔۔ کو یوٹیوب پر بارہ سال پہلے اپلوڈ کیا گیا تھا ۔ اور اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد سے اب تک صرف اکیانوے لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے ۔ جو اگر یوٹیوب پر گانوں کے حوالے سے دیکھا جائےتو بہت ہی کم نمبر ہے ۔ ویسے انیس سو تہتر میں جب بنارسی ٹھگ کے لیے موسیقار بخشی وزیر نے ۔ ۔اکھ لڑی بدوبدی ۔۔ کے لیے دھن اور تخلیق کیا ہوگا۔ تو انہیں خود بھی اندازہ نہیں ہوگا کہ پچاس سال بعد کوئی ایک ایسا گلوکار بھی آئے گا جو سُر اور لَے کے بغیر اس گیت کو گا کر نور جہاں کے گائے ہوئے اس گیت سے زیادہ مقبولیت اور شہرت حاصل کر جائے گا اور اب اگر آج ملکہ ترنم نور جہاں زندہ ہوتیں تو وہ چاہت فتح علی خان کی اس کاوش کو سن کر انجوائے کرتیں یا کرب سے دوچار ہوتیں۔ یہ اہم سوال ہے ۔پر میں اتنا جانتا ہوں کہ حس مزاح میڈیا کی بھی اعلی تھی ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ آخر چاہت فتح علی خان کی اس قدر مقبولیت اور شہرت کی وجہ کیا ہے؟ تو میں آپکو بتاتا ہوں کہ اب ہم کو ہنسانے والے نہیں رہے ۔ تھیڑ ز بند ہوچکے ہیں ۔ تھیڑ والے کامیڈینز کو ٹی وی چینلز پر ہاتھ پاوں باندھ کر ہم نے بیٹھا دیا ہے ۔ اور لوگوں کو ان میں کوئی خاص انٹرسٹ نہیں رہا ہے ۔ مجھے نہیں یاد پڑتا آخری بار کسی کامیڈین کی کون سی کہی بات مشہور ہوئی تھی یا زبان زد عام ہوئی تھی ۔ تو یہ ایک بہت بڑا خلا تھا ۔ اس میں کوئی شک نہیں جو پاکستان کے مشکل حالات چل رہے ہیں لوگ انٹرٹینمنٹ چاہتے ہیں۔ ایسے میں اس خلا ء کو چاہت فتح علی خان نے بخوبی فل کیا ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ چاہت کی کہیں بھی انٹری ہو لوگوں کچھے کچھے چلے آتے ہیں ۔ وجہ صرف ایک ہے کہ وہ لوگوں کی چہروں پر ہنسی لاتا ہے ۔ میں یہ مانتا ہوں کہ ان کی آواز بے ڈھنگی اور عجیب و غریب ہے ۔ پر لوگوں کو ان کی آواز سن کر خوشی ہوتی ہے ۔ لوگوں کا یہ اعتراض بھی ٹھیک ہے کہ وہ گانوں کی بھونڈی اور آنکھوں کو تکلیف دیتی عکس بندی کرتے ہیں پر لوگوں کو یہ اسٹائل پسند ہے ۔ تو ہم کو ن ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے ۔ کیونکہ مت بھولیں اس وقت ہم سوشل میڈیا کے دور میں جی رہ رہے ہیں جہاں ۔۔پاری (پارٹی) ہو رہی ہے۔۔ کی چند سیکنڈز کی ویڈیو نے کسی کو راتوں رات ایسا سٹار بنایا ہے کہ اس پر کمرشلز اور ڈراموں کی برسات ہو گئی یا پھر کراچی کی اس لڑکی کو دیکھ لیں جس کا ۔۔میرا دل یہ پکارے آ جا۔۔پر رقص اس قدر وائرل ہوا کہ موصوفہ ہر مارننگ شو کی جان بن گئیں۔ یہی نہیں کسی کم سن کے لیے تو ۔۔پیچھے تو دیکھو۔۔ کہنا ہی اس کے آگے بڑھنے کا ذریعہ بن گیا۔اور صرف یہ ہمارے یہاں ہی نہیں دنیا بھر میں ایسے لوگ اور چیزیں ٹرینڈ کرتی ہیں۔۔مثال کے طور پر انڈیا میں۔۔ دھنچک پوجا ۔۔نے بھی کچھ الٹی سیدھی گلوکاری اور شاعری کر کے دھوم مچائی تھی تو یہاں چاہت فتح علی خان نے ایسا کیا ہے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یاد رکھیں لوگوں کے ذہن میں اور ہٹ وہ ہی رہتے ہیں جو کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کے مزاج کے مطابق کرتے ہیں ورنہ ایسی بھی دسیوں مثالیں جن کی بس ایک ہی چیز وائرل ہوئی اس کے بعد ان کا اتہ پتہ نہیں ۔ جیسے۔۔ ون پاونڈفش۔۔ فیم شاہد نذیر کہاں ہیں کیا کررہے ہیں کسی کو کچھ نہیں پتہ ۔ ۔پھر لاہور دا پاوا۔۔ اختر لاوا۔۔ بھی ایک ہی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ٹھس ہوگئے اب کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آجکل وہ کہاں جنریٹر اسٹار کررہے ہیں۔ ۔ آئی ٹو آئی ۔۔ والے طاہر شاہ نے بھی شاید ایک ہی گانے کے بعد بال کٹوا لیے تھے وہ بھی دوبارہ کبھی نظر نہیں آئے ۔تو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر ان رہنا اور ہٹ ہونا ایک پوری سائنس ہے ۔ یہ سائنس صرف یہ ہے کہ آپکی کہی بات ،لکھی کہانی اور کیے کام سے لوگ متاثر ہوں اور یہ بہت مشکل کام ہے آسان کام نہیں ہے ۔ آپ دیکھیں بڑے اسٹارز کو میں نے دیکھا ہے وہ یہ شکوہ کرتے دیکھائی دیے ہیں کہ جتنی پذائری عوام نے چاہت فتح علی کے کام کو دی ہے اتنی لوگوں نے ان کے اچھے کام کو نہیں دی ۔ حال ہی میں ہمارے سپر ڈوپر اسٹار علی ظفر نے یہ شکوہ کیا ۔ کہ ان کا اور عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا سرائیکی گیت ۔۔بالو بتیاں۔۔اپ لوڈ ہونے کے ایک ماہ بعد بھی چاہت فتح علی خان کے ۔۔بدو بدی۔۔کو کیوں پیچھے نہ چھوڑ پایا۔ پھر علی ظفرخود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ اس وہم یا غرور میں مبتلا تھے کہ ان کا کوئی مقابل نہیں۔ خیر میں تو یہ حیران ہوں کہ چاہت فتح علی اتنے مشہور ہوچکے ہیں کہ اس گانے میں ماڈلنگ کرنے والی وجدان راؤ تک اب چاہت فتح علی خان کے خلاف ہوچکی ہیں۔ وجدان راؤ نے کان پکڑ لیے ہیں کہ اب کبھی چاہت فتح علی خان کے ساتھ جو کام کیا بلکہ وہ یہاں تک کہتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔پھر ساتھ ہی وہ چاہت فتح علی خان پر یہ الزام بھی لگا رہی ہیں کہ انہوں نے گیت سے نصف آمدنی دینے کا وعدہ کیا لیکن پھر مکر گئے۔ ممکن ہے اسی وجہ سے انہوں نے چاہت فتح علی خان کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کیا ہو۔ ویسے ہم چاہت کی اب کی کامیابی کا دور دیکھ رہے ہیں مگر یہ نظر میں تو ان کی یہ مسلسل محنت ہے ۔آ پ دیکھیں چاہت فتح علی خان لاہور ڈویژن سے پاکستان کے ڈومسٹیک کرکٹ سیزن میں حصہ لے چکے ہیں۔ کرک انفو کے مطابق کاشف راناعرف چاہت فتح علی خان نے صرف دو فرسٹ کلاس میچز میں شرکت کرتے ہوئے سولہ رنز بھی بنائے ہوئے ہیں ۔ پھر چاہت فتح کا دعویٰ کرتے ہیں کہ سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید ان کی ہی دریافت ہیں۔د وہزار بیس میں برطانیہ جا کر یہی کاشف رانا، چاہت فتح علی خان بنے۔ یہ وہ دور تھا جب کورونا وبا چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے میں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے انٹری دی۔ ابتدا میں خود کو نصرت فتح علی خان کا پرستار بلکہ جانشین تک قرار دیا، اسی مناسبت سے نام بھی رکھا اور نصرت فتح علی خان کے ہی کلام کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کی۔شروع میں چاہت فتح علی خان کے عجیب و غریب بے ڈھنگے انداز گلوکاری کو طنز و مزاح کے طور پر لیا گیا۔ کچھ نے ان کا مذاق بھی اڑایا لیکن چاہت نے نصرت فتح علی خان کے کلام کی جان نہ چھوڑی اور پھر گذشتہ برس ہی اچانک چاہت فتح علی خان کو غیر معمولی شہرت ملی۔یہ شہرت سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی مین سٹریم میڈیا تک جا پہنچی۔ چاہت فتح علی خان نے نصرت فتح علی یا پھر پرانے گانوں کی جان بخشتے ہوئے اب اپنے خود کے تیار گانے پیش کرنا شروع کر دیے۔ جیسے پی ایس ایل کا ترانہ ہو یا پھر عالمی کپ کا۔ چاہت فتح علی کو کسی نے یہ راز بتا دیا کہ اگر انہیں خبروں میں رہنا ہے تو جس کام پر لگے ہوئے ہیں، اس کی رفتار اور تیز کر دیں جبھی ان کا ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ۔۔آئٹم۔۔ یا ۔۔بیان۔۔سوشل میڈیا کی زینت بنتا رہا۔یہاں تک کہ وہ ایوارڈ زتقریبات میں بھی بے سُروں کی مالا جپتے رہے اور مہوش خان سے چھیڑ خانی کی ویڈیوز مشہور کرواتے رہے ۔اور صورتحال یہ بنی کے لوگوں نے پتہ نہیں وہ ایوارڈ شو دیکھا یا نہیں ۔پر چاہت کی مہوش کے ساتھ جگل بندی ہر کسی نے ضرور دیکھی ۔ بہرحال گلوکاری کے بعد اب چاہت اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھنے والے ہیں اور بہت جلد ان کی پہلی فلم ۔۔سبق۔۔ بھی آنے والی ہے تو دل تھام کر ہی بیٹھیں، نجانے آگے چاہت فتح علی خان اور کیا کیا سرپرائز دیں؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ ویسے بدو بدی پر اکلوتے چاہت فتح علی خان نے ہی ۔۔ ری ڈو ۔۔ نہیں کیا ۔آنجہانی انڈین گلوکار سدھو موسا والا اور بھومیا بھی اس گیت کو ری مکس کر چکے ہیں۔ اسی طرح دو سال پہلے پاکستانی گلوکار صائمہ نے بھی اس نغمے کو ری مکس کیا جس کی ویڈیو میں فلم سٹار میرا اور سلیم شیخ نظر آئے۔ حالیہ دنوں میں چاہت فتح علی خان کی غیر معمولی مقبولیت اور ویورشپ کو دیکھ کر کئی اور گلوکاروں نے اس گانے پر قسمت آزمائی۔ یہاں تک کہ ابرار الحق بھی خود کو باز نہ رکھ سکے۔ میری تو یوٹیوب سمیت جس نے بھی چاہت کے گانے کو اسٹرائیک بھیج کر وہاں سے ہٹوایا ہے ریکوسٹ ہے کہ ایسا نہ کریں ۔ لاکھوں دلوں کی دھڑکن اس وقت چاہت ہے ۔ لوگوں کو قبول کرنا ، سراہنا اور قدر کرناسیکھیں ۔ کیونکہ دنیا میں سب سے مشکل کام کسی کو خوشی دینا ہے اور ہنسنا ہے اور یہ کام چاہت فتح علی خان بخوبی ادا کررہے ہیں ۔

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بھارتی الیکشن کا رزلٹ دیکھ کر گودی میڈیا کے لوگ رزلٹ دیکھ کر لائیو آن ایئر روتے دیکھ رہے ہیں ۔ ان میں ہی سے ایک کمپنی ایکسس مائی انڈیا کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پردیپ گپتا ہیں جو دوران انٹرویو رو پڑے ہیں ۔ کیونکہ ایک جون کو ۔ایکس مائی انڈیا۔۔کے ایگزٹ پول نے بھارت کی حکمراں جماعت کے لیے تین سو اکسٹھ سے چار سو ایک نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت سے جیتنے کی پیش گوئی کی تھی۔دوسرے پول پنڈتوں نے بھی کہا تھا کہ یہ انتخابات بی جے پی کا اب تک کا سب سے بڑا مینڈیٹ ہو سکتا ہے لیکن اب تک کے نتائج ایگزٹ پولز کے دعوؤں کے برعکس ہیں۔

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مطلب گودی میڈیا نے جو مرضی رائے سازی کرنے کی کوشش کی ۔اس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔اور اب رونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ۔ کہاں چار سو سیٹیں لینے کے دعوے کیے جا رہے تھے ۔ مگر سادہ اکثریت تک نہیں ملی ۔بلکہ مودی اگر تیسری بار وزیر اعظم بنے بھی تو مانگے تانگے کی سیٹیں لے کر بنیں گے ۔ اور اتحادی کسی وقت بھی ان کی کرسی ہلا سکیں گے ۔ حقیقت میں بھارتی عوام نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس بار بی جے پی کے بڑے برج بھی الٹ گئے ہیں ۔ بی جے پی کا گڑھ سمجھے جانے والے اتر پردیش میں بڑے جھٹکے لگے ہیں ۔ ایودھیا تک میں ہار گئے ہیں ۔مطلب فیض آباد کے مقام پر مودی نے جہاں جنوری میں رام مندر کا افتتاح کیا تھا وہاں تک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ پھر مودی حکومت کے پندرہ کے قریب وزیر تک الیکشن ہار گئے ہیں ۔ لسٹ تو کافی لمبی ہے مگر چند ایک اہم لوگوں کے نام آپکو بتا دیتا ہوں ۔ سمرتی ایرانی جنہوں نے دوہزار انیس کے انتخابات میں راہول گاندھی کو پچپن ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی اس بار کانگریس کے امیدوار کشور لعل کے مقابلے میں ہار گئیں۔کیرلہ کی سیٹ پر مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر کانگریس کے ششی تھرور سے ہار گئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کو سماج وادی پارٹی کے اتکرش ورما کے ہاتھوں شکست ہوئی،ریاستی وزیر تعلیم سبھاش سرکار مغربی بنگال بھی ہار گئے۔ پھر مہاراشٹرا بھی بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا ۔ مہاراشٹرا میں کانگریس نے بی جے پی کے مقابلے میں تقریبا دوگنا زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ تامل ناڈو میں بھی بی جے پی صرف ایک نشست حاصل کرپائی جبکہ مغربی بنگال میں بھی بی جے پی ممتا بنر جی کے سامنے نہ ٹک سکی۔ ہریانہ اورجھاڑ کھنڈ میں ٹکر کا مقابلہ ہوا جبکہ بہار میں بھی کانگریس اتحاد کسی حد تک مضبوط ہوئی ۔ اسی وجہ سے این ڈے اے نے تین سو کا ہندسہ بھی عبور نہیں کیا ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت مودی کی سربراہی میں چوبیس جماعتی اتحاد این ڈی اے کو دو سو بانوے نشستوں پر برتری حاصل ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی دوسو چالیس سیٹیں شامل ہیں۔یوں دیکھاجائےتو دوہزار انیس کے مقابلے میں بی جے پی اس بار پچاس سے زائد سیٹیں ہاری ہے کیونکہ تب انھوں نے لوک سبھا کی تین سو تین نشستیں جیتی تھیں۔ دوسری جانب کانگریس کی سربراہی میں چوبیس جماعتی اتحاد انڈیا نے دوسو اکتیس نشستوں پرآگے ہے۔ آپ دیکھیں مودی کی یہ ہار اتنی غیر متوقع تھی ۔ کہ انڈین اسٹاک مارکیٹ اس خبر کے بوجھ برداشت نہ کر پائی اور کریش کر گئی ۔ ایک ہی دن میں چار ہزار تین بیس پوائنٹس نیچے گر گئی ۔ جبکہ چار سالوں کی سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ۔اسی وجہ سے سرمایہ کاروں کے تیس لاکھ کروڑ بھارتی روپے ڈوب گئے۔اس میں مودی کے ارب پتی دوست گوتم اڈانی کے بھی ایک کھرب روپے ڈوب گئے ہیں ۔ پھر کل ہی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پارٹی ورکرز سے خطاب کیا ۔ اپنی طرف سے تو وہ وننگ سپیچ کرنے آئے تھے ۔ مگر یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی تقریر تھی ۔ اعلان تو کر دیا ہے کہ حکمران اتحاد این ڈی اے تیسری بار سرکار بنانے جارہا ہے۔دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ہم نے یہ الیکشن صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ پوری ریاستی مشینری کے خلاف لڑا، خفیہ ایجنسیاں، بیوروکریسی اور آدھی عدلیہ بھی ہمارے خلاف تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نےپارٹیاں توڑیں، وزرائے اعلیٰ کو جیلوں میں ڈالا اور ہر ہتھکنڈا استعمال کیا لیکن کانگریس رہنماؤں نے متحد ہوکر حکومت کے خلاف انتخاب لڑا۔ انتخابی نتائج سےمودی جی کو عوام کا بڑا پیغام ملا ہے کہ ہمیں مودی نہیں چاہیے۔ ویسے باٹم لائن یہ ہی ہے کہ بھارتی عوام نے ووٹ کی طاقت سے بتا دیا ہے کہ مودی ہمیں بالکل اچھے نہیں لگے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل کانگریس نے بی جے پی کو اُسی کے ہتھیار سے کاری ضرب لگائی ہے اور۔ اب کی بار چار سوپار۔۔کا بی جے پی کانعرہ ووٹر زکیلئے خوف کی علامت بنادیا تھا، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور راہول گاندھی عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ اگر بی جے پی کو چار سو نشستیں مل گئیں تو وہ آئین بدل دے گی اور کوٹہ سسٹم ختم کردے گی۔ یوں راہول کی آئین بچاؤ موثرانتخابی مہم کے نتیجے میں کانگریس کو ننانوے نشستیں ملی ہیں جو دوہزار انیس کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہیں،اور اب ایک بار پھر دس برس بعد غیرمعمولی نشستیں جیت کربھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نریندر مودی سمیت حکمراں اتحاد کے لیے پھر سے ڈراؤنا خواب بن گئی ہے۔ اسطرح دس سال میں پہلی بار کانگریس قائدحزب اختلاف کے طورپر اپنے لیڈر کو پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ راہول گاندھی ہی اپوزیشن لیڈر بنیں گے یا نہیں۔ کانگریس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں تونہیں تاہم یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگرس کا انڈیا اتحاد مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو اگلی بار کرارا جھٹکا دینے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ دوسری جانب کی بات کریں تو ان غیر متوقع نتائج کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب رہیں گی لیکن انھیں ہمیشہ یہ خطرہ رہے گا کہ حزب اختلاف حکمراں اتحاد سے ناراض جماعتوں کو اپنی جانب راغب کرکے ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بی جے پی کے لیے کمزور مینڈیٹ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی حکومت کے برعکس اب ان کو اپنے نامکمل ایجنڈے کو جاری رکھنے کے لیے علاقائی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔اسی لیے آنے والے دنوں میں جو علاقائی پارٹیاں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ان میں کانگریس کی حلیف سماج وادی پارٹی ہے، جو اتر پردیش کی اسی نشستوں میں سے سنتیس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ ٹی ایم سی جو کہ بنگال میں برسر اقتدار ہے نے بیس نشستیں حاصل کی ہیں اور گذشتہ انتخابات کے مطابق میں ان کی نشستوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب مودی کی حلیف جنتا دل یونائٹیڈ نے بہار میں بارہ اور ٹی ڈی پی نے آندھرا پردیش میں سولہ نشستیں حاصل کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نئی حکومت کے لیے نامکمل وعدے جیسا کہ۔ون نیشن ون الیکشن۔ اور یکساں سول کوڈ ۔جس کے تحت اقلیتوں کے شادی اور وراثت کے قوانین کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔ جبکہ ۔ون نیشن ون الیکشن۔ وعدے کے تحت بی جے پی پارلیمانی اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی وقت میں کروانا چاہتی ہے۔ پھر ان انتخابات میں علاقائی پارٹیوں کو اہمیت حاصل ہونے کی وجہ سے مودی اور ان کے اہم ساتھی امت شاہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے مبینہ طور پر مرکز میں حکومتی طاقت کے عمل پر اہم اثر پڑے گا ۔ یعنی پہلے جیسا تاثر تھا کہ طاقت کا مرکز مودی اور امت شاہ ہیں اور وہی سارے فیصلے لیتے ہیں، اب چونکہ مودی دوسری علاقائی جماعتوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے لہذا انھیں ان پارٹیوں کی بھی سننا پڑے گی۔ یہ خاص طور پر مودی اور امیت شاہ کے لیے آسان نہیں ہو گا ۔پھر اتحادی سیاست کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت میں عدم استحکام کے امکانات رہیں گے کیونکہ چھوٹی پارٹیوں کو حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اپنی طرف بڑی اور بہتر وزارتوں کے وعدے کے ساتھ راغب کر سکتی ہیں۔پھر یہ انتخابات اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مودی اب ۔۔دیوتا ۔۔ نہیں رہے۔ جو انھوں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ میں بھگوان کا اوتار ہوں ۔ اب سے مودی صرف ایک عام سیاستدان ہے، جو کہ کافی چھوٹاہو گیا ۔

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز

    اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی دکھی تو ہو گا کیونکہ اس نے بڑی محنت اور توجہ سے اپنے آپ کو ایک الگ برانڈ بنایا تھا ۔ جس طرح برینڈ والی کمپنیاں لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کے لیے مختلف تشہیری مہمات چلاتی ہیں، ویسے ہی مودی نے باقاعدہ اپنی پبلسٹی کی اور اس سلسلے میں وہ روایتی، ڈیجیٹل، اور سوشل میڈیا کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتا رہا ۔بلکہ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے انڈیا کے طاقتور میڈیا کا بازو مروڑ کر اسے ۔گودی میڈیا۔ بنا دیا ۔ مودی نے صرف انڈیا ہی میں نہیں، بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی پہچان بنانے پر بڑی توجہ دی ہے۔ ان کے عالمی لیڈروں سے لمبے لمبے مصافحے آپ کو یاد ہوں گے۔ مگر یاد رکھیں پاپولسٹ لیڈر ز کا اینڈ یہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ تو قتل ہوجاتے ہیں یا زندہ رہیں تو یوں ذلیل ورسوا ہو کر رندہ درگارہ ہو جاتے ہیں ۔

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • طلبا ہمارے بچے،وزیراعظم کو مصروفیات ترک کر کے بشکیک جانا چاہئے،مبشر لقمان

    طلبا ہمارے بچے،وزیراعظم کو مصروفیات ترک کر کے بشکیک جانا چاہئے،مبشر لقمان

    کرغزستان میں پاکستان طلبا مشکل میں، پاکستانی طلبا کے ہاسٹل میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے،متعدد طلبا زخمی ہیں، سوشل میڈیا پر اموات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں تا ہم پاکستانی سفارتخانے نے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،

    بشکیک میں پاکستانی طلبا پر ہونے والے مظالم پر پاکستانی سیخ پا ہیں تا ہم حکومت رات سوتی رہی، صبح اٹھ کر وزیراعظم نے بیان جاری کیا تو دفتر خارجہ نے بھی روایتی بیان دے دیا، جماعت اسلامی، تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے واقعہ پر حکومت کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا ہے وہیں سینئر صحافی و اینکرپرسن مبشر لقمان بھی حکومتی بے حسی پر پھٹ پڑے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بشکیک میں گزشتہ شب جو کچھ ہوا انتہائی خوفناک ہے، حکومت کو جاگنا چاہئے اور بشکیک میں پاکستانی طلبا ،ہر ایک طالب علم کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہئے،پاکستانی طلباء حملوں کی زد میں ہیں اور انہیں شدید دشمنی کا سامنا ہے۔ مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف قانون شکنی کرنے والوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کو فوری طور پر اپنے سفیر کو بلانا چاہیے اور اسے باہر دھوپ میں کھڑا کر کے بتانا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں اور یہ ہرگز قابل قبول نہیں۔

    ایک اور پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو آج کے تمام اجلاس ملتوی کر کے بشکیک میں اپنے طلباء کی حفاظت کا خیال رکھنا چاہیے۔ وزیر خارجہ کو فوری طور پر بشکیک جانا چاہئے اور وہاں طلبا کی حفاظت کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے، حکومتی اہلکاروں کے صرف بیانات کافی نہیں ہوتے، بشکیک میں طلبا ہمارے بچے ہیں اور ہم ان کی ہر قیمت پر حفاظت چاہتے ہیں۔

    ایک اور پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ بشکیک کے حکام سچ نہیں کہہ رہے ہیں اور انہوں نے صرف غیر ملکی طلباء کو گرفتار کیا ہے اور اصل مجرموں کو فرار ہونے میں مدد کی ہے۔ پاکستان کو بہت کچھ کرنا چاہیے اور وہاں اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ وزیراعظم صاحب، اٹھیں، آپ کے لئے صرف بیان دینا کافی نہیں۔ یہ کوئی سیاسی صورتحال نہیں ہے ہمارے ہزاروں طلباء خطرے میں ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ خود وہاں جائیں.

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بشکیک میں ہونیوالی ہنگامہ آرائی کی ویڈیو رات گئے سے وائرل ہو رہی ہیں ، میڈیا رپورٹس کے مطابق کرغزستان کے مقامی طلبا اور مصری طلبا کا آپس میں تصادم ہوا لیکن الزام پاکستانی طلبا پر لگا دیا گیا جس پر مقامی طلبا نے پاکستانی طلبا کے ہاسٹل پر حملہ کر دیا، اس حملے میں درجنوں طلبا زخمی ہیں، حملہ آوروں نے ہاسٹل کے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے ہیں،واقعے کے بعد پاکستانی طلبہ خوفزدہ ہو گئے ہیں،ہاسٹل میں پاکستانی طالبات کو ہراساں کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • 9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نومئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ زخم ہے جو شاید آنے والے کئی سالوں تک نہیں بھر پائے گا، اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے نومئی کا واقعہ کیا انکو ابھی تک احساس ہی نہیں کہ انہوں نے پاکستان اور پاکستان کے اداروں کو کتنا نقصان پہنچایا،وہ تو اس اصول پر چل رہے کہ ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں،یہاں تک کہ جس ملک کے وہ ٹارزن بنے ہوئے اسکو بھی پس پشت ڈال دیا اور ایک شخص کو تمام معاملات کا محور بنا دیا،کبھی یہ کہتے ہیں عمران نہیں تو پاکستان کا کیا کرنا،کبھی ایٹمی اثاثوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ، کبھی معیشت تباہ کرنے کی کوشش کرتے، کبھی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے،نومئی کو ایک سال ہونے کو، عوام کے ذہنوں میں سوال کہ نو مئی کے ذمہ دار،سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں کیوں نہیں لایا گیا، انہیں عبرت کا نشان کیوں نہیں بنایا گیا اور ریاستی ادارے واقعہ میں ملوث ملزمان سے رعایت کیوں برت رہے ہیں، جو لوگ بانی پاکستان، جی ایچ کیو کو نہ چھوڑیں،عسکری تنصیبات کو آگ لگا دیں، پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈالیں، وہ نوجوان جو نعرہ تکبیر بلند کر کے عسکری تنصیبات کو آگ لگائیں کیا انکے لئے کوئی رعایت برتی جا سکتی ہے، کیا انکو معاف کیا جا سکتا ہے؟

    نومئی اچانک نہیں ہوا، کئی سالوں کی تربیت ،ذہن سازی تھی، مبشر لقمان
    مبشرلقمان کا مزید کہنا تھا کہ نو مئی ، ایک دن اچانک سے نہیں ہو گیا، اسکے پیچھے کئی سالوں کی تربیت تھی، ایک لاوا تھا جو پھٹ پڑا، یہ وہی لوگ تھے جو کچھ عرصہ قبل پارلیمنٹ ،پی ٹی وی پر حملہ آور ہوئے، اور پارلیمنٹ ہاؤس پر اپنے کپڑے سکھانے کے لئے ڈالے، ریاست کا مذاق بنایا، 2014 میں یہی لوگ تھے جنہوں نے 126 دن کا دھرنا دیا، جس کا آغاز 14 اگست کو لانگ مارچ سے کیا اور پھر ریاست کو یرغمال بنا کر بیٹھ گئے، اس دھرنے میں صرف ڈی جے بٹ کا بل 15 کروڑ کا نقصان ہوا تھا،اس دھرنے سے معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا، چینی صدر کا دورہ کینسل ہوا ،لیکن تحریک انصاف کو کیا ملا، کچھ بھی نہیں، کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان،تب ریاست خاموش تھی، اگر تب بھی کوئی بڑی کاروائی ہوتی تو حالات مختلف ہوتے،لیکن ریاست کے خاموش ہونے کی وجہ تھی کہ پرانے لاڈلوں سے جان چھوٹ رہی تھی اور ایک نئے لاڈلے کو لانے کی تیاری ہو رہی تھی، آگے چلیں ایک بار پھر اسلام آباد مارچ کیا گیا، اس بارسارے وسائل خیبر پختونخوا حکومت کے استعمال ہوئے، اسلام آباد کے درخت جلائے گئے، میٹرو سٹیشن کو نقصان پہنچایا گیا،مزید نقصان ہونے سے قبل ہی ایک دن میں یہ دھرنا ختم ہوا، پھر ایک اور لانگ مارچ لاہور سے اسلام آباد، جس میں خاتون صحافی کینیٹر کے نیچے آ گئی،پانچ چھ لاشیں بچھ گئیں، خونی لانگ مارچ،پھر بھی جاری رہا، پھر یہی تربیت نومئی کو کام آئی،جب ہر بڑے شہر میں دنگے ہوئے، ریاستی املاک کو توڑا گیا، پشاور میں ٹینک تک سڑک پر لائے گئے، میانوالی میں جہازوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی نے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا،

    ریاست نومئی کو نہیں بھولی، پی ٹی آئی نے دہشتگرد گروپوں کی طرح بچوں کی ذہن سازی کی، مبشر لقمان
    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کی اور کہا انتشاری ٹولےکو کوئی معافی نہیں ہو گی نہ ہی انتشاری ٹولے کے ساتھ کوئی مذاکرات ہوں گے،اور اگر مذاکرات کرنے ہیں تو صرف سیاسی لوگوں سے بات چیت ہو گی، اس پریس کانفرنس کی آواز مجھے لگتا ہے کہ جس طرح نومئی کے واقعات کا وہ ذکر رہے تھے اور واضح کر رہے تھے کہ نومئی کے ذمہ داران کو سزا ملے گی، ریاست اس واقعے کو نہیں بھولی، اس واقعہ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو استعمال کیا گیا، انکی ذہن سازی کی گئی اور انکو ریاست کے سامنے کھڑا کر دیا گیا،پریس کانفرنس سے واضح ہوا کہ چھوٹے بچوں کو بھی سزا ملے گی، دہشت گرد گروپ چھوٹے بچوں کی ذہن سازی کرتے ہیں اور انکو مرنے کے لئے بھیجتے ہیں یہاں تو سیاسی ادارے نے ایسا کام کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صدق دل سے یہ معافی مانگیں تو پھر دیکھا جا سکتا ہے ، لیکن انکے رویئے سے لگ رہا ہے کہ یہ معافی نہیں مانگیں گے رؤف حسن نے پریس کانفرنس میں پھر الزامات لگائے اور کہا کہ نومئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا، سوشل میڈیا پی ٹی آئی کا اس پریس کانفرنس کے خلاف کھڑا ہو گیا، حماد اظہر نے بھی کہا کہ ادارے اب ہماری پریس کانفرنس سننے کا بھی حوصلہ کریں، اسکے بعد عمران خان کا جیل سے پیغام جاری ہوا کہ مجھے نو مئی کو فوجی دستے نے اسلام آباد سے اغوا کیا ، عمران خان نے گرفتار کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا،تحریک انصاف نومئی کو اون کرنے کو تیار نہیں تو پھر کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے،کیا انہوں نے ویڈیو نہیں دیکھیں جس میں آزادی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، صنم جاوید کہہ رہی ہیں کہ کینٹ جا کر احتجاج کریں، ویڈیو سامنے آئیں آرمی کی گاڑیوں کو روکا گیا، شیشے توڑے گئے،پتھر مارے گئے، جی ایچ کیو کا دروازہ توڑ رہے ہیں کیا وہ ویڈیو جعلی ہیں؟پشاور ریڈیو سٹیشن کی بلڈنگ کو آگے لگانے کی ویڈیو جعلی ہے؟ علی امین گنڈا پور بندوقیں لانے کی بات کر رہے ہیں کیا وہ ویڈیو جعلی ہیں؟ فیصل آباد میں آئی ایس آئی دفاتر کے باہر احتجاج کیا جاتا ہے، تمام ویڈیو ثبوتوں کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ نومئی سے تحریک انصاف کا تعلق نہیں.

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    نومئی، پی ٹی آئی نے احتجاج پروگرام تشکیل دے دیا

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    سانحہ نو مئی نائن زیرو، بلاول ہاؤس یا رائے ونڈ سے پلان ہوتا تو پھر ردعمل کیا ہوتا؟ بلاول بھٹوزرداری

    یہ لوگ منصوبہ کرچکے ہیں نو مئی کا واقعہ دوبارہ کروایا جائے

    نو مئی جلاؤ گھیراؤ، پہلا فیصلہ آ گیا، 51 ملزمان کو ملی سزا

    عمران خان سے ملنے اب اڈیالہ نہیں آؤنگا،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

  • ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ سال قبل جب میں نے پہلی بار پروگرام کیا تھا کہ ایڈن نامی سوسائٹی میں کوئی بھی انویسٹ نہ کیجیے گا اسوقت لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، اس وقت ایڈن کے مالک زندہ تھے اور انہوں نے مجھے مختلف ذرائع سے رشوت کی پیشکش کی، میں نے نہیں رشوت لی اور پھر میں نے دو تین پروگرام کر دیئے،پھر ایڈن میں جو متاثرین تھے اسکو بھی سامنے لے آیا، اسکے باوجود لوگ یقین کر لیتے ہیں کیونکہ ہمیں عادت ہےہم لاٹری کا ٹکٹ خرید کرسمجھتے ہیں لاٹری نکل آئے گی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب پنجاب میں اس وقت ہزاروں ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں،اور ان میں بہت بڑی تعداد جعلی ہے، آج میں‌بتاؤں کہ جب ایڈن کا مسئلہ ہو گیا تو سارے لوگ روتے میرے پاس آتے تھے کہ آپ فون کر دیں ہمیں پیمنٹ یاپلاٹس مل جائے گا،لوگ پہلے عقل استعمال نہیں کرتے، اب الرحمان ڈیویلپرز ایک اور نام آ رہا ہے میرے پاس،الرحمان ڈیویلپرز بڑا مشہور نام ہے یہ سکیم ہے، انکی جانب سے شہریوں کی جمع پونجی لوٹنے کے مکروہ دھندے کا انکشاف ہے، اربن سٹی کے نام پر شہریوں کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے، اسےجی ٹی روڈ پر بتایا جا رہاہے اور اس طرح فروخت کیا جا رہا ہے، جی ٹی روڈ پر جس مقام پر مین گیٹ بتایا جاتا ہے وہ جگہ ڈسٹرکٹ حکومت نے سیل کر دی ہے، وزیر داخلہ پاکستان محسن نقوی جاتے جاتے اختیارات ایل ڈی اے کو دے گئے تھے، بحرحال الرحمان ڈیویلپرز نے ایل ڈی اے کے افسران سے ملی بھگت کے بعد اس گیٹ کو ڈی سیل کر دیا، اور عدلیہ کے سخت احکامات کے باوجود جنگلات بھی کاٹ دیئے، محکمہ جنگلات کو درخواستیں دی گئیں لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی، ایڈورٹائز منٹ میں دکھایا جا رہا کہ مکڈونلڈ کا گیٹ یہ سامنے ہے یہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ میکڈونلڈ ایک دوسری ہاؤسنگ سوسائٹی کے سامنے ہے،

    https://youtu.be/sUvsJ6dk474

    پنجاب کا وزیر فارغ، بابر ستار پھنس گئے
    مبشر لقمان کامزید کہنا تھا کہ پنجاب کا ایک وزیر کابینہ کا بدلنے والا ہے، اس پر کافی شکایات آ چکی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب ایک آدھ دن میں ایکشن کر لیں گی یا ویلاگ کے بعد کاروائی تھوڑا مؤخر کی جائے، جسٹس بابر ستار نے ایک افی ڈیوٹ دے دیا جس میں کہا کہ بیوی اور بچے فارن نیشنل،امریکن نیشنل ہیں میں خود گرین کارڈ ہولڈر ہوں، گرین کارڈ کیا ہے؟ بابر ستار اگر سمجھتے ہیں کہ وہ باہر کی ریزیڈنسی رکھیں گے اور جج یہاں رہیں گے تو کافی سیریس ایشو ہے، اب کسی کو کچھ ثابت نہیں کرنا،سندھ میں دو ایسی مثالیں ہیں جہاں ججز بن رہے تھےایک کے پاس گرین کارڈ اور ایک کے پاس نیشنلٹی تھی، انکو کہا گیا تھا کہ سرنڈر کریں دونوں نے سرنڈر کیا اور پھر جج بنے،ہائیکورٹ کا جج بننے کے لئے گرین کارڈ ہولڈر نہیں ہو سکتے تو کیسے بابر ستار جج رہ سکتے ہیں، جن لوگوں نے اپنے بیوی بچوں‌کو پاکستان سے باہر سیٹل کر دیا ہے،جو رہتے ہی باہر ہیں وہ یہاں پر کیوں جج بننا چاہتے ہیں، یہان پر کوئی فوجی، اینکر بن کر رہے، پیسے آپ نے یہاں کمانے، ھکومتیں یہاں کرنی اور بچوں کا مستقبل باہر بہتر ہے،ایسے لوگوں کے ساتھ عدلیہ کیا کرے گی؟اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک لیٹر آ گیا ہو ماتحت عدلیہ نے لکھا اور کہا کہ وہ بہت دخل اندازی کرتے ہیں،جن سیشن ججز کو وہ فیور کرتے ہیں انکے نام بھی دے دیئے، اگر ہم بات نہیں مانتے تو مشکلات ہوتی ہیں، دیکھتے ہیں اس پر کیا ایکشن ہوتا ہے،رجسٹرار ہائیکورٹ نے وہ خط ریسیو کر لیا ہے اور اندراج بھی ہو گیا ہے،ان دو ججز پرکیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اربن سٹی کا یہاں مسئلہ ختم نہیں ہوتا، ایک رپورٹ آئی ہے ،یہ بلڈنگ انسپکٹر نے شائع کی ہے،اربن سٹی والے وہ زمین جو بیچ رہے ہیں وہ اپروو ہی نہیں، یہ لاہور کے اندر نہیں شیخوپورہ کی ہے، فائنل جب رجسٹری ایل ڈی اے کی ملے گی تو پھر چیخیں نہیں مارنا، ہو گا کچھ نہیں کیونکہ بھائی صاحب ایک ٹی وی چینل کے مالک بھی ہیں،پچھلے کافی عرصے میں ریئل سٹیٹ والوں نے چینل، اخبار لے لئے، جب وہ چینل کے مالکان بن جاتے ہیں تو کس چینل میں ہمت ہے کہ انکے خلاف کوئی پروگرام کرے، کس اینکر میں اتنی ہمت ہے کہ انکے خلاف کوئی پروگرام کرے، میرے پاس پورے ڈاکومنٹ ہیں، اربن سٹی کے لئے میرا فورم حاضر ہے، انکا چینل پبلک نیوز ہے، اب جب الرحمان ڈیولپرز میں پیسے ڈوبیں گے تو پھر گلہ نہ کرنا، سرکاری لوگوں نے کتنی رشوت لی ہو گی؟ پلاٹ بنانے کے لئے درخت کاٹ دیئے گئے،

    الیکشن کمیشن کا تحریک انصاف کو بطور پارٹی ختم کرنے کا عندیہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    شہر یار آفریدی پی ٹی آئی قیادت پر پھٹ پڑے

    ایک اور مدرسہ، ایک اور جنسی سیکنڈل،ایک دو نہیں ،کئی بچوں سے بدفعلی

    تنویر الیاس کی سینٹورس پر قبضے کی کوشش،گارڈ ز پر حملہ، مقدمہ درج

    عمران خان کی "اکڑ” ختم، مذاکرات کے لئے مان گئے

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پولیس وردی پہننے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جب صبح تصویر دیکھی تو وہ سلامی کے چبوترے پر سلامی لے رہی تھیں، پہلے مجھے لگا فینسی ڈریس شو ہو رہا ہے،میں نے سوچا کسی سکول میں چلی گئی ہیں میڈم اور وہاں فینسی ڈریس شو میں ہیں، پھر پیچھے دیکھا تو ڈاکٹر عثمان انور نظر آئے جو آئی جی پنجاب ہیں،وہ بھی یونیفارم میں ہیں، اگر فینسی ڈریس شو ہوتا تو عثمان انور نے ساڑھی پہنی ہوتی، یہ بچگانہ حرکت ہے، اسکی تعریف کریں یا نہ کریں یہ بچگانہ حرکت ہے، ابھی خرم دستگیر ٹی وی پر کہہ رہے تھے کہ اس سے پولیس کا مورال بلند ہو گا، پولیس کو مورال بلند کرنا ہے تو شہید نوجوانوں کی بیواؤں کے پاس جائیں، روز ایک گھنٹہ مختص کر لیں،وہ تو سمجھ میں آتا ہے یہ تو کوئی اندر کی خواہشات ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج مجھے سمجھ میں آ گیا کہ کیپٹن صفدر سے مریم نواز نے شادی کیوں کی تھی، یونیفارم میں دیکھا ہو گا اور یونیفارم پسند ہے تو شادی کی ہو گی، نواز شریف کی تصویر بھی دیکھی ہو گی وہ بھی پولیس یونیفارم میں ہے، آپ وزیراعلیٰ ہیں، چیف ایگزیکٹو ہیں، میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ پولیس وردی میں کیوں آئیں،اس پر سائیکالوجسٹ ہی کوئی بتا سکتا ہے کہ اس طرح کیوں کیا،مریم کے والد آئی جی پنجاب یا ڈی ایس پی تو نہیں تھے والدکے نقش قدم پر چلتے ہوئے تو وزیراعلیٰ بنی ہیں،میں نے دیکھا کہ مریم گاڑی میں کھڑی ہیں سلوٹ لے رہی ہیں اور ہر تین گز کے فاصلے پر بڑا سا پوسٹر لگا ہوا ہے جس پر خوش آمدید مریم نواز، لکھا ہوا ہے،کس قسم کی یہ تقریب ہے پولیس والوں کو بھی اپنی عزت کروانی چاہئے ،یہ جو خود نمائی کا شوق ہے اسکو بچگانہ ہی کہہ سکتا ہوں اور کچھ نہیں کہہ سکتا.

    اداروں کی یونیفارم پہننا خلافِ قانون،محترمہ عملی کام بھی کریں، بیرسٹر سیف

    مریم کی پولیس وردی پر تنقید کرنیوالوں نےبرقعے کی آڑ میں دھندہ چلایا ،عظمیٰ بخاری

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پولیس وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    میں تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی بیٹی تھی مگر مجھے بھی خود کو ثابت کرنا پڑا،مریم نواز