Baaghi TV

Tag: کھیت

  • بیوہ عورت کی زمین پر قبضہ کی کوشش،کھال ٹریکٹر چلا کر ختم کر دی،نوٹس کی اپیلا

    قصور
    تھانہ منڈی عثمان والا کی حدود پیال خورد میں قبضہ مافیا بے لگام ،بیوہ خاتون کی زمین پر قبضہ کرنے اور پانی والا کھال ختم کر دیا،وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور کا تھانہ منڈی عثمان سکنہ شیخ حماد کہنہ کی رہائشی شمیم بی بی بیوہ دلاور حسین قوم آرائیں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے
    شمیم بی بی جو کہ شیخ عماد میں رہتی ہے اسکی وراثتی زمین علاقہ تھانہ منڈی عثمان والا پیال میں ہے
    جس کا پچاس سال سے قائم پانی والا کھال ملزمان نے بغیر کسی عدالتی حکم اور یا ریونیو رپورٹ کے، ہل چلا کر ختم کردیا اور زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے
    خدشہ ہے کہ ملزمان بیوہ کی زمین ہتھیانا چاہتے ہیں اس لئے کبھی پانی بند کرتے ہیں کبھی راستہ بند کرتے ہیں کبھی قبضہ کرتے ہیں جبکہ بیوہ عورت دفتروں کے چکر لگا لگا کر تھک گئی ہے
    اہلیان علاقہ و بیوہ خاتون نے وزیر اعلی پنجاب اور ڈی پی او قصور عیسیٰ خان سے نوٹس لیکر کھال بحال کرنے اور وراثتی زمین کو تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کیخلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے

  • چولستان کینال منصوبہ  چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کینال منصوبہ چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کے دل میں ایک خواب بسا ہوا ہے، ایک ایسا عہد جو اس خشک صحراء میں زندگی کی نئی لہر دوڑانے کا ہے۔ لیکن چولستان کینال منصوبہ، جو تبدیلی کی ایک بڑی امید بن کر ابھرا ہے، اب ایک تنازعہ کا شکار ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس منصوبے سے کم دریا کے علاقے (لوئر ریپیئرین) کے پانی کی فراہمی متاثر ہو گی؟ لیکن کیا اس خواب کو شک و شبہات کی نظر ہو کر روکا جا سکتا ہے؟

    چولستان کینال منصوبہ دریائے ستلج سے پانی موڑ کر چولستان کے 452,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ اس منصوبے کا تخمینہ لاگت 211 ارب روپے ہے اور یہ چولستان کی مزید ترقی کے لیے ایک عظیم تر منصوبے "گریٹر چولستان اسکیم” کا سنگ بنیاد بھی ہے، جس کے تحت اگلے مرحلے میں تقریباً دوگنا رقبہ سیراب کیا جائے گا۔پاکستان کا 1991 کا واٹر اپورٹمنٹ ایکورڈ صوبوں کو اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدت اختیار کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، ہر سال ہمارے دریاؤں میں اوسطاً 141 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی بہتا ہے، لیکن اس میں سے 26 ملین ایکڑ فٹ (MAF) — جو کہ چار دیمیر بھاشا ڈیموں کو بھرنے کے لیے کافی ہے، ہر سال سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، جو ساحلی علاقوں کو نمکین پانی کے داخلے سے بچانے کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔

    چولستان کینال منصوبہ سندھ اور پنجاب میں سرپلس پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے بجائے زیر استعمال پانی کو زمین کی پیداوار بڑھانے کے لیے موڑ کر چولستان کی سرزمین کو زرخیز بنانے کی کوشش کرے گا۔ سیلابی موسم میں سندھ کو 45% اور پنجاب کو 12% اضافی پانی ملتا ہے۔ یہ صورتحال سندھ میں پانی کے ضیاع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ سندھ میں ہر سال 18 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔

    پنجاب کے پاس 47 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی ہے، جو 8 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے، جبکہ سندھ میں 40 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی 3.21 ملین ایکڑ اراضی تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ چولستان کینال، جو صرف 0.59 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی پنجاب کے حصے سے لے گا، اس توازن کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ کم استعمال ہونے والے پانی کو پیداواری اراضی میں تبدیل کرے گا۔

    گرین پاکستان انیشیٹیو چولستان کینال منصوبے کا تکمیل کار ہے، جو بنجر زمینوں کو زرخیز کھیتوں میں تبدیل کرنے، غذائی تحفظ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون پر مبنی زراعت کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے۔ زمین کے متنوع ماڈلز اور کسانوں کے لیے تخصیص شدہ ایگری مالز کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو درکار وسائل اور مدد مل سکے۔

    چولستان کینال اور گرین پاکستان انیشیٹیو کا مجموعہ ایک خوبصورت اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی تخلیق کرے گا، جو خشک صحراء کو سرسبز و شاداب زمینوں میں تبدیل کر کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے۔چولستان کینال منصوبہ نہ صرف چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا بلکہ پورے پاکستان کے زرعی منظرنامے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی بہتر تقسیم، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال بنے گا، جو ایک خوشحال اور پائیدار پاکستان کی طرف ایک قدم اور بڑھائے گا۔

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    صحرائے چولستان میں انڈس تہذیب کا قدیم شہر دریافت

    آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    وطن پرجان قربان کرنےوالوں کواہل وطن کی جانیں عزیز: چولستان میں فری میڈیکل کیمپ ، خدمت انسانیت جاری

  • درآمدی یوریا مزید مہنگی؛ نئی قیمت 2340 روپے فی تھیلا مقرر

    درآمدی یوریا مزید مہنگی؛ نئی قیمت 2340 روپے فی تھیلا مقرر

    درآمدی یوریا مزید مہنگی؛ نئی قیمت 2340 روپے فی تھیلا مقرر

     وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے درآمدی یوریا کی قیمت پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس کا نیا نرخ 2340 روپے فی تھیلا (50 کلوگرام) مقرر کرنے کی منظوری دیدی ہے جبکہ آر ایل این جی پر چلنے والے 3پاور پلانٹس کے پاور پرچیز اور گیس خریداری معاہدے میں کم از کم ’’ٹیک اینڈ پے‘‘ کمٹمنٹس کی شرح 33 فیصد پر فکسڈ کردی ہے۔ شہباز رانا کے مطابق ای سی سی کا اجلاس گزشتہ روز وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہوا، جس میں پانچ نکاتی ایجنڈے پر غور کے بعد اہم فیصلے کیے گیے۔

    آر این این جی پر چلنے والے تین پاور پلانٹس کیلئے پاور پرچیز معاہدے اور گیس پرچیز معاہدے میں ٹیک اینڈ پے کمٹمنٹس میں تبدیلی کی منظوری دیدی گئی، جس کے تحت ای سی سی نے آر ایل این جی پر چلنے والے تین پاور پلانٹس کیلئی پاور پرچیز اور گیس پرچیز ایگریمنٹس میں کم از کم ’’ٹیک اینڈ پے‘‘ کمٹمنٹس کی شرح 33 فیصد پر فکسڈ کردی ہے۔ اجلاس میں ہیوی الیکٹریکل کمپلکس کو بینک آف خیبر کو سود کی ادائیگی کیلئے آٹھ کروڑ9 لاکھ80 ہزار روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے 50 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    عدلیہ اورنیب کو درخواست کرتا ہوں جھوٹے کیسز ختم کیے جائیں. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
    معروف فٹبالر کی منفرد گھڑی توجہ کا مرکز بن گئی
    وزیراعظم دو روزہ سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ

    دریں اثناء وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ٹویٹ میں کمرشل بینکوں میں موجود زرمبادلہ تک حکومتی رسائی کے بے بنیاد اور مذموم پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بعض مفاد پرست عناصر، جنہوں نے ماضی میں اس ملک کو تباہ کردیا تھا، نے اس کو غلط رنگ دے کر ایک مہم شروع کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ مستقبل قریب میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی۔