Baaghi TV

Tag: کھیلیں

  • برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    برطانیہ میں دولت مشترکہ کھیلوں کا آغاز،پاکستان 12 کھیلوں میں قسمت آزمائی کرےگا

    لندن:برطانیہ کے شہر برمنگھم میں رنگا رنگ تقریب کے ساتھ دولت مشترکہ کھیلوں کا آغآز ہوگیا ہے۔برمنگھم میں دولت مشترکہ کھیلوں کے افتتاح کےموقع پررنگا رنگ افتتاحی تقریب میں فن کاروں نےسماں باندھ دیا۔

    تقریب میں شہزادہ چارلس نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں قومی دستے کی قیادت کرکٹر بسمہ معروف اور ریسلر انعام بٹ نے کی۔دولت مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کا 103 رکنی دستہ شریک ہے۔ قومی کھلاڑی 12 مختلف کھیلوں میں حصہ لیں گے۔

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم اپنا پہلا میچ آج بارباڈوس کےخلاف کھیلےگی جبکہ قومی ایتھلیٹس اوربیڈمنٹن ٹیم بھی اپنےمیچزآج کھیلیں گی۔ان کےعلاوہ جہاں آراء 200 میٹر اسٹائل اور بسمہ خان 100 میٹر بٹرفلائی کے مقابلوں میں حصہ لیں گی۔باکسنگ میں تیرسٹھ اعشاریہ پانچ کیٹیگری میں پاکستان کے سلمان بلوچ بھارت کے تھاپا شاوا کے مدمقابل ہوں گے۔

    پاکستان کی شاندانہ گلزار بھارت کی مخالفت کے باجود دولت مشترکہ خواتین پارلیمنٹیرینز

    دولت مشترکہ کی تنظیم کیا ہے اور پاکستان کا اس سے کیا تعلق ہے؟

    اقوام کی دولت مشترکہ ان ملکوں کی تنظیم ہے جو برطانیہ کی نو آبادیاتی رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926ء میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان ، بھارت اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔

    بھارت کو ایک اور رسوائی کا سامنا،دولت مشترکہ کی خواتین پارلیمنٹیرینزتنظیم

    اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884ء میں لارڈ روزبیری کے دورۂ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی۔ دولت مشترکہ سیاسی تنظیم نہیں۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات معتمد عام (سیکرٹری جنرل) دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔ تنظیم کے قائم کرنے کا مقصد رکن ممالک میں اقتصادی تعاون کو فروغ دیناجمہوریت کو فروغ دینااور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔

    دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، اسد قیصر

    دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔دولت مشترکہ کے 4 بڑے ممالک بھارت (1،100 ملین)، پاکستان (200ملین)، بنگلہ دیش (141 ملین) اور نائیجیریا (137 ملین) ہیں۔ٹووالو بلحاظ آبادی سب سے چھوٹا رکن ہے جس کی آبادی صرف 11 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔رقبے کے لحاظ سے دولت مشترکہ کے تین بڑے ممالک کینیڈا (3.8 ملین مربع میل)، آسٹریلیا (3 ملین مربع میل) اور بھارت (714 ہزار مربع میل) ہیں۔

    تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔

    اس وقت دولت مشترکہ کے معتمد عام ڈون میک کینون ہیں جو 1999ء سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ نائب سیکرٹری معتمد عام ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں واقع ہے۔

    ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔

     

    پاکستان نے 1972ء میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے پر احتجاجا دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989ء میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1999ء میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004ء میں اسے بحال کر دیا گیا۔

    کرکٹ اور رگبی کے کھیل، سڑک اور پٹری کے بائیں جانب ڈرائیونگ کا نظام اور امریکی کی بجائے برطانوی انگریزی کا استعمال دولت مشترکہ کے رکن ممالک کی پہچان ہیں۔

  • نیشنل بینک آف پاکستان ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں

    نیشنل بینک آف پاکستان ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے کوشاں

    ملک بھر میں سپورٹس کو فروغ دینے کے لئے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے حال ہی میں پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل کو معاونت کی صورت میں 15لاکھ روپے کا چیک دیا۔ نیشنل بینک آف پاکستان کے قائم مقام صدر
    رحمت علی حسنی نے، ڈائریکٹر آف آپریشن، بلائنڈ کرکٹ کونسل سلمان طارق بخاری کو اس حوالے سے چیک پیش کیا۔ اس موقع پر این بی پی کی ای وی پی اینڈ گروپ ہیڈ، انکلوسیو ڈویلپمنٹ محترمہ نوشابہ شہزاداور ای وی پی اینڈ ڈویژنل ہیڈ سی ایس آر مرزا بابر بیگ بھی موجود تھے۔

    پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل نہ صرف پاکستان میں بلائنڈ کرکٹ کی گورننگ باڈی ہے بلکہ یہ ورلڈ بلائنڈ کرکٹ کونسل کی بانی ممبر بھی ہے۔1977میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک کونسل ملک میں باصلاحیت اور بصارف سے محروم کرکٹرز کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر پزیرائی کا اہتمام کرتی چلی آرہی ہے۔

    اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے رحمت علی حسنی نے کہا ” این بی پی قومی بینک کی حیثیت سے معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت بلخصوص مختلف معذوریوں کے باوجود جدو جہد کرنے والے قابل کھلاڑیوں کی معاونت اور رہنمائی کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ ہمیں پاکستان میں ٹی ٹوینٹی بلائنڈ کرکٹ کونسل کی صورت میں بی سی سی کے ساتھ 12سالہ وابستگی پر فخر ہے جس نے کئی بہترین باصلاحیت کھلاڑیوں کو متعارف کرایا ہے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل خواتین کھلاڑیوں کی ٹیم پر بھی توجہ مرکوز کررہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ دیگر ادارے بھی آگے بڑھ کر ان خصوصی افراد کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی تاکہ وہ اپنی قابلیت کے ذریعے دوسروں کے لئے مثال بن سکیں۔

    این بی پی کی طرف سے معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ڈائریکٹر آف آپریشن، بلائنڈ کرکٹ کونسل سلمان طارق بخاری نے کہا ” ہم گزشتہ کئی سالوں سے این بی پی کی طرف سے مسلسل معاونت پر ان کے شکر گزار ہیں۔ حال ہی میں ٹی ٹوینٹی بلائنڈ کرکٹ ٹورنامنٹ کے 12 واں ایڈیشن کا انعقاد ایک قومی کامیابی ہے جس میں بصارت سے محروم 250 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا ۔