Baaghi TV

Tag: کہکشائیں

  • خلاء  میں دو آنکھوں جیسی کہکشاؤں کی تصویر جاری

    خلاء میں دو آنکھوں جیسی کہکشاؤں کی تصویر جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے دور دراز خلاء میں دو گھورتی آنکھوں جیسی ڈراؤنی کہکشاؤں کی تصویر جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناساکے مطابق تصویر میں دیکھی جانے والی یہ اسپائرل کہکشائیں زمین سے 11 کروڑ 40 لاکھ نوری سال فاصلے پر موجود ہیں جن کے نام آئی سی 2163 اور این جی سی 2207 ہیں جاری کی گئی تصویر میں سرخ اور گلابی چمکیلے رنگوں کے پس منظر میں تاریک کائنات اور دور دراز موجود کئی کہکشائیں موجود ہیں،ناسا کے مطابق دائیں جانب موجود آئی سی 2163 کروڑوں برس قبل آہستہ آہستہ این جی سی 2207 کے پیچھے سرک گئی ہے۔

    ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے مطابق کہکشاؤں کے رنگوں کی وضاحت جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مِڈ-انفرا ریڈ لائٹ اور قابلِ دید اور الٹرا وائلٹ روشنی ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ممکن ہوئییمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ میں نصب مِڈ انفرا ریڈ آلا (جس کو MIRI بھی کہا جاتا ہے) ایسا آلہ ہے جو کہکشاؤں کی نئی خصوصیات سامنے لانے میں مدد دیتا ہے۔

  • گیس سے بھری ہوئی  کہکشائیں دریافت

    گیس سے بھری ہوئی کہکشائیں دریافت

    سائنسدانوں نے گیس سے بھری ہوئی لاتعداد کہکشائیں دریافت کر لیں۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو میں پانچ سو میٹر قطر کی ریڈیو ٹیلی سکوپ (فاسٹ) کے ذریعے دور کائنات میں گیس سے بھری ہوئی لاتعداد کہکشائیں دریافت کیں-

    تحقیق کے مطابق نئی دریافت ہونے والی کہکشائوں سےخارج ہونے والی ریڈیائی لہروں کو زمین تک پہنچنے میں ہمارے نظام شمسی کی تقریبا عمر لگ گئی ہے، ان میں اس قدر یا اس سے زیادہ ایٹم ہائیڈروجن گیس موجود ہے جتنی اس سے قبل ریڈیو دوربینوں سے دریافت ہونے والی ہزاروں کہکشاوں میں پائی جاتی ہے۔

    جاپان: ڈبل روٹی کے پیکٹس سے چوہے کی باقیات برآمد ہونے پر کمپنی کا …

    چین کی اکیڈمی آف سائنسز (این اے او سی)کے تحت قومی فلکیاتی رصد گاہوں سے وابستہ اس تحقیق کے سرکردہ مصنف شی ہونگ وی نے آسٹریلیا، امریکہ اور روس کے سائنسدانوں کے ساتھ مل کر اس تحقیق میں چھ نئی ہائی ریڈ شفٹ کہکشاں کی خصوصیات کو دریافت کیا۔

    ہالی ووڈ پاکستانی ثقافت سے متاثر ہوکر فلم بنانے کیلئے پرامید

    تحقیق کے مطابق نیا ہائی ریڈ شفٹ کہکشاں کا نمونہ کہکشاوں میں ٹھنڈی گیس کے بننے کے عمل کو جاننے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، مستقبل میں ایک بڑی جسامت کی ریڈ شفٹ کہکشاں کے نمونے سے کہکشاوں کی تشکیل اور ارتقا کے حوالے سے انسانی علم میں بہتری ممکن ہوسکے گی۔

    گزشتہ 21 سالوں میں سب سے طاقتور شمسی طوفان زمین کی فضا سے ٹکرا گیا

  • کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ہوائی کے شہر موناکیہ میں نصب جیمنی نارتھ دوربین نے ایسی دو کہکشاؤں کی تصویر جاری کی ہے جو ایک دوسرے سے جڑنے کے عمل سے گزر رہی ہیں اور ایک کائناتی تتلی کا گمان دیتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :ہوائی میں جیمنی نارتھ دوربین کے ماہرین فلکیات نے ایک شاندار تصویر جاری کی ہے جس میں دو سرپل کہکشائیں آپس میں ٹکرانے اور ضم ہونے کے عمل میں دکھاتی ہیں تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو کہکشائیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں –

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آپس میں ٹکرانے والی کہکشائیں NGC 4568 اور NGC 4567 جنہیں تتلی کہکشائیں بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی دوہری شکل کی وجہ سے ان کے تعامل کا سبب بنتا ہے کنیا کے جھرمٹ میں زمین سے 60 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں اور ارد گرد ایک بالکل نئی بیضوی کہکشاں بنائیں گی۔ 500 ملین سال، NOIRLab کے ایک بیان کے مطابق، جو Gemini North telescope کو چلاتا ہے۔

    نئی تصویر سائنسدانوں کو ایک ‘چپکے سے پیش نظارہ’ دیتی ہے کہ تقریبا 5 بلین سالوں میں کیا ہوگا جب ہماری کہکشاں، آکاشگنگا، اپنے قریبی بڑے پڑوسی، اینڈرومیڈا کہکشاں سے ٹکرائے گی۔ یہ تصادم ہر کہکشاں کو ایک بڑا میک اوور دے گا، اور ساتھ ہی ممکنہ طور پر سورج اور نظام شمسی کو نتیجے میں آنے والی کہکشاں کے ایک مختلف خطے میں اڑائے گا۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 10 لاکھ سالوں میں یہ آپس میں ضم ہوجائیں گی یہ دونوں کہکشائیں 50 کروڑ سال میں اپنے کائناتی نظام کو مکمل کرکے ایک ہی کہکشاں کی شکل اختیار کر لیں گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کہکشاں کی اس جوڑی کا دوسرا نام تتلی کہکشائیں بھی رکھا گیا ہے، سائنس دانوں کے مطابق کشش ثقل کی وجہ سے ان دونوں کہکشاوں نے ابھی آپس میں ٹکرانا شروع کردیا ہے۔

    اس ابتدائی مرحلے میں دونوں کہکشاؤں کا مرکز اس وقت 20,000 نوری سال کے فاصلے پرہے اور ہر کہکشاں نے اپنی پن وہیل کی شکل برقرار رکھی ہوئی ہے-

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی