Baaghi TV

Tag: کہکشاں

  • ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز  کہکشاں دریافت کر لی

    ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں دریافت کر لی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کا استعمال کرتے ہوئے ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں JADES-GS-z13-1 دریافت کی ہے، جو بگ بینگ کے صرف 33 کروڑ برس بعد وجود میں آئی تھی۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ کہکشاں غیر متوقع طور پر چمکدار الٹرا وائلٹ (یو وی) روشنی، خاص طور پر ہائیڈروجن ایٹمز سے خارج ہو تے لائمین-الفا ظاہر کرتی ہے، جو ابتدائی کائنات میں موجود گھنے غیر متحرک ہائیڈروجن بادلوں کی موجودگی کے باوجود حیران کن ہے اس اخراج کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کی ری آئنائزیشن—جب یو وی روشنی نے ہائیڈروجن ایٹمز کو آئنائز کر کے دوبارہ نمودار کی—پہلے سے متو قع وقت سے قبل واقع ہوئی۔

    باغبانپورہ قبرستان سے لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم انکشافات

    JADES کائنات کی مشاہدے میں آنے والی سب سے دور کہکشاؤں میں سے ہے اس کی روشنی کو جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ تک پہنچنے میں تقریباً 13.5 ارب سال لگے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں کائنات کی عمر کے قریب قریب ہے، یہ دریافت ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل کے بارے میں موجود نظریات کو چیلنج کرتی ہے اور ابتدائی کائنات کی حالت کے بارے میں نئے بصیرت فراہم کرتی ہے۔ ​

    پی ایس ایل 10 کے ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز ہوگیا

  • کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں دریافت

    کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں دریافت

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی قدیم ترین اور سب سے دور واقع کہکشاں کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق JADES-GS-z14-0 نامی کہکشاں کا قیام بگ بینگ کے 29 کروڑ سال بعد عمل میں آیا تھا، کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والی یہ کہکشاں بہت بڑی ہے اور 1600 نوری برسوں کے فاصلے تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ یہ بہت زیادہ روشن بھی ہے۔

    اس کہکشاں سے خارج ہونے والی روشنی کو جیمز ویب کے مڈ انفراریڈ انسٹرومنٹ نے دیکھا تھا جس سے ionized گیس کے اخراج کا عندیہ ملتا ہے،سائنسدانوں کے خیال میں یہ گیس ہائیڈروجن اور آکسیجن کا امتزاج ہو سکتی ہے اور یہ دریافت بھی حیران کن ہے، کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ کائنات کی ابتدا میں آکسیجن موجود نہیں تھی۔

    ملالہ یوسفزئی کی برطانوی میوزیکل ویب سیریز کی پہلی جھلک وائرل

    اس حوالے سے ہونے والی تحقیق میں شامل سائنسدانوں نے بتایا کہ تمام تر نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہکشاں دیگر کہکشاؤں جیسی نہیں ، ایسا امکان ہے کہ مستقبل میں اس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ماہرین ایسی مزید روشن کہکشاؤں کو دریافت کریں جو اس سے بھی زیادہ قدیم ہوں۔

    اس سے قبل جیمز ویب اسپیس نے کائنات کا قدیم ترین بلیک ہول بھی دریافت کیا تھا،نومبر 2023 میں ناسا کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس بلیک ہول کے بارے میں بتایا گیا تھا جو بگ بینگ کے 47 کروڑ سال بعد وجود میں آیا تھا کائنات کی ابتدا میں تشکیل پانے والے بلیک ہول کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا، جس کی عمر 13 ارب 20 کروڑ سال ہو سکتی ہے۔

    کار حملے سمیت حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 صہیونی فوجی ہلاک

    اس بلیک ہول کو UHZ1 نامی کہکشاں میں دریافت کیا گیایہ بلیک ہول ہمارے سورج سے 10 سے 100 کروڑ گنا زیادہ بڑا ہو سکتا ہے، سائنسدانوں نے کہا کہ یہ کائنات کا سب سے بڑا بلیک ہول تو نہیں مگر ابتدائی عہد میں بننے والے بلیک ہول کا اتنا بڑا حجم غیر معمولی ہے۔

  • کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    اسپین میں ایک ماہر فلکیات نے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے حاصل کی گئی سومبریرو کہکشاں کی تصاویر کا تجزیہ کرکے ایک نئی فعال کہکشاں دریافت کی ہے،ان تصاویر میں اسی کہکشاں کے اندر ایک نئی فعال کہکشاں کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: اکیڈمک مضامین کے لیے ایک اوپن ایکسیس آرکائیو ”arXiv“ میں شائع ہونے والی یہ دریافت ”ہماری“ کہکشاں کے سب سے دلچسپ اور منفرد پڑوسیوں میں سے ایک پر روشنی ڈالتی ہے، جو کنیا سپر کلسٹر میں واقع ہے، جہاں ملکی وے پائی جاتی ہے،سومبریرو کہکشاں (Sombrero Galaxy) کو Messier 104 یا NGC 4594 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ کنیا اور کوروس برجوں کے درمیان 31 ملین نوری سال پر محیط ایک سرپل کہکشاں ہے اور کنیا کے جھرمٹ میں سب سے بڑی آسمانی اشیاء میں سے ایک ہے اس کا حجم 800 بلین سورجوں کے برابر ہے۔

    اسے ایک عجیب کہکشاں کے طور پر بھی درجہ بندی کیا گیا ہے، یہ اصطلاح کہکشاؤں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سائز، شکل یا ساخت میں غیر معمولی ہیں اس کہکشاں کے بارے میں دو چیزیں ہمیشہ نمایاں رہی ہیں: اس کے مرکز میں اس کا انتہائی روشن نیوکلئس اور اس کے ارد گرد موجود دھول کا بہت بڑا حلقہ، اسے ایک سومبریرو(میکسیکن ٹوپی) کی شبیہ دیتا ہے، اس لیے اس کا عرفی نام ہے سومبریرو کہکشاں 1781 میں پہلی بار دریافت ہوئی تھی۔

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    تاہم، اس کہکشاں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متعدد گلوبلر کلسٹرز ہیں، جو کشش ثقل سے جڑے ہوئے ستاروں کی بڑی تعداد ہیں۔ یہ ہر کہکشاں میں موجود ہیں، بشمول ملکی وے، حالانکہ یہ عام طور پر کنارے پر زیادہ واقع ہوتے ہیں۔

    لیکن اسپین کی مڈ اٹلانٹک یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایلیو کوئروگا روڈریگیز کے نتائج کے مطابق، ایک عجیب چیز جو پہلے ایک گلوبلر کلسٹر سمجھی جاتی تھی (جسے پین اسٹار آر ایس 1 ڈیٹا آرکائیو میں PSO J190.0326-11.6132 کے طور پر درج کیا گیا ہے) کچھ اور ہو سکتی ہے، یعنی ایک مکمل طور پر الگ کہکشاں، جو اپنے مرکز میں ایک فعال کہکشاں نیوکلئس (AGN) رکھتی ہو ایسا لگتا ہے کہ اس کہکشاں کے دو سرپل بازو ہیں اور اسے عارضی طور پر ”Iris Galaxy“ کا نام دیا گیا ہے۔

    کہکشاں کے مرکز میں ایک کمپیکٹ خطہ جو کہ انتہائی چمکدار اور توانائی بخش ہے، ستارے کی تشکیل یا مرکز میں ایک زبردست بلیک ہول کی سرگرمی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

    بچوں سے جنسی جرائم پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    ایک کہکشاں دوسری کہکشاں کے اندر کیسے بن سکتی ہے؟

    یہ حقیقت میں اتنا غیرمعمولی نہیں جتنا لگتا ہے 2009 میں، سائنسدانوں نے ایک بونی کہکشاں دریافت کی تھی جو سومبریرو کہکشاں کے ساتھ تھی۔ اس طرح Sombrero Galaxy کے لیے اس طرح کا ایک اور ساتھی ہونا غیرمعمولی نہیں اگر آئرس گیلیکسی سومبریرو گیلیکسی کا حصہ ہے تو غالب امکان یہ ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی کہکشاں ہوگی، جس کا سائز صرف 1,000 نوری سال ہو۔

    لیکن اگر یہ Sombrero Galaxy کا حصہ نہیں تو یہ ممکنہ طور پر بہت دور ہے اور اس لیے بہت بڑی ہےروڈریگز کے مطابق، اس حساب سے آئرس گیلیکسی کو کم از کم 65 ملین نوری سال کے فاصلے پر ہونا پڑے گا اور اس کا سائز تقریباً 71,000 نوری سال ہو سکتا ہے۔

    کیا دماغ چیزیں جان بوجھ کر بھولتا ہے؟نئی تحقیق میں ماہرین کے انکشاف

  • کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

    آسٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے سائنسدانوں نے کائنات کی ابتدا میں ایسی کہکشائیں دریافت کی ہیں جو حیران کن حد تک ہماری کہکشاں ملکی وے سے مشابہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں قائم یونیورسٹی آف ٹیکساس کے پروفیسر اسٹیون فِنکلسٹائن کی رہنمائی میں کیے جانے والے فلکیاتی سروے میں سائنسدانوں نے ایسی کہکشائیں دریافت کیں جن میں ’اسٹیلر بار‘ موجود ہیں اسٹیلر بار سلاخوں کی ایک لمبی پٹی ہوتی ہے جو کہکشاؤں کے درمیان سے کناروں تک جاتی ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی


    محققین کے مطابق جن کہکشاؤں کی نشان دہی کی گئی ہے وہ اس وقت کی ہیں جب ہماری کائنات کی عمر اس کی موجودہ عمر کی ایک چوتھائی تھی ہماری ملکی وے کہکشاں کے جیسی ’بار کہکشاؤں‘ کی کائنات کے ابتدائی وقتوں میں دریافت سے کہکشاں کے ارتقاء کے متعلق نظریوں کو جدید کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

    میں نے ان اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالی، اور میں نے کہا، ‘ہم باقی سب کچھ چھوڑ رہے ہیں!’” آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں فلکیات کی پروفیسر شردھا جوگی نے کہا ہبل ڈیٹا میں شاید ہی نظر آنے والی پٹیاں ابھی JWST امیج میں واضح ہوئیں، جو کہکشاؤں میں بنیادی ڈھانچے کو دیکھنے کے لیے JWST کی زبردست طاقت کو ظاہر کرتی ہیں-

    ٹیم نے ایک اور ممنوعہ کہکشاں، EGS-24268 ایک اور ’بار گیلیکسی‘ کی شناخت کی، جو کہ تقریباً 11 بلین سال پہلے کی ہے، جو کہ اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم دو ’بار کہکشاؤں‘ میں سے ایک ہے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے پہلے ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی ابتدائی دور کی تصاویر میں یہ پٹیاں واضح طور پر نہیں دیکھی گئیں تھیں۔ہبل ٹیلی اسکوپ سے لی جانے والی EGS-23205 نامی ایک کہکشاں کی تصویر میں صرف ایک سپاٹ دھبہ دِکھتا ہے جبکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے لی گئی تصویر میں درمیان میں موجود ستاروں کی پٹی سمیت خوبصورت حلزونی کہکشاں دیکھی جاسکتی ہے۔

    ایک گریجویٹ طالب علم ” یوچن "کی” گو نے کہا کہ اس مطالعے کے لیے، ہم ایک نئے نظام کو دیکھ رہے ہیں جہاں اس سے پہلے کسی نے اس قسم کا ڈیٹا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس قسم کا مقداری تجزیہ کیا تھا لہذا سب کچھ ہے نئی. یہ ایک ایسے جنگل میں جانے جیسا ہے جس میں کبھی کوئی نہیں گیا تھا۔

    باریں کہکشاں کے ارتقاء میں مرکزی خطوں میں گیس کو بہا کر ستاروں کی تشکیل کو بڑھا کر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    جوگی نے کہا کہ باریں کہکشاؤں میں سپلائی چین کا مسئلہ حل کرتی ہیں۔ "جس طرح ہمیں بندرگاہ سے اندرون ملک فیکٹریوں تک خام مال لانے کی ضرورت ہے جو نئی مصنوعات تیار کرتی ہیں، اسی طرح ایک بار طاقتور طریقے سے گیس کو مرکزی علاقے میں منتقل کرتا ہے جہاں گیس تیزی سے نئے ستاروں میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی شرح عام طور پر 10 سے 100 گنا زیادہ ہوتی ہے۔

    باریں کہکشاؤں کے مراکز میں گیس کے راستے کے حصے کو جوڑنے کے ذریعے بڑے پیمانے پر بلیک ہولز کو بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہیں۔

  • 2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    میری لینڈ: ایک ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک کہکشاں کا عجیب و غریب رویہ بتاتا ہے کہ یہ اپنے اندر جدید فلکیات کے انتہائی غیرمتوقع وقوعات رکھتی ہے۔

    باغی ٹی وی : "سائنس الرٹ” کے مطابق SDSS J1430+2303 نامی کہ ایک بہت بڑے بلیک ہولز کےجوڑے، جس کا مجموعی وزن تقریباً 20 کروڑ سورج کے برابر ہے،کے دونوں بلیک ہولز کا تصادم قریب الوقوع ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    فلکیاتی اصطلاحات میں ’قریب الوقوع‘ اکثر پوری زندگی کا عرصہ ہوسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس معاملے میں ماہرینِ فلکیات نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر یہ سگنل دیو ہیکل بلیک ہولز سے آئے ہیں تو ان کا تصادم آئندہ تین سالوں میں ہوجائے گا۔

    یہ ممکنہ طور پر کیمرے کی آنکھ میں قید کیا گیا ایک منفرد منظر کاسب سے بہترین شاٹ ہوسکتا ہے لیکن سائنس دانوں کو ابھی تک علم نہیں کہ J1429+2303 کے مرکز میں کیا ہونے جارہا ہےسائنس دانوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس عجیب و غریب کہکشاں کو دیکھتے رہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا اس کی حتمی شناخت کی جا سکتی ہے۔

    بلیک ہولز کے تصادم کی سب سے پہلی نشان دہی 2015 میں کی گئی تھی جس کے بعد فلکیات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ تب سے اب تک گریویٹیشنل لہروں کی مدد سے کئی بار نشان دہی کی جاچکی ہے جو بڑے بڑے وقوعات کے نتیجے میں زمان و مکان میں سفر کرتی آئیں۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

     

    آج تک، ان میں سے تقریباً تمام انضمام بلیک ہولز کے بائنری جوڑے رہے ہیں جن کا بڑے پیمانے پر انفرادی ستاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بہت اچھی وجہ ہے LIGO اور Virgo، کشش ثقل کی لہر کے آلات جو پتہ لگانے کے لیے ذمہ دار ہیں، اس بڑے پیمانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

    ہم جانتے ہیں کہ کہکشاؤں کے اپنے مراکز میں بہت بڑے بلیک ہولز ہوتے ہیں، اور ہم نے نہ صرف کہکشاؤں کے جوڑے اور گروہوں کو آپس میں ٹکراتے ہوئے دیکھا ہے، بلکہ ضم ہونے کے بعد کی کہکشاؤں کے مراکز میں مداروں میں ایک دوسرے کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ ان کا اندازہ ان کہکشاں کےمرکزسے خارج ہونے والی روشنی سے لگایا جاتا ہے، باقاعدہ ٹائم اسکیل پر جو مدار کی تجویز کرتے ہیں۔

    تاہم، یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ J1430+2303 کے مرکز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلیک ہول بائنری کا نتیجہ ہے-

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی۔

    باغی ٹی وی :میساچوسیٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی اور اسمتھسونین سینٹر آف آسٹروفزکس کے محققین نے GLASS-z11نامی ایک اور کہکشاں دریافت کی –

    GLASS-z13 نامی ستاروں کا یہ مجموعہ بِگ بینگ کے 30 کروڑ سال بعد وجود میں آیا اس سے قبل قدیم ترین کہکشاں کے طور پر جانی جانے والی کہکشاں GN-Z11 اس سے 10 کروڑ سال بعد وجود میں آئی تھی اس کہکشاں کو ہبل ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیا تھا ان دونوں کہکشاؤں کا وزن ایک ارب سورج کے برابر ہے-

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    یہ کہکشائیں ہماری ملکی وے کہکشاں سے نسبتاً چھوٹی ہیں۔ ملکی وے کہکشاں کا قطر ایک لاکھ نوری سال ہے جبکہ GLASS-z13 کا قطر اندازاً 1600 نوری سال جبکہ GLASS-z11 کا قطر 2300 نوری سال ہے۔

    یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے ایک گریجویٹ طالب علم روحان نائیڈو کا کہنا تھا کہ محققین نے دو انتہائی فاصلے پر موجود کہکشائیں دریافت کی ہیں اگر ان کہکشاؤں کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ماہرین سمجھ رہے ہیں تو کائنات اس موقع سے چند کروڑ سال ہی پرانی ہوگی۔

    ایسا ممکن ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ وقت میں مزید پیچھے دیکھے اور صرف 20 کروڑ سال پُرانی کہکشائیں دریافت کرے اور یہ کائنات کی ابتداء جاننے کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مشن کو پورا کرنے میں اہم قدم ہوگا۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    قبل ازیں خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا تھا جیمز ویب کو دسمبر میں ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی کے لیے لانچ کیا گیا تھا امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوٹے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا دوربین بنانے والے انجینئرز خلا کی سختیوں سے بہت زیادہ واقف ہیں، اور ویب کو احتیاط سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ ہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

  • ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سائنسدانوں نے ہماری ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ دعوٰی کیلیفورنیا میں قائم یونیورسٹی آف برکلے کے سائنسدانوں نے کیا ہے محققین کا ماننا ہے کہ جب بڑے ستارے تباہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی جسامت، توانائی اور مادہ خرچ کرنے کے لحاظ سے بلیک ہول یا دیگر اقسام کے اجسام میں بدل جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نظری طور پر ہماری کہکشاں میں بہت سارے بلیک ہول ہونے چاہئیں۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    لیکن سائنس دانوں کو ان کی تلاش میں مشکلات کا سامنا رہا ہے یہ بِکھرے ہوئے بلیک ہول بصری لحاظ سے ویسے بھی ہماری آنکھ سے اوجھل ہوسکتے ہیں ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں کے درمیان 100 ملین بلیک ہول گھومتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی مکمل طور پر الگ تھلگ بلیک ہول کی شناخت نہیں کی۔

    اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک آزادانہ گشت کرتے بلیک ہول کی نشان دہی کی ہے جو ہماری کہکشاں میں ایک لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کررہا ہے۔

    ایلون مسک کا رواں سال انسان نما روبوٹ متعارف کرانے کا اعلان

    سائنس دانوں نے اس کی نشان دہی گریویٹیشنل مائیکرولینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے کی ہے۔ اس عملی کو ثقلی لینسنگ بھی کہا جاتا ہے جس میں کسی بھاری بھرکم جسم ، مثلاً بلیک ہول کے وجہ سے پس منظر سے آنے والی روشنی کی شعاعیں خمیدہ ہوسکتی ہے اور یوں ہمیں ان دیکھے بڑے جسم کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

    یہ شے ہماری کہکشاں میں ہونے کے باوجود ہزاروں نوری سال کے فاصلے کی دوری پر ہے سائنس دانوں کے ایک گروپ کے مطابق اس بلیک ہول کا وزن سورج سے 1.6 سے 4.4 گُنا زیادہ ہے جبکہ دوسرے گروہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا وزن سورج سے 7.1 گُنا زیادہ ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا