Baaghi TV

Tag: کیس

  • امیر بالاج قتل کیس: طیفی بٹ، گوگی بٹ اور بلاول  اشتہاری قرار

    امیر بالاج قتل کیس: طیفی بٹ، گوگی بٹ اور بلاول اشتہاری قرار

    لاہور:امیر بالاج قتل کیس میں طیفی بٹ، گوگی بٹ اور بلاول کو اشتہاری قرار دیا گیا-

    باغی ٹی وی: لاہورکی سیشن کورٹ نے امیر بالاج قتل کیس کا چالان سماعت کیلئے ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ کی عدالت میں بھیجا گیا، عدالت نے کیس میں ملزم ہارون اور سہیل محمود کو حاضری کے لیے طلب کرلیا جبکہ چالان میں طیفی بٹ، گوگی بٹ اور بلاول کو اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔

    احسن شاہ اور مظفر کے ہلاک ہونے کی رپورٹ بھی چالان کے ساتھ منسلک کر دی گئی مجموعی طور پر تین ملزمان اور امیر بالاج کے بھائی امیر مصعب سمیت 36 گواہوں کو نامزد کیا گیا چوہنگ پولیس نے امیر بالاج کے قتل کا مقدمہ درج کر رکھا ہے پولیس کے مطابق میر بالاج کے قتل کے بعد لاہور میں گینگ وار کا نیا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس میں اب تک ٹیپو ٹرکاں والا، احسن شاہ اور جاوید عرف طیفی بٹ کو فائرنگ کر کے قتل کیا جا چکا ہے۔

    واضح رہے کہ 19 فروری کو لاہور میں ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب نجی سوسائٹی میں شادی کی تقریب کے دوران حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیر بالاج ٹیپو کو قتل کر دیا تھا۔

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    اڈیالہ جیل میں 190ملین پاونڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی نے نیب ترامیم فیصلے کے بعد 190ملین پاونڈ ریفرنس میں رعایت مانگ لی،بانی پی ٹی آئی نے 190ملین پاونڈریفرنس میں بریت کی درخواست دائر کردی،وکیل عمران خان نے کہاکہ نیب ترامیم فیصلے کے بعد 190ملین پاونڈ کا کیس بنتا ہی نہیں، نیب ترامیم میں کابینہ کے تمام فیصلوں کو تحفظ حاصل ہے،سوال یہ ہے کہ نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت کا اس کیس میں دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر عدالت کا اس کیس میں دائرہ اختیار ہے تو پھر بریت کی درخواست سنی جاسکتی ہے،وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نے عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج ہی نہیں کیا ہے، عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کرنا عدالت کی صوابدید ہے،

    احتساب عدالت نے 190ملین پاونڈٰریفرنس کی سماعت ڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ کیا،بعد ازاں احتساب عدالت نے وقفے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بریت کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے،احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست بریت پر سماعت 10ستمبر تک ملتوی کردی،190ملین پاونڈٰ ریفرنس پر سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی

    اسرائیل کی عمران خان سے امیدیں ،گولڈسمتھ خاندان کااہم کردار

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    اسرائیل کوتسلیم کرنےکی مہم میں عمران خان ٹرمپ کےساتھ تھا:فضل الرحمان

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نیب ترامیم بحال

  • مبارک ثانی کیس،وفاق کی درخواست منظور،فیصلے کے پیرا گراف حذف

    مبارک ثانی کیس،وفاق کی درخواست منظور،فیصلے کے پیرا گراف حذف

    مبارک ثانی کیس،پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی

    سُپریم کورٹ نے وفاق کی نظرثانی درخواست منظور کرلی،فیصلے کے پیرا گراف 42 ،7 سمیت 49 سی کو حذف کردیا،6 اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف حذف کر دیئے گئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم کسی غلطی سے بالاتر نہیں ہیں، ہم سے غلطی ہو تو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے اصلاح ہونی چاہئے، سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے فیصلے میں درستگی کیلئے رجوع کیا گیا،عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کا بھی جائزہ لیا، سپریم کورٹ نے علماء کرام کی تجاویز منظور کرلی،سپریم کورٹ نے کہا کہ مبارک ثانی نظرثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا،نظرثانی فیصلے کے حذف کردہ پیراگرافس میں قادیانیوں کی ممنوعہ کتاب، قادیانیوں کی تبلیغ سے متعلق زکر کیا گیا تھا،مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں رائے دی تھی کہ سپریم کورٹ صرف خود کو ضمانت تک محدود رکھے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکیس کی سماعت کی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ ہیں،پنجاب حکومت نے نظرثانی فیصلے میں درستگی کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی،سپریم کورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کیا تھا،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے 24 جولائی کے فیصلے میں ترمیم کی استدعا کر رکھی ہے

    سماعت کے آغاز پر ریاض حنیف راہی روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن مجبور ہوں ،میں ہر نماز میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، انسان اپنے قول فعل سے پہچانا جاتا ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علما کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا،سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات کی گئیں تھی، کیونکہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ‏کبھی کوئی غلطی ہو تو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ، جنہوں نے نظرثانی درخواست دائرکی انکا شکریہ ادا کیا ،اگرہم سے کوئی غلطی ہوجائے تواس کی اصلاح بھی ہونی چاہے ، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے،50 ویں سالگرہ پر میں خود پارلیمنٹ میں گیا،میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ‏کون کون صاحب علم عدالت میں موجود ہیں مولانا فضل الرحمن عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں،دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے،ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی یہاں پر آئے غلطیوں کی نشاندہی کریں،ہم تمام لوگوں کو موقع دینگے بات کرنے کا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں مختصر سی بات کرونگا،متنازع فیصلہ کسی صورت قبول نہیں،فیصلہ آئین اور اسلام کی روح کے منافی ہے،ختم نبوت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کچھ عدالتی فیصلوں سے ابہام پیدا ہوا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ فیصلوں کہہ رہے کیا اور بھی کوئی فیصلے ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جیسے آپ نے کہا غلطیاں ہوجاتی ہیں اس لیے میری فیصلوں کی بات کو بھی نظرانداز کیا جائے،72 سال کا ہوگیا ہوں پہلی بار کسی عدالت میں پیش ہورہا ہوں،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے آئے ہیں،میرے والد مفتی محمود نے قادیانیوں کے سربراہ سے مباحثہ کیا تھا،مرزا غلام احمد کے مطابق جو ان پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے،مرزا غلام احمد نے کہا تھا صحابہ کرام بھی ان پر ایمان نہ لاتے تو نعوذبااللہ کافر ہوتے،قادیانی ایک فتنہ ہے جس کا حل نکالنا چاہیے،قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں باقی سب کو کافر کہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز آئی تھیں انکو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، مولانا تقی عثمانی کے اعتراضات سے اتفاق کرتا ہوں،جس شخص کو ضمانت دی گئی اس کو انڈر ٹرائل رکھا جائے،
    حکومت کو نظرثانی دائر کرتے ہوئے علما کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت کی درخواست میں آپکا بھی ذکر ہے،آپ پورے کیس میں عدالت موجود رہیے گا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جی میں انشاءاللہ موجود رہوں گا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ماضی میں لوگ قاضی یا جج بننا ہی نہیں چاہتے تھے کیونکہ یہ مشکل ہے،مجھے بھی قاضی بننے کا کوئی شوق نہیں تھا،آپ نے نظرثانی کی درخواست دی ہم نے فوری لگا دی کوئی بات نہیں چھپائی،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اللہ نے عدالت سے بچائے رکھا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم اتنے برے نہیں ہیں،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قادیانی مرتد ہیں تو ہم نے انہیں غیر مسلم کا نام کیوں دیا یہ سوال بھی ہے،ہم پاکستان میں غیر مسلموں کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے،

    میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، غلطی ہوئی ہےتو ہم مانیں گے، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میں بطور چیف جسٹس بلوچستان سے اپنے فیصلوں میں قرآنی آیات کا ذکر کرتا ہوں، اِس کی وجہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں،عدالتی فیصلے میں جو غلطیاں اور اعتراض ہے ہمیں نشاندہی کریں،اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو ہم سوال کریں گے، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اسلئے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں،میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں، غلطی ہوئی ہےتو ہم مانیں گے،

    سپریم کورٹ نے مولانا فضل الرحمان ،مفتی شیر محمد اور کمرہ عدالت میں موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کرلیا ،ڈاکٹرابو الخیر، محمد زبیر ،جماعت اسلامی کے فرید پراچہ بھی عدالت کی معاونت کریں گے،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 6 فروری کے فیصلے اور نظرثانی پر بھی تبصرہ بھیجا، مجھے نہیں معلوم آپ تک میری رائے پہنچی یا نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم وہ منگوالیں گے لیکن زبانی طور پر بھی آپ کو سننا چاہتے ہیں ،میں قرآن مجید ،احادیث اور فقہ کا حوالہ دیتا ہوں مگر شاید میری کم علمی ہے نظر ثانی فیصلے میں بتائیں کون سے پیراگراف غلط ہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ نظرثانی فیصلہ میں شروع کے پیراگراف درست ہیں اور یہ طے شدہ ہیں ،آپ نے فیصلہ میں لکھا کہ احمدی نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم دے رہا تھا،تاثر مل رہا ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم دے سکتے ہیں ،آپ نے صفحہ نمبر 42 پر قادیانی کیلئے تبلیغ کا لفظ استعمال کیا،298 سی ضابطہ فوجداری کے تحت وہ تبلیغ نہیں کرسکتے

    مفتی تقی عثمانی نے ویڈیو لنک پر دلائل دیئے،اور کہ ہم نےجورائےدی شاید نظراندازکیاگیا،فیصلے میں کچھ قرآنی آیات کاحوالہ دیاگیا،اچھی بات ہے چیف جسٹس فیصلوں میں آیات کاحوالہ دیتےہیں،اگرایسی آیات لکھ دی جائیں جن کامعاملے سے تعلق ہی نہ تومسائل پیدا ہوتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ تقی عثمانی صاحب میں معذرت چاہتا ہوں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں جنہیں نوٹس کیا تھا ان کی جانب سے ہمیں بہت سارے دستاویزات ملے،اگر ان سب کا بغور جائزہ لیتے تو شاید فیصلے کی پوری کتابیں جاتی، ان تمام دستاویزات کو دیکھ نہیں سکا وہ میری کوتاہی ہے.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکشن 298 سی پڑھ کر سنایا،سیکشن کے مطابق غیر مسلم کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے تبلغ کی اجازت نہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ قادیانی اقلیت میں ہیں لیکن خود کو غیر مسلم نہیں تسلیم کرتے،علامہ تقی عثمانی نے 29 مئی کے فیصلے سے دو پیراگراف حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ ہمارے استاد ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں، آپ ہمارے شریعت اپلیٹ بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں،مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آپ کو چاہئے تھا تمام نکات کو زیر بحث لاتے، کبھی کبھار بڑے فیصلے بھی لکھنا پڑتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ فیصلے کرتے ہوئے ہم سے بھی بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں، جو کام نہیں کرتا، وہ غلطی بھی نہیں کرتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل لطیف کھوسہ اور سربراہ سنی اتحاد حامد رضا کو عدالت میں بات کرنے سے روک دیا
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی وکیل کونہیں سنیں گے یہ واضح کررہے ہیں،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صاحبزادہ حامد رضا کے نکتہ اعتراض پرہی سارا معاملہ شروع ہوا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ دیگرعلماء سے بڑے ہیں؟ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ درس نظامی کا فاضل ہوں کسی سے بڑے ہونے یابرابری کا دعویٰ نہیں کرتا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور عدالتی کارروائی چلنے دیں،صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ عدالت کا پورا فیصلہ ہی غلط ہے،ہم چاہتے ہیں پوراعدالتی فیصلہ ہی واپس لیا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل لطیف کھوسہ اور سربراہ سنی اتحاد حامد رضا کو عدالت میں بات کرنے سے روک دیا ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سربراہ سنی اتحاد کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ دیگر علما کرام سے بڑے ہیں ،عدالت میں مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی ویڈیو لنک کے ذریعے موجود ہیں

    مفتی حنیف قریشی روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں کہا کہ بیٹھ جائیں ،مفتی حنیف قریشی نے کہا مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے آپ کے فیصلے سے، چیف جسٹس بولے آپ تشریف رکھیں مفتی حنیف قریشی چیف جسٹس کے کہنے پر نہیں بیٹھے، جسٹس نعیم نے کہا آپ کون ہیں بیٹھ جائیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان کو بلایا کہ انہیں سمجھائیں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ آپ کی عدالت ہے آپ کو حکم چلتا ہے میں کیا کر سکتا ہوں۔

    میرے والد نے ایک پین تک نہ لیا،جائیداد لٹا دی، میں نے بھی کچھ نہیں لیا، پھر بھی الزامات، چیف جسٹس
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے والد پاکستان کی جنگ لڑ رہے تھے، انہوں نے پاکستان سے کبھی ایک پین بھی نہیں لیا، میرے والد نے کہا اس کے باوجود میں نے اپنی ساری جائیداد لٹا دی، میں نے بھی یہاں سے کبھی کچھ نہیں لیا، لیکن ہم پر بنا کسی وجہ کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ بڑی با اختیار ہے،پارلیمنٹ تو سُپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی ختم کر سکتی ہے،
    جس دن مجھے لگے میں دباؤ میں آکر فیصلے کررہا ہوں اُس دن گھر چلا جاؤں گا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے مولانا فضل الرحمن کو Good To See You کردیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مولانا صاحب آپکے آنے کا شکریہ،عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں، علماء اکرام نے آرا دی ہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ تحفظات ہیں سب آپ کے سامنے ہیں، مولانا فضل الرحمن ایک دفعہ پھر سیٹ پر کھڑےہوگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ تشریف رکھیں ،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کیس کو صرف مبارک ثانی کی ضمانت تک محدود کریں اور مزید فیصلہ واپس لیں،

    مفتی شیر محمد خان کے دلائل شروع ہو گئے، مفتی شیر محمد نے کہا کہ میں سرزمین مقدس پر خصوصی دعا کر کے واپس آیا ہوں کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے۔مسلمہ کذاب کو حضرت ابوبکر صدیق نے مکمل روک دیا تھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے فیصلے میں لکھا ہے کہ قانون کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا، 295c بھی قانون کے تابع ہے،مفتی شیر محمد نے کہا کہ پیراگراف 27,28,29,33,39پر بھی غور کرنا ہوگا، قادیانیوں کو باقی اقلیتوں سے الگ کردیا جائے گا تو ان پیراگراف پر بھی غور کرنا ہوگا،قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ نجی مقامات پر قادیانی اپنی تعلیمات کا پرچار کریں گے، قانون کے تابع کرنے سے انہیں نجی مقامات پر بھی اجازت ختم ہوگی، عدالت واضح کرے کہ قانون کے مطابق قادیانی نجی مقامات پر بھی تبلیغ نہیں کرسکتے،پیراگراف 7اور42 کو مکمل حذف کرنا ہوگا، قرآن میں تحریف کرنا بھی توہین ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک شکوہ مجھے بھی ہے، ہم کتنے تحمل سے سب کو سن رہے ہیں مگر نوجوان وکلا کو دیکھیں، ریاض حنیف راہی اور ملک تیمور پھر نشستوں سے کھڑے ہوگئے ،ریاض حنیف راہی نے کہا کہ ہمیں اخلاقیات کا اچھے سے علم ہے

    صاحبزادہ ابو الخیر زبیر نے کہا کہ ہم حیدر آباد سے آئے ہیں آپ نے عدالت آنے والے تمام تمام راستے بند کرائے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ الزام مجھ پر مت لگائیں اس سے میرا تعلق نہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مناسب یہی ہے کہ عدالت مبارک ثانی کیس میں دونوں فیصلے کالعدم قرار دے، نہیں چاہتے کہ عدالت کے فیصلے میں ابہام کا کوئی فائدہ اٹھائے، سب ہی علماء اس تجویز سے متفق ہوں گے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سردار لطیف کھوسہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سپریم کورٹ کے فیصلے کو UNDO کر سکتا ہے، پارلیمان اپنا کام کرے سپریم کورٹ کو اپنا کام کرنے دیں،

    مبارک ثانی کیس ،جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سپریم کورٹ پہنچ گئے ۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ متنازعہ فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ۔فیصلہ آئین اور اسلام کی روح کے منافی ہے ۔ختم نبوت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔قوم تحفظ ختم نبوت کے متفق ،متحد اور ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہے ۔

    پیسے پکڑ کر ججز کو گالیاں اور ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے،چیف جسٹس

    پہلے چیئرمین وائلڈ لائف بورڈ کو ہٹایا پھر ممبران کو، کیا گڈگورننس یہ ہوتی ہے؟چیف جسٹس برہم

    چائے ضروری ہے یا پاکستان؟ چائے پینا کم ہو جائیں تو ملک کا کتنا فائدہ ہوگا؟ چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے سر کی قیمت لگانیوالا ایک اور ملزم گرفتار

    کسی کو مارنے کے فتوے دینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔وزیر قانون

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی ،پیر ظہیر الحسن شاہ پر مقدمہ درج

    چیف جسٹس کیخلاف شرانگیز گفتگو ،قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا: وزیر دفاع

  • اڈیالہ جیل منتقلی؛  پی ٹی آئی وکلا کے اعتراضات پر چیف جسٹس  کی  ابزرویشن

    اڈیالہ جیل منتقلی؛ پی ٹی آئی وکلا کے اعتراضات پر چیف جسٹس کی ابزرویشن

    اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی پر پی ٹی آئی وکلا کے اعتراضات پر چیف جسٹس عامر فاروق کی اہم ابزرویشن، سائفر کیس کے جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف عمران خان کی جلد فیصلہ سنانے کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو سے تین روز میں کیس کا فیصلہ دینے کا عندیہ دے دیا جبکہ جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف درخواست پر فیصلہ دو ہفتے پہلے سے محفوظ ہے.

    چیف جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں کہا پیر تک تو نہیں لیکن دو سے تین روز میں کوشش کریں گے فیصلہ دے دیں جبکہ شیر افضل مروت نے کہا سائفر کیس کا جیل ٹرائل شروع ہو گیا ہے لیکن ہماری درخواست پر ابھی فیصلہ نہیں آیا ، پیر کو پھر جیل سماعت کے لیے سائفر کیس مقرر ہے .

    چیف جسٹس نے شیر افضل مروت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں جلدی کر دیتا ہوں پیر کو تو نہیں لیکن دو تین دن میں فیصلہ کر دوں گا ، ایک اور بتائیے گا پریس میں آیا ہے کہ اڈیالہ جیل منتقلی پر آپ کو اعتراض ہے ؟ حالانکہ آپ کی اپنی پٹیشن اٹک سے اڈیالہ منتقلی تھی وہ منظور ہوئی ہے ، پھر یہ پریس میں آپ کی طرف سے اتنی بحث کیوں چل رہی ہے ؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    امریکہ نے بھارت سے سفارتی تعلقات محدود کرنے کا اعلان کردیا
    اپنے شوہر (نصراللہ) کے ہمراہ بھارت ضرور جاؤں گی
    ورلڈکپ؛ بھارت کو بڑا دھچکہ
    بھارتی فوجی میجر نے اپنے ہی افسران پر فائر کھول دیئے
    انڈیا میں‌پاکستانی فنکاروں کی بہت قدر کی جاتی ہے روبی انعم
    جس پر وکیل نے کہا ہماری طرف سے آفیشلی تو ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا تاہم چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا میں حیران تھا آپ کی اپنی پٹیشن منظور ہوئی پھر یہ کیوں کہہ رہے ہیں، شیر افضل مروت نے کہا ہمیں یہ تھا کہ اڈیالہ جیل میں بی کلاس دیں گے لیکن نہیں دی گئی جبکہ ، چیف جسٹس نے کہا بیٹر کلاس ہو گی کھوسہ صاحب کی کل پٹیشں تھی اس پر نوٹس کر دئیے ہیں .

    جبکہ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل منتقل کرنے کے نوٹیفیکیشن کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا اور درخواست میں سیکرٹری قانون ،سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنرسمیت دیگرکوفریقین بنایا گیا تھا، اور اس میں عمران خان کی اٹک جیل منتقلی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی تھی۔

  • ظل شاہ قتل کیس:تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی

    ظل شاہ قتل کیس:تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی

    لاہور: انسداد دہشتگردی عدالت نے ظل شاہ قتل اور جلاؤ گھیراؤ کیس میں تحریک انصاف کے 6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ظل شاہ قتل اور جلاؤگھیراؤ کیس میں پی ٹی آئی کے6 رہنماؤں کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے سماعت کی۔

    علی زیدی کی رہائش گاہ سب جیل قرار

    پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش نہیں ہوئے تاہم عدالت نے 2 مقدمات میں پی ٹی آئی کے6 رہنماؤں فواد چوہدری، حماد اظہر، فرخ حبیب، اعجاز چوہدری، عمر ایوب اور میاں محمود الرشید کی عبوری ضمانت خارج کردی –

    دوسری جانب عدالت کے حکم پر تحریک انصاف کےگرفتار رہنما فواد چوہدری کو اسلام آباد ہائی کورٹ لے جایا گیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں فواد چوہدری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فواد چوہدری کو عدالت میں پیش کرنےکا حکم دیا۔

    عمران خان کی گرفتاری پر توہین عدالت کیس کی سماعت ملتوی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے ایک آرڈر جاری کیا جس پر عمل نہیں ہوا، آرڈر نہ آئی جی اسلام آباد اور نہ ہی کسی اور نے دیکھا، جب آپ نے انہیں پکڑا تو اس وقت آرڈر دکھایا گیا، آپ کے پاس آرڈر کی تصدیق کے کئی طریقے تھے، 9 مئی خوشگوار دن نہیں تھا، خدشات درست تھے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار رہائی کے بعد انڈر ٹیکنگ دیں کہ وہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، یہ بھی یقین دہانی کرائیں کہ قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گے، انڈر ٹیکنگ کی خلاف ورزی ہوئی تو ان ارکان پارلیمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو گی، اس بنیاد پر ارکان پارلیمان نا اہل بھی ہوسکتے ہیں، عدالت وقت دے رہی ہےکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اورآئی جی اس معاملے کو دیکھیں۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں میں کارروائیاں،بھاری مقدار میں منشیات برآمد

  • عدالت نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا

    عدالت نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا۔

    باغی ٹی وی : سلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کی ،وکیل مراد سعید شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور پولیس نے مقدمات کی تفصیلات اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروا دیں-

    پروسیجر اینڈ پریکٹس بل: حکومتی اتحاد نے سپریم کورٹ کے بینچ کا قیام مسترد کر …

    دوران سماعت وکیل مرادسعید شیر افضل مروت عدالت میں پیش ہوئے اورموقف اپنایاکہ مراد سعیدکوواضح سیکیورٹی تھریٹ ہیں، سیکیورٹی فراہم کی جائے، اسلام آباد پولیس کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے سوات میں دوبارہ شدت پسند آگئے ہیں وہ مراد سعید کو دھمکیاں دے رہے ہیں-

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ سوات میں ہم یہاں سے کیسے سکیورٹی فراہم کریں۔ وکیل نے بتایا کہ ہمیں سکیورٹی اسلام آباد پولیس نے جو دی تھی وہ واپس ہو گئی ہے کوئی دستاویزات جمع کروا دیں جو سیکیورٹی واپس لی گئی ہے ہم دیکھ لیتے ہیں، ایف آئی اے نےتفصیلات جمع کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ مراد سعید کے خلاف ایف آئی اے کا کوئی کیس نہیں جبکہ پولیس نے 8 مقدمات کی تفصیلات جمع کرائیں۔

    پی ٹی آئی نے لاہور ہائیکورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف توہین عدالت کی …

    تفصیلات جمع ہونے پر عدالت نے مراد سعید کی مقدمات کی تفصیلات فراہمی کا کیس نمٹا دیا۔

  • پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور توقیر شاہ کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور توقیر شاہ کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کرلیا

    اسلام آباد ،باغی ٹی وی (ویب نیوز)پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور توقیر شاہ کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کرلیا
    تفصیل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ہنگامہ آرئی کیس میں اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے 2 اہم رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما عامر مغل اور توقیر شاہ کو تھانہ نون کی حدود سے گرفتار کیا ، دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سی ٹی ڈی اسلام آباد نے گرفتار کیاجبکہ دونوں کیخلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

  • نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

    نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟ سپریم کورٹ کے سوال پر ایڈیشنل، ڈپٹی اٹارنی جنرل لاعلم

     سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم پراپرٹی سے مقدمہ میں ڈپٹی اٹارنی کی کیطرف سے معاونت نہ کرنے پر جاری کیا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی، بتائیں اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں اور انکا استعفیٰ منظور بھی ہو چکا ہے، نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اوگرا نے گیس چوہتر فیصد تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی
    عمران خان پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی ترجمانی کر رہے. شیری رحمان
    ڈاکوؤں نے جہیز کا سامان لوٹ کر گھر کے واحد کفیل کوبھی قتل کردیا
    پی ڈی ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی ٹرائیکا نے ہماری تہذیب، سماج، سیاست اور معیشت سمیت سب کچھ تباہ کردیانسراج الحق

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی اٹارنی جنرل سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک بغیر اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے، آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام نہیں معلوم۔ عدالت نے آئندہ سماعت 17 جنوری کو سیکریٹری قانون کو اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔

  • ڈسکہ انتخاب دھاندلی کیس , فردوس عاشق اعوان، عثمان ڈار اور عمر ڈار پیش

    ڈسکہ انتخاب دھاندلی کیس , فردوس عاشق اعوان، عثمان ڈار اور عمر ڈار پیش

    ڈسکہ انتخاب دھاندلی کیس کی انکوائری کمیٹی کے اجلاس میں فردوس عاشق اعوان، عثمان ڈار اور عمر ڈار پیش ہوگئے۔

    پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے انکوائری کمیٹی کو تحریری جواب جمع کروادیا، جس میں کہا کہ 7 فروری 2021 کو اجلاس کی صدارت نہیں کی، میں نے ڈی پی او سیالکوٹ کی دعوت پر اجلاس میں اپنی جماعت کی نمائندگی کی، یہ ایک باضابطہ اجلاس تھا، اجلاس میں کوئی سازش تیار نہیں کی گئی۔

    فردوس عاشق اعوان نے انکوائری کمیٹی کے سامنے درخواست دی کہ الیکشن کمیشن مجھے سوالنامہ دے، گزشتہ انکوائری میں میرے متعلق کیا ریکارڈ جمع کروایا گیا علم نہیں، الیکشن کمیشن تحریری طور پر الزامات سے آگاہ کرے تو دفاع پیش کروں گی۔

    عثمان ڈار نے تحریری جواب میں کہا کہ 17فروری 2021 کو میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی دے چکا تھا۔ ڈی ایس پی ذوالفقار علی ورک کے مجھ پر الزامات غلط، بے بنیاد اور من گھڑت کہانی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا ڈسکہ ضمنی الیکشن میں کرپٹ پریکٹس، غیر قانونی اقدامات اور بے ضابطگی سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے17 فروری 2021 کو اجلاس کی صدارت نہیں کی۔

    عثمان ڈار نے کہا کہ ڈی پی او سیالکوٹ کی دعوت پر اجلاس میں اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ یہ ایک باضابطہ اجلاس تھا، اجلاس میں کوئی سازش تیار نہیں کی گئی۔ میں نے نہ کوئی سازش کی نہ الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

    عثمان ڈار نے کہا کہ میں لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ میں الیکشن عمل کے دوران پریزائیڈنگ افسران سے نہیں ملا۔ میں اس جگہ موجود نہیں تھا جہاں لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کو رکھا گیا۔ میں پریذائیڈنگ افسران کے درمیان رقم کی تقسیم سے لا علم ہوں۔

  • جیسے نواز شریف کیس کا فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،اویس لغاری

    جیسے نواز شریف کیس کا فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،اویس لغاری

    پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر سردار اویس لغاری کی پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا سیاسی، معاشی اور سیلابی صورتحال کے بعد کے حالات بتانا چاہتے ہیں

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سوچ ہے کہ قومی مفاد میں ہر سیاسی جماعت، کارکنوں، جج، فوجی سمیت ہر کسی نے کوشش نہ کی تو حالات ابتر ہو جائیں گے ،سندھ میں 3 کروڑ کی آبادی مکمل تباہ ہو گئی ہے، ان کے مکانات، آمدن ذرائع مکمل ختم ہو گئے

    اویس لغاری کا کہنا ہےجنوبی پنجاب میں 2 اضلاع مکمل تباہ ہوئے ہیں ،اس سیلاب کے ذریعے زرخیز مٹی نہیں بلکہ ریت آئی ہے ،2 اضلاع میں کم از کم 2 لاکھ گھر مکمل ختم ہو گئے ہیں ،ان اضلاع میں دیہاڑی باز لوگ بھی پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے اصل حقداروں تک امداد نہیں پہنچ پا رہی

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پھنسے عوام تک کشتیوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا تھا لیکن حکومت پنجاب کو کوئی ہوش ہی نہیں ،سیلاب سے پہلے ہی عوام کو خوراک کی قلت کا سامنا تھا ،آج سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں پر حملے کئے جا رہے ہیں ،آج زمیندار میں کھاد کی بوری خریدنے کی سکت نہیں ہے

    اویس لغاری نے کہا کہ بنکوں کے پاس عوام کو دینے کے لئے قرضے ہی نہیں ہیں ،دیہات میں قرضے دینے کا بنکوں کا رواج ختم ہو چکا ہے ،آئی ایم ایف کے پروگرام کو فیل کروانے کے لئے وار کئے گئے ،اگر وہ وار کامیاب ہو جاتا تو ہم عالمی طور پر ڈیفالٹر ہو جاتے ،آج وقت ہے کہ ہر سیاسی جماعت، ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا معاشی استحکام کے لئے مل کر بیٹھے

    رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ آج کسان کو پیسہ دینے کی ضرورت ہے ،آج بیرونی ممالک سے قرضے ری شیڈول کروانے کی ضرورت ہے ،سندھ کے سٹوروں سے گندم ختم ہو چکی ہے ،اب گندم بیرون ممالک سے امپورٹ کرنا پڑے گی ،ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو سکتا ہے کہ لوگ بھوک سے مر سکتے ہیں ،زرعی اصلاحات کے لئے یکجہتی کیسے ہو، اس پر غور کی ضرورت ہے ،ہر علاقے میں پانی جمع کرنے اور دریاوں اور پانی کا بہاو بہتر کرنے کی ضرورت ہے

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پانی کے نظام پر بھی نیوکلیئر پروگرام کی طرح یکجہتی کی ضرورت ہے،زراعت نہیں ہوگی تو جی ڈی پی کیسے گرو کرے گی؟؟،آج اراکین اسمبلی پر کیسز بنائے جا رہے ہیں اور جلسوں میں کنسرٹ کئے جا رہے ہیں، "”میں”” کی سیاست کب ختم ہو گی؟؟؟ جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے ،لوگ کروڑوں روپے کا سامان جنوبی پنجاب بھیج رہے ہیں لیکن لوٹ مار وہاں شروع ہو چکی ہے ،پولیس وہاں تحفظ فراہم کرنے سے انکاری ہے ،عام انتخابات ان حالات میں کیسے ممکن ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر خود غرضی اور حکومت میں بیٹھ کر اپنے لئے سیاست کرنے والوں کے لئے پیغام ہے کہ سب مل کر بیٹھیں اور معاشی ترقی کے لئے کام کریں ،ہم مشکل فیصلے روک کر اپنی سیاست بچا سکتے تھے ،سب کو پانی، زراعت کے لئے مل بیٹھ کا کام کرنا ہو گا ،فروری مارچ میں بڑی مقدار میں خوراک امپورٹ نہ کی گئی تو بہت بڑا بحران آ جائے گا ،آج صوبائی حکومت کدھر ہے، صرف لوگوں پر پرچے کر رہی ہے ،حکومت اپنا فوکس تبدیل کرے

    انہوں نے کہا کہ ہمیں اگلے 10 سال کی پلاننگ کرنا ہو گی ،عدالتوں اور اداروں کو ایسا ماحول بنانا ہو گی کہ کم سے کم کشیدگی ہو معاشرے میں ،جنوبی پنجاب میں رودکوہیوں کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا ،کیا یہ کوئی وقت ہے کہ کوئی نیا ڈویژن بنایا جائے ،جنوبی پنجاب میں سیلاب سے بچاو پر زیرو خرچہ ہوا ہے ،کالا باغ کی بجائے ہر ضلع میں 100 چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے جاتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا ،سب کو چاہیئے کہ مل کر پالیسی بنائے کہ آئندہ 15 سالوں میں ہر سال 300 ارب سالانہ پانی پر خرچ کرنا ہیں.

    اویس لغاری نے کہا کہ ہم پہلے دن سے معاشی استحکام کی بات کر رہے ہیں ،یہ کہتے ہیں کہ اگر میں ان کے ساتھ مل کر بیٹھ گیا تو لوگ کیا کہیں گے ،عمران خان بطور لیڈر نہیں سوچتے ،ہم پٹرول و ڈیزل کو اس لئے بڑھا رہے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے ،پچھلے 2 ماہ میں لمپی سکن کی بیماری جانوروں میں پھیلی لیکن کوئی حل نہیں کیا ،2 ماہ بعد بیماری والا گوشت ملے گا یا گوشت بالکل بھی نہیں ملے گا ،یہ حکومت لائیو سٹاک کے شعبے میں بھی مکمل ناکام ہو چکی ہے ،اسمبلی میں ہمیں کوئی بات نہیں کرنے دیتا .

    مسلم لیگ ن کا واضح موقف ہے کہ ملک میں سب کے لئے انصاف ایک جیسا ہونا چاہیئے،انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا تو معاشرے میں لوگ بولیں گے ،نواز شریف کیس کا جس طرح فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،ہم نے عمران خان کی نااہلی کی خواہش نہیں کی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کے لئے بھی وہی معیار مقرر ہو جیسے باقیوں کے لئے ہے ،ان علاقوں میں جہاں سیلاب ہے، وہاں ضمنی انتخابات ملتوی کر دینے چاہیئیں ،یہ ملک کو تہس نہس کرنے کی بجائے ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں
    ،تحریک انصاف اپنے وزرا کو پولیس کی سکیورٹی لے بغیر جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھیج کر دکھائیں انہیں لگ پتہ جائے گا.