Baaghi TV

Tag: کیس

  • توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے، نوازشریف، زرداری، یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا۔ چار لوگوں نے بند کمرے میں بیٹھ کر سازش کی اور پھر مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا۔

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    سرگودھا میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تیری عبادت اورتجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں،سرگودھا میں سوچا نہیں تھا لوگ اتنی تعداد میں جلسے میں آئیں گے، جلسے میں بڑی تعداد میں خواتین کے آنے پرشکریہ ادا کرتا ہوں، سیلاب کی وجہ سے متاثرین مشکلوں میں ہے،قوم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے،ہم سب مل کرسیلاب متاثرین کی مشکلیں کم کرنے کی پوری کوشش کریں گے، بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، ڈی جی خان، راجن پور میں لوگ متاثر ہوئے، ٹیلی تھون میں سوچا تھا تین گھنٹے میں چند کروڑ اکٹھے ہو جائیں گے، کم وقت میں متاثرین کے لیےساڑھے500کروڑاکٹھا کیا۔

     

    بشریٰ بی بی کی جانب سے ملک ریاض سے ہار لینے کے سوال پر عمران نے کہا ہیرے بہت سستے ہوتے

     

    انہوں نے کہا کہ ٹیلی تھون میں اوورسیزپاکستانیوں نے دل کھول کرپیسہ دیا،ٹیلی تھون کی تمام لائنیں مصروف ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کا رابطہ نہیں ہوسکا،اگر فون لائنیں مصروف نہ ہوتی تو مزید پیسے اکٹھے ہوجاتے،سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کنٹرول روم بنائیں گے،جہاں پرمتاثرین کومدد کی ضرورت وہاں پرامداد بھجوائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر تمہیں پہلی دفعہ اندازہ ہوا فارن فنڈنگ کیا ہوتی ہے،ہمیں زیادہ پیسہ بیرون ملک پاکستانیوں نے بھیجا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

     

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی غلامی کی وجہ سے ہمیں ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں،بیرون ملک پاکستانیوں کومتحرک کرکے ایسی اسکیمیں لائیں گے تاکہ پاکستان کی قرضوں سے جان چھوٹ جائے،لیٹروں کی لوٹ مار کی وجہ سے ہم بیرون ملک ہاتھ پھیلاتے ہیں،قرضے اتارکرہم اپنے پاؤں پرکھڑا ہو کر ایک خود دار قوم بنیں گے،سوچا نہیں تھا سرگودھا کے لوگ اتنی تعداد میں باہرنکلیں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں انصاف کا نظام قائم نہیں ہو گا تب تک عظیم قوم نہیں بن سکتے،ہمارے ملک میں ظلم کا نظام ہے، کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون ہے،چھوٹا چورجیل اور بڑا چور، چوری کرے تو ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے،آزاد عدلیہ کے لیے مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا،8 دن ڈی جی خان کی جیل میں گزارے، جیل میں ایک امیر چورنہیں بلکہ سارے چھوٹے چورنظرآئے، ملک کے بڑے بڑے ڈاکو مجھے اسمبلی میں نظر آئے، بڑے لیٹروں میں سے ایک ڈیزل بھی ہیں، زرداری، شریف خاندان والے بیرون سازش کے تحت لیٹروں کو مسلط کیا گیا، آپ سب حقیقی آزادی کی تحریک میں شامل ہو جائیں، جب تک یہ چوراوپربیٹھے ہیں اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کو چیری بلاسم جوتے پالش کرنے والا چاہیے تھا،ڈیزل تو پہلے ہی تیار بیٹھا تھا،ملک کی سب سے بڑی بیماری زرداری ہے،زرداری نوٹ دیکھ کر اس کی مونچھیں اوپر، نیچے جانا شروع ہو جاتی ہیں، زرداری سے چلا جاتا نہیں لیکن پیسے کے پیچھے جان دینے کو تیارہیں، تینوں اکٹھے ہو گئے اور ان کے ساتھ اور سازشی پاکستان میں بیٹھے ہوئے تھے، ایک پلان انسان اور ایک اللہ بناتا ہے،اللہ نے لوگوں کے دل موڑدیئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے سازش کی وہ ہکے، بہکے رہ گئے، قوم سڑکوں پرنکل آئی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کے بعد پہلی دفعہ خواتین،بچے سڑکوں پرنکل آئے،25مئی کو پولیس، رینجرزنے خواتین پر شیلنگ کر کے خوف پھیلایا، میں توبھول ہی گیا ہوں میرے خلاف اب تک 17 ایف آئی آرکٹ چکی ہیں،پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ہرحربہ استعمال کیا گیا پھربھی یہ ہارگئے،پنجاب کے ضمنی الیکشن ہارنے پر حمزہ ککڑی کو فارغ کرنا پڑا، ضمنی الیکشن ہارے تو ان کی کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئیں، ان کو خوف تھا کہ اگر عام انتخابات کرادیئے تو دو تہائی اکثریت عمران لے گا، ضمنی الیکشن کے بعد انہوں نے ٹیکنکل طریقے سے مجھے فارغ کرانے کی سازش شروع کی، پہلی سازش حکومت گرانا، دوسری سازش مجھے راستے سے ہٹانے کی کوشش تھی، ایک بند کمرے میں یہ بھی فیصلہ ہوا، عمران خان کو مکمل طور پر سائیڈ کر دیا جائے۔

    اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ٹیپ ریکارڈ کر کے رکھوادی ہے جس میں اُن چار لوگوں کے نام ہیں جنہوں نے میری حکومت کے خلاف سازش کی اور نااہل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو وہ ٹیپ عوام کے سامنے آئے گی اور پھر عوام اُن چاروں لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے پالتو الیکشن کمشنر کو مجھے فنڈنگ کیس میں نا اہل کرنے کا کہا گیا۔

    پی ٹی آئی چیئر مین نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس کی کھلی سماعت کی جائے،نوازشریف، زرداری،یوسف رضا گیلانی کے توشہ خانہ کیسز کو بھی سنا جائے، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا،توشہ خانہ کیس میں یہ سارے ذلیل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تو 27 ویں شب کو شب دعا منا رہے تھے، مدینہ میں ان کے خلاف چور، چور کے نعرے لگے اور مقدمہ میرے خلاف توہین مذہب کا درج کیا گیا، شہباز گل پرجنسی تشدد کیا گیا، میں نے یہ کہا جنہوں نے تشدد نہیں روکا ان کیخلاف قانونی کارروائی کروں گا، اس پر میرے خلاف دہشت گردی کا کیس بنادیا گیا،مجھ پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر دنیا میں مذاق اڑایا گیا، دہشتگردی مقدمے کا مقصد مجھے کسی طرح راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں،بتایا جائے کونسا معاشرہ کسٹوڈین تشدد کی اجازت دیتا ہے،حلیم عادل شیخ پر بھی تشدد کیا گیا، 27 مقدمات درج کیے گئے، مسلم لیگ (ن) والے چاہتے ہیں نواز شریف کی طرح مجھے بھی نا اہل کیا جائے، نواز شریف نے لندن میں اربوں روپے کے چار مہنگے فلیٹس خریدے، دس سال پہلے نوازشریف سے منی ٹریل مانگی آج تک نہیں دی،مریم نوازکہتی تھی لندن تو کیا ملک میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں،مریم نواز جتنے سیدھے منہ سے جھوٹ بولتی ہیں کبھی کسی کو نہیں بولتے سنا، اللہ تعالیٰ حق اور سچ کو سامنے لیکر آتا ہے، نواز شریف جب پکڑا گیا تو حسین نواز نے لندن فلیٹس کو تسلیم کیا، لندن کے چار بڑے محلات کی مالکہ مریم نوازہیں،قوم کا پیسہ چوری کر کے لندن کے فلیٹ خریدے گئے تھے ن لیگ والوں میرا نواز شریف کیس سے موازنہ نہ کرو،مسلم لیگ والوں میرا سب کچھ اورجینا مرنا پاکستان میں ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک طرف جب قوم کی خواتین جاگ جائیں تو انقلاب آجاتا ہے، باپ اگر ن لیگ اور بچے، بیوی سارے تحریک انصاف میں ہوتے ہیں، ماں بچے کی شکل کو دیکھ کر پہچان جاتی ہیں، ماؤں کو پتا ہے(ن) لیگ اور زرداری چورہیں، قوم کے پیسوں سے لندن کے فلیٹس خریدے گئے،26سال سے ان کی کرپشن کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوں، قوم کا جوپیسہ سکولز، ہسپتال، سڑکوں، بجلی بنانے پر لگنا تھا وہ چوری کیا گیا، کرپشن پورے ملک کو تباہ کردیتی ہے، یہ چوری کا پیسہ بیرون ملک بھیجتے ہیں،آج کل چیری بلاسم سیلاب متاثرین کے پاس صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے جارہا ہے، شہبازشریف اگر متاثرین کی مدد کے لیے سیریس ہیں تو اپنا اور بھائی کا آدھا پیسہ ملک میں واپس لے آئے،شہبازشریف جب سے اقتدارمیں آیا ہے ملک کی شرمندگی ہورہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ شہبازشریف دوسروں سے کہتا ہے ملک میں پیسہ لیکر آؤ، یہ خود ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں، دنیا کا کوئی ایک سربراہ بتا دیں جس کا پیسہ بیرون ملک ہواوروہ اقتدارمیں ہو،ان کوہمارے اوپرمسلط کیا گیا ہے،آپ نے میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے ہم نے ان لوگوں سے حقیقی آزادی چھیننی ہے۔ انہوں نے سازش کر کے ہماری حکومت گرائی، حکومت کے اکنامک سروے کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں معاشی ترقی 6 فیصد گروتھ تھی،کورونا کے باوجود یہ 17 سال بعد پاکستان کی بہترین معاشی کارکردگی تھی،کورونا کے باوجود ہماری ریکارڈ ایکسپورٹ تھی،ریکارڈ ٹیکس ریونیو اکٹھا کیا گیا، ہمارے دور میں کسانوں نے سب سے زیادہ پیسہ کمایا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول میں رکھا، 17 سے 18 فیصد مہنگائی تھی، آج مہنگائی 45 فیصد سے اوپر چلی گئی ہے، بجلی کے بل دیتے ہوئے لوگوں نے دو گولیاں ڈسپرین کی بھی ساتھ کھائیں،ہماری حکومت نے ہر خاندان کو 10لاکھ علاج کی انشورنس دی،چارماہ پہلے ڈاکٹرز ہسپتال میں میرے دوست نے کہا پہلی دفعہ ہیلتھ کارڈ پر دل کا آپریشن کیا،آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود ہم نے مہنگائی کو کنٹرول اور عوام کوسبسڈی دی، آج سازش کرنے والے بتائیں ملک کا جوحال ہے کون ذمہ دارہے؟

  • ممنوعہ فنڈنگ کیس، قاسم سوری کی ایف آئی اے طلبی،اسد قیصر کا اکاونٹ ڈیٹا مل گیا

    ممنوعہ فنڈنگ کیس، قاسم سوری کی ایف آئی اے طلبی،اسد قیصر کا اکاونٹ ڈیٹا مل گیا

    تحریک انصاف کے رہنما قاسم سوری کوایف آئی اے کوئٹہ میں طلب کیا گیا ہے ، قاسم سوری کو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں طلب کیا گیا ،ان کی طرف سے ایک اکاونٹ میں ۵۵ لاکھ کی ٹرانزیکشن کی گئی.

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحقیقات جاری ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق زیادہ تر بینکوں کا ڈیٹا ایف آئی اے کو موصول ہوگیا، کچھ زونز میں بینکوں کا ڈیٹا ابھی آنا ہے.حکام کے مطابق ایف آئی اے بینک اکاؤنٹس میں غبن اوربے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنےکی مجاز ہے، ایف آئی اے اور بینکنگ ایکٹ کی کئی دفعات موجود ہیں جبکہ کراچی میں بینکوں کے نمائندے ایف آئی اے میں پیش ہوگئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سابق اسپیکر اسد قیصر کے پشاور کے دو نجی بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں اور ایف آئی اے نے دونوں نجی بینکوں سے اسد قیصر کی اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو نجی بینکوں نے ایف آئی اے کو اسد قیصر کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کردیں، ان کے ایک بینک اکاؤنٹ میں 20 لاکھ جبکہ دوسرے میں 8 لاکھ روپے آئے۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں اکاؤنٹس 2008-2009 میں کھولے گئے تھے۔

    خیال رہےکہ اسد قیصر کو ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے کل طلب کر رکھا ہے اور حکام سابق اسپیکر سے ان اکاؤنٹس سے متعلق پوچھ گچھ کریں گے جبکہ اسد قیصر نے ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج

    ‏سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج

    لاہور:سرکاری زمین اپنے نام منتقل کروانے کا الزام،عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج،اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف سرکاری اراضی اپنے نام کروانے پر اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کرلیے گئے ہیں جن میں اُن کے بھائیوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

    اطلاع کے مطابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مقدمات میں سرکاری زمین کو جعلسازی سے اپنے نام منتقل کروانے کی دفعات شامل ہیں جبکہ متن میں لکھا گیا ہے کہ سردار عثمان بزدار نے 900 کنال سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں جعلی لیٹر تیار کروایا اور 1986 میں منتقلی ظاہر کر کے زمین ہتھیا لی۔

     

    ذرائع کے مطابق عثمان بزدار اور بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تونسہ میں کروڑوں روپے مالیت کی 900 کنال سرکاری زمین جعلی طور پر اپنے نام منتقل کروائی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن ڈی جی خان میں مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے رہنما عثمان بزدار نے بطور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب مراعات کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے مراعات کے حصول کے لیے ملتان بنچ میں دائر پٹیشن پرنسپل سیٹ پر ٹرانسفر کرنے کی متفرق درخواست بھی دائر کی ہے۔عثمان بزدار کی جانب سے لاہور ہائی کورت میں درخواست سینئر قانون دان اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کی گئی ہے ۔

    درخواست میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب منسٹرز مراعات ایکٹ کے تحت بطور سابق وزیر اعلیٰ مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے، 23 مئی سے قانون کے تحت بطور سابق وزیر اعلی حاصل مراعات نہیں دی جا رہیں، مراعات کے حصول کے لیے متعلقہ حکام کو تحریری طور پر گزارشات کیں مگر سنوائی نہیں ہوئی۔

    درخواست میں عدالت عالیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ قانون کے تحت سابق وزیر اعلی پنجاب کو حاصل مراعات بھی دینے کا حکم دیا جائے۔سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ مراعات کے حصول کے لیے دائر درخواست کو پرنسپل نشست پر سنا جائے۔

     

     

    دائر کی گئی اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ درخواست میں فریق بنائے گئے چیف سیکرٹری پنجاب لاہور میں ہیں، اس لئے درخواست کو بھی پرنسپل سیٹ پر سنا جائے۔لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی درخواست پر اعتراض عائد کر دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کل سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی درخواست پر بطور اعتراض کیس کی سماعت کریں گے۔

  • پنجاب اسمبلی  ہنگامہ آرائی کیس،راجہ بشارت اور چوہدری ظہیرالدین  نےعبوری ضمانت کرا لی

    پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس،راجہ بشارت اور چوہدری ظہیرالدین نےعبوری ضمانت کرا لی

    پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کے خلاف بھی پنجاب حکومت نے کیس بنا دیا، سابق وزیر قانون پر جس دن کا کیس بنایا گیا ہے وہ ُاس دن وزیر قانون تھے،کیونکہ کیبنٹ کو ُاس دن تک ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا تھا ،تاہم پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور سابق وزیر پروسکیوشن چوہدری ظہیرالدین کی عبوری ضمانت منظورکر لی، ایڈیشنل سیشن جج یاسین موہل نے 25 جون تک کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی.

    سابق صوبائی وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ نے کہا ہے کہ جعلی پنجاب حکومت ہمارے خلاف جعلی مقدمات بنا کر دباؤڈالنا چاہتی ہے لیکن ہم کل بھی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی کھڑے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں سابق صوبائی وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ نے سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرلی۔ ایڈیشنل سیشن جج یاسین موہل نے 25 جون تک سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور سابق وزیر پروسکیوشن چوہدری ظہیرالدین کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی۔

    اس موقع میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حقیقی آزادی مارچ سے پنجاب حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہےاور پنجاب بھر میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر جعلی مقدمات اور حراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

    محمد بشارت راجہ نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے دباؤمیں آنے والے نہیں۔ ایسے اقدامات سے ہمارے حوصلے مزید بلند ہونگے اور اس جعلی حکومت سے جلد از جلد چھٹکارہ لے کر رہینگے۔ انہوں نے کہاکہ امپورٹڈ حکومت کےعوام دشمن بجٹ اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا اور غریب آدمی دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے۔ آج پاکستان کا ہر شہری عمران خان کی حکومت کا یاد کررہا ہے

  • سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا

    سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا

    لاہور:سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا،اطلاعات کے مطابق نصیر آباد پولیس نے سابق اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب شہباز تتلہ قتل کیس کی تفتیش مکمل کر کے چالان سیشن کورٹ لاہور میں جمع کرا دیا ہے۔چالان کے مطابق سابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے اسد بھٹی کے ساتھ مل کر شہباز تتلہ کو قتل کیا۔

    پولیس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نے سابق ایس ایس پی مفخر عدیل کو عمر قید کی سزا سنا دی،عدالت نے 2 سال 3 ماہ بعد مفخر عدیل کے خلاف قتل کیس کا فیصلہ سنایا،عدالت نے شریک 2 ملزمان کو بری کر دیا

    یاد رہے کہ عدالت میں جمع کرائے گئے چالان کے مطابق مفخر عدیل اور اسد بھٹی نے شہباز تتلہ کو کلمہ چوک سے سرکاری جیپ میں اغوا کیا۔ مفخر عدیل نے کولڈ ڈرنک میں نشہ آور چیز ملا کر شہباز تتلہ کو پلاٸی جس سے وہ بے ہوش ہو گیا۔

    چالان میں بتایا گیا ہے کہ مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کے منہ اور ناک پر ٹیپ لگاٸی اور اسٹور روم میں لے جا کر مقتول کے منہ پر تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا۔ سانسیں بند ہونے سے شہباز دم توڑ گیا۔

    چالان کے مطابق ملزمان نے شہباز کو نیلے ڈرم میں سر کے بل ڈالا، پھر ڈرم میں تیزاب بھی ڈال دیا، جس سےلاش کچھ دیر میں محلول بن گٸی۔ محلول کو گھر کے گٹر میں ڈال دیا گیا۔
    پولیس چالان کے مطابق ملزمان نے ڈرم، تیزاب کا کین، کپڑے، تکیہ، تولیہ اور دیگر سامان گجومتہ نالا میں پھینک دیا تھا۔

    خیال رہے کہ شہباز تتلہ کے اغوا کا مقدمہ تھانہ نصیرآباد میں رواں سال 7 فروری کو درج کیا گیا تھا۔

    ایس ایس پی مفخر عدیل 12 فروری 2020 سے لاپتہ تھے۔ 10 مارچ کو پنجاب پولیس نے ایس ایس پی مفخرعدیل کو گلگت سے حراست میں لے کر لاہور منتقل کیا تھا۔ وہ پنجاب پولیس کو شہباز تتلہ کے اغوا اور مبینہ قتل میں پولیس کو مطلوب تھے۔

    اس سے قبل ملزم مفخرعدیل نے شہباز تتلہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے قتل کے بعد لاش کوتلف کردیا۔

  • اے ٹی سی اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کا ٹرائل التوا کا شکار

    اے ٹی سی اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کا ٹرائل التوا کا شکار

    اے ٹی سی اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کا ٹرائل التوا کا شکار ہو گیا

    اسامہ ستی کے والد ندیم ستی نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کی ہے ،ندیم ستی کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے اسامہ ستی کو 2 جنوری 2021 کو نا حق قتل کیا گیا، رات 2بجے بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے شہید کیا جس سے شہر میں خوف وہراس پھیلا ،واقعے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا عمران خان سے ملاقات کے بعد واقعے کی جوڈیشل انکوائری، اور جے آئی ٹی بنائی گئی،جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی کی رپورٹس عدالت میں پیش ہوئیں انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ،کئی گواہوں کے بیانات بھی قلمبند ہو چکے لیکن کیس سست روی کا شکار ہے، اسامہ کیس کے بعد نور مقدم، عثمان مرزا اور سری لنکن شہری کے کیس سامنے آئے، تینوں کیسوں کے فیصلے آ چکے لیکن ہم اب بھی انتظار کر رہے ہیں، چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ انصاف کیا جائے اسامہ ستی کیس کا فیصلہ بھی جلد سنایا جائے ،

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

    واضح رہے 2 جنوری کو اسلام آباد جی ٹین میں اے ٹی ایس اہل کاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان 21 سالہ اسامہ ستی جاں بحق ہوگیا تھا۔ والد اسامہ ستی نے کہا کہ میرے بیٹے کو جان بوجھ کر گولیاں ماری گئیں، وفاقی پولیس نے قتل میں ملوث 5 اہل کاروں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفیٰ، شکیل، مدثر اور سعید کو قصور وار ثابت ہونے پر پولیس سروس سے برطرف کر دیا ہے،

  • ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد نہیں ہے وہ صاف الیکشن نہیں کروا سکتے،وکیل ق لیگ

    ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد نہیں ہے وہ صاف الیکشن نہیں کروا سکتے،وکیل ق لیگ

    لاہورہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت جاری ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی درخواستوں پر سماعت کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی لاہور ہائیکورٹ میں موجود ہیں اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ پارلیمنٹ کا ہےعدلیہ کو پارلیمانی معاملے میں مداخلت کا اختیار نہیں، اسمبلی اجلاس کی تاریخ16 اپریل مقرر ہے درخواست مسترد کی جائے۔

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ پنجاب اسمبلی رولز موجود ہیں، جو رولز میں ہے وہی پورسیجر میں ہے کہ ہاؤس کو کس طرح چلانا ہے، سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ اسپیکر کی پروسیڈنگ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔

    پرویز الہٰی کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس میں متعدد درخواستیں آئی لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوئی، حالیہ اسپیکر سینٹ صادق سنجرانی کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیا، معاملہ اٹھایا گیا کہ 7 ووٹ مسترد ہوئے ہیں، عدالت نے قرار دیا کہ اگر آئین کیخلاف ورزی ہوئی تو عدالت دیکھ سکتی ہے۔ لیکن اگر رولز اور پروسیچرل معاملہ ہے تو آرٹیکل 69 کے تحت مداخلت نہیں ہوسکتی ‏اسمبلی اجلاس کب بلانا ہے کب ملتوی کرنا ہے عدالتوں کو ان معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں، یہ ایسے ہی ہے کہ صوبائی اسمبلی عدالت سے کیسز کے التوا کے بارے میں پوچھنا شروع کر دے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون نہیں پروسیجرل ایشو ہے، جب پہلے سے ہی طے ہے کہ 16 اپریل کو اجلاس ہونا ہے تو پھر اتنی جلدی کیا ہے، ایک یا دو دن پہلے تاریخ تبدیل کرنے سے نتائج متنازعہ ہو سکتے ہیں، الیکشن شیڈول کے مطابق 5 بجے سے پہلے کاغذات نامزدگی جمع کروانے ہیں، کہیں نہیں کہا گیا کہ الیکشن کے دن کاغذات جمع کروانے ہیں،کہیں نہیں لکھا کہ جس دن کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے اگلے دن الیکشن ہوں گے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم لکھا جاتا لیکن یہ تو کہیں نہیں لکھا، اب آپ کا اگلا پوائنٹ ہے کہ اگلے دن الیکشن ہوا اور ملتوی کردیا گیا۔وکیل سیکریٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سیشن ملتوی ہو سکتا ہے لیکن ختم نہیں ہوسکتا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے کہا کہ اسپیکر کا متبادل ڈپٹی اسپیکر ہے، ڈپٹی اسپیکر کا متبادل پینل آف چیئر مین ہے، ڈپٹی اسپیکر کا متبادل اس صورت میں ہے جب وہ غیر حاضر ہو۔وکیل سیکریٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ایسا کہیں نہیں لکھا کہ غیر حاضر ہونا ضروری ہے۔

    وکیل نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر بطور پریذائیڈنگ افسر وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب نہیں کروا سکتا ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں 1958 میں ایسی صورتحال بنی تھی،مشرقی پاکستان میں چھوٹی سی بات سے بات بڑھتی گئی اور اسپیکر کو قتل کردیا گیا حالات خراب ہوئے تومشرقی پاکستان میں مارشل لا لگایا دیا گیا،وکیل ق لیگ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پر اعتماد نہیں ہے وہ صاف الیکشن نہیں کروا سکتے ڈپٹی اسپیکر نے ابھی سے سیکریٹری پنجاب اسمبلی پر پابندیاں عائد کرنا شروع کردی ہیں،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سوال کیا کہ پھر ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پینل آف ہائوس کو سیشن چلانے دیں میں نے تو ایک راستہ تجویز کیا کہ ان 4اراکین کو اختیار دے دیا جائے، جگنو محسن، بلال وڑائچ، محمد شفیع اور ساجد آزاد اراکین ہیں، ان کو اختیار دیا جا سکتا ہے، وکیل ق لیگ نے کہا کہ جگنو محسن شہباز شریف کے ساتھ ہیں اور ان کے ساتھ پریس کانفرنس کی، ہمیں چاروں ممبران پر اعتماد نہیں ہے،

    وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ کیا پھر ہوائی مخلوق الیکشن کروانے آئے،ہر ایک پر اعتماد نہیں تو حمزہ شہباز کو بلا مقابلہ منتخب کروا دیں ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمیں وزیر اعلی ٰپنجاب کے انتخاب صاف اور شفاف کروانے ہیں تمام فریقین مشترکہ طور پر ووٹنگ کے لیے پرایذئیڈنگ افسر مقرر کریں،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ ن لیگ کی جانب سے ایسی استدعا کی گئی جو قوانین کی خلاف ورزی ہے،ڈپٹی اسپیکر کا حلف ہی ان کے موقف کی تردید کرتا ہے، جب ڈپٹی اسپیکر کا رویہ ہی متعصب ہو تو وہ کیسے اختیارات استعمال کر سکتا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ مل کر معاملے کا حل نکال رہے ہیں ،سب اپنی باری پر رائے دے، حمزہ شہباز کے وکیل کے دلائل کے دوران ق لیگی وکیل کی مداخلت پر چیف جسٹس نے اظہار ناراضی کیا اور کہا کہ اگر آپ ایسے کریں گے تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا،

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے درخواستوں پر سماعت 2بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے

    عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں

    بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف

    ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لئے دائر درخواست پر سماعت

  • یونیورسٹی جنسی زیادتی کا شکار اپنے سابق طلبا کو کروڑوں ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کےلیے تیار

    یونیورسٹی جنسی زیادتی کا شکار اپنے سابق طلبا کو کروڑوں ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کےلیے تیار

    واشنگٹن : یونیورسٹی جنسی زیادتی کا شکار اپنے سابق طلبا کو کروڑوں ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کےلیے تیار،اطلاعات کے مطابق امریکا کی ایک اور یونیورسٹی جنسی زیادتی کا شکار اپنے ایک ہزار سے زائد سابق طلبا کو کروڑوں ڈالر ہرجانہ ادا کرنے پر رضامند ہوگئی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست مشی گن کی یونیورسٹی آف مشی گن نے جنسی زیادتی کا شکار ایک ہزار سے زائد سابق طلبا کو 49 کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    امریکی یونیورسٹی زیادتی کا شکار اپنی سیکڑوں طالبات کوکروڑوں ڈالر ہرجانہ دینے پر رضامند تو گئی ہے لیکن کیا متاثرین بھی تیارہیں ، اس حوالے سے کہا گیا ہےکہ رپورٹ کے مطابق سابق اسپورٹس ڈاکٹر رابرٹ اینڈرسن کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات پر 490 ملین ڈالر کا تصفیہ کیا گیا ہے۔

    تصفیے میں کل 1,050 افراد کا حصہ ہوگا، رپورٹ کے مطابق مشی گن یونیورسٹی متعدد مقدمات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے، زیادہ تر کیسزمردوں کی جانب سے ڈاکٹر رابرٹ اینڈرسن کے خلاف جنسی زیادتی کے ہیں۔ڈاکٹر اینڈرسن مختلف ایتھلیٹک پروگراموں کے لیے یونیورسٹی کے ایک معالج تھے۔

    ہرجانے کے طور پر ہرمتاثرہ طالب علم کو اوسطاً 4لاکھ 38ہزار ڈالر ہرجانہ ملےگا، ڈاکٹر اینڈرسن 1966 سے 2003 تک یونیورسٹی میں ملازمت کرتے رہے،2008 میں انتقال کرگئے تھے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل کیلی فورنیا کی سدرن کیلی فورنیا یونیورسٹی نے بھی جنسی زیادتی کا شکار اپنی 700 سے زائد طالبات کے ساتھ کروڑوں ڈالر میں تصفیہ کیا تھا۔

  • ایک بارپھر جے آئی ٹی تشکیل

    ایک بارپھر جے آئی ٹی تشکیل

    کراچی :ایک بارپھر جے آئی ٹی تشکیل،اطلاعات کے مطابق کورکمانڈر کراچی پر حملےکے مقدمے میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ہاتھوں لائنز ایریا سے گرفتار جنداللہ کے کارکن سید کاشف علی سے مشترکا تفتیش اور تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ سندھ نے 8 رکنی جوائنٹ انٹروگیشن و انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

    حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کے دو شعبوں، ملٹری انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز، اسپیشل برانچ، کراچی پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے افسر بھی شامل ہوں گے۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق ضرورت پڑنے پر جے آئی ٹی کسی بھی اور ادارے یا شعبے سے معاونت لے سکےگی، جے آئی ٹی 30 دن میں ملزم سیدکاشف علی شاہ سے تفتیش یا تحقیقات مکمل کرے گی، تفتیش یا تحقیقات مکمل ہونے کے ایک ہفتے بعد مشترکا رپورٹ پیش کی جائےگی۔

    اس سلسلسے میں سی ٹی ڈی افسر راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ ملزم سے مشترکہ تحقیقات کیلئے کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے محکمہ داخلہ سندھ کو خط لکھ دیا ہے،ملزم کے فنگر پرنٹس لیکر اسکا ریکارڈ بھی نادرا سے مانگ لیا گیا ہے اور اسکے لئے ڈی جی نادرا کو خط لکھا گیا ہے۔سی ٹی ڈی سندھ کی ریڈ بک کے 9ویں ایڈیشن میں رجسٹرڈ ملزم سید کاشف جنداللہ کا کارکن ہے

    خیال رہے کہ جنداللہ کے رکن سید کاشف علی شاہ کو گزشتہ ہفتے سی ٹی ڈی کے انچارج راجہ عمر خطاب کی ٹیم نے گرفتار کیا تھا، ملزم سید کاشف کو مارنے یا گرفتاری پر محکمہ داخلہ سندھ نے 5 لاکھ روپے انعام مقرر کیا تھا۔

    تفتیشی افسر راجہ عمر خطاب کے مطابق ملزم کاشف علی کراچی کے علاقےکلفٹن میں سال 2004 میں اس وقت کےکور کمانڈر کراچی کےکانوائے پر حملہ کرنے میں ملوث تھا، حملے کے بعد ملزم مفرور تھا اور مختلف شہروں میں روپوشی کاٹتا رہا۔

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے NTS لیک کیس پے نوٹس لیا؟

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے NTS لیک کیس پے نوٹس لیا؟

    اساتذہ کی بھرتی کے لئے این ٹی ایس پیپرز لیک ہونے کا معاملہ، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کا نوٹس۔
    وزیر اعلی نے پراونشل انسپکشن ٹیم کو معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔
    وزیر اعلی سیکرٹریٹ کی طرف سے پراونشل انسپکشن ٹیم کو مراسلہ جاری۔ پراونشل انسپکشن ٹیم معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر کے سات دنوں میں واضح سفارشات پیش کرے گی۔
    پراونشل انسپکشن ٹیم معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں اعانت کے لئے محکمہ تعلیم، داخلہ ، اسپیشل برانچ اور آئی ٹی کے گریڈ 19 کے کسی بھی آفیسر کو ٹیم میں بطور ممبر شامل کر سکتی ہے۔
    بقول محمود خان، میرٹ کی بالادستی اور شفافیت صوبائی حکومت کی سب سے اہم ترجیح ہے، ,معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی ،اس واقعے میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جو بھی اس معاملے ملوث پایا گیا اسے نہیں چھوڑا جائے گا صوبہ بھر میں ٹیسٹس کے نتائج روک دئے گئے ہیں، امیدوار اطمینان رکھیں کسی کے ساتھ بھی نا انصافی نہیں ہونے دیں گے.