Baaghi TV

Tag: کیلیفورنیا

  • درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے

    کیلیفورنیا:امریکا میں دنیا کا بلند ترین زندہ درخت واقع ہے تاہم وہاں جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیکڑوں سالوں سے، ’ہائپیریئن‘ کے نام سے جانا جانے والا درخت شمالی کیلیفورنیا کے ریڈ ووڈز نیشنل اور اسٹیٹ پارک کے اندر خاموشی سے کھڑا ہے یوٹیوبر، بلاگر اور دیگر افراد نے اس کی تفصیلات اور پتا دے کر لوگوں کے تجسس کو بڑھایا ہے اور لوگ ماحول کو نقصان پہنچا کر یہاں پہنچ رہے ہیں۔

    بھارت میں 4 ٹانگوں اور 4 بازوؤں والی بچی کی پیدائش

    کیلیفورنیا کے ریڈ وُڈ نیشنل پارک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کی حدود میں موجود ’ہائپیریئن‘ نامی درخت کو مُہم جُو حضرات سے شدید ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں کیونکہ 2006ء سے یہاں راستہ نہ ہونے کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد پہنچ رہی ہے اور درخت کو متاثر کررہی ہے اسی لیے اب اس کے قریب جانے پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

    ریڈووڈ نامی اس درخت کی اونچائی قریباً 116 میٹر(379.1 فٹ) ہے جس کا نامی یونانی دیوتا پر رکھا گیا ہے یہ پارک کے اندر بہت دور موجود ہے جہاں کوئی کچا پکا راستہ نہیں جاتااور اطراف میں سبزہ بھرا ہےاس کے باوجود لوگ یہاں آرہے ہیں اسے دیکھنے کے لیے سیاح سبزے کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں جس سے ماحول کو دگنا نقصان ہورہا ہے۔

    چینوٹیوں کی سونے کی چین چرا کر فرار ہونے کی ویڈیو وائرل

    پارک سے وابستہ ایک افسر، لیونل آرگیلو نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم ایسا کر رہے ہیں کیونکہ ہماری نظر وسائل کے تحفظ اور زائرین کی حفاظت پر مرکوز ہے کیونکہ پارک کی گہرائی میں جی پی ایس اور موبائل فون کے سگنل بہت ہی کمزور ہیں جس کے بعد زخمی یا بھٹک جانے والے افراد کی تلاش اور بحالی بہت مشکل ہوجاتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ دوسری جانب درخت کے تنے کی ٹوٹ پھوٹ اور متاثرہ ہونے کا عمل بھی انسانی مداخلت سے بڑھ چکا ہے یہاں تک کہ لوگ یہاں جانے والی راہ پر جگہ جگہ کچرا پھینک رہے ہیں اور سبزے کو بطور بیت الخلا استعمال کررہے ہیں-

    زندہ چوہے کھانے کے الزام میں ایک خاتون کو گرفتار

  • منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

    منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں منکی پا کس کے بڑھتے کیسسزکے باعث گورنر کیلیفورنیا نےایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا،کیلیفورنیا ، نیویارک اور الینوائے کے بعد تیسری ریاست ہے جس نے منکی پوکس کے خطرے کے پیش نظر ریاستی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ میں منکی پاکس کیسوں کی تعداد 5 ہزار 800 تک پہنچ گئی ہے، منکی پاکس کے 800 کیس کیلیفورنیا میں پائے گئے ہیں

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    گورنرکیلیفورنیا کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا حکومت تمام سطحوں پر فوری طور پر منکی پوکس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے والے افراد ویکسین، علاج اور ہماری توجہ کا مرکز رہیں تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے، تاہم بائیڈن انتظامیہ نے ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ افریقا میں منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔اس نے ماضی میں کبھی وبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحدپارپھیلی ہے تاہم یورپ، شمالی امریکااور دیگر جگہوں پرمنکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔

    سعودی عرب میں بھی منکی پاکس کے کیسز سامنے آگئے

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں۔وائرس سے زیادہ متاثر ہونےوالے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس وائرس کے علاج کے لیے فی الحال دو ویکسین استعمال کی جا رہی ہیں۔ جو سمال پاکس یا چیچک کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھیں۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

  • دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    کیلیفورنیا: دنیا کے سب سے بڑے آزمائشی طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے،طیارہ بنانے والی کمپنی Stratolaunch نے بھی ایک پریس ریلیز میں اس پرواز کے دوران چند اور پرزوں کی کامیاب جانچ کی تصدیق کی-

    باغی ٹی وی : کمپنی کے بانی پال ایلن کے انتقال کے بعد Roc کی پہلی پرواز کے بعد اسٹریٹولانچ کا مستقبل مشکوک تھا مائیکروسافٹ کے شریک بانی ایلن نے کمپنی کا آغاز زمین کے نچلے مدار میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے مقصد سے کیا جب ہوائی جہاز اسٹراٹاسفیئر میں تھا، جس کا مظاہرہ ورجن آربٹ نے 2021 کے اوائل میں کیا تھا۔

    نئی ملکیت کے تحت چند سال، اسٹریٹو لانچ نے چھوٹے سیٹلائٹس سے دور رہنے کے لیے کافی محور بنایا، اس کے بجائے ہائپرسونک ریسرچ گاڑیاں لانچ کیں۔ پچھلے سال کے آخر میں، کمپنی نے فوج کے لیے ہائپرسونک فلائٹ ٹیسٹ کرنے کے لیے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اب وہ اپنے ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے۔

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

    385 فٹ (117 میٹر) کے پروں کے ساتھ،راک اس وقت دنیا کا سب سے بڑا طیارہ ہ۔اس بار ساتویں آزمائشی پرواز میں ایک نئے نصب شدہ سہارے کی جانچ بھی تھی جسے انجن سے جوڑا گیا تھا اس نئے پائلن یا سہارے سے جڑا ایک چھوٹا طیارہ چھوڑا جائے گا جو آواز سے پانچ گنا رفتار پر اڑان بھرے گا-

    تاہم یہ آزمائش اگلے مراحل میں کی جائے گی اسٹریٹو لانچ نامی اس مشین کو انسانوں کی بجائے راکٹ اور سیٹلائٹ کو اسٹریٹو سفیئر میں چھوڑنے میں استعمال کیا جائے گا۔ اس کی قوت کا اندازہ یوں لگائیے کہ اس میں بوئنگ کے چھ انجن نصب ہیں اور اسے ہائپرسونک چھوٹے طیاروں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    دوبارہ قابل استعمال گاڑی، Talon-A کے پروں کا پھیلاؤ 11.3 فٹ (3.4 میٹر) ہے اور اس کی لمبائی 38 فٹ (8.5 میٹر) ہے۔ لانچ گاڑی میں مختلف قسم کے ریسرچ پے لوڈز لگائے جا سکتے ہیں جو کہ پھر Mach 5 – Mach 10 کی رفتار کے درمیان سفر کر سکتے ہیں، جیسا کہ ہم نے پچھلے سال دسمبر میں رپورٹ کیا تھا۔

    اگلے چند مہینوں میں، کمپنی نے کچھ اچھی پیش رفت کی ہے اور حال ہی میں اپنی ساتویں فلائٹ کی ہے۔

    برطانیہ میں ساحل پر ڈوبنے والا جہاز 340 سال بعد دریافت

    تین گھنٹے سے زائد ایک منٹ تک جاری رہنے والی پرواز کے دوران راک نے 27,000 فٹ (8,200 میٹر) کی بلندی پر بھی اڑان بھری۔ یہ 15,000 فٹ (4,572 میٹر) سے ایک بڑی پیشرفت ہے جس تک ہوائی جہاز اپنی آخری پرواز کے دوران پہنچا تھا۔ Talon A کی لانچیں 35,000 فٹ (10,000 میٹر) کی کروزنگ اونچائی پر ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    اسٹریٹو لانچ کو توقع ہے کہ وہ 2023 میں اپنے صارفین کے لیے ہائپرسونک ٹیسٹنگ سروسز شروع کرے گا۔

    اس کا پہلا ورژن 2020 میں سامنے آیا تھا جسے ٹیلون ون کا نام دیا گیا تھا جو فوری طور پر آواز سے تیزرفتار بار بار فلائٹس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ معمول کے رن وے سے اڑ اور اترسکتا ہے۔ اب اس میں ٹا او نام کا ایک چھوٹا طیارہ لگایا گیا ہے جس کا وزن 3600 کلوگرام اور لمبائی 14 فٹ ہے۔

    اس طرح بڑا طیارہ چھوٹے طیارے کو چپکا کر ایک خاص بلندی اور رفتار تک جائے گا اور اس کے بعد وہاں سے چھوٹے طیارے کو لانچ کیا جائے گا۔ ساتویں آزمائشی پرواز میں اسے امریکا کے مشہور موحاوے صحرا سے اڑایا گیا اور وہ 8200 میٹر کی بلندی تک جاپہنچا۔

    واشنگٹن:سعودی سفارتخانے کی سڑک کا نام تبدیل کر کے’جمال خاشقجی وے‘ کر دیا گیا

  • ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سائنسدانوں نے ہماری ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یہ دعوٰی کیلیفورنیا میں قائم یونیورسٹی آف برکلے کے سائنسدانوں نے کیا ہے محققین کا ماننا ہے کہ جب بڑے ستارے تباہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی جسامت، توانائی اور مادہ خرچ کرنے کے لحاظ سے بلیک ہول یا دیگر اقسام کے اجسام میں بدل جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نظری طور پر ہماری کہکشاں میں بہت سارے بلیک ہول ہونے چاہئیں۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    لیکن سائنس دانوں کو ان کی تلاش میں مشکلات کا سامنا رہا ہے یہ بِکھرے ہوئے بلیک ہول بصری لحاظ سے ویسے بھی ہماری آنکھ سے اوجھل ہوسکتے ہیں ماہرین فلکیات کا اندازہ ہے کہ ہماری کہکشاں میں ستاروں کے درمیان 100 ملین بلیک ہول گھومتے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی مکمل طور پر الگ تھلگ بلیک ہول کی شناخت نہیں کی۔

    اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک آزادانہ گشت کرتے بلیک ہول کی نشان دہی کی ہے جو ہماری کہکشاں میں ایک لاکھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کررہا ہے۔

    ایلون مسک کا رواں سال انسان نما روبوٹ متعارف کرانے کا اعلان

    سائنس دانوں نے اس کی نشان دہی گریویٹیشنل مائیکرولینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے کی ہے۔ اس عملی کو ثقلی لینسنگ بھی کہا جاتا ہے جس میں کسی بھاری بھرکم جسم ، مثلاً بلیک ہول کے وجہ سے پس منظر سے آنے والی روشنی کی شعاعیں خمیدہ ہوسکتی ہے اور یوں ہمیں ان دیکھے بڑے جسم کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

    یہ شے ہماری کہکشاں میں ہونے کے باوجود ہزاروں نوری سال کے فاصلے کی دوری پر ہے سائنس دانوں کے ایک گروپ کے مطابق اس بلیک ہول کا وزن سورج سے 1.6 سے 4.4 گُنا زیادہ ہے جبکہ دوسرے گروہ کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا وزن سورج سے 7.1 گُنا زیادہ ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا