Baaghi TV

Tag: کیماڑی

  • کمسن بچیوں سے گھناؤنا کام کرنیوالے دو ملزمان کو سزا

    کمسن بچیوں سے گھناؤنا کام کرنیوالے دو ملزمان کو سزا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں کمسن بچیوں سے گھناؤنا کام کرنیوالے دو ملزمان کو عدالت نے سزا سنا دی ہے

    کراچی کی عدالت نے کمسن بچیوں سے زیادتی کے دو مقدمات کا فیصلہ کیا جس میں دو نوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے کمسن بچیوں سے زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر دو مقدمات میں دو ملزمان کو قید اورجرمانے کی سزا سنائی

    عدالت نے کراچی کے علاقے کیماڑی میں بچی سے زیادتی کے ملزم شریف کو عمر قید کی سزا سنائی اور 2 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ،پولیس حکام کے مطابق کمسن بچی سے زیادتی کا واقعہ گزشتہ برس پیش آیا تھا جس کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر اکے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا،

    عدالت نے دوسرے مقدمے میں سرجانی ٹاؤن میں بچی سے زیادتی کے ملزم طارق کو 10 برس قید بامشقت کی سزا سنائی اور ملزم کو ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا،

    دونوں ملزمان کو پولیس نے سزا سنائے جانے کے بعد جیل منتقل کر دیا ہے،

    قبل ازیں سکردو میں بھی ایک ایسے ہی کیس میں عدالت نے ملزمان کو سزا سنائی تھی، کمسن بچے سے بدفعلی کرنے والے ملزمان کو عدالت نے سزا دی تھی،سکردو میں بچے سے زیادتی کیس میں جج رحمت شاہ نے 2 ملزموں کو سزائے موت اور 43 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے مجرمان کو مجموعی طور پر ساڑھے چھ لاکھ جرمانے کی سزا سنائی مجرم مظفر عباس اور تجمل حسین کو اے ٹی سی کے سیکشن 367 کے تحت سزائے موت دی ہے ملزمان نے کمسن بچے کے ساتھ بدفعلی کی تھی

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    مدرسے کے طالبعلم کے ساتھ گن پوائنٹ پر گھناؤنا کام،ویڈیو بھی وائرل کر دی

  • کراچی میں ایک بار پھر زہریلی گیس کا اخراج،علاقے میں خوف وہراس

    کراچی میں ایک بار پھر زہریلی گیس کا اخراج،علاقے میں خوف وہراس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس کے اخراج سے 21 خواتین کی حالت غیر ہو گئی، 11 خواتین کو بیہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا

    کیماڑی میں تین برسوں سے زہریلی گیس کے اخراجات کے واقعات پیش آ رہے ہیں، سندھ ہائیکورٹ میں بھی کیس چلا لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا، اب تازہ واقعہ ایک فیکٹری میں پیش آیا جہاں دھماکے کے بعد زہریلی گیس کا اخراج ہوا، فیکٹری میں خواتین کام کر تی تھیں، واقعہ میں 21 خواتین کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن کی حالت غیر ہو چکی تھی، دیگر افراد بھی زہریلی گیس سے متاثر ہوئے، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ علاقے میں امونیا گیس کی بدبو پھیل گئی تھی

    سکیورٹی انچارج فش ہاربر ناصر بونیری کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں جھینگے اورمچھلی کی پروسیسنگ ہوتی ہے ایمونیا گیس کے دھماکے سے علاقے میں بدبو پھیلی فیکٹری میں 60 خواتین صبح 9 بجے معمول کے مطابق کام پر پہنچی تھیں، واقعہ کے بعد پولیس نے کاروائی کی ہے اور فیکٹری سپروائزر کو گرفتار کر لیا گیا ہے فیکٹری کے انجنینئر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،

    چھیپا ترجمان کے مطابق کیماڑی فشری کے قریب مہران کمپنی میں زہریلی گیس لیکج کے باعث 20خاتون سمیت 21افراد کی حالت غیر ہو گئی،حالت غیر ہونے والوں کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اور جناح ہسپتال منتقل کیا گیا،
    حالت غیر ہونے والوں کی شناخت
    1-اسماعیل ولد ابوبکر عمر25سال
    2-شہزادی دختر ملک عمر22سال
    3-ماریہ دختر حنیف عمر15سال
    4-محمودہ دختر صدیق عمر18سال
    5-آمنہ زوجہ کبیر عمر30سال
    6-محمودہ زوجہ امان عمر30سال
    7-شازیہ دختر جہانگیر عمر16سال
    8-حکیمہ زوجہ شکور عمر40سال
    9-فاطمہ دختر منشاہ عمر19سال
    10-مسکن دختر رمضان عمر16سال
    11-محمودہ زوجہ امین عمر32سال
    12-حاجرہ زوجہ فرحان عمر32سال
    13-ثمرین دختر عمران عمر25سال
    9-نسیمہ زوجہ محمود عمر22سال
    14-ماریہ دختر انس عمر17سال
    15-نسیمہ دختر بابو عمر19سال
    16-افسرا دختر صالح عمر22سال
    17-روبینہ دختر ناصر عمر16سال
    18-سمیرا دختر رمضان عمر15سال
    19-عائشہ زوجہ عبدالرحمان عمر20سال
    20-مایہ زوجہ اشرف عمر40سال
    21-سمیہ دختر اشرف عمر16سال

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کی فوڈ فیکٹری میں گیس دھماکے کا نوٹس لیا ، ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کمشنر اور وزیر لیبر سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تمام زخمی خواتین کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں، فیکٹری میں دھماکہ کی تفصیلات سے فوراً آگاہ کریں،وزیراعلیٰ نے محکمہ فوڈ سے فیکٹری کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ فوڈ فیکٹری میں ناکارہ گیس سلنڈر پائے جائیں تو فوراً سیل کریں،

    زہریلی گیس، جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا گیا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا اہم سوال

    زہریلی گیس کہاں سے خارج ہو رہی؟ سراغ لگا لیا گیا، مقدمہ درج

    زہریلی گیس سے اموات، معاملہ عدالت پہنچ گیا، درخواست دائر

    زہریلی گیس سے کراچی کے شہری پریشان، ہلاکتیں 9 ہو گئیں، تعلیمی ادارے، فیکٹریاں ،دکانیں سب بند

    زہریلی گیس، تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم،ڈاکٹرز کا کیا کہنا ہے؟

  • کیماڑی میں زہریلی گیس سے اموات،میڈیکل بورڈ کی رپورٹ آ گئی

    کیماڑی میں زہریلی گیس سے اموات،میڈیکل بورڈ کی رپورٹ آ گئی

    شہر قائد کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس سے اموات کے حوالہ سے میڈیکل بورڈ نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں

    مواچھ گوٹھ کیماڑی میں 18 افراد کی پراسرار موت ہوئی تھی جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ علاقے میں زہریلی گیس پھیلنے سے موت ہوئی ، حکومت نے میڈیکل بورڈ تحقیقات کے لئے تشکیل دیا تھا جس کی رپورٹ آ گئی ہے، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق جنوری میں کمیاڑی میں 18 افراد کی موت ہوئی تھی، محکمہ صحت نے پہلے اموات کی وجہ صرف خسرہ بتائی تھی مرنے والوں میں زیادہ تر 2 سے 4 سال کے بچے تھے، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اموات زہریلی گیس سے ہوئیں اموات کا نتیجہ پوسٹ مارٹم، کیمکل ایگزامنیشن اور وائرولوجی کی مدد سے نکالا گیا ،غیر قانونی فیکڑیوں سے نکلنے والی گیس سے لوگ متاثر ہوئے گیس کے اخراج سے لوگوں کو شدید الرجی، پھیپھڑے اور تولیدی نظام متاثر ہوا

    قبل ازیں پولیس سے کیماڑی واقعے کی رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کر دی ہے پولیس کی جانب سے سیپا رپورٹ کی روشنی میں تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 17 فروری 2020 کو کے پی ٹی ٹرمینلز 15 اور 16 (Eastern Warf) پر دھویں کا مشاہدہ کیا گیا ان ٹرمینلز پر درآمد شدہ مضر صحت خام مال کو اَن لوڈ کیا جا رہا تھا، ٹرمینلز پر طویل عرصے سے موجود کنٹینرز میں خطرناک کیمیکلز پائے گئے اور خام مال اور سویابین کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں ایئر کوالٹی خراب تھی تحیقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خام مال اور سویابین کے باریک ذرات کی شکل میں پھیلے ہوئے دھول کی وجہ سے آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔ کے پی ٹی کی بنیادی ذمہ داری ہےکہ ماحولیات سےمتعلق قوانین پر مکمل عمل درآمد کرے لیکن کےپی ٹی نےماحولیات اور ایئر کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات نہیں کیے رپورٹ میں کہا گیا کہ کے پی ٹی کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے پورٹ پر کام کرنے والے لوگ اور قریبی رہائشی علاقوں کے مکین زہریلی اور خطرناک گیسوں سے متاثر ہو رہے ہیں، ہوا کا معیار انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ پایا گیا ہے سیپا رپورٹ کے مطابق فروری 2020 میں جاں بحق ہونے والوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔ تمام رپورٹس آنے پر موت کی وجہ معلوم ہوسکے گی۔ مرنے والوں کے ورثا کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں چاہتے۔

    زہریلی گیس، جاں بحق افراد کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کروایا گیا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا اہم سوال

    زہریلی گیس کہاں سے خارج ہو رہی؟ سراغ لگا لیا گیا، مقدمہ درج

    زہریلی گیس سے اموات، معاملہ عدالت پہنچ گیا، درخواست دائر

    زہریلی گیس سے کراچی کے شہری پریشان، ہلاکتیں 9 ہو گئیں، تعلیمی ادارے، فیکٹریاں ،دکانیں سب بند

    زہریلی گیس، تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم،ڈاکٹرز کا کیا کہنا ہے؟

  • کیماڑی  کے علاقے میں پراسرار ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش

    کیماڑی کے علاقے میں پراسرار ہلاکتوں سے متعلق رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں کیماڑی کے علاقے میں پراسرار ہلاکتوں سے متعلق پولیس نے رپورٹ پیش کر دی-

    باغی ٹی وی : ہائیکورٹ نے علی محمد گوٹھ سے متعلق سماعت کے دوران پولیس سے کیماڑی واقعے کی رپورٹ طلب کی تھی تاہم پولیس نے رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کر دی ہے-

    پولیس کی جانب سے سیپا رپورٹ کی روشنی میں تیار کردہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 17 فروری 2020 کو کے پی ٹی ٹرمینلز 15 اور 16 (Eastern Warf) پر دھویں کا مشاہدہ کیا گیا۔

    ان ٹرمینلز پر درآمد شدہ مضر صحت خام مال کو اَن لوڈ کیا جا رہا تھا، ٹرمینلز پر طویل عرصے سے موجود کنٹینرز میں خطرناک کیمیکلز پائے گئے اور خام مال اور سویابین کی وجہ سے متاثرہ علاقے میں ایئر کوالٹی خراب تھی –

    تحیقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خام مال اور سویابین کے باریک ذرات کی شکل میں پھیلے ہوئے دھول کی وجہ سے آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔ کے پی ٹی کی بنیادی ذمہ داری ہےکہ ماحولیات سےمتعلق قوانین پر مکمل عمل درآمد کرے لیکن کےپی ٹی نےماحولیات اور ایئر کوالٹی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کے پی ٹی کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے پورٹ پر کام کرنے والے لوگ اور قریبی رہائشی علاقوں کے مکین زہریلی اور خطرناک گیسوں سے متاثر ہو رہے ہیں، ہوا کا معیار انسانی صحت اور ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ پایا گیا ہے۔

    سیپا رپورٹ کے مطابق فروری 2020 میں جاں بحق ہونے والوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی۔ تمام رپورٹس آنے پر موت کی وجہ معلوم ہوسکے گی۔ مرنے والوں کے ورثا کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں چاہتے۔