Baaghi TV

Tag: کیمرہ مین

  • بنی گالا،پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں اور کیمرہ مین پر تشدد،ایف آئی آر درج

    بنی گالا،پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں اور کیمرہ مین پر تشدد،ایف آئی آر درج

    پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ کے باہر صحافیوں اور کمیرہ مینوں سے بدتمیزی اور تشدد کرنے والے پی ٹی آٸی کارکنوں کے خلاف ایف آٸی آر درج کر دی گئی.

    صحافیوں اور کیمرہ مینوں پر تسد کرنے کی ایف آئی آر تھانہ بنی گاکا میں درج کی گئی ہے،ایف آئی آر میں 506 ت پ اور427 ت پ کی دفعات لگائی گئی ہیں.ایف آئی آر نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین واجد مغل کی مدیت میں درج کی گئی ہے، واجد مغل نے ایف آئی آر میں بتایا کہ بنی گالا پریس کانفرنس کور کرنے کیلئے دفیر کی جانب سے آیا تھا .سینیٹر فیصل چوہدری کے ساتھ پی ٹی آئی کا رکنوں کا جتھہ آیا اور کوریج کے دوران خلل ڈالنے کی کوشش کی انہیں منع کیا تو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پی ٹی آئی کارکنوں نے مجھ پر حملہ کر دیا اور تشدد کا نشانہ بنایا.

    ایف ائی آی میں مزید کہا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے موقع پر موجود تامم صحافیوں کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کی،واجد مغل نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد کی وجہ سے میرا کیمرہ بھی ہاتھ سے گر گیا اور ٹوٹ گیا ،تمام تر واقعی پی ٹی آئی رہنما فیصل چوہدری قریب کھٹر ہو کر دیکھتے رہے. واقعہ کے تمام تر ویڈیو ثبوت موجود ہیں اور یہ واقعہ تمام چینلز پر براہ راست نشر کیا گیا .واجد مغل نے ایف آئی آر کیلئے درخواست میں مزید کہا کہ مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں،اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے.

    بنی گالا کے باہر پی ٹی آئی کارکن نے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالا کے باہر صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کی میڈیا ٹاک کے دوران پی ٹی آئی کے تشدد پسند کارکن نے نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے کیمرہ مین حضرات سے دھکم پیل کی اورنا زیبا زبان استعمال کی۔ پی ٹی آئی کارکن نے نجی چینل کا کیمرہ گرا دیا جس سے کیمرے کو نقصان پہنچا.

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے. آر آئی یو جے کے صدر عابد عباسی ،جنرل سیکرٹری طارق علی ورک ،فنانس سیکرٹری کاشان اکمل گل اور مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ویڈیو جرنلسٹس واجد،ارسلان بلوچ،مدثر جاوید اور دیگر صحافیوں پر تشدد کیا گیا ہے جس کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ،پی ٹی آئی اپنے کارکنان کی تربیت کرے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایسے عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں جو ان کی پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں فرائض کی ادائیگی کے دوران اس طرح کے واقعات کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی صحافیوں پر تشدد نہ کرے اگر صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو آر آئی یو جے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی

  • بنی گالا کے باہر پی ٹی آئی کارکن نے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا

    بنی گالا کے باہر پی ٹی آئی کارکن نے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالا کے باہر صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

     

    شہباز گل گرفتار،بغاوت کا مقدمہ درج

     

    پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید کی میڈیا ٹاک کے دوران پی ٹی آئی کے تشدد پسند کارکن نے نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کو تھپڑ مار دیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے کیمرہ مین حضرات سے دھکم پیل کی اورنا زیبا زبان استعمال کی۔ پی ٹی آئی کارکن نے نجی چینل کا کیمرہ گرا دیا جس سے کیمرے کو نقصان پہنچا.

    نعرے ریاست مدینہ کے اور غلامی امریکہ کی ،واہ شہباز گل

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے. آر آئی یو جے کے صدر عابد عباسی ،جنرل سیکرٹری طارق علی ورک ،فنانس سیکرٹری کاشان اکمل گل اور مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے ویڈیو جرنلسٹس واجد،ارسلان بلوچ،مدثر جاوید اور دیگر صحافیوں پر تشدد کیا گیا ہے جس کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ،پی ٹی آئی اپنے کارکنان کی تربیت کرے اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایسے عناصر کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں جو ان کی پارٹی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ صحافی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں فرائض کی ادائیگی کے دوران اس طرح کے واقعات کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی عمل لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی صحافیوں پر تشدد نہ کرے اگر صحافیوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو آر آئی یو جے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ہے کہ شہباز گل کو اغوا کیا گیا، ہمیں کچھ پتا نہیں وہ کہاں ہیں۔ایک بیان میں فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جو زبان اداروں کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں حکمران 13 جماعتوں کو شکست دی تھی۔ پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ 13 اگست کو لاہور میں تاریخی جلسہ ہوگا، جس میں عمران خان آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .