Baaghi TV

Tag: کینسر

  • کینسرکی مختلف اقسام  کو 12 مرتبہ شکست دینے والی خاتون

    کینسرکی مختلف اقسام کو 12 مرتبہ شکست دینے والی خاتون

    اسپین سے تعلق رکھنے والے خاتون کو60 سال کی عمر سے قبل سرطان کی 12 مختلف اقسام کی رسولیوں سے لڑنا پڑا، ہر بار کینسر کو شکست دی اور اب بھی زندہ اور تندرست ہیں، اب ماہرین کی ایک ٹیم خاتون پر تحقیق کر رہی ہے کیونکہ اس سے ہی سرطان کے خلاف علاج کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع رپورٹ کے مطابق 36 سالہ ہسپانوی خاتون کا معاملہ بہت ہی پراسرار ہے کیونکہ اب تک وہ 12 مختلف اقسام کے سرطان کی شکار ہوچکی ہیں سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ہر بار کینسر کی قسم مختلف تھی اور جسم کے مختلف حصوں کو سرطان کا سامنا ہوا 12 میں سے کم از کم 5 رسولیاں جان لیوا تھیں۔

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    1986 میں پیدا ہونے والی خاتون کو پہلی بار 2 سال کی عمر میں کینسر کو باعث کیموتھراپی کے عمل سے گزرنا پڑا تھا اس عمر میں بھی وہ علاج کے بعد زندہ رہیں۔

    پھر 15 برس کی عمر میں انہیں بچہ دانی کا سرطان ہوا اور یہاں بھی وہ صحت یاب ہوئیں پھر 20 برس کی عمر میں منہ میں لعاب بنانے والے غدود میں سرطان پھیلا جنہیں جراحی سے نکالا گیا۔ اس کے بعد انہیں ٹھوس اور لجلجی ہڈیاں ملانے والے ٹشوز کا کینسر (سارکوما) ہوالیکن کینسر ان کے پیچھے دوڑتا رہا اور وہ 20 سے 30 برس کے درمیان کئی مرتبہ سرطان کی شکار رہیں۔

    اب خاتون کے اہلِ خانہ کی اجازت سے بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم ان پر تحقیق کر رہی ہیں خاتون میں کینسر کی مختلف اقسام کو دیکھتے ہوئے سائنسدانوں نے 2017 میں تحقیق کا آغاز کیا اور ان جینز کی جانچ پڑتال کی جو موروثی کینسر سے منسلک ہوتے ہیں مگر خطرہ بڑھانے والے کسی عنصر کو دریافت نہیں کیا جاسکا-

    ابتدائی تحقیق ماہرین نے مکمل جینوم کا جائزہ لینے پر ایک جین MAD1L1 کی 2 کاپیوں میں ایک غیرمعمولی کم یاب میوٹیشن یا جینیاتی تبدیلی کو دریافت کیا جو کینسر کی وجہ بنتی ہے۔ یہ جین ایم اے ڈی ون ایل ون جس کی دونوں کاپیوں میں گڑبڑ ہے اور سائنس اس سے ناواقف ہی تھی۔

    مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے جانے والے ایرانی راکٹ کی کامیاب آزمائشی پرواز

    یہ جین خلیات کی تقسیم اور نشوونما کے عمل کو ریگولیٹ کرتا ہے اور ہم سب میں اس جین کی 2 نقول ماں اور باپ سے منتقل ہوتی ہیں، مگر یہ پہلے کبھی دریافت نہیں ہوا کہ کسی فرد کے جسم میں جین کی دونوں نقول میں میوٹیشن ہوئی ہو محققین نے بتایا کہ ہم اب تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ کسی فرد میں اس طرح کی میوٹیشن کیسے ہوسکتی ہے-

    ایک اے ڈی ون ایل ون جین خلوی تقسیم سے قبل کروموسوم کی ترتیب بندی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن پہلے خیال تھا کہ یہ سرطانی رسولیوں کو روکنے کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی دونوں نقول میں بدلاؤ پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ چوہوں میں کبھی کبھار یہ تبدیلی ہوتی ہے جو جان لیوا ہوتی ہے لیکن انسانوں میں اس کے کردار پر ماہرین حیران ہیں۔

    خاتون کے بدن میں خون کے خلیات کی 30 سے 40 فیصد تعداد میں کروموسوم کی گنتی نارمل نہیں کہ کہیں کم اور کہیں زیادہ ہیں۔ نارمل انسانوں کے ہرخلیے میں کروموسوم کے 23 جوڑے ہوتے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

    آرٹیمس1مشن کو14 نومبر کو چاند پر بھیجے جانے کا امکان

    اس طرح کے اثرات کے باعث لوگوں کے لیے کچھ سیکھنا مشکل ہوجاتا ہے مگر اس خاتون کے کیس میں ایسی کوئی علامت دریافت نہیں ہوئی البتہ محققین نے متعدد جسمانی علامات ضرور دریافت کیں محققین نے بتایا کہ تمام تر جینیاتی خامیوں کے باوجود یہ خاتون عام زندگی گزار سکتی ہے مگر بار بار بیماری کا سامنا ضرور ہوسکتا ہے 2014 کے بعد سے اس خاتون کو کینسر کا سامنا نہیں ہوا۔

    محققین نے بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب MAD1L1 جین کی دونوں نقول میں میوٹیشن کو دریافت کیا گیا اور اس بارے میں ابھی مزید وضاحت کرنا ممکن نہیں مگر انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ کینسر کا آسان ہدف بنانے کے ساتھ ساتھ اس میوٹیشن نے بیماری سے نجات میں بھی خاتون کی مدد کی ہے۔

    کینسر کے مریضوں کا علاج ممکن ہے مگر وہ کافی تکلیف دہ عمل ہوتا ہے مگر یہ خاتون متعدد بار بہت آسانی سے بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی محققین کا خیال ہے کہ خاتون کا مدافعتی نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ اس کی کینسر سے متاثر خلیات کو ہدف بنانے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ خاتون تمام اقسام کے سرطان کو شکست دیتی رہی ہیں اور شاید اس کی سائنسی وجہ مزید تحقیق کے بعد ہی سامنے آسکے گی-

    نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

  • کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    لندن: طبی ماہرین نے کینسر جیسے موذی مرض کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے تحت برطانوی ماہرین نے انسانی ڈی این اے میں موجود ایک جین کو کینسر کی بروقت قدرے بہتر تشخیص اور بہتر علاج کا سب سے مؤثر طریقہ قرار دیا ہے۔

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    ماہرین کے مطابق انسان کو وراثت میں ملنے والے جین میں سے ایک ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) ایسا جین ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت بہتر تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے-

    طبی ماہرین نے اس کے لیے 1300 سے زائد کینسر مریضوں کے ٹیسٹس اور جینز کا جائزہ لیا ہے ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں موجود ایک خاص کیمیکل کو اس حوالے سے گیم چینجر قرار دیا ہے۔

    ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں پائے جانے والے کیمیکل کو ڈارک میٹر (Dark matter) کا نام دیا ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے کیونکہ یہی جین عام طور پر کینسر کا سبب بنتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کا مرض عام طور پر ڈی این اے کی تبدیلی یا جینز سے نہیں بلکہ ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) نامی جین کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ رسولی کے خلیوں کو جلانے والی پٹی جِلد کے سرطان کی سب سے مہلک قسم سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    اس پٹی کو مریض کو میلیگنینٹ میلانوما ختم کرنے کے لیے کی جانے والی سرجری کے بعد پہننے کے لیے بنایا گیا ہے۔ میلیگنینٹ میلانوما جِلد کے سرطان کی سب سے خطرناک قسم ہے جو برطانیہ میں 2000 سے زائد افراد کی موت کا سبب بنتی ہے 90 فی صد مریض الٹرا وائلٹ روشنی کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ جاری ہے۔

    جب سرجن کینسر زدہ جلد کے حصے کو، جو عموماً مردوں میں پِیٹھ پر اور خواتین میں ٹانگوں پر ہوتا ہے، کاٹ کر نکالتے ہیں وہ اطراف میں موجود صحت مند ٹشو بھی لیتے ہیں تاکہ کہیں رسولی کے خلیے پھیل نہ گئے ہوں ان اضافی ٹشو کی چوڑائی دو سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے، اس بات کا انحصار اس رسولی کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ جتنا بڑا ٹیومر ہوگا اتنے امکانات ہوں کہ خلیے رسولی کی جگہ سے آگے گئے ہوں۔

    بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    لیکن صحت مند ٹشو کو نکالنے کے باوجود بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ تمام متاثرہ خلیے ختم ہوگئے ہوں۔ کوئی بھی بچا ہوا خلیہ مہینوں یا سالوں بعد دوبارہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 13 فی صد مریضوں میں کینسر زدہ ٹشو نکالے جانے کے دو سال بعد ہی میلانوما دوبارہ پنپ گیا۔

    یہ جدید پٹی سرجری کے بعد رہ جانے والے خلیوں کو ختم کر کے ممکنہ طور پردوبارہ کینسر لاحق ہونےکےامکانات کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ پٹی فوٹو تھرمل تھیراپی کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں ایک لیزر شعا کو استعمال کرتے ہوئے رسولی کے خلیوں کو اتنا گرم کیا جاتا ہے کہ وہ خود ختم ہوجاتا ہے۔

    کینسر زدہ خلیوں کو گرمی سے صحت مند خلیوں کی نسبت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا 60 ڈگری سیلسیئس کا درجہ حرارت متاثرہ خلیوں کو صاف کر دیتے ہیں جبکہ صحت مند خلیے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں تاہم، اس علاج کو کچھ دنوں یا ہفتوں میں دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    کینسر ریسرچ یو کے میں ریسرچ انفارمیشن منیجر ڈاکٹر رُپال مستری کا کہنا تھا کہ یہ پٹی کینسر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکے گی لیکن ابھی اس کو مطبی استعمال میں لانے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

  • پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    خواتین میں چھاتی کا سرطان دنیا بھرکے صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز میں سے ایک اہم ترین ہے، پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر میں تیزی سے اضافہ اور بڑھتی ہوئی شرح اموات لمحہ فکریہ ہے جس کی بڑی وجہ شعور و آ گاہی میں کمی اور بیماری کی روک تھام کے حوالے سے خواتین کو مناسب رہنمائی کا فقدان اور معاشر ے میں اس کے بارے میں بات نہ کرنا شامل ہیں جن سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو انفرادی و اجتماعی سطح پر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

    ان خیالات کا اظہار پرنسپل کانٹی نینٹل میڈیکل کالج و حیات میموریل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت نے بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی واک و سیمینار کے شرکاء سے خطاب میں کیا،اس موقع پر فیکلٹی ممبران، میڈیکل سٹوڈنٹس،مریض و لواحقین اور ایم ایس ڈاکٹر رانا محمد شفیق بھی موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت نے کہا کہ اگرچہ بریسٹ کینسر ایک قابل علاج مرض ہے تاہم اس مرض کی بر وقت تشخیص وفوری علاج میں تاخیر ہونا خواتین کی زندگی کے لئے مہلک خطرات پیدا کر دیتی ہے،دنیا کے مختلف ممالک کے اعدادو شمار کے مشاہدے سے یہ بات عیاں ہے کہ اپنے نومولود کو بریسٹ فیڈ نہ کروانے والی خواتین میں چھاتی کے سرطان کا تناسب زیادہ ہے۔

    پروفیسر عائشہ شوکت نے آگاہی سیمینار و واک میں شریک خواتین اساتذہ اور میڈیکل طالبات سے کہا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں بریسٹ کینسر کے بارے میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کریں تاکہ اس بیماری کی موثر طریقے سے روک تھام کی جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چھاتی کے کینسر کے علاج پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے جس کا مالی بوجھ غریب فیملی کیلئے اٹھانا مشکل ہوتا ہے اور اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین علاج ادھورا چھوڑ دیتی ہیں جس سے یہ مرض جان لیوا بن جاتا ہے لہذا اس تمام صورتحال سے بچنے کے لئے لازمی ہے کہ مرض کی تشخیص و علاج کو ابتداء سے شروع کر دیا جائے اور خواتین اپنے بریسٹ میں کسی قسم کی درد یا” فزیکل چینج” محسوس ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ پروفیسرعائشہ شوکت و دیگر مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ ہے کہ خواتین مشرقی روایات اور سوشل وجوہات کی بناء پر اپنی بیماری کو آخری حد تک پوشیدہ رکھتی ہیں اور معالجین سے اس وقت رجوع کرتی ہیں جب بیماری خطرنات صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ پڑھی لکھی خواتین کے ساتھ دیہی علاقوں میں بسنے والی عورتوں تک بھی ضروری معلومات و آگاہی پہنچائی جائے تاکہ اگر کسی خاتون کو بریسٹ میں کسی قسم کی گلٹی یا درد محسوس ہوتو وہ اسے معمولی سمجھتے ہوئے نظر انداز کرنے کی بجائے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرے اور متعلقہ خواتین کو میمو گرافی ٹیسٹ کروا کر حقائق کا پتہ لگایا جا سکے اور اگر خدانخواستہ سرطان کی کوئی علامات سامنے آئیں تو اس کا فوری علاج شروع کیا جائے۔ ڈاکٹرعائشہ شوکت نے کہا کہ اگر بیماری کی ابتداء سے ہپی تشخیص ہو جائے تو علاج بہت آسان اور سرجری کی نوبت نہیں آتی بلکہ ریڈی ایشن و ادویات سے بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ لازمی کروائیں جو نہ صڑف اللہ کا حکم ہے۔بچوں کی بہتر نشوونما و جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہنے میں اہم کردار ادا کرے ہیں۔

    اس موقع پر پروفیسر عندلیب خانم اور پروفیسر حوریت افضل نے بھی خصوصی گفتگو کی جبکہ سینئر پروفیسرز ،ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے خواتین میں چھاتی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور اس واک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کانٹی نینٹل میڈیکل کالج و حیات میموریل ہسپتال کی انتظامیہ کی کاشوں کو سراہا

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر
    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

  • جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

    چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!

    اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

    نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

    نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔

    شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

  • بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے سےغذائی نالی کے کینسر کا تقریباً تین گناہ خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بہت زیادہ گرم چائے یا کافی پینے کے نتیجے میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : کیمبرج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گرم کافی یا چائے پینے سے آپ کے گلے کے کینسر کا خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ جاتا ہے-

    برطانیہ میں ہر سال تقریباً 10,000 افراد غذائی نالی کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں اور تازہ ترین نتائج بتاتے ہیں کہ کوئی شخص گرم مشروبات ترک کر کے اپنے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    یوکے بائیوبینک سے برطانیہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کے ڈیٹا میں ان لوگوں کو دیکھا جو دوسروں کے مقابلے زیادہ کافی پیتے ہیں اور ان کے کینسر کے خطرے کو دیکھا۔

    مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر اسٹیفن برجیس نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ ہم اس جینیاتی اسکور کو جانتے ہیں جسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ کافی پینے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ زیادہ چائے پینے کے رجحان کو بھی بڑھاتا ہے۔”

    جرنل کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ کافی کے استعمال سے غذائی نالی کے علاوہ کسی بھی قسم کے کینسر کا خطرہ نہیں بڑھتا ہے۔

    کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں مشروبات کےدرجہ حرارت اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق میں فن لینڈ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 5 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کافی زیادہ پینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 2.8 گنا زیادہ ہوتا ہےدرحقیقت لوگ جتنے زیادہ گرم مشروب کو پینا پسند کرتے ہیں، اتنا ہی ان میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ کافی یا چائے زیادہ گرم پیتےہیں ان میں کینسرکا خطرہ 5.5 گنا زیادہ ہوتا ہے جو افراد ہلکی گرم چائے یا کافی پیتے ہیں ان میں 4.1 فیصد اسی طرح جو افراد معتدل حد تک گرم کافی پیتے ہیں ان میں غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ 2.7 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    ٹیم نے اس بارے میں ڈیٹا اکٹھا نہیں کیا کہ ایک شخص نے کتنی کافی پیی، اس لیے یہ بتانے سے قاصر ہے کہ آیا گرم مشروبات کی مقدار زیادہ خطرے سے منسلک ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ کافی پینے سے غذائی نالی کے کینسر میں اضافہ ہونے کے سبب کے اثرات کے ثبوت موجود ہیں، یہاں تک کہ ان لوگوں میں بھی جو گرم مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں۔

    تحقیق میں گرم مشروبات اور کینسر کی دیگر اقسام کے درمیان کوئی تعلق دریافت نہیں ہوا، جس کے باعث محققین کا خیال ہے کہ کافی یا چائے کا درجہ حرارت غذائی نالی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرم مشروبات غذائی نالی کے کینسر کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ چوہوں میں گرمی پانی پینے سے اس کینسر کو دریافت کیا گیا ہے۔

    لیکن محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کافی سے دوسرے کینسر کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کی سب سے زیادہ وضاحت یہ ہے کہ گرم مشروبات کی گرمی گلے کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے خطرناک خلیات بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    ڈاکٹر برجیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ تھرمل انجری سب سے زیادہ قابل فہم مفروضہ ہے، اور یہ اس بات کی وضاحت کرے گا کہ ہم کافی نہ پینے والوں میں بھی اثر کے ثبوت کیوں دیکھ رہے ہیں جن کےبارےمیں ہمارا خیال ہےکہ وہ چائے پینے والے ہوں گے یہ کہنا غیر معقول ہو گا کہ یہ لوگوں کو کہہ رہا ہے کہ ‘کافی کے بجائے، آپ کو چائے پینی چاہیے اور آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے-

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    مجھے لگتا ہے کہ یہ اس کے برعکس ہے جو ہم اصل میں کہہ رہے ہیں۔ یہ کافی یا کیفین کے بارے میں کسی خاص چیز کے بجائے تھرمل چوٹ لگتی ہےبہت زیادہ درجہ حرارت پر کافی پینے سے گریز کرنا واقعی نتیجہ ہے۔ اگر آپ محسوس کر رہے ہیں جیسے آپ کے گلے کو یہ نقصان پہنچا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جس کے بارے میں آگاہ ہونا اور ممکنہ طور پر دوبارہ ڈائل کرنے کے قابل ہے۔

    تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ کافی پینے والوں کو زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس تحقیق میں کینسر کی عام شکلوں سے کوئی تعلق نہیں ملا۔

    ڈاکٹر برجیس نے مزید کہا کہ میرے خیال میں مجموعی طور پر کافی پینے والوں کے لیے یہ اچھی خبر ہے کہ کافی کا تعلق کینسر کی زیادہ تر اقسام اور یقینی طور پر کینسر کی سب سے عام شکلوں سے نہیں تھا۔

    ڈاکٹر سوزانا لارسن، کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں مقیم ایک وبائی امراض کے ماہر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا: "ہمارے نتائج اس ثبوت کو تقویت دیتے ہیں کہ کافی کا استعمال عام کینسر کے خطرے پر غیر جانبدار اثر ڈالتا ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • بیماری سے بڑا کوئی استاد نہیں کینسر جیسے مرض‌ کو شکست دینے والی نادیہ جمیل

    بیماری سے بڑا کوئی استاد نہیں کینسر جیسے مرض‌ کو شکست دینے والی نادیہ جمیل

    اداکارہ نادیہ جمیل جو ایک لمبا عرصہ بیمار رہی ہیں انہوں نے بہت بہادری کے ساتھ کینسر جیسے مرض‌ کو شکست دی. نادیہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں‌نے کچھ دل کو چھو جانے والی باتیں کیں، نادیہ جمیل نے کہا کہ جب میری کیمو ہوئی تو میرے سر کے بال ،بھنویں ،ناخن سب ختم ہو گئے تو تب میرا تکبر ٹوٹا کہ یہ ہے اصل نادیہ جمیل. تب مجھے احساس ہوا کہ انسان تو کچھ بھی نہیں ہے. نادیہ نے کہا کہ اس بیماری کے دوران میں نے بہت کچھ سیکھا اللہ کے قریب ہوئی اسکے کرشموں کو پہچانا. مجھے صحیح معنوں میں سمجھ آئی کہ ہر انسان جو دنیا میں آیا ہے اسکو اپنی زندگی خود لیکر چلنا ہے اپنی زندگی کی گاڑی کو خود کھینچنا ہے. نادیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر

    مجھے یہ بیماری نہ آتی تو شاید میں اتنا کچھ نہ سیکھ پاتی. نادیہ نے کہا کہ جب مجھے کینسر ہوا تب کورونا کے دن تھے کوئی میرے پاس آ جا نہ سکتا تھا میری والدہ اور دو بچوں کے علاوہ میرے پاس کوئی نہ تھا. سوچیں تنہائی اور بیماری ہو تو انسان کی ذہنی حالت کیسی ہو سکتی ہے. نادیہ جمیل نے کہا کہ جیسے وقت سے بڑا استاد کوئی نہیں اسی طرح سے بیماری سے بڑا کوئی استاد نہیں‌. یہ وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو سمجھ میں آتی ہے کہ کون آپ کا اپنا ہے اور کون نہیں. میں‌ نے ھوصلے اورہمت سے وقت گزارا اللہ نے اس سخت بیماری سے میری جان چھڑوا دی جس کے لئے میں اسکی شکر گزار ہوں.

  • نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    حال ہی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی شہر لاس اینجلس میں یہ تحقیق یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے کی ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی کیمیکلز گھریلو سامان اور کچن کے کچھ برتنوں میں عام ہوتے ہیں، جس کے استعمال سے کسی شخص میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے –

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل نان اسٹک کچن کے برتنوں، نل کے پانی، واٹر پروف لباس، صفائی ستھرائی کی مصنوعات اور شیمپو میں موجود ہوتے ہیں کچن کے سامان اور کھانے کی پیکجنگ پر عام طور پر پائے جانے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے کو چار گنا بڑھا سکتے ہیں۔

    تحقیق کے دوران محققین نے 50 لوگوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جن میں جگر کا کینسر ظاہر ہوا جبکہ دیگر 50 افراد میں نہیں ہوا، کینسر کے مریضوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور ان لوگوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا جنہیں کبھی بیماری نہیں ہوئی تھی، ان لوگوں کے خون میں کئی قسم کے کیمیکل پائے گئے جنہیں کینسر ہو گیا۔

    محققین کو یہ بات بھی پتہ چلی کہ جب یہ کیمیکلز جگر میں داخل ہوتے ہیں تو میٹابولزم کو تبدیل کرتے ہیں اور فیٹی جگر کی بیماری کا باعث بنتے ہیں جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں (non-viral hepatocellular carcinoma) ہونے کا امکان 4.5 گنا زیادہ ہو جاتا ہے جو ایک عام جگر کا کینسر ہے۔

    یو ایس سی ٹیم نے پایا کہ PFOS جگر میں گلوکوز میٹابولزم، بائل ایسڈ میٹابولزم اور امینو ایسڈ کو تبدیل کرتا ہے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایسے معاملات میں اضافہ ہوا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے کئی حصوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح سے منسلک ہے زیادہ تر سنگین تخمینے 2030 تک تقریباً تین میں سے ایک امریکی کو اس حالت میں مبتلا ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

    ای پی اے نے جون میں ان کیمیکلز کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔ اس نے گھریلو سامان میں ہمیشہ کے لیے کیمیکلز کی قابل قبول سطح کو تیزی سے کم کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    نئی رہنمائی کے مطابق، EPA اب پی ایف او اے کے 0.004 حصے فی ٹریلین (ppt) اور PFOS کے 0.02 ppt سے زیادہ پینے کے پانی کی سفارش نہیں کرتا ہے پچھلی رہنمائی میں پی پی ٹی کی زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ رقم 70 تھی، جو امریکہ کی اعلیٰ ماحولیاتی ایجنسی کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔

    EPA کے ایڈمنسٹریٹر مائیکل ریگن نے ایک بیان میں کہا کہ ‘PFAS آلودگی کے فرنٹ لائنز پرموجود لوگ بہت طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ EPA ان کیمیکلز کو ماحول میں داخل ہونے سے روکنے اور متعلقہ خاندانوں کو اس وسیع چیلنج سے بچانے میں مدد کے لیے حکومت کے ایک مکمل طریقہ کار کے حصے کے طور پر جارحانہ کارروائی کر رہا ہے۔’

    ماہرین طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ کیمیکل بہت سی گھریلو مصنوعات پر موجود تھے، لیکن ان کی اجازت اس وقت تک تھی جب تک کہ وہ قابل قبول سطح سے نیچے تھےEPA اب کہتا ہے کہ پچھلی قابل قبول سطحیں بہت زیادہ تھیں، اور ان میں نمایاں کمی آئی-

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    بیجنگ :چینی سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے انتہائی مؤثر دوا تیار کرلی ،اطلاعات کے مطابق چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے ایک ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو دھاتی بایو میٹریل پر مبنی ہے اور دیگر خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر ‘ٹیومر’ کو جلا دیتا ہے۔

    سو چاؤ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فنکشنل نینو اینڈ سافٹ میٹریلز کے سائنسدانوں نے کیلشیم اور مینگنیز آؤنز سے اس ہائیڈرو جیل تیار کیا ہے، جو انسانی جسم کے محدود ہدف شدہ حصے کو زیادہ حرارت دے کر بنیادی ٹیومر کے مکمل خاتمے کو فروغ دیتا ہے، اس عمل کے دوران نزدیکی صحتمند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔

    یونیورسٹی کے ایک مقالے کے مصنفین فینگ لیانگ زو اور لیو ژوانگ کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ علاج ٹیومر کے مکمل خاتمے اور اسے دوبارہ ہونے سے روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔

    فینگ نے مزید کہا کہ محققین اس طریقۂ علاج کو مریضوں پر استعمال کرنے کیلئے جائزہ لے رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 10 لاکھ افراد کینسر کی مختلف اقسام کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، عالمی سطح پر ہر 6 میں سے ایک شخص اس کا شکار ہوتا ہے۔

  • کینسر کی ادویات عوام کو مفت ملیں گی ، یقین ہے کہ مشکل کے بعد آسانی ہے،حمزہ شہباز

    کینسر کی ادویات عوام کو مفت ملیں گی ، یقین ہے کہ مشکل کے بعد آسانی ہے،حمزہ شہباز

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ یقین ہے کہ مشکل کے بعد آسانی ہے-

    باغی ٹی وی : وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے میڈیا سے گفتگو میں ادویات سے متعلق کہا کہ کینسر ادویات سے عوام کو محروم کیا گیا لیکن اب کینسر کی دوائیاں عوام کو مفت میسر آئیں گی3 ماہ میں آئینی بحران لایا گیا لیکن آئینی بحران عوام کو آٹا سستا دینے سے نہیں روک سکا یقین ہے مشکل کے بعد آسانی ہے۔

    ادویات میں شدید کمی عوام پریشان۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ پونے 4 سال سے سیف سٹی کے کیمرے بند پڑے ہیں اور پولیس میں اچھے افسران کا انتخاب کیا گیا ہے۔ نئے پاکستان والوں نے پرانے کو خراب کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم سب کو اکٹھا کر کے قانون پر عملداری کو یقینی بنائیں گے اور قانون موجود ہے لیکن سزا میں تاخیر ہوتی ہےجن پولیس افسران سے زیادتی ہوئی ہے ان سے رابطہ کرتا ہوں اور اگر سفارش پر بھرتیاں ہوتی رہیں گی تو پولیس کیسے کام کرے گی؟-

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 8 ہزار 911 میگا واٹ تک پہنچ گیا،بجلی کا دورانیہ 18 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا

    واضح رہے کہ دویات میں شدید کمی کی وجہ سے عوام پریشانی میں مبتلا ہے بہت سی ادویات کی شدید قلت سامنے آئی ہے۔ ان ادویات میں پیناڈول، دل کا دورہ روکنے،پھیپھڑوں کے انفیکشن، ذہنی تنائو،جوڑوں کےدرد،دمہ،کینسرکی ادویات اور اس کے علاوہ مزید ذیابیطس ،بلڈ پریشر،ہیپاٹائٹس کی ادویات اور اس سے علاوہ 35 سے زائد ادویات کی شدید قلت کا سامنا شہروں کو کرنا پر رہا ہے۔

    مزید برآں یہ کہ ادویات کی عدم دستیابی کے حوالے سے سیکرٹری صحت کےمطابق فارمیسی مالکان یہ سب کر رہے ہیں۔ ان کے یہ سب کرنے کا مقصد صرف ادویات کو مہنگا بیچنا ہے۔اس حوالے سے محکمہ صحت ادویات کی کمی کو دور کرنے کیلئے کوشیش کر رہی ہے۔

  • کینسر کے مریضوں کیلئے خوشخبری

    کینسر کے مریضوں کیلئے خوشخبری

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کا دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے احسن اقدام

    وزیر اعلی حمزہ شہباز کی کینسر کے مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی کیلئے خصوصی کاوش رنگ لے آئی، کینسر کے مریضوں کے لئے مفت ادویات کی فراہمی کا مسئلہ حل کر دیا گیا. کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی خریداری کے لئے نقد رقم ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی جائے گی .

    میو ہسپتال اور بینک آف پنجاب کے درمیان مفت ادویات کی خریداری کے لئے رقم ٹرانسفر کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی موجودگی میں معاہدہ پر دستخط کئے گئے . بینک آف پنجاب کینسر کے رجسٹرڈ مریضوں کو امید زندگی پروگرام کے تحت رقم منتقل کرے گا

    اس موقع پر وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی سے اللہ بھی راضی ہوگا اور مخلوق بھی۔کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات کی تسلسل کے ساتھ فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ چیف سیکرٹری، صدر بینک آف پنجاب، سیکرٹری صحت اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

    قبل ازیں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب کی عوام کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے مفت علاج کی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہیلتھ انشورنس وزیراعظم شہبازشریف کا برین چائلڈ ہے۔

    خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازعوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرناچاہتے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو علاج کی بہترسہولیات فراہم کرنے کیلئے مزید ہسپتالوں کو تیزی سے ام پینل کیاجارہاہے،پنجاب کے خاندانوں کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے بون میروٹرانسپلانٹیشن کی سہولت بھی دیناچاہتے ہیں،پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں رات سے صبح تک ڈاکٹرزکی حاضری اور مریضوں کو علاج کی بہترسہولت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی سہولت کی خاطرخودفیلڈمیں نکلناہوگا۔ پنجاب میں منتخب شدہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اسٹیٹ لائف کے عملہ کو مریض کے بہترعلاج کو یقینی بناناہوگا۔عوام کی جانب سے یونیورسل ہیلتھ انشورنس سے متعلق شکایات کا ترجیحی بنیادوں پر ازالہ کیاجائے گا۔پنجاب کے منتخب شدہ مختلف ہسپتالوں کا دورہ کرکے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے ذریعے مریضوں کے علاج کو مانیٹرکیاجائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب کے علماء کرام سے مساجدمیں خطبات کے ذریعے عوام میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس بارے آگاہی پیداکرنے کی اپیل کرتے ہیں۔