کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے انکار کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میگوئل دیاز کانیل نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ سوائے امیگریشن کے تکنیکی مسائل کے علاوہ کسی بھی معاملے پر بات چیت نہیں ہو رہی،صدر کانیل کا یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیوبا پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے اور دھمکی دینے کے بعد سامنے آیا۔
صدر کانیل نے کہاکہ امریکی حکومت کے ساتھ مہاجرین کے سوا کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ان کا یہ ردعمل اس بیان کے بعد آیا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا اور کیوبا کے درمیان بات چیت جاری ہے۔
ہم کسی کے دل میں زبردستی اعتماد نہیں ڈال سکتے، مولانا فضل الرحمان
ٹرمپ نے الزام عائد کیاکہ کیوبا نے برسوں تک وینزویلا سے حاصل ہونے والے تیل اور مالی وسائل پر گزارا کیا اور اس کے بدلے وینزویلا کے دو رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی انہوں نے خبردار کیاکہ اب امریکا کی طاقتور فوج وینزویلا کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور کیوبا کو مزید تیل یا مالی مدد نہیں ملے گی، اس لیے فوری معاہدہ کرنا ضروری ہے ورنہ دیر ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی پر گزشتہ کیوبا کے صدر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اور کوئی بھی ملک یا رہنما انہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔
وزیراعظم کی اسی سال حج کے تمام ضروری مراحل کو مکمل ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت





