Baaghi TV

Tag: کیپٹن محمد سرور شہید

  • کیپٹن محمد سرور شہید کا 78 واں یوم شہادت

    کیپٹن محمد سرور شہید کا 78 واں یوم شہادت

    کیپٹن محمد سرور شہید کا 78 واں یوم شہادت آج منایا جایا رہا ہے ۔

    کیپٹن محمد سرور نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ کے دوران آزاد کشمیر کے تلپترہ سیکٹر میں دشمن کیخلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیاکیپٹن سرور دشمن کی مضبوط دفاعی پوزیشن پر حملے کی قیادت کر رہے تھے شدید فائرنگ کے باوجود انہوں نے اپنی بٹالین کو آگے بڑھایا اور دشمن کے مورچوں کو خاموش کرانے کی کوشش کے دوران شہید ہوئے،ان کی غیر معمولی بہادری، جرات اور قیادت کے اعتراف میں انہیں بعد ازاں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا گیا، اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے پہلے شہید بنے۔

    صدر ، وزیراعظم ،فیلڈ مارشل عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کیپٹن محمد سرور شہید (نشان حیدر) کے یوم شہادت پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    صدرِ مملکت آصف زرداری نے کیپٹن محمد سرور شہید کو 78 ویں یوم شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن سرور شہید نے آزادیٔ کشمیر کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے فرض، شجاعت اور حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کی،کیپٹن سرور شہید نے قومی تاریخ میں ایسا باب رقم کیا جسے آنے والی نسلیں ہمیشہ احترام اور فخر کے ساتھ یاد کرتی رہیں گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، کیپٹن محمد سرور شہید نے 27 جولائی 1948 کے دوران دشمن کا مقابلہ کیا،کیپٹن محمد سرور شہید کو وطن کی خاطر قربانی کے اعزاز میں نشان حیدر سے نوازا گیا، کیپٹن محمد سرور شہید جیسے بہادر سپوت پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کی ضمانت ہیں، کیپٹن محمد سرور شہید نے ثابت کیا کہ دفاع وطن میں قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، کیپٹن محمد سرور شہید کا جذبہ حب الوطنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے،پوری قوم کو کیپٹن سرور شہید سمیت تمام بہادر شہداء پر فخر ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 27 جولائی 1948ء کو پہلی کشمیر جنگ کے دوران آزاد کشمیر کے علاقے تل پترا میں کیپٹن محمد سرور شہید نے کشمیر کی آزادی کیلئے فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا اور پاکستان کے پہلے نشان حیدر حاصل کرنے والے عظیم سپوت بنے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کیپٹن محمد سرور شہید نے اپنے جوانوں کی قیادت اگلے مورچوں سے کرتے ہوئے غیر معمولی بہادری، شاندار عسکری حکمت عملی اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا،کیپٹن محمد سرور شہید کی لازوال قربانی جرات، استقامت اور وطن سے بے لوث وابستگی کی ہمیشہ زندہ رہنے والی علامت ہے، کیپٹن محمد سرور کی قربانی ، استقامت اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے، پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ان کی عظیم میراث کو انتہائی احترام اور عقیدت کے ساتھ سلام پیش کرتے ہیں۔

    کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یومِ شہادت قومی عقیدت اور عسکری وقار سے منایا گیا
    سنگھوری مزار پر پاک فوج کی سلامی، پھولوں کی چادر اور فاتحہ خوانی میجر جنرل عاصم کی شرکت شہید کی قربانی قومی عزم کی علامت قرار
    سروسز چیفس کا کیپٹن محمد سرور شہید کو بھرپور خراجِ عقیدت شہداء کی قربانیوں کو قومی استحکام، جرات اور حب الوطنی کا ابدی استعارہ قرار دیا
    گوجرخان (قمرشہزاد) پاکستان کے پہلے نشانِ حیدر کے اعزاز یافتہ عظیم سپوت کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یومِ شہادت اتوار کے روز ان کے آبائی گاؤں سنگھوری، گوجرخان میں انتہائی عقیدت، قومی جذبے اور عسکری وقار کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر منعقدہ مرکزی دعائیہ تقریب میں پاک فوج، سول انتظامیہ، معزز شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے مادرِ وطن پر جان نچھاور کرنے والے اس عظیم ہیرو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی 19 ڈویژن منگلا کے میجر جنرل عاصم تھے، جنہوں نے کیپٹن محمد سرور شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جبکہ قومی ہیرو کی بے مثال قربانی کو پاکستان کی عسکری تاریخ کا درخشاں باب قرار دیا گیا۔ تقریب سے خطاب اور اظہارِ خیال کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کیپٹن محمد سرور شہید نے 27 جولائی 1948ء کو پہلی کشمیر جنگ کے دوران تلپترا، آزاد کشمیر کے محاذ پر دشمن کے خلاف جرات، استقامت اور بے مثال بہادری کی داستان رقم کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی لازوال قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے پہلے نشانِ حیدر سے نوازا گیا، جو وطن سے وفا، غیر متزلزل عزم اور بے خوف قیادت کی ابدی علامت ہے۔ یومِ شہادت کے موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بھی اپنے الگ الگ پیغامات میں کیپٹن محمد سرور شہید کی بے مثال قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی وقار کی بنیاد ہیں، جنہیں قوم ہمیشہ عزت و احترام سے یاد رکھے گی۔ تقریب کے اختتام پر ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی، افواجِ پاکستان کی سربلندی، مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی اور شہدائے وطن کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

  • نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی شخصیت، کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 77 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے-

    گوجر خان میں کیپٹن محمد سرورشہید کے77 واں یوم شہادت کے موقع پر مزار پر پھول رکھنے اور فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد کی گئی،تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاکف اقبال (ہلالِ امتیاز ملٹری) تھے، جنہوں نے مزار پر پھول چڑھائے اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ میں دشمن کے خلاف جامِ شہادت نوش کیا وہ پاک فوج کے پہلے سپوت ہیں جنہیں جرات و بہادری کے اعتراف میں نشانِ حیدر سے نوازا گیاافواجِ پاکستان اور پوری قوم نے عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر بہادری کی نئی تاریخ رقم کی۔

    غزہ میں بھوک اور تکلیف دل دہلا دینے والی ہے، امریکی سینیٹر

    صدر مملکت آصف زرداری نے کیپٹن محمد سرور شہید کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور شہید نے کشمیر کی پہلی جنگ میں مادرِ وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، قوم کو ان کی جرات، استقامت اور عظیم قربانی پر فخر ہے،آج کا محفوظ پاکستان ہمارے ہیروز کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے ، شہداء کی قربانیاں ملکی دفاع اور قومی استحکام کی بنیاد ہیں،قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور نے جموں و کشمیر پر دشمن کے قبضے کو ناکام بنایا اور جام شہادت نوش کیا، قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا،انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

    قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا27 اکتوبر 1959 کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    شرح تبادلہ کے نرخوں پر غور : اسٹیٹ بینک نے بینکوں کا اجلاس کل طلب کرلیا