Baaghi TV

Tag: کے الیکٹرک

  • کے الیکٹرک کی کارروائی، زیرِ زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑا گیا

    کے الیکٹرک کی کارروائی، زیرِ زمین غیرقانونی نیٹ ورک پکڑا گیا

    کراچی میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک نے ناظم آباد کے علاقے جلال آباد میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے زیرِ زمین قائم غیرقانونی بجلی کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔

    ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران بجلی چوری میں استعمال ہونے والی تین ہزار کلوگرام سے زائد زیرِ زمین کیبلز برآمد کی گئیں۔ یہ نیٹ ورک طویل عرصے سے بجلی چوری کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جس کے باعث کمپنی کو سالانہ دو لاکھ یونٹ تک کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ اس غیرقانونی نیٹ ورک سے متعلق واجبات کی رقم دو ارب روپے سے تجاوز کر چکی تھی، جس کے خلاف کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی گئی۔

    پاکستان اور سری لنکا آج فائنل میں مدمقابل

    عمران خان سے 870 ملاقاتیں ، تمام سہولیات فراہم ہیں: وفاقی وزیر قانون

    جے سوریا نے پاکستان دورے کی فیس سیلاب متاثرین کو دیدی

    حزب اللہ کا شہید کمانڈر کا بدلہ لینے کا اعلان

  • کے الیکٹرک کی ملکیت،لڑائی عدالتوں سے عوام تک پہنچ گئی

    کے الیکٹرک کی ملکیت،لڑائی عدالتوں سے عوام تک پہنچ گئی

    کے الیکٹرک کے شیئر ہولڈرز کے درمیان ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی لڑائی عدالتوں سے نکل کر عوامی بیانیے تک پہنچ گئی ہے۔

    لندن میں قائم کمپنی کے ای ہولڈنگ (سابقہ ایس پی وی 21) کے ڈائریکٹر کیسی میکڈونلڈ کے الزامات کے جواب میں سعودی الجومیہ پاور ہولڈنگ اور کویتی ڈینہیم گروپ نے بھی کے الیکٹرک کے سیکریٹری کو خط لکھ دیا ہے۔الجومیہ نے کہا ہے کہ وہ کراچی کو بجلی کی فراہمی کے اپنے 20 سالہ عزم اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ مخلص ہیں اور موجودہ انتظامیہ پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق شیئر ملکیت سے متعلق مقدمات پاکستان، برطانیہ اور کیمن آئی لینڈ میں زیر سماعت ہیں اور عدالتی فیصلے کے بغیر کے ای ہولڈنگ اکثریتی شیئرز کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

    الجومیہ نے کیسی میکڈونلڈ کی حیثیت اور اختیارات کو بھی چیلنج کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ غیر قانونی مداخلت اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل میکڈونلڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ کے ای ہولڈنگ کے پاس بالواسطہ 35.7 فیصد حصص ہیں اور موجودہ انتظامیہ پر عدم اعتماد ظاہر کیا تھا۔توقع ہے کہ ملکیت سے متعلق مقدمات کی باقاعدہ سماعت 2026 میں شروع ہوگی

    امریکا کا القاعدہ برصغیر کے دو رہنماؤں پر انعام کا اعلان

    فوجی بغاوت، صدر معزول، سرحدیں بند، کرفیو نافذ

    بھارتی کرکٹر کا ایئر انڈیا میں سفر سے گریز کا مشورہ

  • کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو یقین دہانی کروائی تھی کہ شہر کے تمام فیڈرز رات ساڑھے 9 بجے تک بحال کر دیے جائیں گے، مگر ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کراچی کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم رہا۔

    ممبر نیپرا رفیق احمد شیخ نے کے الیکٹرک کو اضافی وقت بھی دیا، لیکن انتظامیہ فالٹ دور نہ کر سکی۔شہر کے کئی علاقوں میں 36 گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہو سکی۔بارش کے بعد متعدد فیڈرز دوبارہ ٹرپ کر گئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔گلشن اقبال بلاک 5، ڈی ایچ اے، سرجانی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، کورنگی، گلستان جوہر، ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، معین آباد، حسرت موہانی کالونی، پہاڑ گنج، بنارس اور بلدیہ سمیت کئی علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے۔

    صرف تھوڑی بارش کے بعد بھی 415 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔گزشتہ روز ریکارڈ 900 سے زائد فیڈرز بند ہوئے، جس کے باعث تقریباً آدھا شہر بجلی سے محروم رہا۔شہری بجلی بحالی کے بجائے عملے کے رویے پر بھی برہم، کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز پر دھرنے دے بیٹھے۔ے الیکٹرک کا بوسیدہ نظام اور آپریشنل ٹیمیں فالٹ دور کرنے میں مکمل ناکام نظر آئیں، جس کے باعث کراچی کے عوام کو دوسری رات بھی اندھیرے میں گزارنی پڑی۔

    کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

  • کے الیکٹرک کی مہنگی بجلی پر قومی اسمبلی میں بحث،  رپورٹ طلب

    کے الیکٹرک کی مہنگی بجلی پر قومی اسمبلی میں بحث، رپورٹ طلب

    کراچی میں مہنگی بجلی کے معاملے نے قومی اسمبلی میں بھی آواز بلند کر دی، کے الیکٹرک کو ملک کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ فی یونٹ قیمت لینے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس چیئرمین حفیظ الدین کی زیر صدارت ہوا، جس میں کے الیکٹرک کی جانب سے انڈسٹریل ٹیرف پر بجلی فراہمی کا معاملہ زیربحث آیا۔اجلاس میں رکن کمیٹی سید رضا گیلانی نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کو صوبائی محتسب کے فیصلے کی روشنی میں ہٹایا گیا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ای او کا معاملہ الگ ہے، اصل مسئلہ بجلی کی قیمت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی، حب اور لسبیلہ کے لیے فی یونٹ بلنگ 39.6 روپے ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں یہ قیمت 28 روپے تک ہے۔کے الیکٹرک حکام نے اس پر مؤقف اختیار کیا کہ بنیادی قیمت میں اتنا فرق ممکن نہیں۔ تاہم چیئرمین کمیٹی نے اخبارات اور نیپرا ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کو اپنے مفاد کے خلاف کچھ نظر نہیں آتا۔

    نیپرا حکام نے وضاحت کی کہ ملک بھر میں یونیفارم ٹیرف لاگو ہے، جس کے تحت فی یونٹ بنیادی قیمت یکساں ہوتی ہے۔ پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کراچی کے لیے بجلی کی باسکٹ قیمت تقریباً 39 روپے فی یونٹ ہے، کیونکہ کے الیکٹرک کی پیداواری لاگت زیادہ ہے، اس فرق کو کم کرنے کے لیے وفاق سبسڈی دیتا ہے۔

    قائمہ کمیٹی نے نیپرا سے بجلی کی قیمتوں سے متعلق تمام تفصیلات جبکہ کے الیکٹرک سے مہنگی بجلی سے نجات کے لیے اقدامات پر مبنی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    ایف بی آر ،جولائی میں 6 ارب 40 کروڑ روپے زائد ریونیو جمع

    127 سال بعد بھارت کو بدھ مت کے نایاب جواہرات واپس مل گئے

    سعودی عرب: جھولا حادثہ، 23 افراد زخمی، 4 کی حالت نازک

  • کے الیکٹرک کی بجلی 4.69 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست

    کے الیکٹرک کی بجلی 4.69 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست

    کراچی کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کے الیکٹرک نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4.69 روپے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ درخواست اپریل 2025 کی ماہانہ ایندھن ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر دائر کی گئی ہے، جس پر نیپرا 19 جون کو باقاعدہ سماعت کرے گی۔ اگر نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست کو منظور کرلیا تو صارفین کو 7 ارب 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ری فنڈ ملے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل مارچ 2025 کی ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا نے بجلی 2 روپے 99 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری دی تھی، جس کا اطلاق جون کے بجلی بلوں پر کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ مارچ کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے کے الیکٹرک نے ابتدائی طور پر 5.02 روپے فی یونٹ کمی کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا نے 2.99 روپے کمی کی منظوری دی تھی۔ اب اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں مزید کمی کی درخواست سے کراچی کے صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

    بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے، علی رضا سید

    کراچی: تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے دو موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق

    ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد عالمی سطح پر امریکا کی مقبولیت میں کمی

    ایس ای سی پی کی نئی تاریخ, 3,609 نئی کمپنیاں رجسٹر

  • لوڈشیدنگ پر سڑک بند کرنے سے کیا بجلی بحال ہوگی، شرجیل میمن

    لوڈشیدنگ پر سڑک بند کرنے سے کیا بجلی بحال ہوگی، شرجیل میمن

    شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کا کم بلنگ پر لوڈ شیڈنگ کرنا اجتماعی سزا دینے کے برابر ہے-

    کراچی میں سائٹ ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں اس گرمی میں بھی 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہےکسی ایک نے بل ادا نہیں کیا تو سزا سب کیوں بھگتے، کراچی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، سندھ حکومت کے کراچی کے لئے کئی میگا پروجیکٹ چل رہے ہیں، آج بھی ہر صوبے کے لوگ روزگار کمانے کراچی آتے ہیں، ہمارے پاس بہترین مواقع ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں صحت عامہ کی سہولیات ملک میں بہترین ہیں سیلاب متاثرین کے لیے ابتک ساڑھے 8 لاکھ گھر بنا چکے ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے 21 لاکھ گھر بنائے جا رہے ہیں دو ہفتے کے بعد شاہراہ بھٹو قائد آباد تک مکمل ہو جائے گی، سندھ میں اس گرمی میں بھی 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، کسی ایک نے بل ادا نہیں کیا تو سزا سب کیوں بھگتے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ پی پی کراچی میں کچھ نہیں کرتی، سیاست اور پرامن احتجاج کرنے کا حق سب کے پاس ہے، پارکس اور گراؤنڈ میں احتجاج کرنا ہے تو کر لیں احتجاج کے دوران سڑک بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لوڈشیدنگ پر سڑک بند کرنے سے کیا بجلی بحال ہوگی کے الیکٹرک کا کم بلنگ پر لوڈ شیڈنگ کرنا اجتماعی سزا دینے کے برابر ہے۔

  • سندھ اسمبلی کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہنگامہ خیز، کے الیکٹرک پر ارکان برہم

    سندھ اسمبلی کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہنگامہ خیز، کے الیکٹرک پر ارکان برہم

    سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کراچی میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی، ارکان اسمبلی نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی پر سخت تنقید کی، نعرے بازی کے باعث اجلاس بدنظمی کا شکار ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما معاذ محبوب نے مونس علوی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر غیرقانونی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے تو کے الیکٹرک کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں۔ سندھ بھر میں بجلی کے بحران پر غور کے لیے ہونے والے اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی، سیپکو اور حیسکو کے نمائندے شریک ہوئے، تاہم حیسکو چیف کی عدم حاضری پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے شدید برہمی کا اظہار کیا، جس کے بعد حیسکو افسران کو اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

    معاذ محبوب نے موقف اختیار کیا کہ اگر لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری ہو چکا ہے تو اس کے بعد بلاجواز بجلی بند کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔جواباً مونس علوی نے کہا کہ اگر ایف آئی آر ہونی ہے تو بجلی چوروں کے خلاف بھی ہونی چاہیے، جس پر معاذ محبوب نے کہا کہ ہم بجلی چوری کے خلاف آپ کے ساتھ ہیں، لیکن غیر اعلانیہ بجلی بندش فوری بند کی جائے۔

    انہوں نے مزید الزام لگایا کہ خود کے الیکٹرک کے لوگ کنڈے لگوانے میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔اس موقع پر اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے ہدایت کی کہ تمام بجلی تقسیم کار ادارے لوڈشیڈنگ کا باضابطہ شیڈول جاری کریں۔

    اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ساجد سومرو نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ارکان اسمبلی "کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی نامنظور” کے نعرے لگاتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

    پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں بھرپور سفارتی مہم، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

    لاکھوں مسلمان فریضہ حج کے لیے مکہ مکرمہ پہنچ گئے، انتظامات عروج پر

    میرے سینے میں بہت کچھ ، کبھی کبھار جنرل باجوہ کے خلاف بول دیتا ہوں، خواجہ آصف

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 5 ہزار 900 روپے مہنگا

  • وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے ٹیرف پر نظرثانی کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی

    وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے ٹیرف پر نظرثانی کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی

    وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے بجلی نرخوں پر نظرثانی کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرا دی ہے۔

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ کسی بھی ادارے، خواہ وہ نجی ہو یا سرکاری، کی نااہلی کو ٹیرف میں فراخدلانہ اضافے کے ذریعے برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ نظرثانی کی درخواست ایک ذمہ دارانہ اقدام ہے، جس کا مقصد ملک کے بجلی تقسیم نظام میں پائیدار اور صحت مند ماحول کو فروغ دینا ہے۔اویس لغاری نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیپرا میں نظرثانی کا عمل شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔

    ادھر نیپرا میں جمع کرائی گئی وفاقی حکومت کی درخواست کے اہم نکات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ نیپرا کے فیصلوں سے کے-الیکٹرک پر 350 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا، جسے یا تو صارفین برداشت کریں گے یا حکومت۔پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نیپرا نے کے-الیکٹرک کو غیر ضروری خصوصی مراعات، منافع اور زائد اخراجات کی اجازت دی ہے۔

    درخواست کے مطابق فیول کاسٹ کی مد میں 41 ارب روپے کی منظوری دی گئی، بجلی کے نقصانات کے لیے 71 ارب روپے کی اجازت دی گئی، لا اینڈ آرڈر مارجن کی مد میں 2 فیصد کے حساب سے 99 ارب روپے کی اجازت ملی، ناکارہ پاور پلانٹس کی ادائیگی کے لیے 62.5 ارب روپے کی اجازت دی گئی جبکہ ڈسٹری بیوشن نقصانات کے مد میں 21 ارب روپے کی منظوری دی گئی

    قصور: اپووا کا تاریخی دورہ، ادبی و فلاحی مرکز کا قیام اور گنڈا سنگھ بارڈر کا وزٹ

    جلالپور پولیس کا مبینہ دھاوا، چادر و چار دیواری کی پامالی، متاثرین ہائیکورٹ پہنچ گئے

  • غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر سندھ ہائیکورٹ برہم، کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب

    غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر سندھ ہائیکورٹ برہم، کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب

    سندھ ہائیکورٹ کا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید برہمی کا اظہار ، کے الیکٹرک سے وضاحت طلب کر لی۔

    سندھ ہائیکورٹ میں شہر بھر میں جاری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہری کی درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے الیکٹرک سے وضاحت طلب کر لی۔

    عدالت نے کے الیکٹرک حکام سے استفسار کیا کہ شہریوں کو شدید گرمی میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں ہے جب کہ وہ باقاعدگی سے بل بھی ادا کر رہے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جو کرنا ہے کریں، مگر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے متعلق رپورٹ ہر صورت دیں۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی کے علاقے ورکس سوسائٹی میں روزانہ 15 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے حالانکہ علاقہ مکین وقت پر بجلی کے بل ادا کرتے ہیں اوربل ادا کرنے کے باوجود ہمیں اذیت دی جا رہی ہے، لوڈشیڈنگ نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔

    کے الیکٹرک کے نمائندے نے عدالت کو یقین دلایا کہ چند دنوں میں مسئلہ حل کر لیا جائے گا،تاہم عدالت نے سختی سے ہدایت دی کہ اس بیان کے ساتھ ساتھ باضابطہ رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جائے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تفصیلات اور اس کی وجوہات پر مبنی جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

  • کراچی  کے لیے بجلی 5 روپے  فی یونٹ سستی ہونے کا امکان

    کراچی کے لیے بجلی 5 روپے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان

    شہر قائد کے شہریوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں ممکنہ کمی کی صورت میں ریلیف کی نوید سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کے الیکٹرک نے مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 5 روپے 02 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست جمع کرا دی ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو صارفین کو 6 ارب 79 کروڑ روپے کا ریلیف مل سکتا ہے۔

    نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے۔ حتمی فیصلہ اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جاری کیا جائے گا۔یہ ممکنہ کمی مارچ 2025ء کے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے تحت تجویز کی گئی ہے، اور اس کا اطلاق ان صارفین پر ہوگا جو نیپرا کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کے الیکٹرک سے بجلی حاصل کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اگر یہ کمی منظور ہو جاتی ہے تو کراچی کے لاکھوں صارفین کو بجلی کے بلوں میں خاطر خواہ ریلیف ملے گا، جو حالیہ مہنگائی کے دور میں ایک خوش آئند خبر ہے۔

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ 1,900 روپے سستا

    عازمین حج کے لیے اردو سمیت 8 زبانوں میں صحت آگاہی کٹ متعارف

    مورو ہنگامہ آرائی، ایس ایس پی نوشہرو فیروز عہدے سے ہٹا دیے گئے

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی جارحیت میں مزید 2 کشمیری نوجوان شہید