Baaghi TV

Tag: کے الیکٹرک

  • کے الیکٹرک نے تیز ہوا اور بارش کے دوران شہر میں بجلی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا

    کے الیکٹرک نے تیز ہوا اور بارش کے دوران شہر میں بجلی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا

    کراچی: کراچی کے مختلف علاقوں میں منگل کو تیز ہوا کے ساتھ وقفے وقفے سے ہونے والی ہلکی اور تیز بارش کے سلسلے کے دوران کے الیکٹرک (کے ای) نے شہر اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا۔

    کے الیکٹرک کی ٹیمیں بارش کے دوران کسی بھی صورتحال کے نمٹنے کے لیے پوری طرح مستعد و تیار رہیں۔ مجموعی طور پر 1900 سے زائد فیڈرز پر مشتمل کے ای کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں زیادہ تر بحال رہے اور شہر بھرکو بجلی کی مستحکم اور قابل اعتماد فراہمی یقینی بنائی گئی۔ جن علاقوں میں بجلی چوری اور کنڈوں کا استعمال عام ہے، وہاں چند فیڈرز کو اُن علاقوں میں موجود خطرات کے تناظر میں احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کیا گیا تھا، جہاں کے- الیکٹرک کی مقامی ٹیموں کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی۔

    کے الیکٹرک ترجمان اور ڈائریکٹر کمیونی کیشنز عمران رانانے کہا کہ منگل کو دن کے اوقات میں کراچی میں ہلکی اور تیز بارش کے دوران کے الیکٹرک نے شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا۔ چند علاقوں میں جہاں کنڈے، ٹی وی، انٹرنیٹ کے کیبلز وغیرہ کی بہتات ہے اور بجلی کے انفرا اسٹرکچر سے تعمیرات کا محفوظ فاصلہ نہیں ہے، وہاں احتیاطی تدابیر کے تحت بجلی کی فراہمی کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔ تاہم مقامی ٹیموں کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد اُن علاقوں کی بجلی بتدریج بحال کردی گئی۔

    ترجمان کے۔الیکٹرک نے مزید کہا کہ صارفین کی سہولت کیلئے کے الیکٹرک کے کال سینٹر 118، ایس ایم ایس سروس 8119، کے ای لائیو اَیپ، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم 24/7 فعال رہے۔ انہوں نےصارفین کو کسی بھی قسم کی معاونت کیلئے ان چینلز کے استعمال کا مشورہ بھی دیا۔

  • بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟ نیپرا نے خوشخبری سنا دی

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کتنی کمی کا امکان ہے؟ نیپرا نے خوشخبری سنا دی

    اسلام آباد: نیپرا کی جانب سے دسمبر2021 کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں 2.59 روپے فی یونٹ کمی کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : نیپرا نے دسمبر کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں 1.79 روپے فی یونٹ کمی کیلیے کے الیکٹرک کی درخواست پر عوامی سماعت کی۔

    دوکان سے مرغی خریدنے گیا شخص ایک لاکھ ڈالرزکا مالک بن گیا

    سماعت کے دوران نیپرا نے کے الیکٹرک کی طرف سے فراہم کردہ حسابات میں کچھ ایڈجسٹمنٹ کی ہے اور مشاہدہ کیا ہے کہ درخواست میں کمپنی کی طرف سے مانگے گئے 1.79 روپے فی یونٹ کے بجائے کمی تقریباً 2.59 روپے فی یونٹ ہوگی۔

    دورہ پاکستان: کھلاڑی اپنی فیملیز کیساتھ مشاورت کریں گے اور اپنے جواب کے ساتھ واپس آئیں گے، ہیزل ووڈ

    نیپرا نے کے الیکٹرک کیلئے دسمبر فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا نیپرا اتھارٹی اعدادو شمارکاجائزہ لے کرفیصلہ جاری کرے گی۔ بجلی کی قیت مں کمی کا فیصلہ اتھارٹی چند روز بعد کرے گی ۔

    دوران سماعت کے الیکٹرک حکام نے کہا کہ دسمبر میں بجلی کی طلب گزشتہ مہینوں کی نسبت کم رہی اسی لیے فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 79 پیسے سستی کرنے کی درخواست کی ہے۔

    وزیراعظم کے دورہ چین کا مقصد سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے،فواد چوہدری

    نیپرا حکام نے کہا کہ اس دوران گیس پریشر میں کمی اور میرٹ آرڈر کی خلاف ورزیاں بھی ہوئیں، میرٹ آرڈر کی خلاف ورزیوں سے مجموعی طور پر 10 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ’کے الیکٹرک‘ کی درخواست میں مزید 78 پیسے کی ایڈجسٹمنٹ شامل کی جائے گی، جو کے الیکٹرک کے اعداد و شمار کے برعکس 2 روپے 59 پیسے فی یونٹ بنتی ہے۔

    سری لنکا پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر قرض لے گا

    چیئرمین نیپرا نے اسے کراچی کے شہریوں کے لیے اچھی خبر قرار دیا دو مختلف سسٹمز کے ذریعے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

    یاد رہے کہ نومبر 2021 میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا نے کراچی والوں کے لیے بجلی ایک ماہ کے لیے 76 پیسے فی یونٹ سستی کی تھی۔

    ملک میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 14 لاکھ سے زائد ہو گئی

  • کے۔الیکٹرک کا مچھر کالونی میں ہونے والے واقعہ پر اظہار افسوس

    کے۔الیکٹرک کا مچھر کالونی میں ہونے والے واقعہ پر اظہار افسوس

    کراچی۔: سہراب گوٹھ کے علاقے مچھر کالونی میں 2 فروری کی شام کو پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے متاثرین اور ان کے خاندان سے کے۔الیکٹرک نے دلی افسوس کا اظہار کیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند بچوں نے کھیلنے کے دوران بجلی کے تار کو چھونے کی کوشش کی جس کی وجہ سے ان کو بجلی کا جھٹکا لگا

    اس واقع کی اطلاع جیسے ہی موصول ہوئی، کے۔الیکٹرک کی مقامی ٹیمز نے جائے وقع پر پہنچ کر علاقے کو محفوظ کر لیا۔ابتدائی تحقیقات کے بعد کسی بھی مقام پر تار نہیں ٹوتے تھے اور کے۔الیکٹرک کا نیٹ ورک مکمل طور پر بحال تھا۔ جائے وقوع پر بجلی کی فراہمی حفاظتی اقدامات کے تحت مختصر عرصے کیلئے بند کی گئی تھی جس کو متعلقہ ٹیم سے کلیئرنس ملنے کے بعد بحال کر دیا گیا۔

    کے۔الیکٹرک کے نمائندے نے وضاحت کی کہ ہائی ٹینشن تاروں کو براہ راست یا کسی بھی آلے سے چھونا نہایت خطر ناک ہے۔
    .
    یوٹلٹی شہریوں کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنے کیلئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے تاکہ شہری کسی بھی حادثے سے محفوظ رہیں

  • شہروں کے لیے مستحکم انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے:چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک مونس علوی

    شہروں کے لیے مستحکم انفرا اسٹرکچر کی تعمیر ضروری ہے:چیف ایگزیکٹو آفیسرکے الیکٹرک مونس علوی

    کراچی : کے الیکٹرک (کے ای) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی کا کہنا ہے کہ قابل تجدید توانائی کو پاور سیکٹر میں اس طرح شامل کیا جانا چاہیے، جس سے سسٹم کی استعداد میں اضافہ ہو۔ ایک قابل بھروسہ پاور نیٹ ورک ایک مستحکم شہر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے توانائی کا مستقبل ویبینار میں عالمی ورچوئل سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا عنوان ”ماحولیاتی عمل کو مضبوط بنانے میں پاور سیکٹر کا کردار“ تھا۔

    ویبینار میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سمیت توانائی کی صنعت سے وابستہ ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ مباحثے میں پاکستان کے بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ بڑھانے کے منصوبوں اور ان میں حائل رکاوٹوں کے حوالے سے سیرحاصل بحث کی گئی۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے دوچار ممالک کی فہرست میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ اس حوالے سے ملکی صنعتوں اور پاور سیکٹرکو تبدیلی کے سفر میں ایک اہم کردارادا کرنا ہے۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک امین اسلم نے خطاب میں کہا کہ قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے قابل تجدیداور شفاف توانائی موسمیاتی تبدیلی کا اہم ستون اور گلاسگو معاہدے کا ایک اہم جز ہے۔ پاکستان فضائی آلودگی اور کاربن کا اخراج کرنے والا بڑا ملک نہیں ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے حل کا حصہ بننا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں واضح قومی سوچ موجود ہے۔ گزشتہ سال پاکستان میں محفوظ علاقوں (نیشنل پارک) کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ پاکستان فضائی آلودگی اور کاربن اخراج کے حوالے سے سال 2030 تک کے متعین کردہ اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 10 سالہ منصوبے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دوسرے ممالک کی طرح کاربن کے اخراج کو صفر سطح پر لانے کے مشن پر گامزن ہے۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے ریگولیٹر کے Power with Prosperity وژن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کہ نیپرا کے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلیٹی (سی ایس آر) پورٹل پر 300 سے زائد لائسنس یافتگان میں سے 145 نے اپنے آپریشنل علاقوں کی کمیونیٹیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے 4.4 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سرمایہ کاری سے تقریباً 18,900 ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی کوششوں اوروژن Indicative Generation Capacity Expansion Plan (IGCEP) کی تعریف کی، جس کی حال ہی میں منظوری دی گئی ہے، اس وژن میں ”پہلی مرتبہ بجلی کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے سائنسی طریقہ اپنا گیا ہے۔“جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی ہوگی، اوراس کا فائدہ صارفین کو بجلی کے بل میں کمی کی صورت میں ملے گا۔

    کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے مستحکم قومی ایجنڈے کے حوالے سے پاور سیکٹر کے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ کے ای نے سال 2030 کے لائحہ عمل میں بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید ذرائع سے 1100میگا واٹ اضافے کی منصوبہ بندی کی ہے۔انہوں نے ورلڈ بینک اور سندھ انرجی ڈپارٹمنٹ کے ساتھ شراکت داری کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت کے الیکٹرک ورلڈبینک اور محکمہ توانائی سندھ سے 350 میگاواٹ تک شمسی توانائی خریدے گا۔ مزید برآں کے ای نیٹ میٹرنگ کے ذریعے 40 میگاواٹ اضافہ کرے گا۔ پاور سیکٹر کی ذمہ داری پر تبصرہ کرتے ہوئے مونس علوی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شہر کراچی کو سخت موسمی حالات سے محفوظ رکھنے میں کے ای خود کو ایک رول ماڈل سمجھتا ہے۔ یہ شہر سخت موسمیاتی حالات کا مقابلہ کرنے کی کافی استعداد رکھتا ہے۔

    چیئرپرسن پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈاکٹر شمشاد اختر نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں سستے اورکم اخراج سے بجلی کی پیداوار کا نیا راستہ اختیار کرنے کے بہت سے مواقع ہیں۔ انہوں نے گورننس اسٹرکچر کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں مضبوط شعبہ جاتی پالیسیوں اور قومی Decarbonization حکمت عملی پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا، جو کہ ماحولیاتی استحکام کے لیے لازمی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) بہترین انتخاب ہے۔ توانائی کے متنوع ذرائع اور مقامی طور پر سرمائے کے حصول و طویل مدتی قرض کے لیے صنعت کو اس جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر کی 106 پائیدار اسٹاک ایکس چینجز کی پیروی کرتے ہوئے پی ایس ایکس بھی اس میں شامل ہوسکتا ہے۔ عالمی سطح پر ان ایکس چینجز میں 53,000 سے زائد کمپنیز کا اندراج ہے اور مارکیٹوں کا حجم تقریباً 88 ٹریلین ڈالر ہے۔ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے قابل عمل فریم ورک کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ریگولیٹرز پر زور دیا کہ وہ معیاری بین الاقوامی طریقوں اور رہنما خطوط کے مطابق مستحکم گرین بانڈز اور ایس ڈی جی بانڈ کے اجرا پر غور کرے اور کاربن کریڈٹ مارکیٹ کا ادارہ جاتی بنائے۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک کو ماحولیاتی خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے بینکوں کے اثاثوں اور مالیاتی استحکام کے لیے ایک پروڈنشل فریم ورک بنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ اپنے Stranded Assets کے لیے مزید فنڈز تلاش کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی نئی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، جس نے پاکستان کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبے خریدے گا اور توانائی کی منتقلی کے طریقہ کار Energy Transition Mechanism (ETM) کے تحت صاف توانائی فراہم کرے گا۔

    ڈائریکٹر گورننس اینڈ پالیسی ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ڈاکٹر عمران ثاقب نے استحکام کے لیے شراکت داری کی اہمیت کے حوالے سے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”ذہنی ہم آہنگی شراکت داری کی ایک امتیازی خصوصیت ہے۔“ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں گرین انرجی کی جانب منتقل ہوتے ہوئے اُن کمیونیٹیزکو بھی مدنظر رکھنا ہوگا جن کی آمدن کا انحصار روایتی ایندھن پر ہے کہ کہیں وہ پیچھے نہ رہ جائیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان میں جن منصوبوں پر کام کر رہا ہے، ان کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب نے واضح کیا کہ فنڈنگ کے درست ذرائع تک رسائی اور منصوبوں کی افادیت کو بڑھانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کا صحیح امتزاج بھی ضروری ہے۔

    ورلڈ بینک کی سینئر پالیسی کنسلٹنٹ ارمینہ ملک نے سندھ اور بلوچستان میں قابل تجدید توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کی اسٹڈیز کے دلچسپ نتائج سے آگاہ کیا۔ ورلڈ بینک کی تحقیق کے مطابق دونوں صوبوں میں کم از کم دس، دس میگاواٹ کے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی صلاحیت ہے، جو کہ بہت امید افزا بات ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان کا ترسیلی نظام ہوا اور شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی 20 گیگا واٹ (جی ڈبلیو) سے زیادہ بجلی کی ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اس کے ساتھ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نیٹ ورک میں قابل تجدید توانائی کو شامل کرنے کی اضافی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اگرچہ ان منصوبوں پر کافی لاگت آئے گی، لیکن اس سے طویل مدتی بچت کئی گنا ہو گی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا گرین انرجی انتہائی طلب کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے؟

    ارمینہ ملک نے کہا کہ ایسا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیٹری اسٹوریج کو سسٹم میں شامل کیا جائے، لیکن اس کے لیے اُس وقت تک انتظار کرنا پڑے گا، جب تک کہ بیٹریوں کے ذریعے بجلی کی لاگت مسابقتی سطح پر نہ آجائے۔

    دی فیوچر آف انرجی ویبینار گفتگو کا ایک سلسلہ ہے، جس میں عالمی توانائی کے شعبے،خاص طور پر پاکستان کو درپیش مسائل کے حوالے سے سوچ رکھنے والے رہنماؤں کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

  • تیز بارش آندھی کے باوجود کے الیکٹرک کی زبردست کارکردگی سامنے آگئی

    تیز بارش آندھی کے باوجود کے الیکٹرک کی زبردست کارکردگی سامنے آگئی

    کراچی : تیز بارش آندھی کے باوجود کےالیکٹرک کی زبردست کارکردگی سامنے آگئی ،جیسے ہی جمعہ کی صبح سے بندرگاہی شہر میں تیز ہوائیں چلنا شروع ہوئیں، کے الیکٹرک نے شہر کو بجلی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے کو یقینی بنایا۔

    تاہم، جن علاقوں میں چوری اور کنڈا کے استعمال کے زیادہ واقعات ہوتے ہیں انہیں رہائشیوں کی حفاظت کے پیش نظر عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا اور کے ای کی زمینی ٹیموں سے کلیئرنس ملنے کے بعد بجلی کی سپلائی کو تیزی سے بحال کر دیا گیا تھا۔ تیز ہواؤں کے جاری اسپیل کے دوران، حفاظتی وجوہات کی بناء پر بند ہونے والے فیڈرز کی زیادہ سے زیادہ تعداد KE کے 1900 سے زیادہ فیڈرز کے نیٹ ورک میں سے تقریباً 150 تھی جو پورے شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔

    K-Electric کے ڈائریکٹر کمیونیکیشنز عمران رانا نے تبصرہ کیا، "ہمارا سسٹم بنیادی طور پر تیز ہوا کے جھونکے کے طور پر برقرار رہا، جو 36-45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی، جس نے کراچی کو تباہ کیا۔ ہماری ٹیموں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہر کو محفوظ اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی فراہم کی جائے۔ جن علاقوں میں چوری اور کنڈوں کا رواج ہے، ان علاقوں میں حفاظتی خطرات کے پیش نظر محدود تعداد میں فیڈرز کو احتیاطی طور پر عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ تاہم، انہیں زمین پر موجود ٹیموں سے کلیئرنس ملنے کے بعد جلد ہی بحال کر دیا گیا۔

    تیز ہواؤں کے باعث کورنگی میں سٹریٹ لائٹ کا کھمبہ بھی گر گیا جس کے نتیجے میں ایک راہگیر زخمی ہو گیا۔ کے الیکٹرک کے ترجمان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسٹریٹ لائٹ کے کھمبے K-Electric کی ملکیت، نصب، آپریٹ یا دیکھ بھال نہیں کرتے۔

    کراچی کے علاقے لانڈھی کی مانسہرہ کالونی میں بھی گھر کے اندر کرنٹ لگنے کا واقعہ سامنے آیا۔ ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ احاطے کے اندر پانی کی موٹر کا استعمال کرتے ہوئے پیش آیا۔

    جاری موسم کی شدت سے آگاہ کرتے ہوئے، کے ای نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ احتیاط برتیں اور ٹوٹی ہوئی تاروں، ٹی وی اور انٹرنیٹ کیبلز کے ساتھ ساتھ بجلی کے بنیادی ڈھانچے سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔ صارفین کو مزید مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے احاطے کے اندر رہتے ہوئے برقی آلات خصوصاً پانی کی موٹریں استعمال کرتے وقت محتاط رہیں۔

  • کے الیکٹرک نے کراچی میں بارش کے دوران بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے، ترجمان کا دعویٰ

    کے الیکٹرک نے کراچی میں بارش کے دوران بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے، ترجمان کا دعویٰ

    کراچی: ترجمان کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا کہ کے الیکٹرک نے کراچی میں بارش کے دوران بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا-

    باغی ٹی وی : پیر کو کراچی میں مسلسل ہونے والی ہلکی اور تیز بارش کے دوران کے الیکٹرک (کے ای) نے شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا۔ یوٹیلٹی کی ٹیمز برسات کے اس موسم کے دوران مسلسل متحرک رہیں اور اس بات کو یقینی بنایا کہ بجلی کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے۔

    جن علاقوں میں کنڈوں کی بہتات اور بجلی کی چوری زیادہ ہے وہاں پر رہائشیوں کی حفاظت کے پیش نظر بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل کی گئی بعدازاں کے الیکٹرک کی فیلڈ میں موجود ٹیموں سے کلیئرنس ملنے کے بعد بجلی کی فراہمی دوبارہ بحال کردی جائے گی۔

    بارش کے بعد شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال ہوگئی ہے صارفین کو بجلی کی صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھنے کیلئے کے۔الیکٹرک اپنے سوشل میدیا پلیٹ فارمز سے مسلسل تازہ ترین صورتحال نشر کرتا رہا۔

    پاور یوٹیلیٹی کی جانب موجودہ بارش کے دوران حفاظت کے نکتہ نظر سے بند کئے جانے والے فیڈرز کی تعداد نے کسی بھی موقع پر 380 سے تجاوز نہیں کیا کے ای کی ٹیمیں موسم کی تبدیل ہوتی صورتحال کے تحت شہر بھر میں متحرک ہیں

    کے۔الیکٹرک کی ٹیموں نے صدر کے علاقے فریئر مارکیٹ میں ہونے والی ایک افسوناک ہلاکت کی بروقت تحقیقات بھی کیں۔ اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ایک قدرتی موت تھی اور اس کا سبسب کرنٹ لگنا نہیں تھا۔

    کے۔الیکٹرک کے ترجمان نے بتایا ”بارش کے دوران ہمارا سسٹم عمومی طور پر مستحکم رہا اور ہماری ٹیمز نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہریوں کو محفوظ انداز سے بجلی کی فراہمی جاری رہے۔ جن علاقوں میں بجلی چوری اور کنڈوں کی موجودگی عام ہے وہاں خطرات کے سدباب کیلئے چند فیڈرز سے بجلی کی فراہمی کو عارضی طور پر منقطع کیا گیا تھا۔ ان علاقوں میں بھی مقامی ٹیمز کی منظوری کے بعد بجلی کی فراہمی جلد بھال کر دی گئی تھی۔“

    محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر ترجمان کے الیکٹرک نے شہریوں کو حفاظتی تدابیر یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے محفوظ رہنے کے لیے بجلی کی تنصیبات سے مناسب فاصلہ رکھنے کی تاکید کی ہے۔

    بارش کے دوران مقامی سطح پر شکایت کے لیے کال سینٹر 118، ایس ایم ایس سروس 8119، کے لائیو ایپ، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 24/7 رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

  • کراچی صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کر دی گئی، نیپرا کا نوٹیفیکیشن جاری

    کراچی صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کر دی گئی، نیپرا کا نوٹیفیکیشن جاری

    مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام پر حکومت کا ایک اور وار، کراچی کے صارفین کے لیے بجلی 3 روپے 75 پیسے مہنگی کر دی-

    باغی ٹی وی : نیپرا نے کراچی کے صارفین کے لیے بجلی 3 روپے 75 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا نوٹیفکیشن کے مطابق فیول ایڈجسمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت 3روپے 75 پیسے فی یونٹ بڑھا دی گئی ہے۔

    کے الیکٹرک کی کراچی کے شہریوں کیلئےبجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

    کے الیکٹرک کے مطابق بجلی ستمبرکے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی۔ لاگو کیے گئے چارجز دسمبر کے بلوں میں وصول کیے جائیں گے ۔

    نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، بجلی ستمبر کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ہے۔ فیصلے کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہو گا، دیگر صارفین کو آئندہ ماہ اضافی ادائیگی کرنا ہو گی ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کے لیے درخواست پر 29 نومبر کو سماعت کی گئی تھی-

    بجلی 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان، فیصلہ محفوظ

  • کے الیکٹرک کی کراچی کے شہریوں کیلئےبجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

    کے الیکٹرک کی کراچی کے شہریوں کیلئےبجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

    کے الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں کے لئے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری کرلی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک نے نیپرا نے کراچی کے لئے بجلی29پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع کرا دی درخواست اکتوبرکی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے۔

    نیپرا میں کے الیکٹرک کی بجلی مہنگی کرنے کی درخواست کی سماعت آج ہوگی نیپرا کی طرف سے کے الیکٹرک کی بجلی 29پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست منظورہونے کی صورت میں کراچی کے بجلی صارفین پر51 کروڑ60 لاکھ روپے اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔

    بجلی 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان، فیصلہ محفوظ

    اس سےقبل اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا میں سماعت ہوئی تھی چیئرمین نیپرا نے کہا تھا کہ جتنی زیادہ لوڈشیڈنگ کریں گے اتنی بجلی مہنگی ہو گی اور ہمارے لیے یہ بہت ہی مشکل مرحلہ ہے ایل این جی کی طلب و رسد کا معاملہ حل کرانے کے لیے پیش رفت جاری ہے جبکہ فیول پرائس کی مد میں بجلی 4 روپے 74 پیسے مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

    نیپرا نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ نیپرا اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی اور کہا تھا فیصلے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا صارفین کو آئندہ ماہ کے بلوں میں اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔

    کراچی: تین ہٹی کے قریب جھگیوں میں آگ کیسے لگی؟ پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مشیرخزانہ شوکت ترین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا تھا کہ چند ماہ بعد بجلی کی قیمت بڑھانا پڑ سکتی ہے کرنٹ اکاوَنٹ خسارے میں کمی آئی ہے، جومستقل بنیادوں پر200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں صرف ان کیلئے ٹیرف نہیں بڑھایا۔

  • چیئرمین کے-الیکٹرک اکرام سہگل نے استعفیٰ دے دیا

    کراچی :بالآخر کراچی الیکٹرک کے چیئرمین کو ملازمت س ہاتھدھونا پڑا ہے ، یہ فیصلہ انہون نے ملک میں خصوص کراچی میں بارشوں کے دوران ہلاکتوں کے ردعملمیں مدیا ہے ،ترجمان کے الیکٹر ک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اکرام سہگل نے ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا جس کا اطلاق فوری طور پر (6 نومبر) سے ہوگا۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ریلوے سروسزمعطل، یومیہ 3لاکھ کا نقصان،بھارت پریشان

    ان کا کہنا تھا کہ کمپنیر آرڈیننس 1984، کےای میمورنڈم اور آرٹیکل آف ایسوسی ایشن کی روشنی میں بورڈ آف ڈائریکٹرز اگلے اجلاس میں نیا چیئرمین تعینات کریں گے۔یاد رہے کہ کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے رواں برس 18 جنوری کو اکرام سہگل کو بورڈ کا نیا چیئرمین منتخب کر لیا تھا۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

    کے-الیکٹرک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اکرام سہگل کو سابق چیئرمین طیب ترین کی جگہ چیئرمین بنایا گیا ہے، جوآج ہی وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔40 سال سے زائد کاروباری تجربے کے حامل اکرام سہگل پاک فوج میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، بعد ازاں انہوں نے 1977 میں اپنا کاروبار شروع کیا۔

    مقبوضہ کشمیرمیں مُردوں کوگھروں میں ہی دفنایا جارہا ہے،انسانیت دم توڑرہی ہے،

  • نپرا نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پرتحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

    نپرا نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پرتحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

    کراچی : کے الیکٹرک نے کیا کھویا کیا پایا ، نیپرا نے تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی ، نیپرا کی تحقیقاتی ٹیم نے کرنٹ لگنے کے 35 میں سے 19 واقعات میں اور بجلی کی طویل بندش پر کراچی الیکٹرک کو ذمہ دارقرار دیا ہے۔

    نیپرا کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شہر قائد میں ہونے والی حالیہ بارشوں میں بجلی کی بندش پر کے الیکٹرک کو ذمہ دار قرار دے دیا۔

    ذرائع کےمطابق نیپرا کی بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے اب اپنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں شہر میں کرنٹ لگنے کے 35 میں سے 19 واقعات کی ذمہ داری کے الیکٹرک پرعائد کی گئی ہے۔

    نیپرا کے اعلامیے کے مطابق نیپرا حکام نے 1997 کے قواعد کے مطابق قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی کے الیکٹرک انتظامیہ کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    نیپرا نے کہا کہ ارتھنگ کے ساتھ نیٹ ورک پر سیفٹی بریکرز اور دیگر اقدامات بھی کرتے ہیں، سیلابی صورتحال میں کے الیکٹرک نے تمام اداروں کوایمرجنسی نافذ کرنے کی اپیل کی لیکن بارش، سیلابی صورتحال اور پانی کی نکاسی نہ ہونے سے تنصیبات متاثر ہوئیں