Baaghi TV

Tag: کے ایم سی

  • کراچی:  ٹینکرز اور واٹر ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ

    کراچی: ٹینکرز اور واٹر ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ

    کراچی سے ٹینکرز اور واٹر ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو پانی کی ترسیل کے لیے متبادل نظام متعارف کرانے کی ہدا یت جاری کر دی ہے کہ شہر میں موجود تمام 7 واٹر ہائیڈرنٹس کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور شہریوں کو پائپ لائنوں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائےشہریوں کو پانی ان کی دہلیز پر لائنوں کے ذریعے فراہم کیا جائے۔

    میئر کراچی نے بتایا کہ واٹر ہائیڈرنٹس سے ماہانہ تقریباً 30 کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود شہریوں کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے واٹر ہائیڈرنٹس کے کنٹریکٹس گزشتہ سال ہی ختم ہو چکے ہیں اور اب نئے کنٹریکٹس جاری نہیں کیے جائیں گے، ہم شہریوں کو ٹینکرز کے ذریعے پانی حاصل کرنے کی مجبوری سے نجات دلائیں گےٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کوئی مستقل حل نہیں اور اس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے شہر میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر علاقے کو متبادل دنوں میں پانی فراہم کیا جائے گا تاکہ نظام بہتر ہو سکے-

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری

    میئر کراچی نے واٹر کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف، مؤثر اور مستقل نظام نافذ کیا جائے تاکہ کراچی کے عوام کو بنیادی سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

    پینٹنگ کی ماہر چمپینزی 49 برس کی عمر میں چل بسی

  • کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا،مرتضیٰ وہاب

    کراچی: اولڈ سٹی ایریا میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اس سال کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) شہر میں 46 ارب روپے خرچ کرے گی۔

    اس موقع پر اپنے بیان میں مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا کو جدید شہری سہولیات سے آراستہ کرنا اولین ترجیح ہے ، چند ہفتوں میں پانی کی فراہمی کے لیے کام شروع کردیا جائے گا اولڈ سٹی ایریا میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا پانی چوری پر اسپیشل کورٹ بنائیں گے ، چوری میں ملوث پرائیویٹ اور سرکاری افراد کے خلاف کارروائی ہوگی ۔

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تاریخی اولڈ سٹی ایریا کی ترقی اور بحالی کے لیے بلدیہ عظمیٰ کراچی عملی اقدامات کر رہی ہےاولڈ سٹی ایریا ڈویلپمنٹ منصوبہ ضلع جنوبی کراچی میں 595 اعشاریہ 600 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جوڑیا بازار، بولٹن مارکیٹ، میٹھادر اور کھارادر میں سڑ کوں، پیور بلاکس اور سیوریج لائنز کی بحالی شامل ہے۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کا بظاہر سافٹ فیس، پراکسی کا منظم نیٹ ورک

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہاکہ جوڑیا بازار میں 2 ہزار 700 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا اور 67 ہزار 800 اسکوائر فٹ پیور ایریا تعمیر کیا جائے گا جوڑیا بازار میں 12 اور 18 انچ قطر کی 2 ہزار 600 فٹ سے زائد نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی جبکہ بولٹن مارکیٹ میں 69 ہزار 800 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا اور 35 ہزار 194 اسکوائر فٹ پیور بلاکس تعمیر ہوں گے۔

    شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    انہوں نے کہا کہ بولٹن مارکیٹ میں 15 اور 18 انچ قطر کی 4 ہزار فٹ سے زائد نئی سیوریج لائن بچھائی جائے گی۔ میٹھادر میں ایک لاکھ 31 ہزار 862 اسکوائر فٹ پیور ایریا اور 4 ہزار 50 فٹ نئی 12 انچ قطر کی سیوریج لائن شامل ہے کھارادر میں 3 لاکھ 31 ہزار 930 اسکوائر فٹ وئیرنگ ایریا، 95 ہزار 610 اسکوائر فٹ پیور ایریا اور 4 ہزار 100 فٹ 18 انچ قطر کی سیوریج لائن شامل ہےاولڈ سٹی ایریا میں اسٹریٹ لائٹس اور الیکٹریفکیشن کا کام سائٹ کی ضرورت کے مطابق مکمل کیا جائے گا ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت میں شفاف اور معیاری انداز میں مکمل کیے جائیں گے۔

    احسن اقبال کی لاہور، ساہیوال، بہاولنگر موٹروے منصوبے سے متعلق وضاحت

  • کے ایم سی کی تمام پارکنگ مفت کرنے کا فیصلہ

    کے ایم سی کی تمام پارکنگ مفت کرنے کا فیصلہ

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی تمام پارکنگ سائٹس مفت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کو اس حوالے سے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا، کے ایم سی کی پارکنگ سائٹس سے اب کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی اور یہ فیصلہ جلد کیا جائے گا۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی 106 مرکزی سڑکوں پر قائم 46 پارکنگ سائٹس پر فیس نہیں لی جائے گی جبکہ 25 ٹاؤنز اور 6 کنٹونمنٹ بورڈز میں پارکنگ فیس برقرار رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نوٹیفکیشن جاری کرکے شہریوں پر پارکنگ فیس کا بوجھ ختم کر دیا جائے گا، کے ایم سی کے نام پر غیرقانونی پیسے وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی اب اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی ہے، کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سے زائد موجود ہیں۔

    سندھ حکومت کا 30اضلاع میں سندھ پنک گیمزکرانے کا اعلان

    نیوزی لینڈ کے کھلاڑی رویندرا جنوبی افریقا کیخلاف میچ سے باہر

    ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی

  • گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی،کے ایم سی میں کمیٹی کی ہدایت

    گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی،کے ایم سی میں کمیٹی کی ہدایت

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ک

    باغی ٹی وی کے مطابق کے ایم سی کے 12 ہزار سے زائد ملازمین کی حاضری کے لئے مینویل حاضری رجسٹر کے علاوہ ملازمین کی حاضری کے لئے کوئی جدید مکینزم موجود نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔پی اے سی نے کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے خدشے کے پیش نظر کے ایم سی کے 12 ہزار سے زائد ملازمین کا ریکارڈ تمام ڈیٹا سمیت طلب کرلیا ہے۔ منگل کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں ہوا اجلاس میں کمیٹی کے اراکین خرم سومرو، قاسم سراج سومرو سمیت کے ایم سی کے میونسپل کمشنر افضل زیدی، ڈی جی آڈٹ لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کے ایم سی کی سال 2018ع سے سال 2021ع تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی اجلاس میں کے ایم سی افسران کے ایم سی کے تمام ملازمین کی ڈیٹا، سروس بوک، پرسنل فائیلز کی تفصیلات اور سال 2018ع کی کے ایم سی کی اے ڈی پی کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکے۔ اس موقعے پر پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کے ایم سی کے میونسپل کمشنر سے استفسار کیا کے کے ایم سی کے ٹوٹل کتنے ملازمین ہیں اور کتنے ملازمین ڈیوٹی پر آتے ہیں اور ملازمین کی حاضری چیک کرنے کے لئے کیام مکینزم موجود ہی جس پر میونسپل۔
    کمشنر افضل زیدی نے بتایا کے کے ایم سی کے 12ہزار سے زائد ملازمین ہیں جن کی حاضری چیک کرنے کے لئے صرف حاضری رجسٹر موجود ہے جبکے بایومیٹرک سسٹم نصب نہیں ہے اور کے ایم سی کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹس اپنے اپنے شعبے کے ملازمین کی حاضری کی تصدیق کرتے ہیں اور کوئی گھوسٹ ملازم نہیں ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے شھر کراچی سندھ کا کیپیٹل پے اور کے ایم سی ملازمین کی حاضری صرف رجسٹر کے ذریعے مانیٹر کررہا ہے ،جدید دور میں بایو میٹرک نظام کیوں نہیں ہے۔مینوئل حاضری رجسٹر ہونے سے ملازمین ایک دن آکر ایک ہفتے اور ایک ماہ کی حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں۔ اگر تمام ملازمین ڈیوٹی پر آتے ہیں تو پہر آج ہی تمام ملازمین کا حاضری رجسٹر پیش کریں۔کمیٹی کے رکن خرم سومرو نے کہا کے کے ایم سی کے بھت ملازمین ایسے ہیں جو دو دو محکموں میں کام کر رہے ہیں اور بھت سے تو ویزا پر ہیں اور ڈیوٹی نہیں کرتے۔کمیٹی کے ایک اور رکن قاسم سومرو نے کہا کے ہر ماہ کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین کی کروڑوں روپے تنخواہیں نکالی جارہی ہیں اور کے ایم سی پر گھوسٹ ملازمین کا الزام ہی کمیٹی رکن خرم سومرو نے کہا کے کراچی کے قبرستانوں میں بھی کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین گورکن بن کر فی قبر 40 ہزار روپے میں فروخت کر رہے ہیں جس کا ثبوت میرے پاس موجود ہے۔میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کے ایم سی میں 300ملازمین ایسے تھے جو ڈبل تبخواہیں لے رہے تھے اور وہ کے ایم سی کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس میں بھی کام کر رہے تھے ان کی نشاندھی کرکے ان کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔کمیٹی رکن خرم سومرو نے کہا کے کے ایم سی میں ملازمین کی ڈیٹا ڈجیٹل سسٹم پر منتقل کریں تاکے دو دو مقام پر سرکاری نوکری کرنے والوں کی نشاندھی ہو اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے کے ایم سی میں گھوسٹ ملازمین اور گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کا عمل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔محکموں میں ویزا سسٹم بند ہونا چاہئے۔اور کے ایم سی میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان ہی اس لئے کے ایم سی ملازمین کی ڈیٹا سمیت ملازمین کی انٹرنل آڈٹ کرائی جائے۔پی اے سی نے کے ایم سی کے ہر ماہ کروڑوں روپے گھوسٹ ملازمین پر خرچ ہونے کے خدشے کے پیش نظر کے ایم سی کے تمام 12 ہزار سے زائد ملازمین کا ریکارڈ تمام ڈیٹا سمیت طلب کرلیا اور پی اے سی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندھی کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے تحقیقات کروانے کی ہدایت کردی۔پی اے سی میں کراچی کے قبرستانوں میں فی قبر 40 ہزار روپے فروخت ہونے کا انکشاف ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن خرم سومرو نے کے ایم سی افسران سے پوچھا کے کراچی میں کتنے قبرستان ہیں اور کراچی کے قبرستانوں میں کے ایم سی کے ملازمین گورکن بن کر فی قبر 40 ہزار روپے میں فروخت کرے رہے ہیں اور ایک گورکن نے مجھ سے رشتدار کی قبر کے لئے 40 ہزار روپے لئے۔جس پر میونسپل کمشنر افضل زیدی نے بتایا کے کراچی کے قبرستان میں فی قبر کی سرکاری فیس کی پرچی صرف 300روپے ہے۔ پی اے سی اجلاس میں کمیٹی رکن قاسم سومرو نے افسران سے پوچھا کے کراچی میں کے ایم سی کے کتنے پارکس ہیں اور کتنے پارکس پر قبضہ ہے۔میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کراچی میں کے ایم سی کے پاس 46 پارکس ہیں جن میں 90 فیصد پارکس فنکشنل ہیں اور کسی پر بھی قبضہ نہیں ہے۔ پی اے سی اجلاس میں کراچی کی 202نوٹیفائیڈ کچی ابادیوں کے 91 ہزار 495 گھروں اور 15لاکھ سے زائد کمرشل یونٹس کو ریگیولر نہ ہونے سے سندھ کے خزانے کو 21ارب سے زائد کا نقصان ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر پی اے سی نے کچی آبادیوں کی لیز اور رکوری کے متعلق محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔دریں اثنا پی اے سی چیئرمین اور پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان اپنے بانی کے حکم پر فسادات کر رہے ہیں جس کا عتراف علی امین گنڈا پور کرچکے ہیں اور فساد کے نتیجے میں ہونی والی شھادتوں اور نقصان کے ذمیدار بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔نثار کھوڑو نے کہا کے عمران خان کو عدالت ہی آزاد کر سکتی ہے اس لئے پی ٹی آئی بانی کی رہائی کے لئے عدالت سے رجوع کرے۔عمران خان جب احتجاج کروا رہے ہیں تو پہر مذاکرات کیوں کر رہے ہیں۔ یہ دھرا معیار نہیں چلے گا۔ اور عمران خان کو اپنی یہ حکمت لے ڈوبے گی۔ نثار کھوڑو نے کہا کے صرف اسٹبلشمنٹ کے علاوہ کسی اور سے بات نہ کرنے کی دعوی کرنے والہ عمران خان آج حکومت سے بات کر رہا ہے۔ایک طرف انتشار اور فساد تو دوسری طرف مذاکرات اس عمل سے عمران خان کی شکست ہوئی ہے۔ انہوں مے کہا کے عمران خان نے ثابت کردیا ہے کے وہ سیاسی نہیں فاشزم پر یقین رکھتے ہیں۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • کراچی میں بارشوں سے تباہ سڑکوں کا کام آئندہ ہفتے سے شروع ہو گا

    کراچی میں بارشوں سے تباہ سڑکوں کا کام آئندہ ہفتے سے شروع ہو گا

    کراچی میں حالیہ بارشوں کے باعث تباہ ہونے والے انفرااسٹریچکر کی بحالی کے لئے کام تیز کردیا گیا ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمے انجینئرنگ کی جانب سے گزشتہ دونوں دو ارب روپے کی لاگت سے شہر کی 33 سڑکوں کی تعمیر کے ٹینڈرز کی اسکروٹنی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ایک ارب چالیس کروڑ روپے کراچی کی سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کئے جائیں گے جبکہ 40 کروڑ روپے کراچی کے انڈر پاسز اور پلوں کی مرمت پر خرچ کیے جائینگے۔20 کروڑ کی لاگت سے شہر کے مختلف سڑکوں پر لگی اسٹریٹ لائٹس کو جدید سسٹم سے لیس کیا جائے گا۔آئندہ ہفتے سے سڑکوں کی تعمیر کے کاموں کا آغاز کردیا جائے گا۔ کے ایم سی کی جانب سے گزشتہ دونوں سڑکوں کی تعمیر کے لئے الاٹ کئے گئے ٹینڈرز کی اسکروٹنی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جس کے بعد آئندہ ہفتے سے سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے مختلف مقامات پر سڑکوں کی تعمیر پر خرچ ہونے والی رقم کی تفصیلات کے مطابق خوشحال روڈ ،راضی روڈ پی ای سی ایچ ایس اور ایکسپو سینٹر سے اسٹیڈیم جانے والی سڑک کی مرمت پر 5 کروڑ روپے خرچ ہونگے، بابائے خیبر روڈ سے مومن آباد پولیس اسٹیشن تک میٹروول پر موجود سڑک کی مرمت اور سیوریج کے نظام کی بحالی پر 8 کروڑ خرچ ہونگے شاہراہ اورنگی کی مرمت پر 8 کروڑ روپے خرچ کیے جائینگے حب ریور روڈ ،مدینہ الحکمت روڈ ،لال شہباز قلندر روڈ محمود روڈ کی مرمت اور سیوریج نظام کی بحالی پر 21 کروڑ روپے خرچ ہونگے کشمیر روڈ ،چاندنی چوک اور کامران چورنگی کی مرمت پر 5 کروڑ روپے خرچ کیئے جائینگے.

    نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے پی آئی بی کالونی اور نظامی روڈ کی مرمت کی بحالی پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے اسی طرح ناظم آباد ،لیاقت آباد ،طارق روڈ اور عمر شریف انڈر پاس کی مرمت پر 10 کروڑ روپے خرچ ہونگے، اسین آباد ،ناتھا خان ،ڈرگ روڈ پل کی مرمت پر 10 کروڑ روپے خرچ ہونگے،گلشن چورنگی ،لیاقت آباد اور نیپا کے پل کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے،سہراب گوٹھ ،گولی مار اور پاکستان کوارٹر کے پل کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے،آئی سی آئی ،بلوچ کالونی اور کارساز کے پل کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے،ضلع وسطی میں سات ہزار اور شاہ ولی اللہ روڈ کی اسٹریٹ لائٹس کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے،اتحاد ٹاؤن روڈ ،بلدیہ اسٹیڈیم روڈ ،جنگل اسکول روڈ اور 13 ڈی گلشن اقبال اسٹریٹ لائٹس کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے،ملیر پندرہ ریلوے گیٹ ،ابراہیم حیدری روڈ ،بہادر یار جنگ روڈ کورنگی ،اولڈ کوئن روڈ ،کلب روڈ،آئی آئی چند دیگر روڈ ،سندھ سیکریٹریٹ روڈ کی اسٹریٹ لائٹ کی مرمت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے،گلستاں جوہر کانٹیننٹل بیکری ،کامران چورنگی ،میڈی کیئر اسپتال شرف آباد ، نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن ،پی آئی بی کالونی سمیت دیگر علاقوں کی اسٹریٹ لائٹس پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہونگے.

    بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمے انجینرنگ نے اسکروٹنی کے بعد ٹھیکے حاصل کرنے والی کمپنیوں سے آئندہ ہفتے سڑکوں کے تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت دی ہیں جبکہ محکمہ انجینئرنگ نے میئر کراچی کی ہدایت پر تمام کمپنیوں کو واضح طور پر ہدایت دی ہیں کہ سڑکوں کی تعمیر میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت کی جائے گئی اور ناہی کسی کو غیر معیاری میٹریل استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی زرائع کا کہنا ہے کہ میئر کراچی نے محکمہ انجینئرنگ کو ہدایت کی ہے کہ سڑکوں کی تعمیر میں غیر معیاری میٹریل استعمال کرنے والی کمپنیوں کو کے ٹھیکے منسوخ کرکے کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت دی ہیں زرائع بتایا کہ حالیہ بارشوں کے دوران حال پی میں تعمیر کی گئی سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ پر میئر کراچی نے سخت براہمی کا اظہار کیا تھا۔

  • کراچی کے 4 اضلاع کی پارکنگ فیس کی آمدنی کی تفصیلات عدالت میں پیش

    کراچی کے 4 اضلاع کی پارکنگ فیس کی آمدنی کی تفصیلات عدالت میں پیش

    کراچی: کراچی میٹروپولیٹن (کے ایم سی) حکام نے شہر کے 4 اضلاع سے وصول کی جانے والی پارکنگ فیس کی آمدن کی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں غیر قانونی پارکنگ فیس وصولی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے فریقین کو رپورٹ کی روشنی میں دلائل کی تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

    سماعت کے دوران کراچی میٹروپولیٹن (کے ایم سی) نے شہر کے 4 اضلاع کی گاڑیوں کی پارکنگ کی رپورٹ پیش کی۔

    کے ایم سی کی رپورٹ کے مطابق ضلع ایسٹ، ساؤتھ، سینٹرل اور کورنگی میں موٹر سائیکل اور کار پارکنگ سے سالانہ ساڑھے 8 کروڑ آمدنی ہوتی ہے، موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 10 روپے اور کار کی پارکنگ فیس 30 روپے ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسٹ، ساؤتھ، سینٹرل اور کورنگی میں روز اوسطاً 6214 موٹرسائیکلیں پارک ہوتی ہیں، چاروں اضلاع میں موٹر سائیکل پارکنگ کی مد میں روز 62 ہزار روپے آمدنی ہوتی ہے جب کہ ان چاروں اضلاع میں کار پارکنگ کی مد میں یومیہ ایک لاکھ روپے اوسطاً آمدنی ہوتی ہے ضلع ساؤتھ میں یومیہ اوسطاً ایک ہزار اور ضلع ایسٹ میں یومیہ 2041 کاریں پارک ہوتی ہیں۔

    قبل ازیں رواں برس جنوری میں سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی پارکنگ فیس لینے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا سندھ ہائیکورٹ میں غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے کے خلاف دخواست پر سماعت ہوئی تھی جس میں ڈی ایم سی حکام اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے تھے-

    اداروں اور وزارت داخلہ کو فیصل واوڈا کی بات پر فوری ایکشن لینا چاہیئے،گورنر سندھ

    عدالت نے شہر میں غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور غیر قانونی پارکنگ فیس لینے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا تھا کہ جگہ جگہ غیرقانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والے موجود ہیں اور پارکنگ فیس وصول کرنے والوں نے بدمعاش لوگ بٹھائے ہوتے ہیں، کسی کےپاس 20 روپے نہیں ہوتے تو یہ لوگ معزز شہری کو بے عزت کرتے ہیں، لوگ اپنی فیملیوں کے ساتھ جاتے ہیں تو یہ لوگ 20 روپے کے لیے تنگ کرتے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتا؟پولیس والے کہتے ہیں ہمارا مسئلہ نہیں، ٹریفک پولیس کہتی ہے ہمارا مسئلہ نہیں۔

    عدالت نے مختلف گاڑیوں کی پارکنگ فیس کے حوالے سے نوٹی فکیشن طلب کیا تھا جس پر ڈی ایم سی حکام نوٹی فکیشن نہ دے سکے، عدالت نے ڈی ایم سی پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا-

    کراچی:حکومت سندھ نےغیر رجسٹرڈ اسکولوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا

  • پی ٹی وی کو کوئی نہیں دیکھتا پھر بھی 35 روپے دیتے ہیں، مرتضیٰ وہاب

    پی ٹی وی کو کوئی نہیں دیکھتا پھر بھی 35 روپے دیتے ہیں، مرتضیٰ وہاب

    سندھ ہائی کورٹ میں بجلی کے بلوں میں کے ایم سی ٹیکسوں کی وصولی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے مرتضیٰ وہاب سے استفسار کیا کہ جو آپ ٹیکس وصول کر رہے ہیں وہ کون سا کیس ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ کے ایم سی تین ٹیکس وصول کر رہا ہے۔ کے ایم سی تھرڈ پارٹی کے ذریعے ٹیکس وصول کرتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ لکھ کر دیں ہم جواب جمع نہیں کریں گے۔فیصل صدیقی، بیریسٹر صلاح الدین سمیت تین وکلا کو اس کیس میں دلائل دینے کا پابند کرتے ہیں۔ وکیل کے ایم سی نے کہا کہ اگر تینوں وکلا کو اس کیس میں پابند کردینگے تو یہ کیس نہیں چلے گا۔ عدالت نے کے ایم سی نمائندے سے استفسار کیا کہ پہلے آپ کام کرو پھر شہر سے ٹیکس وصول کرو۔ مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ اس پروسیس کو چلنے دیں ٹیکس شفافیت سے وصول کر رہے ہیں۔عدالت نے منیر اے ملک سمیت تین وکلا کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کا پابند کردیا عدالت نے 26 اکتوبر تک سماعت ملتوی کردی ، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ یہ وہی ٹیکس ہے جو کے الیکٹرک وصول کرے گا؟ صفائی تو ہو نہیں رہی ہے شہر میں ،مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی کا کام شہر میں کام کرنا ہے پارک بنانا ہے

    عدالت پیشی کے موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا کوئی نیا ٹیکس نہیں برسوں سے یہ ٹیکس کٹھا کیا جارہا ہے یہ شفاف نظام ہے، ٹیکس کا پیسا کے ایم سے کے پاس آئیگا یہ کراچی کے عوام کی بہتری کے لیے استعمال ہوگا پچھلے مہینوں میں کراچی والون نے دیکھا کے ایم سے کی جانب سے کام کیا گیا انشاء اللہ نیا شفاف منظم ٹیکس سالانہ سوا تین ارب کے ایم سے کے اکاونٹ میں آئیں گے میں سمجھتا ہوں یہ شفاف نظام ہے، ہر مینے جو پیسے بلدیہ عظمیٰ کے اکائونٹ میں آئی گے وہ ویب سائٹ پر رکھیں گے پی ٹی وی کو ہر ماہ 35 روپے دیے جاتے ہیں آج تک کسی نے کچھ نہیں کہا، پی ٹی وی کو کوئی نہیں دیکھتا پھر بھی آپ 35 روپے دیتے ہیں کچرا اٹھانا کے ایم سی کا کام نہیں ہے، ڈی ایم سی سندھ کچرا اٹھاتی ہے نئے مکینزم سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا کراچی کے بڑے بڑے روڈ کے ایم سی بنا رہی ہے، میرے پاس پیسے آئی گے تو میں دیانتداری سے کام کروں گا،جو بھی میں کام کر رہا ہوں قانون کے مطابق کر رہا ہوں بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن نے خود ملتوی کئے تھے،

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی

     بجلی کے بلوں پر عائد ٹیکس ناقابل برداشت ہے

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

  • کراچی:کےایم سی کے50 کروڑ روپے کےٹھیکوں میں بندربانٹ

    کراچی:کےایم سی کے50 کروڑ روپے کےٹھیکوں میں بندربانٹ

    کراچی:کے ایم سی کے 50 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔شہر میں بارش کے بعد ایمرجنسی کے نام پر 50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر منظور نظر ٹھیکیداروں کو دیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق تمام ٹھیکے شہر میں ہونے والی بارشوں کے باعث ٹوٹی سڑکوں کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکے ایڈوانس کاموں کی مد میں خاص ٹھیکے داروں کو دیے گئے ہیں۔اطہر کاظمی، سعید اور تنویر احمد نامی ٹھیکیداروں کو کے ایم سی محکمہ انجینیئرنگ کی جانب سے یہ ٹھیکے دئے گئے، ٹھیکوں کی بندر بانٹ میں سپپرا کے رولز 15 اور 16 کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کے ڈی جی اظہر شاہ اور چیف انجنیئر رزاق جونیجو کی ملی بھگت سے ٹھیکے منظور نظر ٹھیکے داروں کو دئے گئے۔محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کے نئے تعینات ڈی جی اظہر شاہ 18 گریڈ کے افسر ہیں۔

    20 گریڈ کی محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کی پوسٹ پر اظہر شاہ کی تعیناتی کو وزیراعلیٰ سندھ کے آشیرباد سے جوڑا جا رہا ہے، اظہر شاہ کو وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا قریبی رشتے دار بتایا جاتا ہے۔50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے بعد 1 ارب روپے کے آنے والے ٹھیکوں کی بھی منظور نظر ٹھیکیداروں کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔