Baaghi TV

Tag: کے فور منصوبہ

  • کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے فور پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی میں معزز رکن کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا سعید غنی نے کہا کہ معزز ممبر کے حلقہ انتخاب شاہ فیصل کالونی چونکہ ٹیل پر ہے اس لئے وہاں پانی کی فراہمی دیگر علاقوں کی نسبت کم اور دیر سے ہوتی ہے البتہ ان کو دو ذرائع سے پانی کی فراہمی کی جارہی ہے اور اس میں جو مسائل تھے اس کا سدباب کردیا گیا ہے۔اس منصوبے کے تین حصوں پر علیحدہ علیحدہ کام تیزی سے جاری ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی سندھ نے دوسرے حصہ کے لئے 7000 ارب روپے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے اس لئے دینے کا اعلان کردیا ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ معزز ممبر نے کے فور منصوبے سے متعلق سوال کیا ہے تو اس کے تین حصوں کا کام ایک ساتھ چل رہا ہے، جس میں کینچھر سے کراچی کے لئے واپڈا کام کررہا ہے جو 55 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور یہ دسمبر 2025 تک مکمل ہوجائے گا، دوسرا فیز یوٹیلیٹی کی شفٹنگ کا ہے، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی سندھ نے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار کئے بغیر 7000 ارب روپے جاری کئے ہیں اور یہ کام بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ اس کا تیسرا مرحلہ 50 میگاواٹ کے پاور اسٹیشن کی تعمیر کا ہے جو 16 ارب روپے کی لاگت کا ہے، اس پر بھی حیسکو نے کام شروع کردیا ہے اور انشا اللہ اگر کوئی رکاوٹ نہیں آئی تو یہ بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا، جس کے بعد ٹیسٹنگ کا مرحلہ ہوگا اور جون 2026 تک یہ منصوبہ مکمل کرکے کراچی کو پانی کی فراہمی شروع ہونے کا امکان ہے۔

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    کراچی انٹر بورڈ میں غنڈہ عناصر سرگرم، طلبا سے رقم لیکر کام کرانے لگے،

  • کے فور صرف کراچی کا نہیں پورے ملک کا منصوبہ ہے، مراد علی شاہ

    کے فور صرف کراچی کا نہیں پورے ملک کا منصوبہ ہے، مراد علی شاہ

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کے فورصرف کراچی کا نہیں پورے ملک کا منصوبہ ہے،، اگست کے بعد حب ڈیم سی100ملین گیلن پانی لے آئیں گے،جوبھی مسائل ہیں ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں شہید بھٹوایکسپریس وے کے پہلے فیزکے افتتاح کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ شہید بھٹوکی فنانسنگ میں بہت مسائل ہوئے، ایک بینک کے چیئرمین نے کہا تھا 100 فیصد فنڈنگ ہم کریں گے، ماحول ایسا بنایا گیا کہ سندھ حکومت کوبینک نے فنڈنگ نہیں کی۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کے فورصرف کراچی کا نہیں پورے ملک کا منصوبہ ہے، جوبھی مسائل ہیں ہمارے ساتھ ملکر کام کریں، ہم کیوں باہر سے لوگوں کو ڈھونڈتے ہیں بینکوں کے پاس جاتے ہیں، عقیل اورعارف بھائی سے کہوں گا ہمارے ساتھ ملکرکام کریں-سید مرادعلی شاہ نے کہا کہ ہمیں پانی کی کمی کا پتہ ہے، حب ڈیم سی40سی50ملین گیلن پانی لے سکتے ہیں، اگست کے بعد حب ڈیم سی100ملین گیلن پانی لے آئیں گے، اس کیلئے ہمیں واپڈا سے ایڈیشنل ایلوکیشن چاہیئے ہوگی، کے فوراورحب کی کمپلیشن کے بعد کراچی میں400 ملین گیلن ایڈیشنل پانی لائیں گے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایف ٹی سی سے لیکراسٹارگیٹ تک شارع فیصل نیا بنا ہے، ماڑی پور، طارق روڈ ساری نئی سڑکیں بنائی ہیں، کراچی میں اورنج لائن، گرین لائن بن چکی ریڈلائن بن رہی ہے، شاہراہ بھٹوکا آج سے 30 سال پہلے بینظیربھٹونے کراچی پیکج دیاتھا، پیکج میں شاہراہ بھٹو، لیاری ایکسپریس وے ودیگرمنصوبے شامل تھے۔انھوں نے کہا کہ کراچی سے ٹریفک کادبائوکم کرنابینظیربھٹوکاوژن ہے، ہمارے پاس وسائل بہت محدودہیں، بہت کچھ کرناچاہتے ہیں لیکن وسائل نہیں ہیں، سندھ حکومت کاعوامی خدمت کا تیزترین سفرجاری، سندھ حکومت کاعزم عوام کی خدمت ہے، ملیرایکسپریس وے سب سے بڑاپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبہ ہے۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ ملیرایکسپریس وے کی لمبائی 39 کلومیٹرہے، یہ منصوبہ کورنگی کریک ایونیوسے شروع ہوکرملیرندی تک پھیلا ہوا ہے۔واضح رہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونے ہفتہ کوشہید بھٹوایکسپریس وے کے پہلے فیزکاافتتاح کردیا۔ پہلے فیزکی تکمیل سے ایئرپورٹ پہنچنے کیلئے سفرمنٹوں میں ممکن ہوگا۔ شاہراہ بھٹوایکسپریس وے کورنگی تاکاٹھورسپرہائی وے تک ہے۔ شہید بھٹوایکسپریس وے کا دوسرا فیزقائدآبادتک مارچ میں مکمل ہوگا۔

    ایلون مسک کی برطانوی سیاست میں مداخلت،الزامات اور تنازعات

    سعودی عرب جانیوالی خاتون کے پیٹ سے درجنوں ہیروئن بھرے کیپسولز برآمد

    ہزار ادویات کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہو جانے کا انکشاف

    سیاسی جماعتوں میں معذوری ونگ قائم کیا جائے،ناصرحسین شاہ

  • کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہماری بھرپور کوشش ہونی چاہیے کہ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل ہو۔ کے فور منصوبے سے کراچی کے پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انہوں خیالات کا اظہار انہوں نےکراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپرومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کا اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ سید خالد حیدر شاہ، کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم، سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن صلاح الدین، چیف آپریٹنگ آفیسر کے ڈبلیو ایس سی اسد اللہ خان موجود تھے۔ اجلاس میں کے فور منصوبے کی اوگمینٹیشن سمیت دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہونا چاہیے کہ کے فور منصوبہ جو اس وقت کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی میں اہم اہمیت کا حامل ہے اس کو جلد از جلد پورا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے کراچی کے پانی کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جاسکے گا۔

    9 مئی مقدمات میں شہریوں کی سزاؤں پربرطانیہ کاردعمل آگیا

    کراچی کو ٹینکروں کے ذریعے نہیں نلکوں میں پانی دیا جائے ، منعم ظفر خان

    کراچی: رواں سال ٹریفک حادثات کے اعداد و شمار جاری

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

  • وقار مہدی کا سندھ کے منصوبوں کے لیے فنڈز میں  تاخیر پر تشویش کا  اظہار

    وقار مہدی کا سندھ کے منصوبوں کے لیے فنڈز میں تاخیر پر تشویش کا اظہار

    وزیراعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی و پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے مطلوبہ فنڈز جاری نہ کرنے اور اس کے نتیجے میں ایسے منصوبے کی تکمیل میں غیرمعمولی تاخیر پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے جاری کردہ بیان میں، سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ملک کی چاروں اکائیوں کو مساوی بنیادوں پر دیکھنا چاہیے ،بلکہ تمام صوبوں کو ملکی وسائل سے مستفید ہونے کے لیے انہیں بلا امتیاز مواقع اور تعاون فراہم کرنا بھی وفاقی حکومت کا فرض ہے۔ وفاق کو سب سے زیادہ روینو دینے والے صوبہ کے اہم ترین منصوبوں کے لیے فنڈز کی عدم فراہمی سراسر ناانصافی ہے۔ پانی کاکی-فور منصوبہ کراچی کی ڈھائی کروڑ آبادی کے لیے انتھائی بڑی اہمیت کا حامل ہے، جسے سال 2026ع میں مکمل ہونا ہےلیکن وفاقی حکومت کی جانب سے 130 ارب سے زائد منصوبے کے لیے گذشتہ مالی سال میں محض 15 ارب روپیہ مختص کرنا اور رواں مالی سال میں بھی اپنا یہ ہی رویہ جاری رکھنا سندھ اور بالخصوص کراچی شہر کے عوام سے بھونڈا مذاق ہے جسکی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے ۔ وقار مہدی نے کہا کہ کے فور منصوبہ کی طرح جامشورو – سیوہن دو رویہ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ بھی وفاقی حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہے صوبائی حکومت اس روڈ کی تعمیر کے لیے اپنے حصے کا فنڈز وفاقی حکومت کو دے بھی چکی ہے۔اس روڈ پر آئے روز حادثات میں شہریوں کی قیمتی جانیں ضایع ہوتی ہیں، جبکہ اس روڈ کی تعمیر سے حیدرآباد-سکھر شاہراہ پر بھی ٹریفک کے دباو میں نمایاں کمی آئے گی۔ لیکن اس اہم منصوبہ پر بھی مرکزی حکومت کوئی دلچسپی نہیں لے رہی۔ وقار مہدی نے پی ایس ڈی پی میں شامل 49 ارب کے منظور شدہ دیگر منصوبوں کے التوا پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ان منصوبوں پر فوری کاروائی کرکے ان کو مکمل کیا جائے۔وقار مہدی نے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائیمنصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی جانب سے کراچی میں اپنا اجلاس منعقد کرنے اور سندھ میں جاری وفاقی حکومت کے منصوبوں کی پیش رفت خصوصا فنڈز کی فراہمی کے معاملے کا جائزہ لینا قابل تعریف اور بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کمیٹی کی چیئرپرسن محترمہ قرات العین مری اور دیگر ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے مذکورہ اقدام کو خوش آئند قرار دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا تاکہ صوبہ کے ترقیاتی منصوبے وقت مقررہ پر مکمل ہوسکیں۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص کارکردگی پر تشویش

    ملی یکجہتی کونسل کے نئے مرکزی تنظیمی زمہ داران کا اعلان

    سکیورٹی خدشات، کراچی ایئرپورٹ آنے والوں پر نئی شرائط عائد

    سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

  • کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم (کے فور) پر اب تک 46 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر پر اب تک 59.5 ارب روپے کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ 126 ارب روپے کے منظور شدہ پی سی ون منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کے مختلف مقامات بشمول انٹیک ورکس، پمپنگ اسٹیشنز، پریشرڈ پائپ لائن، ایکسیس روڈ، پروجیکٹ آفسز اور پراجیکٹ کالونی پر تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔کے فور منصوبے کے تحت کراچی کو کینجھر جھیل سے روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دو مرحلوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس وقت واپڈا کراچی کو 260 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر کر رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں کراچی کو مزید 390 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جائے گا۔

    کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی