Baaghi TV

Tag: کے ٹو

  • کے ٹو پر برفانی تودے کی زد میں  آکر چارسدہ کے کوہ پیما افتخار حسین جان بحق

    کے ٹو پر برفانی تودے کی زد میں آکر چارسدہ کے کوہ پیما افتخار حسین جان بحق

    کے ٹو پر برفانی تودے کی زد میں آکر کوہ پیما افتخار حسین جان بحق جبکہ ایک غیر ملکی کوہ پیما زخمی ہو گیا۔

    الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے سینئر نائب صدر کرار حیدری نے بتایا کہ جمعہ کی دوپہر تقریباً ساڑھے 12 بجے، کے ٹو پر کیمپ 1 (جو بیس کیمپ سے تقریباً 500 میٹر بلند ہے) پر برفانی تودہ آ گرا، اس واقعے میں چار کوہ پیما پھنس گئے، ایک غیر ملکی کوہ پیما کو معمولی چوٹیں آئیں، جب کہ دو دیگر کامیابی سے ایڈوانس بیس کیمپ واپس پہنچ گئے، تاہم، اس حادثے میں اسکردو کے سدپارہ سے تعلق رکھنے والے ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹر افتخار حسین جاں بحق ہو گئے۔

    اے سی پی کے عہدیدار کے مطابق افتخار حسین کی لاش بازیاب کر کے بیس کیمپ لائی جا چکی ہےدیگر کوہ پیماؤں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے داوا فنجو شرپا اور داوا گلجن شرپا، اور اسکردو سے ہائی ایلٹیٹیوڈ پورٹر نیاز علی شامل تھے، بین الاقوامی ٹیم اس وقت کیمپ 2 سے واپسی پر تھی جب حادثہ پیش آیا، اور یہ ان کی چوٹی سر کرنے کی روٹیشن کا حصہ تھا۔

    گلے میں پہنے میٹل چین نے 61 سالہ شخص کی جان لے لی

    مہم آرگنائزر نے واقعے کے بعد اے سی پی کے صدر میجر جنرل عرفان ارشد اور عسکری ایوی ایشن کو ہیلی کاپٹر آپریشن کی باضابطہ درخواست دی تاکہ مرحوم کی میت کو واپس لایا جا سکےاس انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواست کو فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز نے منظور کر لیا، افتخار حسین کی میت کو آج آرمی ایوی ایشن کے ذریعے اسکردو کے سدپارہ منتقل کیا جائے گا۔

    کے ٹو سطح سمندر سے 8 ہزار 611 میٹر بلند ہے، اور یہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے،گزشتہ موسم گرما میں، گلگت بلتستان کی انتظامیہ نے کے ٹو کو سر کرنے کے خواہشمند کوہ پیماؤں کو 175 اجازت نامے جاری کیے تھے-

    عطا تارڑ اور محسن نقوی کا قومی مفاد کے تحت ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے پر بھی زور

  • کے ٹو پر زخمی ہونیوالے کوہ پیما مراد سدپارہ چل بسے

    کے ٹو پر زخمی ہونیوالے کوہ پیما مراد سدپارہ چل بسے

    پاکستانی کوہ پیما مراد سد پارہ جاں بحق ہوگئے

    کے ٹو پر زخمی پاکستانی کوہ پیما مراد سد پارہ جاں بحق ہو گئے،الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری نے مراد سد پارہ کی موت کی تصدیق کردی،اسکردو میں مراد سد پارہ 8 ہزار 47 میٹر بلند چوٹی براڈ پیک کی مہم جوئی کے دوران زخمی ہوئے تھے،پاک فوج نے 4 ماہر کوہ پیماؤں کو بیس کیمپ پہنچایا، چاروں ریسکیور مراد سد پارہ کی باڈی کو بیس کیمپ لانے کی کوشش کریں گے،

    محمد مراد سد پارہ نے کے ٹو کی انتہائی بلندی سے گزشتہ سال جاں بحق ہونے والے حسن شگری کی میت کو بھی اتارا تھا۔مراد حسن پرتگالی خاتون کوہ پیما کے ہمراہ گزشتہ ہفتے براڈ پیک کی مہم جوئی کیلئے روانہ ہوئےتھے، جہاں ہفتے کے روز کیمپ ون کے مقام پر سر پر پتھر لگنے کے باعث شدید زخمی ہوگئے۔محمد مراد سدپارہ رواں سال کے ٹو کلین اپ ایکسپڈیشن کی بھی قیادت کر رہے تھے، محمد مراد سدپارہ کے ٹو سمیت 4 پہاڑ سر کر چکے ہیں۔

    کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ براڈ پیک جیسے پہاڑوں پر ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں۔ موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال، آکسیجن کی کمی، اور انتہائی سرد درجہ حرارت جیسے عوامل اس کام کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس لیے، ایسے حالات میں ریسکیو ٹیم کو انتہائی احتیاط اور مہارت سے کام کرنا چاہیے۔پاکستان کی کوہ پیمائی کی برادری اس واقعے سے شدید پریشان ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر کوہ پیمائی کے خطرات اور اس شعبے میں بہتر حفاظتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

    گرمیوں میں کوہ پیمائی اور سردیوں میں ٹریکٹر چلا کر گزارا کرنے والا مراد سدپارہ پاکستان کا گمنام ہیرو
    صحافی سید امجد حسین بخاری نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ مراد سدپارہ پاکستان کا گمنام ہیرو،مراد سدپارہ گرمیوں میں کوہ پیمائی اور سردیوں میں ٹریکٹر چلا کر گزارا کرتا تھا۔ دنیا کا واحد کوہ پیما جس نے کے ٹو کی چوٹی پر اپنی شرٹ اتار کر ناقابل یقین ریکارڈ قائم کیا،2022 میں براڈ پیک سے درجنوں کوہ پیماوں کو اکیلا ہی ریسکیو کر لایا، 2023 میں کے ٹو سے افغان کوہ پیما علی رضا سخی کی ڈیڈ باڈی ریکور کرنے والی ٹیم کا ممبر رہا اس ریکوری آپریشن سے چند روز پہلے مراد سدپارہ نے 6 روز میں دو مرتبہ نانگا پربت سر کیا تھا،اگست 2024 میں کے ٹو سے شگر کے کوہ پیما حسن شگری کی ڈیڈ باڈی ریکور کرنے والی ٹیم میں شامل تھا، مراد سدپارہ براڈ پیک جیسے آسان پہاڑ پر خود حادثہ کا شکار ہوا۔ 5 ہزار 7 سو میٹر کی اونچائی پر بلندی سے آنے والا پتھر مراد کے سر پر لگا ۔ جس سے وہ جانبر نہ ہو سکا

    https://x.com/AmjadHBokhari/status/1822917616391823437

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • ہمیشہ آگے بڑھنا چاہئے،کبھی نہیں رکنا چاہئے،کوہ پیما نائلہ کیانی

    ہمیشہ آگے بڑھنا چاہئے،کبھی نہیں رکنا چاہئے،کوہ پیما نائلہ کیانی

    نائلہ کیانی، جو کبھی دبئی میں بینکر تھیں، نے پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں اپنا نام نقش کر لیا ہے، جس نے ملک کی پہلی خاتون کوہ پیما بن کر تمام پانچ 8-ہزار 8,000 میٹر سے زیادہ کی چوٹیوں کو سر کیا ہے۔مجموعی طور پر، اس نے 8,000 میٹر سے زیادہ کی آٹھ چڑھائیاں کی ہیں اور یہ ریکارڈ اپنے نام کروانے والی پہلی اور واحد پاکستانی خاتون ہیں۔ نائلہ نے حال ہی میں نانگا پربت اور براڈ چوٹی کو سر کر کے پاکستانی سرزمین کی پانچوں بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا اپنا کارنامہ مکمل کیا۔
    دو بچوں کی ماں نائلہ کیانی نے اپنے سفر کا آغاز صرف دو سال قبل کیا تھا جب وہ 8,035 میٹر اونچے گاشربرم II – دنیا کے 13 ویں بلند ترین پہاڑ پر چڑھنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں۔اور جس چیز کو اس نے تجربہ کے طور پر آزمایا وہ اس کا جنون بن گیا اور اس کے بعد اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
    نائلہ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ "اگرچہ میں ہمیشہ سے کھیلوں میں تھی، لیکن میں نے کبھی بھی کوہ پیما بننے کا ارادہ نہیں کیا۔”

    "پہلا خیال تب آیا جب میں ٹریکنگ کے لیے K2 بیس کیمپ گئی جہاں میں نے کچھ کوہ پیماؤں کو دیکھا، میں یہ محسوس کرنا چاہتی تھی کہ پہاڑ پر چڑھنا کیسا ہوتا ہے اور چوٹی پر جانے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے۔”نائلہ نے کہا، ’’میں نے گاشربرم II کو اپنی پہلی چوٹی کے طور پر منتخب کیا، مجھے یہ بھی یقین نہیں تھا کہ میں اسے چوٹی پر پہنچ سکوں گی یا نہیں، لیکن میں کامیاب رہی اور میں ایک کے بعد ایک چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرتی رہی،‘‘ نائلہ نے مزید کہا کہ 2021 میں G-II کو چڑھنے کے بعد سے، نائلہ نے K2، گاشربرم I، اناپورنا، ماؤنٹ ایورسٹ، لوٹسے، نانگا پربت، اور براڈ چوٹی کو سر کیا ہے۔
    وہ پہلی پاکستانی خاتون تھیں جو اپنے آٹھ میں سے چھ کوہ پیمائی میں سب سے اوپر رہیں۔ ثمینہ بیگ – جن کا تعلق ہنزہ سے ہے – K2 پر نائلہ سے چند گھنٹے آگے تھی۔ ثمینہ نے 2013 میں ایورسٹ بھی سر کی تھی۔تاہم، اب نائلہ بلاشبہ ملک کی سب سے کامیاب خاتون کوہ پیما ہیں۔نائلہ نے مزید کہا کہ "یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں پہلی پاکستانی خاتون ہوں جس نے اتنے پہاڑ سر کیے ہیں۔”
    نائلہ کیانی نے کہا کہ یہ سفر آسان نہیں تھا اور انہیں بہت سے چیلنجز سے نمٹنا پڑا لیکن وہ ہمیشہ یقین رکھتی تھیں کہ ایسی کوئی چیز نہیں جو حاصل نہیں کی جا سکتی۔اس نے مزید کہا کہ دو اور چار سال کی اپنی بیٹیوں کو پیچھے چھوڑنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔
    "یہ مشکل ہے، خاص طور پر جب میں اپنی مہم کی منصوبہ بندی کرتی ہوں اور یہ سوچنا کہ میں انہیں پیچھے چھوڑ کر پہاڑوں پر جا رہی ہوں، لیکن جب میں پہاڑوں پر ہوتی ہوں، جب بھی میں کسی مشکل راستے پر ہوتی ہوں، میری بیٹیوں کے بارے میں خیالات ایک بہت بڑا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ میرے لئے توانائی، "انہوں نے کہا.نائلہ نے مزید روشنی ڈالی کہ پاکستان میں کوہ پیماؤں کو پبلک سیکٹر سے خاطر خواہ تعاون نہیں ملتا اور اگر حکام پاکستان میں کوہ پیمائی کے لیے سنجیدہ ہیں تو انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستانی پہاڑوں میں ریسکیو سہولیات کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

  • افغان کوہ پیما علی اکبر سخی کی  میت ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی

    افغان کوہ پیما علی اکبر سخی کی میت ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی

    افغان کوہ پیما علی اکبر جو کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران انتقال کر گئے تھے، ان کی میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔علی اکبر ایک سال قبل کے ٹو چڑھتے ہوئے حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے۔پاک فوج کی کوششوں کے ایک سال بعد افغان کوہ پیما پہاڑ سے نکال دیا گیا ہے،افغان سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان کی موت ایک سال قبل پہاڑ پر چڑھتے ہوئے ہوئی تھی۔اور اب علی اکبر سخی کی میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔
    بیان کے مطابق علی اکبر سخی گزشتہ سال جولائی میں دیگر کوہ پیماؤں کے ہمراہ پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔
    بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک سال کی کوششوں کے بعد پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے علی اکبر کی لاش کو پہاڑ سے نکال کر افغان سفارت خانے کے حوالے کر دیا۔
    افغان وزیراعظم سردار احمد شکیب نے علی اکبر کی لاش کو پہاڑ سے نکالنے پر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کیا۔

  • پاکستانی کوہ پیما مرحوم علی سدپارہ کے لخت جگر ساجد علی سدپارہ نے تاریخ رقم کر دی۔

    پاکستانی کوہ پیما مرحوم علی سدپارہ کے لخت جگر ساجد علی سدپارہ نے تاریخ رقم کر دی۔

    کراچی:پاکستانی کوہ پیما مرحوم علی سدپارہ کے لخت جگر ساجد علی سدپارہ نے تاریخ رقم کر دی۔اطلاعات کے مطابق پاکستانی کوہ پیما ساجد علی سدپارہ نے پیر کو تاریخ رقم کی جب وہ دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ مناسلو کی حقیقی چوٹی سر کرنے والے پہلے پاکستانی الپینسٹ بن گئے۔

    سدپارہ کی ٹیم نے تصدیق کی کہ وہ مناسلو کی چوٹی پر پہنچ گئے اس سے پہلے کہ ایک بہت بڑا برفانی تودہ دوپہر C4 کے قریب کوہ پیما کو پھنس گیا۔

    مناسلو کی “حقیقی چوٹی” اس وقت توجہ کا مرکز بنی جب پچھلے سال معروف نیپالی کوہ پیما منگما جی نے دعویٰ کیا کہ چوٹی پر کی گئی تمام پچھلی چوٹییں اصل چوٹی نہیں تھیں اور پہاڑ کی اصل چوٹی سے ابھی فاصلہ باقی ہے۔

    منگما کے انکشاف کے بعد، متعدد کوہ پیماؤں نے جو مختلف ریکارڈ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، نے پاکستان کے سرباز علی اور شہروز کاشف سمیت مناسلو کو دوبارہ سر کرنے کا اعلان کیا۔

    ساجد علی سدپارہ، مرحوم علی سدپارہ کے بیٹے، ان کوہ پیماؤں میں شامل تھے جو اس موسم میں ایک حقیقی چوٹی کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

    ان کی ٹیم نے تصدیق کی کہ ساجد نے پیر کی سہ پہر کو اضافی آکسیجن کے استعمال کے بغیر ماؤنٹ مناسلو کو 8,163 میٹر کامیابی سے سر کیا۔

    ساجد کی مہم کی انتظامی کمپنی کے مطابق، وہ پہلے ہی 8,000 میٹر کی بلندی عبور کرچکا تھا اور آگے بڑھ چکا تھا جب C-4 کے راستے پر کوہ پیماؤں پر بڑا برفانی تودہ گرا جس کی وجہ سے بہت سے دیگر کوہ پیماؤں کو اپنے منصوبے ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    پوری دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،وزیر اعظم

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    ہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے انسانی المیہ برپا ہوا ہے ۔

  • گلگت:کوہ پیما شہروزکاشف نے8 ہزارمیٹرسےبلند دنیا کی ایک اورچوٹی سرکرلی

    گلگت:کوہ پیما شہروزکاشف نے8 ہزارمیٹرسےبلند دنیا کی ایک اورچوٹی سرکرلی

    گلگت: پاکستان کے نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف نے 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی ایک اور چوٹی سر کر لی۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے شہروز کاشف نے 8035 میٹ رنویں بلند چوٹی گیشر برم ٹو سر کی، اس سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سمیت 8 چوٹیاں سر کر چکے ہیں، وہ چند روز میں جی ون سر کرنے کی مہم کا آغاز کریں گے۔

    خیال رہے کہ یہ شہروز کی دسویں 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹی ہو گی، اس مہم میں کامیاب ہوئے تو شہروز کاشف 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی 10 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما ہوں گے۔

     

    گیشر برم ٹو چوٹی سر کرنے والوں میں شہروز کاشف، ساجد سد پارہ اور امتیاز سدپارہ شامل ہیں۔

     

    کوہ پیما شہروز کاشف لاہور پہنچ گئے

    دوسری طرف سیاحتی شعبے میں پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی۔ عالمی سیاحتی انڈیکس میں 6 درجہ ترقی سے پاکستان 83ویں پوزیشن پر براجمان ہوگیا۔ ۔ عالمی سیاحتی انڈیکس میں 6 درجہ ترقی سے پاکستان 83ویں پوزیشن پر براجمان ہوگیا۔

    یہ انڈیکس ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ جس میں دنیا بھر کے 117 ممالک کی سیاحتی اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے۔ پاکستان کی 6 درجہ ترقی سیاحتی شعبہ کی تعمیروترقی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

    نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    عالمی ادارے کی جانب سے سیاحوں کو دی جانے والی سہولیات اور سفری اور سیاحتی شعبے کے لیے طے کردہ پالیسیز سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی سیاحتی انڈیکس میں جاپان، امریکا، اسپین، فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، سنگاپور اور اٹلی سمیت دیگر ممالک سرِ فہرست ہیں۔

  • عمران خان نے کے ٹو کی چوٹی کے فضائی مناظر شیئر کرکےبڑاپیغام جاری کردیا

    عمران خان نے کے ٹو کی چوٹی کے فضائی مناظر شیئر کرکےبڑاپیغام جاری کردیا

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم 12 موسمیاتی زونز والی دنیا کی متنوع ترین زمین پر رہتے ہیں۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوشل میڈیا پر کے ٹو کی ایک ویڈیو شیئر کی اور اس کے ساتھ ایک کیپشن بھی تحریر کیا۔

     

    چیئرمین تحریک انصاف نے ٹوئٹر پر کے ٹو پہاڑ کی چوٹی کے فضائی مناظر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ملک کے اندر اور باہر کتنے لوگوں کو یہ احساس ہے کہ ہم دنیا کی ایک متنوع ترین دھرتی پر رہتے ہیں جو 12 موسمیاتی زونز کی حامل ہے۔

     

     

     

    یاد رہے کہ اس سال دنیا بھر سے 100 سے زائد کوہ پیماؤں نے کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کی مہم میں حصہ لیا، کے ٹو کا شمار دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے۔

     

    دنیا میں 8 ہزار میٹر سے بلند صرف چودہ چوٹیاں ہیں، جن میں سے پانچ پاک سرزمین کا حصہ ہیں، جن میں کے ٹو، نانگا پربت، گاشر برم ون، بروڈ پیک اور گاشر برم ٹو شامل ہیں، جبکہ سات ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی تعداد 108 ہے،


    کے ٹو


    کے ٹو جسے ‘ماﺅنٹ گڈون آسٹن اور شاہ گوری’ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی سب سے بلند جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ کے بعد پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جس کی بلندی 8611 میٹر ہے اور یہ سلسلہ کوہِ قراقرم میں واقع ہے، اسے دو اطالوی کوہ پیماﺅں نے 31 جولائی 1954 کو سب سے پہلے سر کیا تھا۔

    کے ٹو کو ماﺅنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے، کے ٹو پر 246 افراد چڑھ چکے ہیں جبکہ ماﺅنٹ ایورسٹ پر 2238 ۔ رواں برس کے ٹو کو پہلی بار سر کرنے کے ساٹھ سال مکمل ہونے کے موقع پر پہلی بار جولائی میں پاکستانی کوہ پیماﺅں کی ایک ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کو سر کیا۔

    اگرچہ اس سے قبل پاکستانی کوہ پیما انفرادی طور پر کے ٹو کی چوٹی سر کر چکے تھے لیکن پہلی مرتبہ بطور ٹیم وہ ایک ہی وقت میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر پہنچے۔


    نانگا پربت


    نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے، اس کی اونچائی 8125 میٹر ہے اور اسے دنیا کا ‘قاتل پہاڑ’ بھی کہا جاتا ہے۔ اس پر چڑھنے میں اب تک سب سے زیادہ کوہ پیما مارے گئے ہیں اسے ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل نے سب سے پہلے 3 جولائی 1953 میں سر کیا تھا۔

    فیری میڈو یا پریوں کا میدان نانگا پربت کو دیکھنے کی سب سے خوبصورت جگہ ہے، اس جگہ کو یہ نام 1932 کی جرمن امریکی مہم کے سربراہ ولی مرکل نے دیا۔ سیاحوں کی اکثریت فیری میڈو آتی ہے یہ 3300 میٹر بلند ہے۔

    کوہ ہمالیہ کے اس پہاڑ کو سر کرنے یا ٹریکنگ کے لیے جانے والے غیر ملکی سیاحوں کی آمد کو گزشتہ برس دہشت گردوں کے ایک حملے کے بعد کافی دھچکا لگا جس میں دس کے قریب غیر ملکی سیاح ہلاک ہوگئے تھے، کہا جاتا ہے کہ اس پہاڑ کو دیکھنے سے خوبصورتی سے زیادہ ہیبت انسان کے دل پر اثر کرتی ہے۔


    گاشر برم ون


    گاشر برم ون پاکستان کی تیسری اور دنیا کی گیارہویں سب سے اونچی چوٹی ہے، اسے کے فائیو اور چھپی چوٹی کے ساتھ بلتی زبان میں ‘خوبصورت پہاڑ’ بھی کہتے ہیں۔ یہ پاکستان کے شمال میں سلسلہ کوہ قراقرم میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8080 میٹر ہے۔

    گاشر برم ون کو سب سے پہلے 5 جولائی 1958 میں دو امریکیوں پیٹ شوننگ اور اینڈی کافمان نے سر کیا۔


    بروڈ پیک


    بروڈ پیک دنیا کی 12 ویں اور پاکستان کی چوتھی سب سے اونچی چوٹی ہے، یہ قراقرم کے سلسلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع ہے اور اس کی بلندی 8047 میٹر ہے، اسے سب سے پہلے 9 جون 1957 کو ایک آسٹرین ٹیم نے سر کیا۔

    یہ کے ٹو سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، اس کی چوٹی قریباً ڈیڑھ کلو میٹر لمبی ہے۔ اس لیے اس کا نام ‘بروڈ پیک’ ہے۔ مقامی نام فائے چان کنگری یا پھلچن کنگری ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے اس میں ایک نہیں دو چوٹیاں ہیں اور اکثر کوہ پیما اسی باعث غلطی سے 8015 میٹر بلند چوٹی پر رُک کر واپس چلے جاتے ہیں اور 8047 میٹر کی بلندی تک نہ جانے پر کامیاب قرار نہیں پاتے۔


    گاشر برم ٹو


    گاشر برم ٹو دنیا کا تیرہواں اور پاکستان کا پانچواں سب سے اونچا پہاڑ پے، یہ قراقرم سلسلے میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8035 میٹر ہے۔ یہ پاکستان اور چین کے درمیان واقع ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1956 میں ایک آسٹریائی ٹیم کے موراویک، لارچ اور ویلن پارٹ نے سر کیا۔


    گاشر برم فور


    گاشر برم فور دنیا کا 17 واں جبکہ پاکستان کا چھٹا بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7925 میٹر ہے اور یہ پاکستان اور چین کے درمیان گاشر برم کی چوٹیوں میں سے ایک ہے۔

    اس پہاڑ کو سب سے پہلے 1928 میں اطالوی کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا۔


    دستاغل سر


    یہ قراقرم کے ایک پہاڑی سلسلے ہسپر موزتاگ کا سب سے بلند پہاڑ ہے جو کہ شمالی علاقہ جات میں گوجل کے علاقے میں واقع ہے، یہ دنیا کا 19 واں جبکہ پاکستان کا ساتواں بڑا پہاڑ ہے جس کی بلندی 7885 میٹر ہے۔

    اس پہاڑ کی خاص بات اس کی پانچ کلو میٹر طویل ڈھلوانی اونچائی ہے اور 7400 میٹر سے اوپر اس میں تین چوٹیاں ہیں، جن میں سے شمالی چوٹی 7885 میٹر، وسطی 7760 میٹر اور جنوب مشرقی 7535 میٹر بلند ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1960 میں آسٹرین کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا تھا۔


    کیونانگ چیش


    یہ ہسپر موزتاگ کے سلسلے کی دوسری بلند ترین پہاڑی ہے جس کی بلندی ہے 7823 میٹر ہے، اسے دنیا کا اکیسواں جبکہ پاکستان کا آٹھواں بلند ترین پہاڑ کہا جاتا ہے۔

    اسے سب سے پہلے 1971 میں ایک پولش ٹیم نے سر کیا تھا اور اس کے بعد یہ صرف مزید ایک بار 1988 میں ہی سر ہو سکی، جس کے بعد سے اب تک یہاں جانے والے کوہ پیماﺅں کے ہاتھ ناکامی کے سوا کچھ نہیں آیا۔


    ماشربرم


    ماشربرم جسے ‘کے ون’ بھی کہا جاتا ہے، گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے میں واقع ہے یہ 7881 میٹر بلند ہے اور دنیا کا 22 واں بلند ترین جبکہ پاکستان کا نواں بلند ترین پہاڑ ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ماشربرم نام کا مطلب ہی واضح نہیں، تاہم اندازہ ہے کہ یہ ماشادار (لوڈ گن) اور برم (پہاڑ) سے مل کر بنا ہے کیونکہ اس کی دوہری چوٹی کسی بھری ہوئی بندوق جیسی لگتی ہے، تاہم ایک حلقے کا کہنا ہے کہ ماشا مقامی زبان میں ملکہ کو کہا جاتا ہے اور درحقیقت اس کا نام چوٹیوں کی ملکہ’ ہے۔’

    اسے سب سے پہلے 1960 میں امریکی اور پاکستانی کوہ پیماﺅں کی ٹیم نے سر کیا تھا۔


    بتورا سر


    بتورا سر جسے ‘بتورا ون’ بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا 25 واں جبکہ پاکستان کا دس واں بلند ترین پہاڑ ہے، جس کی بلندی 7795 میٹر ہے۔

    راکا پوشی کے قریب واقع یہ پہاڑ زیادہ مشہور نہیں کیونکہ یہ ہنزہ وادی کے آخری کونے میں واقع ہونے کے باعث کوہ پیماﺅں کی نظروں سے دور ہی رہتا ہے۔

    اس پہاڑ کو 1967 میں سب سے پہلے سر کیا گیا تھا۔

  • پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ سمیت سات کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کر لی

    پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ سمیت سات کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کر لی

    پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ نے دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کر سر کرلی

    ثمینہ بیگ کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ہیں ثمینہ بیگ نے آج صبح پونے 8 بجے کے ٹو کی چوٹی پر پاکستانی پرچم لہرایا، ثمینہ بیگ کے ہمراہ دیگر کوہ پیما ؤں عید محمد ،بلبل کریم ،احمد بیگ ،رضوان داد ،وقار علی اور حسین سدپارہ نے بھی کے ٹو سر کرلیا۔ ثمینہ بیگ نے 2013 میں دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کی تھی اور پہلی خاتون کوہ پیما کا اعزاز حاصل کیا تھا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کے ٹو سر کرنے والی پاکستانی خواتین کوہ پیما ثمینہ بیگ اورنائلہ کے اہلخانہ کو مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ثمینہ بیگ اورنائلہ پاکستانی خواتین کے عزم و ہمت اور بہادری کی علامت بن کر ابھری ہیں دونوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین کوہ پیمائی کے صبر آزما کھیل میں مردوں سے پیچھے نہیں،امید ہے ثمینہ بیگ اورنائلہ دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم اسی جذبے سے لہراتی رہیں گی،

    وفاقی وزیر، پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحما ن کا کہنا ہے کہ ثمینہ بیگ اور نائلہ کیانی کوکے ٹوکی چوٹی سرکرنے کی کامیابی پر مبارکباد دیتی ہوں،اوپر پہنچنے کے لیے غیر معمولی عزم اور حوصلہ رکھنا چاہیے،

    شیریں مزاری نے کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہِ پیما ثمینہ بیگ کو مبارکباد دی اور کہا کہ کے ٹوسرکرنا خواتین کی طرف سے ایک بار پھر ایک عظیم کارنامہ ہے

    دوسری جانب ایک کوہ پیما کی موت کی بھی اطلاعات ہیں، کے ٹو مہم جوئی کے دوران غیر ملکی کوہ پیما کی ہلاکت ہوئی ہے، غیر ملکی کوہ پیما کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے افغانی کوہ پیما علی اکبر سخی کی موت واقع ہوئی ہے افغانی کوہ پیما علی اکبر سخی کے ٹو سر کرنے کے مہم کے دوران کیمپ 4 پر دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے فوت ہوگئے ہیں مذکورہ کوہ پیما افغانستان کے پہلے کوہ پیما تھے جو پہلی مرتبہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی اونچائی 8 ہزار 611 میٹر ہےاسے پہلی بار 31 جولائی 1954ء کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا۔ اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور چوگو ری(چھوغو ری) یعنی بڑا پہاڑ بھی کہتے ہیں، کے ٹو یا گاڈون آسٹن کی چوٹی قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی وہ بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے

    یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ

    پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

  • پہلی پاکستانی کوہ پیما خاتون نائلہ کیانی کے ٹو کے کیمپ ون پر پہنچ گئیں،مزید سفر شروع

    پہلی پاکستانی کوہ پیما خاتون نائلہ کیانی کے ٹو کے کیمپ ون پر پہنچ گئیں،مزید سفر شروع

    کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے نائلہ کیانی نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما بننے کا عزم لیے نائلہ کیانی نے اپنی پیش قدمی کا آغاز کردیا ہے اور وہ چوٹی کے کیمپ ون پر پہنچ چکی ہیں دبئی میں رہائش پذیر پاکستانی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے اتوار کے روز کے ٹو بیس کیمپ سے سمٹ کیلئے سفر شروع کیا تھا ۔ پیر کی شام وہ کیمپ ون پر پہنچی گئیں۔

    ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم خشک اور مرطوب رہے گا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر موسم ٹھیک رہا تو وہ 22 جولائی تک کے ٹو سر کرنےمیں کامیاب ہو جائیں گی نائلہ کیانی ایڈوانس بیس کیمپ کو کراس کرنے کے بعد 6900 میٹر بلندی پر اس کے کیمپ ون تک پہنچیں نائلہ کیانی دنیا کی 13 ویں بلند ترین چوٹی گاشر برم دوم سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما بھی ہیں۔

    حب ڈیم سے حب ندی میں مزید ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی آنے کا خدشہ

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کی اونچائی 8 ہزار 611 میٹر ہےاسے پہلی بار 31 جولائی 1954ء کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڈلی اور کمپانونی نے سر کیا۔

    اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور چوگو ری(چھوغو ری) یعنی بڑا پہاڑ بھی کہتے ہیں، کے ٹو یا گاڈون آسٹن کی چوٹی قراقرم کے پہاڑی سلسلے کی وہ بلند ترین چوٹی ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔

    الیکشن کمیشن نے عمران خان کے الزامات مسترد کر دیئے

  • گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں

    گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں

    اسکردو:گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں،اس وقت یہ اطلاعات گردش کررہی ییں کہ گزشتہ سال پاکستان میں گیشر برم 2 سر کر کے 8 ہزار میٹر سے بلند کسی چوٹی کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والی نائلہ کیانی نے اب کے ٹو مہم کا آغاز کردیا ہے۔

    نائلہ کیانی کی اس کامیابی کو اس امر نے مزید دلچسپ بنا دیا کہ انہوں نے گزشتہ سال زندگی میں پہلی بار کوئی پہاڑ سر کرنے کی ٹھانی تھی اور بیٹی کی پیدائش کے محض 7 ماہ بعد 8ہزار 35 میٹر بلند گیشر برم پہاڑ سر کرلیا۔

    دبئی میں مقیم، بیکنگ کے شعبے سے وابستہ نائلہ کیانی نے بتایا کہ ’میری بیٹی محض ساڑھے 7 ماہ کی تھی جب میں نے گیشر برم 2 سر کیا‘۔

    پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما اگلے ماہ "کے ٹو” سرکرنے کی مہم پر نکلیں گی

    ٹیم بریفنگ کے بعد سکردو کے لیے روانہ ہونے والی نائلہ کیانی کے ہمراہ پاکستانی کوہ پیما سرباز خان اور سہیل سخی بھی ہوں گے جو مرحوم علی رضا سدپارہ کے ساتھ گیشر برم 2 سر کیے جانے کے وقت بھی ان کے ساتھ تھے۔

    نائلہ کیانی نے کہا کہ ’گیشر برم 2 سر کرنے والی ٹیم ہی اب کے ٹو سر کرنے جارہی ہے، ہم نے یہ مہم چچا علی رضا سدپارہ کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

    ساجد سدپارہ کی صحت کے متعلق تشویشناک خبرسامنے آ گئی:افسوسناک ویڈیو وائرل

    نائلہ کیانی نے علی رضا سدپارہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب میں گیشر برم 2 سر کرنے کے بعد بیس کیمپ پہنچی تو یہ علی رضا چاچا ہی تھے جنہوں نے مجھے کہا کہ آپ کے ٹو بھی سر کرسکتی ہیں، مجھے یہ اعتماد انہوں نے ہی دیا‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’ان کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی وہ شاندار حس مزاح تھی، ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی، مہم کے دوران جب کوئی کٹھن لمحہ آتا تو وہ کوئی لطیفہ سناتے اور ہم سب ہنس پڑتے‘۔

    8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں سے مشکل ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے لیے اپنی تیاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ ناقابل یقین حد تک مشکل رہا ہے، میں زچگی کی چھٹیوں کے دوران گیشر برم-2 سر کرنے نکل گئی تھی اور مہم سے واپس آنے کے بعد فوراً کام پر چلی گئی تھی‘۔

    پنجاب حکومت کاطلحہ طالب، ارشد ندیم اور کوہ پیماؤں ساجد علی سدپارہ اور شہروز کاشف…

    اپنی کم عمر بیٹی کے علاوہ نائلہ کیانی ایک 3 سالہ بیٹے کی بھی ماں ہیں اور اس مہم میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، اس مشکل فیصلے کے حوالے سے سوال پر نائلہ کیانی نے جواب دیا کہ ’ہم یہ سوال مردوں سے نہیں پوچھتے، حتیٰ کہ بیرون ملک بھی لوگوں نے مجھ سے یہ سوال پوچھا کیونکہ ماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کریں نہ کہ اس قسم کے سرگرمیوں پر توجہ دیں‌

    انہوں نے بتایا کہ گیشر برم 2 کی مہم پر سرباز خان میرے ہمراہ تھے جبکہ میری بیٹی کی پیدائش کے ایک دن بعد ان کی بھی بیٹی پیدا ہوئی لیکن کسی نے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ آپ 14 چوٹیوں کے مشن پر کیسے گئے اور سال کے بیش تر وقت گھر سے دور کیسے رہ لیتے ہیں؟

    انٹرنیشنل کوہ پیما ساجد علی سدپارہ کا ریسکیو ہیڈکوارٹر کا دور:ڈی جی ریسکیونے کے…

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو غیرمعمولی شرح اموات کے باوجود خصوصاً پاکستانی کوہ پیماؤں کے لیے کشش رکھتی ہے، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے نائلہ کیانی نے کہا کہ ’یہاں جو سکون ملتا ہے وہ آپ کو ان پہاڑوں میں واپس لاتا رہتا ہے، جب میں نے اپنی پہلی مہم کا منصوبہ بنایا تھا اس وقت میں صرف اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کو جانچنا چاہتی تھی، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ میں کتنی بلندی پر جا سکتی ہوں‘۔

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ