نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیرصدارت اگلے مالی سال کے ابتدائی چارمہینوں کے اخراجات کو حتمی شکل دینے سے متعلق ایک اجلاس اتوار کے روز وزیراعلیٰ ہاوس میں منعقد ہوا جس میں نگران کابینہ اراکین حامد شاہ اور حمایت اللہ خان کے علاوہ چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری زبیر اصغر قریشی، سیکرٹری خزانہ ایاز خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس کو اگلے مالی سال کے پہلے چار مہینوں کے مجوزہ کرنٹ اورڈویلپمنٹ اخراجات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نگران کابینہ کی منظوری کیلئے ان اخراجات سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دی گئی نگران کابینہ کی منظوری کیلئے کفایت شعاری کو فروغ دینے اور غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنے سے متعلق مختلف تجاویز کو بھی حتمی شکل دی گئی ہے غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنے اور صوبائی حکومت کی آمدن میں اضافے کیلئے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔نئے مالی سال کے پہلے چار مہینوں کے دوران کرنٹ اور ڈویلپمنٹ اخراجات سے متعلق ان تجاویز کی منظوری کیلئے 20 جون کو نگران کابینہ کاا جلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انتہائی سخت حالات میں اگلے مالی سال کے چار مہینوں کیلئے اخراجات سے متعلق تجاویز تیار کی گئی ہیں ، نگران حکومت گزشتہ چار ماہ سے وفاق سے صوبے کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ نگران صوبائی حکومت آئندہ مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کیلئے آمدن اور اخراجات میں توازن قائم کرنے کی بھر پور کوشش کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے دستیاب وسائل کے دانشمندانہ اور مو ثر استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں کواس سلسلے میں اپنے اپنے محکموں میں ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ۔
Tag: کے پی کے نگران حکومت
-

کے پی کے نگران حکومت کی جانب سے 4 ماہ کا بجٹ تیار
-

خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری گاڑیاں افسران کو فروخت کرنے کا فیصلہ
خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری گاڑیوں کی مونیٹائزیشن اور نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے 40 ہزار سے زائد سرکاری گاڑیاں افسران کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سرکاری گاڑیوں کی مونیٹائزیشن سے 10 ارب روپے کی آمدن ہو گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف ریسکیو، پولیس موبائل اور میونسپلٹی کی گاڑیوں کو سرکاری حیثیت میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔مونیٹائزیشن پالیسی پر محکمۂ خزانہ نے نگراں حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ پالیسی کے تحت ایک افسر ایک ہی گاڑی خرید سکے گا، سرکاری افسر تصرف میں موجود گاڑی دو سے تین اقساط میں خرید سکے گا، افسران کو باقاعدہ سبز نمبر پلیٹ دی جائے گی۔