پشاور میں نا معلوم ملزمان کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار شہید ہوگیا ہے، جس کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی۔
نماز جنازہ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، سی سی پی او، ڈی آئی جی ظفر، ایس ایس پی آپریشن ہارون رشید، چیف ٹریفک آفیسر قمر حیات خان اور دیگر نے شرکت کی۔
ملزمان کا پیچھا کرتے ہوئے نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پولیس کانسٹیبل سرور شاہ کی نماز جنازہ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ پشاور کی ملک سعد شہید پولیس لائن میں ادا کر دی گئی۔
وزیراعلیٰ اور پولیس افسران نے شہید کے تابوت پر پھول چڑھائے اور پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی دی۔
نگران وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس نے اپنی جان ومال کی حفاظت کے لیے لامتناہی قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو پولیس کی قربانیوں پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شہید کے خاندان کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
Tag: کے پی کے

پشاور، نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید

کے پی کے پولیس پولیو ڈیوٹی کے لئے اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب
خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کی پولیس نے پولیو ڈیوٹی سے انکار کے بعد اپنے مطالبات منظور کروا کے ہی دم لی،۔ پولیس نے پولیو ڈیوٹی انجام دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا کے ساتھ خیبر پولیس کے مذاکرات کامیاب ہوگئے۔جس کے بعد پولیس نے پولیو ڈیوٹی انجام دینے کی یقین دہانی کرادی۔
قبائلی اضلاع میں پولیس نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔یاد رہے کہ تین روز قبل ضلع خیبر میں پولیس کے سکیورٹی نہ دینے پر پولیو مہم ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔خیبر پولیس نے پیر کو انسداد پولیو مہم جیسی اہم قومی ذمہ داری سے انکار کیا تو ضلعی انتظامیہ کو اگلے روز منگل سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم ملتوی کرنی پڑ گئی تھی۔انسداد پولیو مہم میں ڈیوٹی کے حوالے سے خیبر پولیس کا مؤقف تھا کہ انھیں اعزازیہ نہیں دیا جاتا۔
اس لئے پولیس نے اعزازیہ نہ ملنے پر سیکیورٹی دینے سے انکار کردیا تھا، تاہم اب آئی جی کے ساتھ خیبر پولیس کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد اہلکاروں نے پولیو ڈیوٹی انجام دینے کی حامی بھر لی ہے۔
خیبر پختونخواہ نگران کابینہ مستعفی
خیبر پختونخوا کی نگران کابینہ مستعفی ہوگئی، ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعلی نے چائے پر بلا کر سب سے استعفی طلب کرلیا،کے پی کے اسمبلی کے 25ممبران میں سے 23 ممبران نے استعفی دیدیا،ذرائع نے بتایا کہ دو ممبران نے استعفی دینے کیلئے مزید وقت مانگ لیا ہے ، نگران وزیر اعلی کے زرائع کے مطابق نگران وزیر اعلی نے ممبران کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کا خط آیا ہے کہ کابینہ میں سیاسی ممبران ہیں،کابینہ میں موجود سیاسی لوگوں کو استعفیٰ دینا ہوگا، الیکشن کمیشن کی خط کے تناظر میں خیبرپختونخوا نگراں کابینہ میں 20 ارکان نے استعفی نگراں وزیراعلی کو بھجوا دیے مستعفی اراکین میں مسعود شاہ، عبد الحلیم قصوریہ، ارشاد قیصر، محمد علی شاہ، ہدایت اللہ، سلمی بیگم اور ریاض انور شامل، پیر ہارون شاہ، شیراز اکرم، ملک مہر الہی، حامد شاہ اور بخت نواز نے بھی جمع کروا دےحاجی غفران، فضل الہی، تاج محمد ، حمایت اللہ، ظفر محمود اور رحمت سلام خٹک بھی مستعفی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو ای کے ارکان نے مہلت مانگ لی۔

پشاور ہائیکورٹ میں سابق پی ٹی آئی سینٹر اورنگزیب خان کے کیس کی سماعت
پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سابق سینیٹر اورنگزیب خان سمیت 4 کارکنوں کی 3 ایم پی او کے تحت گرفتاری سے روکنے کے متعلق کیسز کی سماعت ہوئی ہے،
سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی، حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل دانیال اسد چمکنی پیش ہوئے۔ عدالت کو وکیل درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ میرا موکل 9 مئی کے واقعات کے دوران پاکستان میں موجود نہیں تھا اور اورنگزیب خان11 مئی سے 18 مئی تک دبئی میں تھا، وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ درخواست گزار کے پاسپورٹ سے بھی یہ واضح ہے کہ میرا موکل پاکستان میں نہیں تھا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بیرون ملک ہونے کے باوجود 3 جولائی 2023 کو ڈی سی اوکزئی نے اس کے تین ایم پی او کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں، عدالت کو اے اے جی کی جانب سے کہا گیا کہ مذکورہ سینیٹر کے خلاف ایک کیس ہے، جس پر عدالت نے اورنگزیب خان سمیت دیگر 4 کارکنوں کو کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم کیا عدالت نے رکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی،
مردان، پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلا ف گھیر ا تنگ، موٹر سائیکلز چور گروہ سمیت گھروں سے چوری کرنے والے 04 ملزمان گرفتار
مردان ضلعی پولیس سربراہ نجیب الرحمن کی ہدایت پر اے ایس پی شیخ ملتون سرکل ریشم جہانگیر نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے ایس ایچ تھانہ شیخ ملتون بخت زادہ خان،ایس ایچ او تھانہ طورونورمحمد خان، ایس ایچ او تھانہ گڑھی کپورہ شفیع اللہ خان اے ایس آئی عرب علی،اے ایس آئی سہیل خان پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دے کرمختلف کاروائیاں کرتے ہوئے راہزنی،چوری اور موٹر سائیکل چورگروہ کے 04 ملزمان بلال ولد عبدالمالک سکنہ گڑھی دولت زئی، محمد حسین ولد قمر علی جو گڑھی کپورہ،کامران ولد گل سید باچا طورو کا رہنے والا اور بلال ولد محمد عمران سکنہ نوشہرہ کو ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا،۔ملزمان کی نشاندہی پر چوری شدہ 11 عدد موٹر سائیکلز نقد رقم 75 ہزارروپے اور دیگر چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا۔ گرفتار ملزمان نے مختلف اوقات میں تھانہ شیخ ملتون،تھانہ طورو اور گڑھی کپورہ میں وارداتیں کی تھیں۔جن کے خلاف مقدمات درج درج کئے گئے تھی۔ اور پولیس کو مطلوب تھے،
اس حوالے سے اے ایس پی ریشم جہانگیر نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جن سے مزید انکشافات بھی متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی پولیس سربراہ نجیب الرحمن کا سماجی ومعاشرتی جرائم کے خلاف جاری کردہ احکامات پر سرکل پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری رہے گی۔
عوام الناس غیر قانونی سرگرمیوں کے متعلق مقامی پولیس کو بروقت آگاہ کرکے جرائم کا خاتمہ اور امن و امان کے قیام کے لئے پولیس کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔
سوات یونیورسٹی میں خواتین کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے کے خلاف آواز اٹھانے پر طالب علم گرفتار
سوات پولیس نے سوات یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علم کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر حکام کو مبینہ طور دھمکی دینے اور ویڈیو بنانے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی شکایت پر گرفتار کر لیا۔ جس کے خلاف ان کے ساتھی طلبا سراپا احتجاج بن گئے اور الزام لگایا کہ گرفتار ہونے والے طالب علم نے کچھ دن پہلے طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست دی تھی۔ جواد احمد نامی شعبہ صحافت کے طالب علم کی گرفتاری کے خلاف یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ احتجاجی طلبا ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے جمع ہوئے۔ وائس چانسلر اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی اور جواد احمد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دی اور کیس واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب میں ایک طالب علم نے کہا کہ جواد بے قصور ہے اور پھنسایا جا رہا ہے۔ ’جواد نے یونیورسٹی میں ہونے والے واقعات کے خلاف درخواست دی تھی۔ جس پر کارروائی کے بجائے اسی کے خلاف کیس بنا دیا گیا‘۔
انہوں نے وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے وہ خاموش ہونے والے نہیں ہیں۔
جمرود خود کش دھماکے میں مزید سات سہولت کار گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی
25 جولائی کو جمرود کے علاقہ علی مسجد خودکش دھماکہ کے سہولت کاری میں ملوث 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ، ان خیالات کا اظہار پشاور،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سہیل خالد نے پریس کانفرنس میں کئے، سہیل احمد کے مطابق پولیس کو مسجد میں مشکوک افراد کی اطلاع ملی تھی جہاں ،پولیس پہنچی تو دھماکہ ہوا ،انہوں نے مزید بتایا کہ ایک دہشت گرد کو موقع پر گرفتار کیا گیا، جس نے تفتیش میں مزید انکشافات کئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق سہولت کاری میں ملوث 7 افراد گرفتار ہوچکے ہیں، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پولیس موبائل اور ایف سی کانوائے تھا، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید کہا کہ خودکش بمبار حملے سے پانچ دن قبل افغانستان سے پاکستان آیا ، سہیل خالد کے مطابق پکڑے گئے دہشت گردوں سے خودکش جیکٹ ،اسلحہ ،افغان سم اور دیگر اشیاء برآمد ہوئیں،
واضح رہے کہ25 جولائی کو جمرود کے علاقہ علی مسجد میں خودکش دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او شہید ہوئے،
چارسدہ،پی ٹی آئی سابق وزیر فضل شکور کا 14 آگست کو ریلی کا اعلان
خیبرپختونخوا کے سابقہ وزیر برائے قانون حاجی فضل شکور خان نے نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ کو ایک مراسلہ کے ذریعے آگاہ کیا کہ جشن آزادی کے موقع پر اپنے بزرگوں، مشران اور ورکرز کے ہمراہ ریلی کا انعقاد کر رہا ہوں۔
فضل شکور خان نے مزید کہا کہ اس پر مسرت موقع پر ریلی کے ذریعے خوشی کا اظہار ہر پاکستانی کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ مذکورہ ریلی سے کسی کے جان، مال کاروبار اور مواصلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
فضل شکور خان نے نگران وزیر اعلیٰ، ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ڈی پی او چارسدہ سے ریلی منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ فول پروف سکیورٹی مہیا کرنے کی بھی گزارش کی ہے،
پشاور کے عوام یو ٹیلٹی سٹورز میں بھی بنیادی اشیاء سے محروم
کے پی کے کے مختلف اضلاع میں یوٹیلیٹی سٹورز تو بنا دیئے گئے ہیں لیکن عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔ یہاں پر وہ اشیاء تو موجود ہے جس پر سبسڈی نہیں لیکن وہ چیزیں غائب ہے جس پر حکومت نے سبسڈی دی ہے جس طرح آٹا، چینی اور گھی وغیرہ۔ مقامی میڈیا کے مطابق پشاور شہر کے درجنوں یوٹیلیٹی سٹورز ایسے ہیں جہاں پر چینی، آٹا اور دیگر سبسڈیزئڈ اشیاء کی قلت ہے۔ شہری سٹورز کا رخ کرتے ہیں اور مایوسی کی حالت میں واپس لوٹ جاتے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں 90 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹور بنائے گئے۔ یہ اسٹورز پوش علاقے حیات آباد میں واقع ہونے کے ساتھ شہر کے دور دراز علاقوں میں بھی واقع ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں عوام کو کوئی ریلیف مل سکے لیکن شہریوں کے مطابق اس سٹورز سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا رہے.
شہریوں کے مطابق جن اشیاء پر سبسڈی دی گئی ہے وہ شہر کے کسی بھی سٹور پر مل نہیں رہی جبکہ باقی چیزوں کی قیمت مارکیٹ کے برابر ہیں اس لئے سٹور کا کوئی فائدہ عوام کو نہیں مل رہا ہے.
یوٹیلیٹی اسٹور پر گزشتہ 3 ماہ سے چینی اور آٹا نہیں مل رہا ہے وہ ہر دوسرے روز مختلف اسٹورز کا رخ کرتے ہے لیکن مایوس ہوکر واپس لوٹتے ہے۔ اسٹور میں ملنے والی فی کلو چینی میں 71 روپے تک بچت ہے کیونکہ مارکیٹ میں چینی 160 روپے فی کلو مل رہی ہے جبکہ اسٹور میں 91 روپے فی کلو ملتی تھی یعنی ایک کلو میں 71 روپے تک کا بچت کافی بڑا بچت ہے اور اسی لئے ہر کسی کے کوشش ہوتی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں انہیں سستی اشیاء مل جائے اور کچن کا خرچ توڑا کم ہو جائے۔ 10 کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت اسٹور پر 648 روپے مقرر کی گئی ہے یعنی 20 کلو گرام آٹے کا تھیلہ 12 سو 96 روپے میں ملتا ہے اور یہی آٹا آپ باہر مارکیٹ میں خریدے گئے تو 28 سو سے کم نہیں ملے گا. 20 کلو گرام آٹے کے تھیلے میں 15 سو روپے تک کا بچت ہو رہا ہے لیکن ملتا ہی نہیں یہاں۔
شہریوں کے مطابق جن اشیاء پر سبسڈی دی گئی ہے وہ مل نہیں رہی،جس پر سبسڈی نہیں وہ تمام چیزیں مل رہی ہے لیکن ان چیزوں کا ریٹ مارکیٹ ریٹ کے برابر ہے کیونکہ لوبیہ فی کلو سٹور میں 428 روپے میں مل رہا ہے اور یہی لوبیہ مارکیٹ میں بھی 420 اور 430 روپے کا ملتا ہے نارمل معیار کا لوبیہ اسٹور کا بھی ہے اور مارکیٹ میں بھی یہی باآسانی مل جاتا ہے.
خیبر پختونخوا میں مون سون شجر کاری کا آغاز وزیر اعلی ہاؤس سے کیا گیا
محکمہ جنگلات خیبر پختونخواہ میں مون سون کے تحت شجرکاری سال 2023 کا نگران وزیر اعلی محمد اعظم خان نے باضابطہ اجراء کردیا۔ مہم کا آغاز اعظم خان نے وزیراعلی ہاوس کے لان میں پودا لگا کر کیا، نگران صوبائی وزیر جنگلات اور محکمہ جنگلات کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے، محکمہ جنگلات کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی گئی جس کے مطابق مہم کے تحت صوبہ بھر میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد پودے لگائے جائیں گے، بریفنگ میں بتایا گیا 10 بلین ٹری پراجیکٹ کے تحت صوبے میں جنگلات کے مجموعی رقبے میں 6.3 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، نگران وزیر اعلی نے صوبے میں جنگلات کے تحفظ اور فروع میں محکمہ جنگلات کا کردار قابل ستائش قرار دیا، اور کہا انسانی زندگی کی بقا کے لئے جنگلات کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں، وزیر اعلی اعظم خان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لئے جنگلات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، پہلے سے موجود جنگلات کا تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری کا فروع وقت کی اہم ضرورت ہے، وزیر اعلی نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ حکومت اس مقصد کے لئے ایک جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھا رہی ہے، مون سون شجرکاری مہم کے تحت صوبے میں بڑے پیمانے پر پودے لگائے جائیں گے، انہوں نے بتایا عوام اس شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، شجرکاری ایک قومی فریضہ ہے، شہری اس سلسلے میں بھر پور کردار ادا کریں، تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو آلودگی سے پاک اور سرسبز و شاداب ماحول دے سکیں،









