گلوکار کے کے جو اکتیس مئی کو کلکتہ میں پرفارم کرنے کے لئے گئے وہاں انکو اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ان کی موت کے بعد کچھ وڈیوز سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہوئیں جن کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ جیسے کے کے شو کے دوران سینے میں درد کی شکایت کررہے ہیں اور ان کے انتقال کے بعد ان کو ہسپتال لیجایا جا رہا ہے۔ایسی وڈیوز دیکھ کر لوگوں نے تنقید کی اور کہا کہ جس جگہ شو کا انعقاد کیا وہاں پر انتظامات اچھے نہیں تھے اے سی پراپر کام نہیں کر رہا تھا اور ضرورت سے زیادہ ہجوم اس ہال میں موجود تھا۔ لوگوں کی اس قسم کی تنقید کے بعد ایونٹ مینجمنٹ کمپنی نے اپنی چپ توڑ دی اور بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے جو بھی وڈیوز سوشل میڈیا پر سرکولیٹ کی جا رہی ہیں وہ جعلی ہیں ان کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ کے کے کو دل کا دورہ شو کے دوران نہیں پڑا بلکہ انہوں نے پہلے شو کیا شو کرنے کے بعد وہ ہوٹل اپنے کمرے کی طرف گئے جہاں وہ اپنے پرستاروں کے ساتھ سلیفیاں لیتے رہے اور اس چیز کی تصدیق ان کے مینجر بھی کریں گے لہذا اس بات میں بالکل سچائی نہیں ہے کہ شو کے دوران ہارٹ اٹیک ہوا۔ ہال میں انفراسٹرکچر جس طرح کا ہونا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی تھا، اے سی بھی کام کررہا تھا لیکن لوگ ان کی توقعات سے زیادہ آگئے تھے ، کچھ لوگ زبردستی ہال میں داخل ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ ہال میں دم گھٹ رہا تھا یا ایسی کسی چیز نے گلوکار کی صحت کو متاثر کیا۔ کے کے کے ساتھیوں کی طرف سے یا خود کے کے کی طرف سے ہمیں ہمیں ایک بار بھی ایسا اشارہ نہیں دیا گیا کہ کے کے کو کوئی مسئلہ ہو رہا ہے اگر ایسا اشارہ ملتا تو ہم یقینا شو کر روک دیتے۔
ایونٹ مینجمنٹ کمپنی نے بھی بتایا کہ اس شو کو کرنے کے لئے جگہ کا انتخاب کالج نے خود کیا تھا۔ کے کے شو کے آخر تک جم کر گاتے رہے۔
Tag: کے کے

کے کے کو ہسپتال لیجانے والی وڈیوزجھوٹی ہیں: ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کا دعویٰ

یوارڈ نہ ملنے کی وجہ سے کے کے کبھی پریشان نہیں ہوئے تھے:شنکر مہادیون
میوزک ڈائریکٹر شنکر مہادیون نے ہندوستان ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ میرے اور کے کے کے درمیان بہت زیادہ دوستی تھی یہاں تک کہ ہم فلموں میں بھی نہیں آئے تھے جب سے ہماری دوستی تھی ۔ہم ایکدوسرے کے ساتھ مل کر جنگلز گایا کرتے تھے اور ایسے ہی تجربات بعد میں فلموں میں بھی کئے۔ شنکر نے یہ بھی بتایا کہ کے کے بہت زیادہ فیملی کے ساتھ رہنے والے انسان تھے ان کے پاس جو بھی فری وقت ہوتا تھا،پارٹیوں میں جانے کی بجائے فیملی کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دیتے تھے ۔وہ باقاعدہ طور پر اپنے کام سے کچھ دنوں کا وقفہ لیکر فیملی کے ساتھ رہتے تھے وہ سوشل میڈیا کے بھی شوقین نہیں تھے یہاں تک کہ ان کے پاس وٹس ایپ نمبر بھی نہیں تھا انہیں اگر کال کرنی ہوتی تھی تو ڈائریکٹ نمبر پر کرنی پڑتی تھی ۔
شنکر نے یہ بھی کہا کہ کے کے نے بہت اچھا گایا لیکن جس حساب سے اچھا گایا اس حساب سے انہیں ایوارڈز نہیں ملے اور یہ چیز ان کو کبھی پریشان نہیں کرتی تھی وہ اپنی دھن میں مست رہتے تھے اور کام کرتے رہتے تھے ۔ کے کے شوز کے معاملے میں بھی بہت سلیکٹیو تھے ہر کسی کا شو نہیں کر تے تھے .
واضح رہے کہ گلوکار کے کے گزشتہ دنوں دل کا دورپ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے ان کے انتقال کی خبر سن کر نہ صرف بالی وڈ بلکہ پاکستان کی شوبز انڈسٹری اور پرستار دکھی ہیں.
بھارتی گلوکار کےکے، کے انتقال پر بالی وڈ ستارے شدید غم میں مبتلا
بھارتی گلوکار کرشنا کمار ناتھ المعروف کے کےکے انتقال ہر بھارتی فلم انڈسٹری کے ستارے افسردہ ہیں ہر کسی نے کے کے کی موت پر شدید رنج کا اظہار کیا ہے۔خصوصی طور پر اکشے کمار ،رنویر سنگھ، پریتی زنٹا ،پریتم ، وشال ڈاڈلانی ، ارمان ملک و دیگر نے کے کے کے اتنقال کو میوزک انڈسٹری کے بڑا نقصان قرار دیا ہے ۔ کے کے، کے پرستار بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ کے کے یقینا ایک بڑے گلوکار تھے میوزک کے شعبے میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے ۔ ان کا ایک گیت جو کہ اداکار رتیک روشن پر فلمایا گیا اسکے بول تھے زندگی دو پل کی انتظار کب تک ہم کریں گے بھلا اس گانے کو ان کے پرستار سوشل میڈیا پر شئیر کر رہے ہیں۔ان کے مشہور گانوں میں’دل عبادت، توہی میری شب ہے، سن ذرا، تڑپ تڑپ کے اس دل سے آہ نکلتی رہی، دس بہانے کرکے لے گئے دل‘ سمیت متعدد گانے شامل ہیں۔
کے کے نے بالی وڈ میں ایک سے بڑھ کر ایک گیت گائے انپوں نے جو بھی گیت گایا اسے عوامی سطح پر بے حد پذیرائی ملی۔ کے کے آتے ہی فلم انڈسٹری پر بطور گلوکار چھا گئے ان کے ہٹ گانے ہر دوسرے بڑے ہیرو پر پکچرائز ہوئے۔ یاد رہے کہ کے کے گزشتہ روزکلکتہ میں شو کی غرض سے گئے تھے شو میں پرفارم کر رہے تھے لوگ ان کی پرفارمنس پر جھوم رہے تھے کہ پرفارمنس کے دوران اچانک ہی کے کے گر گئے جیسے ہی وہ گرے ان کو ہسپتال لے کر جایا گیا ہسپتال جب لیکر گئے وہاں ان کے چیک اپس ہوئے تو ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیدیا.


