Baaghi TV

Tag: گائے

  • گائے کے کاٹنے سے کسان میں ریبیز کی علامت ظاہر

    گائے کے کاٹنے سے کسان میں ریبیز کی علامت ظاہر

    کراچی میں گائے سے منتقل ہونے والے ریبیز کا اپنی نوعیت کا پہلا کیس رپورٹ ہوا-

    بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں گائے سے منتقل ہونے والے ریبیز کے پہلے کیس کی رپورٹ دی گئی ہے، جس میں ایک نوجوان کسان متاثر ہوا، اس کی جان 2024 میں کراچی کے انڈس ہسپتال میں بروقت طبی امداد سے بچائی گئی یہ تحقیق ’ آ ریبڈ کائو بائٹس دا ہینڈ، ڈیٹ فیڈز اٹ’ کے عنوان سے انٹرنیشنل جرنل آف انفیکشیس ڈیزیزز (آئی جی آئی ڈی) میں شائع ہوئی ہے۔

    تحقیق کے مطابق 18 سالہ کسان کو اس وقت گائے نے ہاتھ اور انگوٹھے پر کاٹ لیا جب وہ اسے چارہ دے رہا تھا، خوش قسمتی سے، اسے گائے سے ریبیز منتقل ہونے کے خطرے کا علم تھا، اس نے اسی دن ہسپتال کے ریبیز پریوینشن اینڈ ٹریننگ سینٹر (آر پی ٹی سی) سے رجوع کیا، زخم شدید نوعیت کے تھے، جس کے لیے عام طور پر ریبیز امیونوگلوبیولن (آر آئی جی) اور ویکسین دونوں دی جاتی ہیں، لیکن چونکہ کسان کو 4 سال قبل ایک کتے کے کاٹنے کے بعد مکمل طور پر ویکسین دی گئی تھی، اس لیے آر آئی جی کو غیر ضروری قرار دیا گیا، اور صرف ویکسین کی خوراکیں دی گئیں، جس سے اس کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہو گئیں، ہسپتال سے ڈسچارج کے وقت اسے ہدایت کی گئی کہ گائے کو مشاہدے میں رکھے اور اس کے رویے میں کسی بھی تبدیلی کی اطلاع دے، 3 ہفتے بعد کسان نے اطلاع دی کہ گائے کا رویہ عجیب ہو گیا ہے، اور وہ چند دن بعد مر گئی۔

    تحقیق میں لکھا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ایک ممکنہ ریبیز کی شکار گائے کی رپورٹ موصول ہوئی، جس کے بعد ایک ٹیم نے گائے کا سر تحقیق کے لیے کاٹ کر حاصل کیا، اور باقی جسم کو گہرائی میں دفن کر دیا گیا، دماغی ٹشو پر کیے گئے ریورس ٹرانسکرپشن-پولی میریز چین ری ایکشن (آر ٹی-پی سی آر) ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا،دیہاتیوں نے مزید تصدیق کی کہ اس گائے کو کچھ دن پہلے ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا، لیکن وہ یہ تصدیق نہ کر سکے کہ وہی کتا دوسرے جانوروں یا انسانوں کو بھی کاٹ چکا ہے یا نہیں۔

    ریبیز ایک قدیم وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری ہے، جو عموماً کسی متاثرہ جانور، خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، اور بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ 100 فیصد مہلک ہےہر سال دنیا بھر میں تقریباً 60 ہزار افراد ریبیز سے ہلاک ہوتے ہیں، لیکن غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوتے، زیادہ تر ہلاکتیں دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں جہاں لوگ اکثر قسمت پر بھروسہ کرتے ہوئے متبادل علاج پر انحصار کرتے ہیں، لیکن جانبر نہیں ہو پاتے۔

    ڈاکٹر نسیم صلاح الدین، جو تحقیق کی سربراہ اور انڈس ہسپتال کے انفیکشن ڈیزیز ڈپارٹمنٹ کی سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ بیووائن ریبیز (گائے میں ریبیز) کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے، دیہات میں پہلے بھی مویشیوں، بھینسوں اور گدھوں میں ریبیز کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن میرے علم کے مطابق یہ پہلا واقعہ ہے کہ ایک شخص کو ریبیز زدہ گائے نے کاٹا ہو۔

    تحقیق کے مطابق، پاکستان میں لائیو اسٹاک کا زرعی شعبے کی کل قدر میں 37.5 فیصد اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 9.4 فیصد حصہ ہے، دیہی گھرانوں کے لیے زراعت اور مویشی پالنا بقا کا ذریعہ ہے، تقریباً 3.5 کروڑ افراد مویشی پالنے سے منسلک ہیں اور اپنی آمدنی کا 40 فیصد اسی شعبے سے حاصل کرتے ہیں۔

    تحقیق میں مزید کہا گیا کہ یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں بیووائن ریبیز انسانوں کو متاثر کر رہی ہے، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، بہت سے جانوروں میں ریبیز کے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے، جنہیں مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے، انسانوں اور جانوروں کے لیے ریبیز ویکسین کی فراہمی حکومت کی مدد سے یقینی بنائی جانی چاہیے۔

    اس میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کو مستحکم کرنے، طبی عملے کو تربیت دینے اور آر آئی جی ویکسین کے مناسب ذخیرے کی فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔

    2013 میں انڈس ہسپتال میں 13 ہزار 330 جانوروں کے کاٹنے کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 12 ہزار 524 (94 فیصد) کتے کے کاٹنے کے، جب کہ باقی 806 (6 فیصد) کیسز دوسرے جانوروں جیسے بلی، گدھے، گھوڑے اور گائے کے کاٹنے کے تھے گایوں میں ریبیز کی علامات میں ضرورت سے زیادہ رال بہنا، رویے میں تبدیلی، چڑچڑاپن، پاگل پن شامل ہے، جو بعد میں جسمانی فالج اور موت تک جا سکتا ہے۔

  • گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ

    گائے کے ساتھ جنسی عمل کرنیوالے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا، ملزم بارے انکشاف ہوا کہ ملزم کتوں، بکریوں کے ساتھ بھی جنسی عمل کر چکا ہے

    واقعہ بھارت کا ہے،اترپردیش کے ضلع مراد آبا د میں ایک ملزم نے گائے کے ساتھ جنسی عمل کیا ہے،ملزم کی شناخت بھورا شیخ کے طور پر ہوئی جس نے گھر میں بندھی ہوئی گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی، واقعہ کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے،واقعہ 15 جون کا ہے،دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ملزم بھورا شیخ گائے کے علاوہ کتوں اور بکریوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر چکا ہے وہیں کئی خواتین بھی ملزم کا نشانہ بن چکی ہیں

    جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کا واقعہ ضلع مراد آباد کے تھانہ دلاری کی حدود میں پیش آیا، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ملزم کو گائے کے ساتھ زیادتی کرتے دیکھا جا سکتا ہے،مرادآباد پولیس نے وائرل ویڈیو کا نوٹس لے لیا اور مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا،

    دوسری جانب وشو ہندو پریشد نے دلاری کے اسٹیشن انچارج کو خط بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ضلع نائب صدر کلیان سنگھ کی طرف سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہندو تنظیم بھورا کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے نظر رکھے ہوئے تھی۔ وہ گھوم رہا تھا اور خاص طور پر گھریلو گائے کے ساتھ جنسی فعل کر رہا تھا۔ملزم نے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے مادہ کتوں اور بکریوں کے ساتھ زیادتی کی،ملزم اب تک ایک درجن سے زائد جانوروں کے ساتھ جنسی عمل کر چکا ہے،خط میں کہا گیا کہ ملزم اپنے دوستوں سے کہتا تھا کہ ’’آج میں نے اپنی سہاگ رات ہندوؤں کی ماں گائے کے ساتھ منائی ہے۔‘‘ جب 15 جون کے واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تو بھورا نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی اور کہا، "جو چاہو کرو۔ مودی اور یوگی کو بتائیں۔ بھورا کی مجرمانہ سوچ کی وجہ سے بہت سے لوگ اس کے خلاف کھڑے ہونے سے کتراتے ہیں۔ وی ایچ پی رہنماؤں نے ملزم بھورا کے خلاف جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون اور دیگر متعلقہ سیکشنز کے تحت سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • چار خلیجی ممالک کو مویشی برآمد کرنے کی منظوری دے دی گئی

    چار خلیجی ممالک کو مویشی برآمد کرنے کی منظوری دے دی گئی

    کابینہ نے چار خلیجی ممالک کے لیے مویشی برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔ خلیجی ممالک کو سولہ ہزار سات سو پچاس مویشی برآمد کیے جائیں گے جبکہ وزارت خارجہ کی سمری پرسرکولیشن سمری کے ذریعے قطر،متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کے لیے مویشی بھجوانے کے لیے زندہ جانوروں کی برآمد پرعائد پابندی میں خصوصی نرمی کی منظوری دے دی۔

    جبکہ پاکستان سے مویشی چاروں ممالک کی اہم شخصیات کے لیے بھیجے جائیں گے، جس میں بکریاں، بھیڑیں،اونٹ،گائے بھینسیں اور بیل شامل ہیں، چار ہزار مویشی قطر کے شیخ عبداللہ بن خالد، قطر کے شیخ محمد بن فیصل التھانی کے لیے پینتس سو، شیخ فیصل بن نصرالثانی کے لیے تئیس سو مویشی ،شیخ علی بن عبداللہ الثانی کے لیے تین ہزار مویشی برآمد کیے جائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان
    پُرامن ممالک کی فہرست میں پاکستان کونسے نمبر پر؟
    پی آئی اے کی تنظیم نو، اصلاحات اور بحالی کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل
    مصدق ملک نے تیل ذخیرہ اندوزی کا توڑ پیش کر دیا
    ٹیلی گرام بھی اسٹوریز کا فیچر متعارف کرانے کیلئے تیار
    یواے ای کے شیخ احمد بن خالد القاسمی کےلیے پچیس سو مویشی برآمد کیے جائیں گے۔ بحرین کے شیخ محمد بن عیسٰی بن سلمان الخلیفہ کے لیے ایک ہزار مویشی بھجوائے جائیں گے۔ کویت کے شیخ عبدالعزیزجبرالحامد الصباح کیلئےساڑھے چار سو مویشی برآمد کئے جائیں گے۔ جبکہ دوسری جانب کراچی کی مویشی منڈی میں جانور کم رہ گئے اور جانوروں کی قیمتیں دوگنی ہوگئیں۔

    مویشی منڈی انتظامیہ کے مطابق کراچی مویشی منڈی میں 7 لاکھ سے زائد جانور لائے گئے تھے جن میں 6 لاکھ سے زائد گائے اور بیل جبکہ ایک لاکھ سے زائد بکرے لائے گئے تھے۔ مویشی منڈی انتظامیہ نے بتایا کہ منڈی میں تقریباً 10 ہزار اونٹ لائے گئے تھے اور اب مویشی منڈی میں صرف 10 فیصد جانوربچ گئے ہیں۔ مویشی منڈی میں خریداری کیلئے آنے والے گاہک پریشان ہوگئے اور شکوہ کیا کہ مویشی منڈی میں جانوروں کی قیمتیں دوگنی ہوگئیں۔ تاہم خیال رہے کہ ملک بھر میں کل عیدالاضحیٰ منائی جائے گی اور نمازِ فجر کے بعد سے ہی سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کا سلسلہ شروع ہوگا۔

  • گائے نےشیر کے بچے سے مماثلت رکھتے بچے کو جنم دیا

    گائے نےشیر کے بچے سے مماثلت رکھتے بچے کو جنم دیا

    بھارت: گائے نے ایک ایسے بچھڑے کو جنم دیا جو شیر کے بچے سے مماثلت رکھتا ہے-

    باغی ٹی وی: یہ عجیب و غریب واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع کی تحصیل بیگم گنج میں واقع گورکھا گاؤں میں پیش آیا جہاں گائےنےایک ایسے بچھڑےکوجنم دیا جو شیر کے بچے سے مماثلت رکھتا ہے، عجیب وغریب بچھڑا پیدائش کے 30 منٹ بعد ہی انتقال کرگیا تاہم اس واقعے نے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کردیا۔

    پی ایف یو جے کا صحافیوں کے حقوق کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

    بھارتی میڈیا کے مطابق اس عجیب وغریب بچھڑےکی پیدائش ضلع رائسن میں نتھولال شلپکار نامی کسان کے باڑے پر ہوئی جس کی خبر پھیلتے ہی دور دراز گاؤں سے لوگوں کی بڑی تعداد اسے دیکھنے پہنچ گئی۔

    بچھڑےکی پیدائش سے متعلق ویٹرنری ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ شیر کے بچے سے مشابہ بچھڑے کی پیدائش گائے کے بچہ دانی میں خرابی کا نتیجہ ہے، اگرچہ بچھڑا ابتدائی طور پر صحت مند تھا لیکن پیدائش کے30 منٹ کے اندر ہی انتقال کرگیا۔

    پاکستان میں منکی پاکس کے دو مریض صحتیاب،دو مشتبہ کیس رپورٹ

    بھارت میں جانوروں کے ڈاکٹر این کے تیواری نے بتایا کہ گائے کے حمل میں خرابی کی وجہ سے ایسے بچھڑے کی پیدائش ہوئی جو کہ شیر کے بچے سے مماثل تھا، ایسے مسائل جین کی صحیح نشوونما نہ ہونے کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔

  • جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے دی انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(آئی وی آر آئی) نے گائے کے پیشاب کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی: ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انڈین ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IVRI)، بریلی کے محققین نے ایک مطالعہ شائع کیا ہے جس میں حتمی شواہد ظاہر کیے گئے ہیں کہ گائے کے پیشاب میں ممکنہ طور پر نقصان دہ بیکٹیریا ہو سکتے ہیں-

    سری لنکا چین کو ایک لاکھ بندر فروخت کرے گا

    اس تحقیق کے دوران گائے، بھینس اور انسان کے پیشاب کے 73 نمونے حاصل کیے گئے۔ ان نمونوں میں پائے جانے والے بیکٹیریا پر تحقیق کی گئی جن میں سے 14 ایسی اقسام پائی گئیں جو انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    مائکروبائیولوجسٹ بھوج راج سنگھ اور تین پی ایچ ڈی طلبا کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق ان پیشاب کے نمونوں میں کسی قسم کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی نہیں جاتیں۔ گائے کا تازہ پیشاب کسی بھی صورت میں انسان کے استعمال کے لیے موزوں نہیں ہے۔

    پلوامہ کا ڈرامہ ،مودی نے فوجی خود مروائے،حقیقت سامنے آ گئی

    ایک سینئر کنسلٹنٹ، کریٹیکل کیئر میڈیسن ڈاکٹر سمیت رے نے وضاحت کی کہ سائنسی طور پر، گائے کا گوبر اور گائے کا پیشاب جانوروں کے جسم سے خارج ہوتا ہے، جسے باہر پھینکا جاتا ہے ایسا کوئی سائنسی مطالعہ یا ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ گائے کے پیشاب یا گائےکےگوبر میں جراثیم کش خصوصیات ہیں یہ ہمیں کورونا وائرس سمیت کسی بھی انفیکشن میں فائدہ نہیں دے گا اس طرح کے تبصرے صرف پھیلائی جانے والی غیر سائنسی اور غیر معقول معلومات میں اضافہ کرتے ہیں! ”

    واضح رہے کہ بھارت میں گائے کو مذہبی طور پر مقدس مانا جاتا ہے اور اس کا پیشاب پاک سمجھ کر پیا جاتا ہے۔

    یاد رہے کہ ماضی میں مذکورہ بالا ادارے کے سابق ڈائریکٹر آر ایس چوہان نے دعویٰ کیا تھا کہ کشید کیے جانے کے بعد گائے کا پیشاب انسانوں میں قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کینسر جیسے موذی مرض اور کرونا وائرس کے خلاف بھی مددگار ہے۔

    چینی کمپنی کی طالبان کو لیتھیم کے ذخائر تک رسائی کے لیے 10 ارب ڈالر …

    میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں برس جنوری میں بھارتی ریاست گجرات کے ضلع ٹپی کے ایک سیشن جج نے کہا تھا کہ گائے کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس کا پیشاب بہت سے لاعلاج امراض کا علاج کرسکتا ہے اور گائے کا گوبر تابکاری کو روکتا ہے۔

    ٹوئٹر پر امراضِ جگر کے ڈاکٹر اور سائنس دان ایبی فلپس نے، جو سوشل میڈیا ویب سائٹ پر دی لیور ڈاکٹر کے نام سے لکھتے ہیں، ایک ٹوئٹ میں کہا کہ جہاں ڈاکٹروں کی قلیل تنخواہ اور موذی بیماریوں جیسے مسائل درپیش ہیں، وہیں بھارتی ادارہ ایسے موضوع پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کر رہا ہے اب بھی ایسا لگتا ہے کہ تحقیق کے مصنفین ان نتائج سے خوش نہیں ہیں اور وہ کشید کیے ہوئے گائے کے پیشاب پر مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔

    سعودی عرب کی فضائی کمپنی نے سوڈان کیلئے تمام پروازیں معطل کر دیں

  • بھارت میں  ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے گا

    ممبئی: بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری (Cow Hug Day) کے طور پر منائیں۔

    باغی ٹی وی:بھارت کے سرکاری ادارے کا خیال ہے کہ گائے سے محبت کرنے والے لوگ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے بجائے "کاؤ ہگ ڈے” کے طور پر مناسکتے ہیں۔ اس سے زندگی مزید خوشگوار ہوگی اوراسے مثبت توانائی سے بھرپور بنایا جاسکے گا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر ایک نوٹیفیکشن جاری کیا ہے جس میں بورڈ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے کے بجائے ’گائے کو گلے لگانے کے دن‘ کے طور پر منائیں۔


    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کے مطابق گائے بھارت کی ثقافت اور دیہی معیشت کا حصہ ہے جبکہ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔

    بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کا کہنا ہے کہ 14 فروری گائے کو گلے لگانے کو دن کے طور پر منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت سے ’لڑکا لڑکی کی محبت کے اظہار‘ کے مغربی کلچر کو کم کیا جائے اور لوگوں کو مقامی ثقافت کی جانب راغب کیا جائے۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی اینیمل ویلفیئر بورڈ کی اس اپیل کے خوب چرچے ہورہے ہیں صارفین کی جانب سے طنزو مزاح اور میمز شیئر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔


    ایک ٹوئٹر صارف نے اینیمل ویلفیئر بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ اس ویلنٹائنز ڈے پر اکیلے ہیں تو بھارتی حکومت آپ کو گائے کو گلے لگانے کا مشورہ دے رہی ہے۔


    https://twitter.com/gsmadhusudan/status/1623330855270903809?s=20&t=vvAkgoHsNPwoc-6qUsweaw


    واضح رہے کہ اینیمل ویلفیئر بورڈ بھارت کی وزارت برائے فشریز کے تحت کام کرتی ہے جس کی ذمہ داریوں میں جانوروں کا تحفظ اور ان کی اہمیت کے بارے میں شعور اُجاگر کرنا بھی شامل ہے۔

    بھارت میں ویلنٹائن ڈے منانا عام ہے لیکن اکثر قدامت پسند اور سخت گیر ہندو تنظیمیں ان مواقع پر ہنگامہ آرائی کرتی ہیں ، ماضی میں مودی بھی اس دن کو منانے کے خلاف کئی بار بیان دے چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، ہندو مذہب میں گائے ایک مقدس جانور تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ بھارت میں گائے کو ذبح کرنا بھی گویا گناہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس پر ذبح کرنے والے کو ہی قتل کردیا جاتا ہے۔

    بھارت میں سال 2015 اور 2016 کے درمیانی عرصے میں گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں نے بدترین تشدد سے مجموعی طور پر 10 مسلمانوں کو قتل کیا۔

    موجودہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2001 سے 2014 تک ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ رہے، ان کے دور میں گجرات میں گائے ذبح کرنے، گائے کے گوشت کی نقل و حمل اور اس کی فروخت پر مکمل پابندی تھی-

  • گائے کا گوبرگھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے اورپیشاب  بہت سی لاعلاج بیماریوں سے بچاتا ہے،بھارتی عدالت

    گائے کا گوبرگھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے اورپیشاب بہت سی لاعلاج بیماریوں سے بچاتا ہے،بھارتی عدالت

    بھارتی ریاست گجرات کی عدالت کے جج سمیر ویاس نے مضحکہ خیز ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گائے کے گوبر کا لیپ گھروں کو اٹامک ریڈی ایشن سے بچاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے تاپی ضلع میں ایک سیشن عدالت کے جج نے ملک میں گائے کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنے گھر جوہری تابکاری سے متاثر نہیں ہوتے جبکہ گائے کے پیشاب سے بہت سی لاعلاج بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے-

    گجرات کے ضلع تاپی کی سیشن کورٹ میں گزشتہ سال ایک 22 سالہ مسلمان نوجوان کے خلاف مختلف قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس کیس میں نوجوان کو گائے اور بیلوں کو گجرات سے مہاراشٹرا لے جانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    اسی حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے گائے کو ذبح کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گائے ایک جانور نہیں ہماری ماں ہے، ملک میں گائے کو بچانے کی ضرورت ہے۔

    عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ دنیا کے تمام مسائل اس دن حل ہوجائیں گے جس دن کرہ ارض پر گائے کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں گرے گا، گائے کے ذبیحہ اور غیر قانونی نقل و حمل کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں یہ ایک مہذبی معاشرے کی توہین ہے اگرچہ ہم گائے کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، لیکن زمین پر اس پر عمل نہیں ہوتا ہے۔

    جج نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئے 75 سال گزر چکے ہیں لیکن گائے ذبیحہ کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں گائے مذہب کی علامت ہے گائے پر مبنی آرگینک فارمنگ کے ذریعے اگائی جانے والی خوراک ہمیں بہت سی بیماریوں سے بچاتی ہے۔

    عدالت نے سائنس کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنے گھر اٹامک ریڈی ایشن سے متاثر نہیں ہوتے جب کہ گائے کا پیشاب بھی متعدد بیماریوں سے بچاتا ہے۔

    جج نے کہا کہ گائے خطرے میں ہے کیونکہ آج کل "مکینائزڈ سلاٹر ہاؤسز” میں گائے کا گوشت ذبح کیا جا رہا ہے اور گوشت کے ساتھ گائے کا گوشت نان ویجیٹیرین لوگوں کو پیش کیا جاتا ہے۔

    لوگوں کو گائے کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے، جج نے سنسکرت کے کچھ شلوکوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ "مذہب گائے سے پیدا ہوا ہے” کیونکہ مذہب ‘ورشابھا’ (بیل) کی شکل میں ہے، جو گائے کا بیٹا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ یہ تکلیف دہ ہے کہ گائے کو غیر قانونی طور پر لے جایا جا رہا ہے اور ذبح کیا جا رہا ہے، ہندوستان میں گائے کی 75 فیصد آبادی پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔

    اگست 2020 میں، تاپی پولیس نے مہاراشٹر کے مالیگاؤں قصبے کے رہائشی محمد امین انجم کو مبینہ طور پر 16 گایوں اور بیلوں کو ٹرک میں گجرات لے جانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیاجب پولیس نے ٹرک کو روکا تو ایک گائے اور ایک بیل پہلے ہی مر چکے تھے کیونکہ گاڑی میں مویشیوں کے لیے کافی جگہ یا خوراک نہیں تھی محمد انجم اپنا ٹرک چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا تھا تاہم بعد میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

    ایک مقدمے کی سماعت کے بعد، سیشن کورٹ نے اسے گجرات جانوروں کے تحفظ ایکٹ، 2011، گجرات جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ، 2017، اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام ایکٹ، 1960 کے متعلقہ سیکشن کے تحت مجرم پایا۔

    2017 میں، ریاستی حکومت نے ‘گجرات جانوروں کے تحفظ (ترمیمی) ایکٹ، 2017’ کی شکل میں گائے کے ذبیحہ کے خلاف ایک سخت قانون متعارف کرایا، جس میں گائے کے ذبیحہ کے قصوروار یا براہ راست ملوث ہونے کے لیے عمر قید کی سزا کا انتظام ہے عدالت نے ترمیم شدہ ایکٹ کے تحت ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی اور اس پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

  • اجتماعی قربانی کرنا بھی سخت مشکل ہو گیا

    اجتماعی قربانی کرنا بھی سخت مشکل ہو گیا

    قصور
    مویشی منڈی قصور میں جانور تو وافر مگر خریدار نہیں،بیوپاری حضرات سخت پریشان،اجتماعی قربانی کرنا بھی مشکل ہو گیا

    تفصیلات کے مطابق بکرا عید کی آمد کے پیش نظر مویشی منڈی قصور میں وافر جانور تو نظر آرہے ہیں مگر خریدار نہیں
    بکروں،چھتروں،دنبوں،بیل،گائے اور اونٹوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کے باعث خریدار نا ہونے کے برابر ہیں
    3 سے 4 من کے بیل کی قیمت 2 سے 2.5 لاکھ اور اسی طرح 20 کلو گرام سے اوپر والے عام بکرے چھترے کی قیمت 40 سے 50 ہزار روپیہ مانگی جا رہی ہے
    اس بار لوگوں کا اجتماعی قربانی کی طرف رجحان زیادہ ہے مگر مہنگائی کے باعث اجتماعی قربانی بھی لوگوں کیلئے مشکل ہو چکی ہے
    گزشتہ سالوں میں ان دنوں عید سے قبل سڑکوں پر جانوروں سے لدی گاڑیوں کی خوب چہل پہل دیکھنے کو ملتی تھی تاہم اس مرتبہ ایسا بہت کم دیکھنے میں آ رہا ہے جس کی وجہ بے انتہاہ مہنگائی ہے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے ہمیں سنت ابراہیمی جیسے اہم فرض سے دور کر دیا ہے
    حکمران ہوش کے ناخن لیں اور مہنگائی کم کریں تاکہ لوگ اپنے گھر چلا سکیں اور سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانور قربان کر سکیں

  • قتل کیس میں گائے گرفتار،مقدمہ درج

    قتل کیس میں گائے گرفتار،مقدمہ درج

    سوڈان میں پولیس نے 12 سال کے بچے کو قتل کرنے کے جرم میں گائے اور اس کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے، جنوبی سوڈان میں کسی گائے کو قتل کے مقدمے میں گرفتار کرنے کا یہ انوکھا واقعہ ہے-

    باغی ٹی وی : جنوبی سوڈانی حکام نے ایک 12 سالہ لڑکے کے قتل کے الزام میں ایک گائے اور اس کے مالک کو گرفتار کرنےکا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اسی ملک میں ایک ماہ قبل ایک مینڈھے کو 45 سالہ خاتون کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    ہوائی جہاز سے شادی کی خواہشمند لڑکی

    برطانوی اخبار ’’ڈیلی سٹار‘‘ کے مطابق پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ’قصائی گائے‘ کو اس کے مالک سمیت حراست میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گائے فارم کے باہر ٹہل رہی تھی اور تبھی اس نے 12 سالہ بچے پر حملہ کردیا –

    گائے کا حملہ اتنا وحشیانہ تھا کہ بچہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا بچے کو قتل کرنے والی گائے کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا، بچے کا پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا ہے جنوبی سوڈان کے پولیس کے ترجمان میجر ایلیا میبور نے تصدیق کی ہے کہ گائے کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    "گریٹ گرینڈ پا” کے نام سے مشہور 5000 سال سے زائد…

    انہوں نے کہا کہ گائے اب مرکزی ضلع رومبیک کے ایک پولیس اسٹیشن میں زیر حراست ہے۔ اس کے خلاف لڑکے کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

    اس سے پہلے بھی مینڈھے کو 45 سالہ خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق کوئی بھی پالتو جانور اگر کسی کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے تو سزا پوری ہونے کے بعد متاثرہ کے خاندان کو معاوضہ بھی دیا جاتا ہے۔

    جاپانی شخص نے کتا بننے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر ڈالے

  • انڈیا میں گائے کے گوبر اور پیشاب سے بنے کاسمیٹکس اورمصالحہ جات یورپی ممالک میں بھی فروخت ہونے لگے

    انڈیا میں گائے کے گوبر اور پیشاب سے بنے کاسمیٹکس اورمصالحہ جات یورپی ممالک میں بھی فروخت ہونے لگے

    انڈیا میں ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ گائے کو مقدس سمجھتا ہے اوراسے ماں کا درجہ دیتا ہے ۔ گائے کے پیشاب اورگوبر کو بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور اکثر پوجا پاٹھ سے پہلے فرش پر گوبر کا لیپ اور پیشاب کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ہندوستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 1.3 بلین سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی کل آبادی کا تقریباً 80 فیصد ہندو مذہب پر یقین رکھتا ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں کے مطابق گائے کو دیوتا نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن گائے کا تعلق ادیتی سے تھا، جو سب سے قدیم ہندو صحیفہ میں بیان کردہ تمام دیوتاؤں کی ماں ہے۔ گائے کا تقدس ان کے جذبات، احساسات اور خوابوں میں گہرا جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ گائے کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال ان کی مذہبی ذمہ داری ہے۔ ہندومت میں گائے کو مارنے اور اس کا گوشت کھانے کا خیال گناہ ہے


    ہندو مذہبی نظام گائے کی مصنوعات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ گائے کی ضمنی مصنوعات جیسے گوبر، گھی، دودھ، دہی اور پیشاب صاف کرنے والے ایجنٹ ہیں۔ 3 ہندومت میں، گائے کے گوبر کو گھروں کی صفائی اور نماز کی رسومات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    ان کا خیال ہے کہ اس میں علاج اور جراثیم کش خصوصیات ہیں۔ آرتھوڈوکس ہندو ونگ گائے کی مصنوعات کو ہر چیز کا علاج سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک بھارتی وزیر نے دعویٰ کیا کہ گائے کا پیشاب پینے سے کینسر کا علاج ہو سکتا ہے۔ 5 ایک اور سیاستدان نے دعویٰ کیا کہ مقامی ہندوستانی گائے کا دودھ پیلا ہے کیونکہ اس میں سونا ہوتا ہے۔

    یہاں تک کہ سرکاری ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ مرگی ،جگر کا کینسر ،معدے کے امراض ، چنبل، جلد کے امراض، ایگزیما، گٹھیا، سوزش، جذام وغیرہ جیسے امراض کا علاج گائے کے دودھ، گوبر اور پیشاب سے کیا جا سکتا ہے چل رہی حکومت ایک ایسا پروجیکٹ شروع کرنا چاہے گی جس میں سائنسدان دیسی گایوں کی ضمنی مصنوعات سے ٹوتھ پیسٹ، شیمپو اور مچھروں کو بھگانے والے مادے تیار کرنے کی کوشش کریں۔

    بھارت کی ہندو اکثریت گائے کو مقدس جانور سمجھتی ہے اور کئی ریاستوں میں اس کا گوشت کھانے پر پابندی عائد ہے جڑی بوٹیوں پر مشتمل آیور ویدک طرز علاج میں گائے کے پیشاب کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کا استعمال کئی بیماریوں کے علاج میں ہوتا ہے ۔ رام دیو کی جڑی بوٹیوں کی دواؤں اور مصنوعات کی کمپنی ‘پتنجلی’ آیورویدک دواؤں اور کاسمیٹکس کی ملک کی سب سے تیزی سے ابھرتی ہوئی کمپنی بن گئی ہے –


    یہاں تک کہ گائے کے گوبر اور پیشاب سے بنے سواد نامی برانڈ کے مصالحہ جات،کاسمیٹکس اور رام دیو کی جڑی بوٹیوں کی دواؤں اور مصنوعات کی کمپنی ‘پتنجلی’ آیورویدک دواؤں اور کاسمیٹکس یورپئین ممالک،کینیڈا امریکا اور یو کے، آسٹریلیا، یو ایس اے وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی اسٹورز اور بڑے بڑے مالز میں عام دستیاب ہیں جہاں بڑے بڑے برانڈز کے ساتھ فروخت ہوتی ہیں-

    کاؤ پیتھی Cowpathy صابن، ٹوتھ پیسٹ، فرش کلینر، بالوں کا تیل، بخور، شیونگ کریم اور فیس واش فروخت کرتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ صابن میں گائے کا خشک اور چکنا گوبر، نارنجی کا چھلکا، لیوینڈر پاؤڈر اور گوزبیری شامل ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ گوبر، گھی اور پیشاب سے بنتا ہے۔ اب یہ کاسمیٹک مصنوعات اور ادویات کی ایک لائن تیار کر رہا ہے۔

    "ہندوستانی صحیفوں میں، خاص طور پر ویدوں میں، گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب میں بہت زیادہ دواؤں کی خصوصیات کا ذکر ملتا ہے،” کاؤ پیتھی کے بانی اور سی ای او امیش سونی نے کوارٹز کو بتایا۔ "آیوروید میں بہت ساری جڑی بوٹیاں استعمال ہوتی ہیں، لیکن گائے کا گوبر، اپنی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کے ساتھ، بہت خالص سمجھا جاتا ہے اور آیوروید کا حصہ ہے۔”

    اس نے گائے کے گوبر کے صابن کو بھی پیٹنٹ کرایا۔ آج، ان کی کمپنی 45,000 سے زیادہ یونٹ صابن فروخت کرتی ہے — 75 گرام بار کے لیے 35 روپے میں دستیاب ہے ہر ماہ پورے ہندوستان میں اور امریکہ سمیت تقریباً 13 ممالک میں کمپنی اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہے یہ 100 گرام کے لیے 75 روپے میں ہر ماہ ٹوتھ پیسٹ کے 5,000 یونٹس بھی فروخت کرتا ہے۔ دیگر کاؤپیتھی مصنوعات میں فیس واش (50 گرام ٹیوب کے لیے 35 روپے)، فرش کلینر (500 ملی لیٹر کے لیے 125 روپے)، اور بالوں کا تیل (200 ملی لیٹر کے لیے 110 روپے) شامل ہیں۔

    کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے صابن میں گائے کے گوبر کی مقدار 23 فیصد اور گائے کا پیشاب 7 فیصد ہے۔ ٹوتھ پیسٹ میں ہر ایک کا 10% اور 2% گھی ہوتا ہے۔ فرش صاف کرنے والے گاونائل میں گائے کا 11 فیصد پیشاب ہوتا ہے۔ سونی نے کہا،’مجھے لوگوں نے بتایا ہے کہ دو سالوں میں ٹھیک نہ ہونے والے ایکزیما گائے کے گوبر کے صابن کے استعمال سے غائب ہو گئے ہیں۔‘‘

    کمپنی نے چھ بھارتی ریاستوں میں تقسیم کار قائم کیے ہیں: تامل ناڈو، کرناٹک، گجرات، آسام، پنجاب اور ہریانہ۔ یہ اپنے خام مال، بنیادی طور پر گوبر اور پیشاب کو ملک بھر میں گائے کی پناہ گاہوں سے حاصل کرتا ہے۔ کاؤپیتھی کا ای کامرس ڈویژن بھی ہے اور اس کی مصنوعات اب دو سہولیات سے تیار کی جاتی ہیں- ہریدوار، اتراکھنڈ، اور سرمور، ہماچل پردیش شامل ہیں-

    سال 2014 میں حکومت میں آنے کے بعد سے ہندو قوم پرست بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کی جماعت کی جانب سے گائے کے گوبر اور پیشاب سے مصنوعات تیار کرنے پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں گو کہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے لیکن وزیر اعظم مودی کی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی حکمران جماعت کے کئی سیاست دان کرونا (کورونا) وائرس کے علاج کے لیے بھی گائے کے پیشاب یعنی گاؤ موتر کو استعمال کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں مودی حکومت نے گائے کے گوبر اور پیشاب پر ریسرچ کرنے کا فیصلہ کیا جسے بھارتی سائنسدانوں نے مسترد کر دیا-

    علاوہ ازیں بھارتی حکومت کی جانب سے گائے کے گوبر سے صابن اور دیگر ادویات بنانے کے لیے بنائے گئے قومی گائے کمیشن نامی ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ‘چپ’ بنائی ہے جو انسان کو موبائل فون سے خارج ہونے والی تابکاری سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

    ادارے کے چئیرمین ولابھائی کٹھاریہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اسے موبائل فون کے کور میں رکھا جا سکتا ہے م نے دیکھا ہے کہ اگر آپ اس چپ کو موبائل فون میں رکھیں تو یہ تابکاری کو بڑی حد تک کم کر سکتی ہے۔ گائے کا گوبر تابکاری کا توڑ ہے۔ یہ سب کو محفوظ رکھتی ہے. اگر آپ سے گھر لائیں تو یہ آپ کے گھر کو تابکاری سے بچا سکتی ہے۔ یہ سب کچھ سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے ان کے اس بیان کا سوشل میڈیا پر بھرپور مذاق اڑایا گیا تھا-

    ادارے کے چئیرمین ولابھائی کٹھاریہ نے بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ کو بتایا تھا کہ یہ چپس ایسی پانچ سو جگہوں پر تیار کی جا رہی ہیں جہاں گائیں رکھی جا رہی ہیں اور اس کی قیمت تقریباً 100 روپے رکھی گئی ہےایک شخص یہ چپس امریکہ بھی برآمد کر رہے ہیں جہاں اس کی قیمت دس ڈالر رکھی گئی ہے۔’ بھارت میں ان چپس کی قیمت ڈیڑھ ڈالر سے بھی کم ہے۔

    گائے رکھشکوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر آپ کو کبھی آکسیجن کی کمی محسوس ہو، سانس اکھڑ رہی ہو یا پھر کینسر کا خطرہ ہو تو آپ سیدھے کسی گئوشالا کا رخ کریں راجستھان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مہیش چند شرما کا کہنا ہے کہ گائے کے پاس ہر مرض کا علاج ہے گائے ایک چلتا پھرتا ہسپتال ہے، دنیا کا واحد ایسا جانور جو سانس لیتے وقت آکسیجن اندر لیتا ہے( جو کوئی بڑی بات نہیں ہم سب ایسا ہی کرتے ہیں) لیکن سانس چھوڑتے وقت بھی آکسیجن ہی باہر بھی نکالتا ہے( جو ایک بڑی بات ہے کیونکہ ایسا اور کوئی جانور نہیں کرتا)۔

    اب اگر کسی کو آکسیجن کی ضرورت ہو اور آکسیجن کا سلنڈر دستیاب نہ ہو تو اس کا علاج بھی گائے ہے اگر آپ کے ذہن میں کبھی ’بوٹوکس‘ کے انجکشن لگوانے کا خیال آیا ہو کیونکہ آپ کو اپنے چہرے پر جھریاں پسند نہیں تو پلاسٹک سرجن سے دور ہی رہیے گا۔ اس کا علاج بھی گائے کے پاس موجود ہے-

    ہندوؤں کا ماننا ہے کہ گائے کا پیشاب اگر پی سکتے ہیں تو عمر ڈھلنے کی رفتار ٹھہرے گی تو نہیں لیکن سست ضرور پڑ جائے گی، ساتھ ہی کچھ اور فائدے بھی ہیں۔ اس سے جگر، دل اور دماغ بھی صحت مند رہے گا گائے کے پیشاب سے، پچھلے جنم میں جو گناہ کیے ہیں، وہ بھی دھل جائیں گے۔

    جج صاحب کے مطابق ایک روسی سائنسدان کا یہ کہنا ہے کہ گھروں کی دیواروں پر اگر گائے کے گوبر کا لیپ کیا جائے تو آپ تابکاری سے محفوظ رہیں گے گائے کا گوبر ہیضے کے جراثیم کو بھی تباہ کرتا ہے گائے کا دودھ پینے سے آپ کینسر سے محفوظ رہیں گے۔ ساتھ ہی آپ کی ہڈیاں بھی مضبوط رہیں گی

    انڈیا میں آج کل گائے کا تحفظ ایک اہم سیاسی موضوع بنا ہوا ہے جس سے سماجی اور سیاسی انتشار بڑھ رہا ہے۔ سب ہندو گائے کو مقدس نہیں مانتے اور اس کی معجزاتی صلاحیتوں پر یقین نہیں کرتے لیکن انھیں مسجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    بھارتی ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ گائے کے گوبر سے کووڈ انیس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ طبی حلقوں کے مطابق ایسے شواہد نہیں کہ گائے کا گوبر یا پیشاب اس عالمی وبا کو روکنے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم قدامت پسند ہندو اسے کورونا سے تحفظ کی ضمانت اور اس کا علاج بھی قرار دے رہے ہیں-

    گائے مکمل سانئس ہے
    حکومتی ادارے ‘راشٹریہ کام دھینو آیوگ‘ (قومی گائے کمیشن) کے زیر انتظام قومی سطح کا آن لائن امتحان 25 فروری کو منعقد کیا گیا تھا راشٹریہ کام دھینوآیوگ (آر کے اے) کے چیئرمین اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا ہے کہ اس امتحان کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کے حوالے سے ‘تجسس پیدا کرنا‘ اور اس مقدس جانور کے تئیں ‘احساس‘ جگانا ہے۔

    ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا تھا کہ ‘گائے سائنس‘ کے بارے میں لوگوں کو جاننے کی ضرور ت ہے، ”گائے اپنے آپ میں ایک مکمل سائنس ہے۔ اگر ہم بھارت کی پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کی بات کرتے ہیں تو اس میں انیس کروڑ سے زائد گائے اور بچھڑوں کی بھی اہمیت ہے۔ یہ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر گائے دودھ نہیں دیتی ہے تب بھی اس کا پیشاب اور گوبر قیمتی ہے۔ اگر ہم ان کا استعمال کریں تو اس سے نہ صرف گائے کو بچایا جاسکتا ہے بلکہ ہماری پوری معیشت بھی اپنے راستے پر آسکتی ہے۔”