Baaghi TV

Tag: گردے

  • سور کے گردے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کرانیوالا امریکی شہری مکمل صحتیاب

    سور کے گردے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کرانیوالا امریکی شہری مکمل صحتیاب

    سور کے گردے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کرانیوالا امریکی شہری مکمل صحت یاب ہو گیا ہے، شہری کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا جس کے بعد وہ اپنے گھر منتقل ہو گیا ہے.

    امریکا میں دو ہفتے قبل 62 سالہ شہری رچرڈ سلیمان کی میساچوسٹس کے جنرل ہسپتال میں سور سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ گردے کی پیوند کاری کی تاریخی سرجری کی گئی تھی، رچرڈ سلیمان کو علاج کے دو ہفتے بعد بدھ کے روز گھر واپس بھیج دیا گیا۔ اب وہ مکمل صحت یاب ہیں ،اور انہیں مکمل آرام ہے کوئی تکلیف نہیں ہے، ڈاکٹروں نے 16 مارچ کے روز چار گھنٹے کی طویل سرجری کے دوران جینیاتی طور پر ترمیم شدہ سور کے گردے کو ان کے جسم میں کامیابی کے ساتھ ٹرانسپلانٹ کر دیا،مذکورہ مریض کا گردہ اب ٹھیک طرح سے کام کر رہا ہے اور وہ اب ڈائیلاسز پر نہیں ہیں،

    رچرڈ سلیمان کی جانب سے کہا گیا کہ ہسپتال چھوڑ کر گھر جانے کے قابل ہونا ان کی زندگی کے لیے خوش ترین لمحات میں سے ایک ہے،میں اپنے خاندان، دوستوں اور پیاروں کے ساتھ دوبارہ وقت گزارنے کے لیے پرجوش ہوں، جو ڈائیلاسز کے بوجھ سے آزاد ہیں، جس نے کئی سالوں سے میرے معیار زندگی کو متاثر کیا،

    ماضی میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خنزیروں سے اعضاء کی پیوند کاری کے آپریشن ناکام ثابت ہوئے ہیں، تاہم سائنسدانوں نے اس تازہ طریقہ کار کی کامیابی کو پیوند کاری کے میدان میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔

    امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    لاہور میں گردہ نکالنے والا گروہ پکڑا گیا،90 افراد کے گردے نکال کر لاکھوں میں بیچے

    امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب

    اُوچ شریف: گردے میں پتھری کا علاج صرف ماہر ڈاکٹر سے کرایا جائے -ڈاکٹرامجد سپرا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    جوس پلا کر اغواء کرکے اسلام آباد لیجا کر گردے نکالنے والے گروہ کا رکن گرفتار کر لیا گیا

    گلشن اقبال پولیس نے کارروائی کی،ایس پی اقبال ٹاؤن اخلاق الله تارڑ نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ایس ڈی پی او مسلم ٹاؤن عاطف معراج کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی،ایس ایچ او گلشن اقبال سید قمر عباس و پولیس ٹیم نے انسانی گردے فروخت کرنے والےگینگ کے رکن کو گرفتار کیا،گرفتار ملزم ندیم اپنے ساتھی شعیب کیساتھ ملکر لوگوں کو اغواء کرکے اسلام آباد لیجاتے تھے،ملزمان مختلف علاقوں میں موجود غریب اور نادار لوگوں کو پیسوں کا لالچ دے کر بھی گردے نکلواتے تھے

    متاثرہ شخص سلیم مزدوری کرتا تھا گھر میں رنگ کرنے کے بہانے ساتھ لیجانے کیلئے گاڑی میں بٹھایا،ملزمان نے گاڑی میں مدعی مقدمہ کو جوس پلا کر بیہوش کیا۔ملزمان لوگوں کو اپنے پاس بلاتے پھر اغواء کرکے اسلام آباد ڈاکٹر ظفر نامی شخص کے پاس لے جاتے،ڈاکٹر ظفر گردے نکال کرملزمان کو رقم کی ادائیگی کرتا تھا۔ایس پی اخلاق الله تارڑنے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان ایک گردے کے عوض ساڑھے 04 لاکھ روپے کہہ کر متاثرہ شخص کو 50/60 ہزار روپے دیتے تھے۔ملزمان متاثرہ شخص سلیم کو اغواء کرکے گردہ نکال کر رفوچکر ہو گئے۔متاثرہ شخص نے پولیس سے رابطہ کیا جس پرملزم ندیم کو گرفتار کیا گیا۔ملزم کے دوسرے ساتھیوں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا پولیس ٹیم گرفتاری کیلئے کوشاں ہے،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج مزیدتفتیش جاری ہے،

    مدعی کی جانب سے درج مقدمہ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان بحریہ ٹاؤن پنڈی کے ہسپتال میں گردے نکالنے کا کام کرتے ہیں،بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال لے جا کر بیہوشی کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اور گردہ نکال لیا جاتا ہے،مدعی سلیم مسیح نے ایف آئی آرتھانہ گلشن اقبال لاہور میں درج کروائی ہے.

    لاہور میں گردہ نکالنے والا گروہ پکڑا گیا،90 افراد کے گردے نکال کر لاکھوں میں بیچے

    امریکا میں انسان میں سور کے گردے کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب

    اُوچ شریف: گردے میں پتھری کا علاج صرف ماہر ڈاکٹر سے کرایا جائے -ڈاکٹرامجد سپرا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    gurday

  • میو ہسپتال میں گردوں کی پتھریوں کیلئے جدید طریقہ علاج پی سی این ایل اپنا لیا گیا

    میو ہسپتال میں گردوں کی پتھریوں کیلئے جدید طریقہ علاج پی سی این ایل اپنا لیا گیا

    چیئرمین یورالوجی ڈیپاڑٹمنٹ میو ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فواد نصراللہ نے گردے سے ہر قسم کی پتھریاں نکالنے کا دوبارہ پروسیجر پی سی این ایل (پرکوٹینئیس نیفرو لتھوٹومی) شروع کر دیا گیا ہے۔اس طریقہ علاج میں مریض کی پسلیوں کے نیچے کمر میں متاثرہ جانب نصف انچ کا سوراخ کر کے ٹیوب ڈالی جاتی ہے جس کے ذریعے مائیکرو سکوپ کیمرہ اور جراحی کے جدید آلات کو گزار کر گردے تک پہنچایا جا تا ہے جبکہ اس عمل کی مانیٹر نگ آن لائن کیمرے پر ہوتی ہے اور پتھری کی نشاندہی پر اسے باآسانی ٹکڑوں کی شکل میں تقسیم کر کے نکالا جا سکتاہے۔

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر فواد نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پروسیجر ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے لیکن مریض کو ہسپتال میں زیر علاج نہیں رہنا پڑتا اور چند گھنٹے بعد ہی گھر بھجوا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں گردے سے پتھری نکالنے کا یہ علاج میو ہسپتال میں دستیاب تھا تا ہم بعض وجوہات کی بنا پر یہ طریقہ علاج طویل عرصے سے بند ہو چکا تھا۔وی سی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز کی کوششوں سے شعبہ یورالوجی میں اب نئی ٹیم آنے سے دوبارہ پی سی این ایل (پرکوٹینئیس نیفرو لتھوٹومی) کا پروسیجر شروع کر دیا گیا ہے۔اس ٹیم میں پروفیسر فواد نصر اللہ کی قیادت میں ڈاکٹر شاہ جہاں خان، ڈاکٹر واجد علی، ڈاکٹر عمر حنیف، ڈاکٹر غلام غوث،ڈاکٹر عاصمہ اور ڈاکٹر الہی بخش شامل ہیں۔ پروفیسر فواد نصر اللہ نے مزید کہا کہ چند روز کے اندر متعدد کامیاب پروسیجر کیے جا چکے ہیں، اب انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا جس سے مریضوں کو بہت بڑا ریلیف ملے گا اور انہیں بڑے آپریشن سے بھی نجات ملے گی۔انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق مریضوں کو علاج معالجے کی تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور بالخصوص شعبہ یورالوجی اس ضمن میں تمام وسائل برؤئے کار لائے گا تاکہ گردوں جیسی حساس اور تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو زیادہ سے زیادہ طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے ڈاکٹرز سے اپیل کی کہ وہ جدید طریقہ علاج کے بارے میں اپنی ریسرچ کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ دنیا بھر میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق ہمارے مریضوں کو بھی جدید سہولتوں سے استفادہ کرنے کی سہولت مل سکے

    کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات جمع

    محمود اچکزئی کو نامزد کر کے عمران خان نے زبردست پیغام دیا ،علی محمد خان

    انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

  • گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری ،ملزمان گرفتار

    گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری ،ملزمان گرفتار

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنیوالے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے

    اس حوالہ سے ڈی ایس پی سول لائن راشد امین بٹ نے پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ گھناؤنے دھندے میں ملوث ڈاکٹروں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتارکیا گیا ہے، گرفتار ملزمان ڈاکٹر ثاقب خان، ڈاکٹرطارق محمود اور ڈاکٹر ارشد کڈنی ٹرانسپلانٹ کے سیٹ اپ کے مالک ہیں ڈاکٹر ثاقب اس گروہ کا سرغنہ ہے اور اس غیر قانونی دھندے میں ملوث رہا اور سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے،گرفتار ملزمان میں محمد آصف، شاہد عباس، طارق نذیر، اسامہ علی، عمر جرار، محمد امتیاز، ریاض احمد اور ارسلان بھی شامل ہیں۔

    ملزمان نے 3 شہریوں اظہر، سانول اور صبا کے گردے بھی نکالے ملزمان نے حال ہی میں دو غیرملکیوں میں گردوں کی پیوندکاری کی تھی چھاپے کے دوران یہ دونوں غیرملکی موقع پر موجود تھے جن کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا ملزمان سے موقع پراعضا کی تبدیلی سے متعلق تمام مشینری وآپریشن تھیٹر کے آلات، غیر قانونی ادویات اور4 عدد گاڑیاں برآمد کی گئیں۔ دیگرملزمان کی گرفتاری کیلیے سی آئی اے کی ٹیمیں مختلف جگہوں پر چھاپے مار رہی ہیں

    پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا ،

    پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    ہولی فیملی ہسپتال میں مریضوں کا خون پینے والی لیڈی ڈاکٹر بارے سامنے آیا تہلکہ خیز انکشاف

    پولیس تشدد سے صلاح الدین قتل، وزیراعلیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے لئے ہائیکوٹ کو خط

    پنجاب پولیس نہ بدل سکی، پولیس حراست میں تین ماہ میں 5 ہلاکتیں، ذمہ دار کون

    اب یہ میرا کیس، ذمہ دار سزا سے نہیں بچ پائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب کی صلاح الدین کے اہلخانہ سے گفتگو

  • گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں،ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

    گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں،ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

    گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا،اگر انسانی جسم میں گردے کام کرنا چھوڑ دیں تو خون میں یوریا سمیت فاسد مادوں کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی جسم کو تیزی سے ناکارہ بنا کر موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔اسی طرح بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے امراض گردوں کی خرابی کا بڑا سبب بنتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گردوں کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور کھانے پینے میں مضر صحت اشیاء کے استعمال کے پرہیز کو یقینی بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے "گردوں کی صحت اور ہماری ذمہ داری "کے موضوع پر منعقدہ لاہور جنرل ہسپتال میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر خضر حیات گوندل،ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، انچارج نیفرالوجی ڈاکٹر یاسر حسین نے گردوں کی بیماریوں، احتیاطی تدابیر اور بچاؤ سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں۔اس موقع پر طب سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    پروفیسر خضر حیات گوندل نے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، صاف پانی کی عدم دستیابی، کیمیکلز، اینٹی بائیٹک ادویات کابے جا استعمال، کشتہ جات، شراب نوشی وغیرہ گردوں کو ناکارہ بنانے کی اہم وجوہات ہیں جن سے اپنے آپ کو بچا کر گردوں کی صحت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گردے نہ صرف خون کی صفائی کرتے ہیں بلکہ ہماری صحت کا دارومدار اُن کی صحت سے وابستہ ہے جبکہ ان کی خرابی مرد اور عورت دونوں کی صحت کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں 85کروڑ سے زائد افراد گردوں کے مختلف ا مراض میں مبتلا ہیں،ہر10میں سے ایک فرد کو” کرونک کڈنی ڈائزیز” لاحق ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2040تک دنیا بھر میں اموات کی یہ پانچویں بڑی بیماری ہوگی،اس مرض میں خرابی کی وجوہات میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔پروفیسر خضر حیات گوندل نے کہا کہ پیدائشی طور پر گردہ ناکارہ یا خراب ہو تو فوری مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے اور ہر شخص کو سال میں 2مرتبہ گردوں کے مکمل ٹیسٹ کروانا چاہئیں نیز پتھری ہونے کی صورت میں فوری طور پر یورالوجسٹ سے رجوع کیا جائے۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال میں گردوں کے امراض کے علاج کیلئے جدید طبی سہولیات کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر آؤٹ ڈور میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں لہذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ عطائیوں کے پا س جانے کی بجائے مستند معالج سے رجوع کر کے اپنے گردوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ یورالوجی میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ الگ وارڈز مختص کیے گئے ہیں اور یہاں اُن کو معیاری طبی سہولیات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر یاسر حسین کا کہنا تھا کہ گردہ ناکارہ ہونے کی صورت میں مریض کو ڈائلسز کروانے پڑتے ہیں جو انتہائی مہنگا اور طویل پروسیجر ہوتا ہے اور کئی مریضوں کو ہفتے میں 2تا3 بار بھی ڈائلسز کی ضرورت درپیش ہوتی ہے، حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت ایل جی ایچ میں ڈائلسز مفت کیے جا رہے ہیں اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کیلئے الگ مشینیں مختص ہیں تاکہ دیگر افراد متاثر نہ ہوں۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں درد کی ادویات کے استعمال کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جو ان دواؤں کے بے تحاشہ استعمال سے گردوں کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ عورت کو گردے مثانے اور پیشاب کی نالی میں جراثیم (انفیکشن) کی موجودگی بچے کی قبل از وقت پیدائش کا سبب بن سکتی ہے ایسی خواتین جن کے سر میں مستقل درد یا گھبراہٹ محسوس کریں تو انہیں اپنے بلڈ پریشر پر خصوصی نگاہ رکھنا ہوگی،حمل کے دوران پیروں کی سوجن کو نظر انداز نہ کریں،انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ گردوں کی اچھی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے نمک کا استعمال کم کیا جائے، ذیابیطس کی ادویات کو یقینی بنائیں،اور جنک فوڈ کھانے کی بجائے گھر کے کھانوں کو ترجیح دیں، تمباکو نوشی ترک کریں، پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے،انہوں نے کہا کہ اگر بر وقت علاج شروع کیا جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ 

  • پندرہ سالہ بچے کو گردے سے محروم کرنے والے دو ڈاکٹر فرار

    پندرہ سالہ بچے کو گردے سے محروم کرنے والے دو ڈاکٹر فرار

    لاہور خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا سے تعلق رکھنے والے پندرہ سالہ بچے کو گردے سے محروم کرنے والے دو ڈاکٹر فرار ہوکر روپوش ہوگئے

    اس واقع میں ابھی تک چھ افراد گرفتار ہوئے گردے سے محروم پندرہ سالہ عبداللہ اب لاھور کے گنگا رام ہسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں ہے دیر بالا سے تعلق رکھنے والے صحافی مظہر الدین نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ عبداللہ ولد ایاز خان کو آٹھ دسمبر کو نامعلوم افراد نے لاہور سے اغواء کیا تھا ۔ عبداللہ کے والد پچھلے پچیس برس سے لاہور میں خاندان سمیت محنت مزدوری کی خاطر مقیم ہیں عبداللہ زخمی حالت میں اٹھائیس دسمبر کو لاہور میں ایک ایسی حالت میں بازیاب ہوا کہ اسکا ایک گردہ نکال دیا گیا تھا۔ والدین اور عزیز و اقارب کی کافی منت سماجت کے باوجود لاہور پولیس کئی دنوں تک ایف آئی آر درج کرنے پر انکاری تھی تاہم دیر بالا سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی صاحبزادہ ثناء اللہ کی مداخلت پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی

    مظہر الدین نے بتایا کہ ابھی تک اس واقع میں چھ افراد گرفتار ہوگئے ہیں جن میں چار کا تعلق لاہور اور دو کا راولپنڈی سے ہے تاہم دو ڈاکٹر جن میں سے ایک کا تعلق راولپنڈی اور دوسرے کا تعلق مردان سے ہے وہ روپوش ہوگئے ہیں انہوں نے کہا کہ نہ صرف پنجاب بلکہ خیبر پختونخوا کی حکومتوں سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر تا حال کوئی مثبت جواب نہیں ملا انہوں نے وفاقی ، پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں اور ملک بھر کے تمام سیاسی مذہبی اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ گردہ فروشی کے اس گھناونے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کروائیں

     

    پمز ہسپتال میں آنکھوں کا شعبہ ڈاکٹروں کی بداخلاقی اور مریضوں سے ناروا سلوک کی بدترین مثال بن گیا ،

    پمز میں ڈاکٹرز مسیحائی کی بجائے انتظامی امور سر انجام دینے میں مصروف

    ہولی فیملی ہسپتال میں مریضوں کا خون پینے والی لیڈی ڈاکٹر بارے سامنے آیا تہلکہ خیز انکشاف

  • دھوکے سے گردے نکالنے پر خاتون نے ڈاکٹر کے دونوں گردے مانگ لیے

    دھوکے سے گردے نکالنے پر خاتون نے ڈاکٹر کے دونوں گردے مانگ لیے

    بھارت: دھوکے سے خاتون کے گردے نکالنے پر متاثرہ خاتون نے حکومت سے اپیل ہے کہ اسے ڈاکٹر کے دونوں گردے دلوائے جائیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے شہر مظفرپور کے نجی اسپتال میں رواں برس ستمبر میں پیش آیا جہاں 38 سالہ سنیتا دیوی کو بچہ دانی میں انفیکشن کے علاج کے لیے لایا گیا تھا لیکن ڈاکٹر نے دھوکے سے دونوں گردے نکال لیے۔

    جعلی اسناد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے والا مفرور ٹیچرگرفتار

    رپورٹس کے مطابق سنیتا اب اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر ان کے ڈائیلیسز ہورہے ہیں۔

    متاثرہ سنیتا دیوی 3 ستمبر کو ہسٹریکٹومی سرجری کے لیے نرسنگ ہوم میں تھیں (اپنی بچہ دانی کو جراحی سے ہٹا دیں) لیکن مبینہ طور پر بغیر کسی منظوری کے آپریشن میں اس کے دونوں گردے نکال دیے گئے۔

    پولیس نے بتایا کہ اس کے دونوں گردے مبینہ طور پر مظفر پور کے بریار پور محلے میں ایک غیر لائسنس یافتہ نرسنگ کی سہولت شبکانت کلینک میں نکالے گئے تھے۔ تاہم، سرکاری IGIMS کے ڈاکٹروں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کے لیے مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہے کہ آیا اس کے دونوں گردے غائب ہیں۔

    تین بچوں کی ماں سنیتا 15 ستمبر سے پٹنہ کے اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (IGIMS) میں ڈائیلاسز کروا رہی ہیں۔

    ساکرا پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر سروج کمار نے کہا کہ چہ دانی ہٹانے کی سرجری کے بعد، وہ مسلسل پیٹ میں درد کا شکار رہی۔ آخر کار وہ 7 ستمبر کو سری کرشنا میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (SKMCH) گئی۔ ٹیسٹ کرانے کے بعد۔ SKMCH کے ڈاکٹروں نے اس کے گھر والوں کو بتایا کہ اس کے دونوں گردے نکال دیئے گئے ہیں۔

    اینٹی انکروچمنٹ ٹیم پر حملے کا مقدمہ درج،انتہائی مطلوب ملزمان گرفتار

    انہوں نے مزید کہا کہملزمان کو پکڑنے کے لیے تین خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں – شوبھ کانت کلینک کے مالک پون کمار اور آر کے سنگھ، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ چور ہے۔

    آئی جی آئی ایم ایس میں سنیتا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی حالت بہت نازک ہے۔

    آئی جی آئی ایم ایس میں نیفرولوجی اینڈ کڈنی ٹرانسپلانٹ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اوم کمار نے متاثرہ خاتون کی حالت پر بات کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا وہ باقاعدگی سے ڈائیلاسز پر ہے اور اس کی حالت اب بھی نازک ہے۔ اس کی حالت بہتر ہونے پر اسے گردے کی پیوند کاری سے گزرنا پڑے گا۔ کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔”

    تاہم آئی جی آئی ایم ایس میں یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر راجیش تیواری نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کے لیے مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہے کہ آیا ان کے دونوں گردے نکال دیے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جب اس کی حالت بہتر ہوتی ہے تو ہم مزید طبی معائنہ کرائیں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس کے دونوں گردے نکالے گئے ہیں یا نہیں۔ محض سی ٹی سکین کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ اس کے دونوں گردے نکالے گئے ہیں۔ اسے اس سے گزرنا پڑے گا۔

    "بے وفائی نہیں کرنے کا” سفاک ملزم نے 21 سالہ محبوبہ کے ساتھ کیا گھناؤنا…

    آئی جی آئی ایم ایس کے پرنسپل ڈاکٹر رنجیت گوہا نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے سنیتا کے خاندان کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس کی طبی دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرے گی۔

    تاہم اب سنیتا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ فراڈ کرنے والے ڈاکٹر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ڈاکٹر کے دونوں گردے نکال کر اسے لگائے جائیں تاکہ وہ اپنی زندگی پہلے جیسی گزار سکیں-

    متاثرہ خاتون نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اگر ڈاکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی گئی تو یہ ان تمام لالچی ڈاکڑز کیلئے سبق ہوگا جو غریب عوام کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آر کے سنگھ نامی ملزم ڈاکٹر آپریشن کے بعد سے مفرور ہے اور پولیس کو اس کے ٹھکانے کا کوئی سراغ نہیں مل رہا سنیتا تین کم عمر بچوں کی ماں ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ اس کی زندگی بچائی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرسکے۔

    سعودی عرب:جج 5 لاکھ ریال کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار

  • محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے 3 گردوں کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیابی حاصل کی جو انتقال کرجانے والے افراد نے عطیہ کیے تھے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کو توقع ہے کہ اس پیشرفت سے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی میں اضافہ ہوسکے گا، بالخصوص ایسے افراد کے لیے جن کے لیے عطیہ کیے گئے گردوں کے میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    گردوں کو صحتمند رکھنے والی چند غذائیں

    تحقیق میں شامل پروفیسر مائیک نکلسن اور پی ایچ ڈی۔ طالبہ سیرینا میک ملن نے اس مقصد کے لیے normothermic perfusion machine نامی ڈیوائس کو انسانی گردوں سے منسلک کیا تاکہ اس عضو میں آکسیجن ملے خون کی گردش یقینی ہونے سے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ جاسکے۔

    بعد ازاں خون کو ایک انزائمے کے ساتھ خارج کردیا گیا، یہ انزائمے ایک مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتے ہوئے بلڈ گروپ کا تعین کرنے والے عناصر کو ختم کرکے اسے سب سے عام قسم O ٹائپ میں بدل دیتا ہے۔

    A بلڈ گروپ والے شخص کا گردہ B بلڈ گروپ والے شخص میں ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی دوسرے طریقے سے۔ لیکن خون کی قسم کو یونیورسل O میں تبدیل کرنے سے مزید ٹرانسپلانٹ ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ O کسی بھی بلڈ گروپ والے لوگوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    میک ملن نے کہا کہ "ہمارے اعتماد میں واقعی اضافہ ہوا جب انزائمے کے استعمال سے گردوں میں خون کے گروپ کا تعین کرنے والے اینٹی جینز بہت تیزی سے ختم ہوگئے اس کے بعد ہم جانتے تھے کہ یہ عمل ممکن ہے اور پھر ہم نے انسانی گردوں پر اس کی آزمائش کی۔

    ملن نے کہا کہ اس مقصد کے لیے B بلڈ گروپ والے انسانی گردوں میں مشین کا استعمال کرتے ہوئےبی گردوں میں انزائمے کو شامل کیا گیا ہم نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں وہ O قسم میں تبدیل ہو گیا-

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    یہ دریافت نسلی اقلیتی گروہوں کے لوگوں کےلیے خاص طور پراثر انداز ہوسکتی ہے جو اکثر کاکیشین مریضوں کے مقابلے میں ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک سال طویل انتظار کرتے ہیں۔

    اقلیتی برادریوں کے لوگوں کے پاس B قسم کا خون ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور ان آبادیوں کی طرف سے عطیہ کرنے کی موجودہ شرح کم ہونے کے باعث گردے کافی نہیں ہوتے کہ عطیہ کئے جا سکیں 2020/21 میں، اعضاء کےکل عطیات کاصرف 9فیصد سیاہ فام اور اقلیتی نسلی عطیہ دہندگان سے آیا جب کہ سیاہ اور اقلیتی نسلی مریض گردے کی پیوند کاری کی انتظار کی فہرست میں 33 فیصد ہیں۔

    اب کیمبرج ٹیم کی جانب سے یہ دیکھا جائے گا کہO گروپ میں منتقل کیے جانے والے گردے کسی مریض کے جسم میں کیسے کام کرتے ہیں-

    پرفیوژن مشین انہیں لوگوں میں ٹیسٹ کرنے سے پہلے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ وہ گردے لے سکتے ہیں جو O قسم میں تبدیل ہو چکے ہیں، مختلف خون کی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے مشین کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہ مانیٹر کر سکتے ہیں کہ گردہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کر سکتا ہے، جس میں ٹرانسپلانٹ کے عمل کو نقل کیا جا سکتا ہے۔

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    ٹرانسپلانٹ سرجری کے پروفیسر نکلسن نے کہا کہ عطیہ کیے گئے گردے کی پیوند کاری کی جانے والی سب سے بڑی پابندیوں میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ آپ کے خون کے گروپ کے مطابق ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خلیوں پر اینٹی جینز اور مارکر موجود ہیں جو A یا B ہو سکتے ہیں۔ آپ کا جسم قدرتی طور پر ان کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔

    "بلڈ گروپ کی درجہ بندی کا تعین نسلی بنیادوں پر بھی کیا جاتا ہے اور نسلی اقلیتی گروہوں میں بی قسم کے نایاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہےخون کے گروپ کو یونیورسل O قسم میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کے بعد، ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے طریقے طبی ترتیب میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور بالآخر ٹرانسپلانٹیشن تک لے جایا جاتا ہے۔

    کڈنی ریسرچ یو کے میں ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آئسلنگ میک موہن نے کہا،مائیک اور سرینا جو تحقیق کر رہے ہیں وہ ممکنہ طور پر گیم چینج کرنے والی ہے۔ ٹیم نے اتنے کم وقت میں جو پیشرفت کی ہے اسے دیکھنا ناقابل یقین حد تک متاثر کن ہے۔ ، اور ہم اگلے اقدامات دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔

    مٹر میں چھپے صحت کے راز

    میک موہن نے کہا کہ ایک تنظیم کے طور پر، ہم اس تحقیق کو فنڈ دینے کے لیے پرعزم ہیں جو علاج کو تبدیل کرتی ہے اور صحت کی ناہمواریوں سے نمٹتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اقلیتی نسلی گروہوں کےلوگ ٹرانسپلانٹ کے لیے زیادہ انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے خون کی قسم کے دستیاب اعضاء کے ساتھ میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق اقلیتی نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1,000 سے زیادہ لوگوں کے لیے امید کی کرن پیش کرتی ہے جو گردے کے انتظار میں ہیں ۔

    خون کی دوسری اقسام کو دوبارہ متعارف کرانے کی جانچ کرنے کے بعد، کیمبرج ٹیم یہ دیکھے گی کہ طبی ترتیب میں اس نقطہ نظر کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اتنے کم وقت میں بہت ترقی کر کے وہ مستقبل کے لیے پر امید ہیں۔

    مائیک اور سرینا کے کام پر مکمل دستاویز آئندہ مہینوں میں برٹش جرنل آف سرجری میں شائع ہوں گے فی الوقت یہ تحقیق کسی جریدے میں شائع نہیں کی گئی-

    کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?

  • چند عام غذائیں جو گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں

    لاہور :اللہ تعالٰی نے انسانی جسم کو ایسی مشنری میں موجزن کردیا ہےکہ ہر اعضا پورے جسم کی وکالت بھی کررہا ہوتا ہے اور کفالت بھی ، ہرعضو کی اپنی اہمیت ہے ، دل ، دماغ،گردے ، جگر، آنکھ اور دیگر اعضا ، ان میں سے گردے ہمارے جسم میں گمنام ہیرو کی طرح ہوتے ہیں جو کچرے اور اضافی مواد کو خارج کرتے ہیں جبکہ یہ نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو بھی کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔مگر گردوں کے امراض کافی تکلیف دہ اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

    اللہ کی طرف سے دی گئی ان نعمتوں کا شکراداکرنا چاہیے اگردل میں یہ احساس پیدا نہ ہوتو کبھی کبھارہسپتالوں میں جاکرمریضوں کی کیفیت دیکھ لیا کریں ، خود بخود شکرانے کے الفاظ نکل آئیں‌گے،اللہ تعالیٰ‌نے انسان کو طرح طرح کی غزائیں بھی نعمت کے طوردی ہیں‌، ان کا استعمال بھی بہت مفید اور ضروری ہے مگر ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے ،انسان کو اپنے ہرمعمولات زندگی میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے ،

    بات ہورہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خوبصورت جسم عطا کیا اور انسان کو چلانےکے لیے پرزے بھی لگا دیئے ان پرزوں میں سے گردہ ایک ایسا پرزہ ہے جس پر انسانی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے، اس پرزے کی صحت کے حوالےسے ماہرین طب نے ایک تحقیقاتی مشورہ دیا ہےکہ گردوں کو جو چیزیں‌نقصان دہ ہوتی ہیں اور ہم ان کو بے دریغ استعمال کررہے ہوتے ہیں ان کے بارے میں بھی احتیاط برتنی چاہیے ، کچھ غذائیں بھی گردوں کے تکلیف دہ امراض کا باعث بن سکتی ہیں خصوصاً ان کے استعمال میں احتیاط نہ کی جائے؟

    گوشت
    گوشت جسم میں پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کا بہت زیادہ استعمال خصوصاً سرخ گوشت گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سنگاپور کے ڈیوک این یو ایس گریجویٹ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق بہت زیادہ حیوانی پروٹین پر مشتمل غذا گردوں کے افعال کو متاثر کرسکتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ بہت زیادہ پروٹین کا اخراج گردوں کے لیے مشکل ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

    نمک
    جسم کو نمک کی ضرورت تو ہوتی ہے تاکہ جسمانی سیال کے توازن کو برقرار رکھا جاسکے مگر جب آپ جنک یا فاسٹ فوڈ کو کھانا عادت بنالیں جس میں نمک کی مقدار بہت زیادہ وہتی ہے تو گردے جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے حرکت میں آتے ہیں، جس کے نتیجے میں گردوں پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق طویل المعیاد بنیادوں پر نمک کا بہت زیادہ استعمال دل کے ساتھ ساتھ گردوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، اسی طرح نمک کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھتا ہے جو کہ گردوں کے حصے نیفران کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو کہ کچرے کو فلٹر کرتا ہے۔

    کیلے
    اگر آپ کو گردوں کے امراض کا شبہ ہے تو صحت مند رہنے کے لیے اچھی غذائیت اور مناسب غذا ضروری ہے، اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کچھ غذائیں جیسے کیلوں کا استعمال محدود کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو گردوں کے افعال کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ صحت مند افراد کے لیے تو فرق نہیں پڑتا مگر گردوں کے امراض کے شکار افراد کو پوٹاشیم کی کم مقدار جسم کا حصہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سوڈا یا کولڈ ڈرنکس
    کولڈ ڈرنکس جیسے سوڈا اور انرجی ڈرنکس گردوں کی پتھری کا باعث بن سکتی ہیں، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ دو یا اس سے زائد کولڈ ڈرنکس کا استعمال طویل المعیاد بنیادوں پر گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

    دودھ سے بنی مصنوعات
    ان مصنوعات کا استعمال بھی احتیاط کے ساتھ کرنا چاہئے کیونکہ ان میں بھی حیوانی پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، لہذا ان کا معتدل استعمال ضروری ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ان مصنوعات میں فاسفورس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو گردوں پر دباﺅ بڑھانے کا باعث سکتی ہیں، جب گردے مکمل طور پر کام نہیں کرپاتے تو ان کے لیے اضافی فاسفورس کو خارج کرنا بھی مشکل ہوتا ہے جس سے ہڈیاں پتلی اور کمزور ہوسکتی ہیں۔

    مالٹے اور اس کا جوس
    اس پھل اور اس کا جوس کیلوریز میں کم جبکہ وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں، مگر ان میں پوٹاشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اوپر بتایا جاچکا ہے کہ زیادہ پوٹاشیم گردوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، تو ان کا استعمال کریں مگر ایک حد میں رہ کر، خاص طور پر اگر آپ پہلے ہی گردوں کے امراض کا شکار ہوں۔