Baaghi TV

Tag: گرین ہاؤس گیس

  • پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کیلئے اقدامات شروع

    پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کیلئے اقدامات شروع

    اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پانی کی پیداواری صلاحیت بہتر کرنے کے لیے شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں پائلٹ اسٹڈی شروع کردی گئی ہے جس میں زمین کو گیلا اورخشک کرنےکے لیے متبادل طریقہ کار کے ٹرائلزکا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں چاول کی فصل پر متبادل طریقہ کار کے ٹرائلزکا نفاذکیاگیا، متبادل طریقہ کار سے چاول کی پیداوار پر اثرات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے ٹرائلز سےچاول کی فصل سےگرین ہاؤس گیس کے اخراج کا اندازہ لگایا جاسکےگا، ٹرائلز ملک کی گرین ہاؤس گیس انوینٹری کی درستگی کوبڑھائیں گے اور پاکستان میں کاربن مارکیٹ کے اقدامات کے لیے ضروری ڈیٹا فراہم کریں گے۔

    نیوزی لینڈ، خالصتان کی آزادی کیلیے ریفرنڈم،ووٹنگ جاری

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق ان ٹرائلز سےکسانوں میں متبادل طریقہ کار اپنانےکی حوصلہ افزائی بڑھےگی مشترکہ مطالعے میں یونیورسٹی آف فلپائن کا انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور جرمنی کا کارلسروہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بھی اسٹڈی میں شریک ہے۔

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

  • 2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ 2100 تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی کارنیگی میلن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زمین کو درپیش مختلف گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے سبب ہونے والے برف کے پگھلاؤ کا اندازہ لگایا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    تحقیق میں سامنے آیا کہ زمین کا درجہ حرارت اگر 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود بھی کر دیا جائے تو زمین پر موجود تقریباً نصف گلیشیئر پگھل سکتے ہیں گلیشیئرز کا ختم ہونا مقامی آبی چکر پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے اور تودوں کے گرنے اور سیلابوں میں اضافے کا سبب ہوسکتا ہے۔

    ماضی میں بھی ماہرین خبردار کر چکے ہیں ہیں دنیا بھر میں گلیشیئرز گلوبل وارمنگ کے سبب تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ایمیزون جنگلات کی تباہی سے بہت دور واقع مستقل برفانی ذخائر مثلاً ہمالیہ اور انٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

    بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے وابستہ سینی یانگ اور ان کےساتھیوں نے 1979 سے 2019 کےدرمیان آب و ہوا میں تبدیلی کےاثرات کےان دونوں مقامات کا جائزہ لیا ان رابطوں کو ٹیلی کنیکشن (دور سے روابط) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں بطورِ خاص ایمیزون پر توجہ دی گئی جو ایک جانب کاربن جذب کرنے کا اہم ترین مقام اور خود کلائمٹ چینج کی جگہ بھی ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون برساتی جنگلات کی تیزی سے کٹائی 15,000 کلومیٹر دور تبتی سطح مرتفع پر درجہ حرارت اور بارش کو متاثر کر سکتی ہے اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت اور نمی میں کمی سےدوردرازسطح مرتفع تبت اورانٹارکٹیکا کی برف پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں اگرچہ تبت اور ہمالیہ، ایمیزون سے 15000 کلومیٹردورہےلیکن چینی ماہرین نےان دونوں کے باہمی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    ماہرین نے دیکھا کہ 1979 سے ایمیزون کا درجہ حرارت بڑھنے سے تبت اور مغربی انٹارکٹک برف کی اطراف پر درجہ حرارت بڑھا لیکن ایمیزون میں بارش اور نمی کی زیادتی انٹارکٹک اور تبت پر نمی اور برسات کم ہوئی۔

    گزشتہ برس ستمبر میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اینٹارکٹیکا کا تھویٹس گلیشیئر گزشتہ 200 سالوں سے زیادہ عرصے میں جتنا پگھلا ہے اس سے دُگنی رفتار سے گزشتہ چند سالوں میں پگھلا ہے۔

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    تیزی سے پگھلتا یہ گلیشیئر اکیلا ہی سطح سمندر میں 10 فِٹ کا اضافہ کر سکتا ہے لیکن دیگر محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ دوسرے بڑے گلیشیئرز بھی سطح سمندر میں بڑا اضافہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹارکٹیکا کے پائن آئی لینڈ آئس شیلف 1.6 فِٹ جبکہ مشرقی اینٹارکٹیکا کی برف کی چادر 2500 تک 16 فِٹ تک کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

    سطح سمندر میں اضافے سے شینگھائی اور لندن جیسے کئی شہر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    جرنل سائنس میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ریاست پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ٹیم نے بتایا کہ اگر زمین کا درجہ حرارت اس ہی طرح بڑھتا رہا تو زمین پر موجود 2 لاکھ 15 ہزار گلیشیئرز میں سے کتنے باقی رہیں گے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

  • ماحول کے تحفظ کے لیے فرانس نےاندرون ملک پروازوں پر پابندی عائد کر دی

    ماحول کے تحفظ کے لیے فرانس نےاندرون ملک پروازوں پر پابندی عائد کر دی

    پیرس: ماحول کے تحفظ کے لیے فرانس نے قلیل دورانیے کی اندرون ملک پروازوں پر پابندی عائد کر دی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق یورپین کمیشن نے فرانس کے اس اقدام کی منظوری دے دی جس کے تحت 2.5 گھنٹے سے کم مسافت رکھنے والے شہروں، جہاں ریل گاڑی سے جایا جاسکتا ہے، کے درمیان پروازوں کو ختم کر دیا جائے گا۔

    مراکش سے ترکیہ جانے والے جہاز سے28 تارکین وطن فرار

    یہ اقدام ماحولیات کے لیے ایک اچھی خبر ہے اور یہ مسافروں کے لیے ملک کے مزید شاندار ٹرین روٹس کو دریافت کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔

    پروازوں پر عائد کی جانے والی پابندی کے متعلق فیصلے کا اعلان جمعے کو کیا گیا یہ پابندی 2021 کے موسمیاتی قانون کا حصہ جس کو پہلے فرانس کی سٹیزنز کنونشن آن کلائمیٹ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

    یہ منصوبہ پہلی بار 2021 میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔ اس نے اصل میں آٹھ مختصر فاصلے کی پروازوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن EC نے صرف تین کو نکس کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں ہر روز کئی راست رابطوں کے ساتھ تیز، آسان ریل متبادل ہیں۔

    فرانس ٹرانسپورٹ کو ماحول دوست بنانے کی بابت چھوٹے فاصلوں کے لیے نجی جہازوں کے استعمال پر بھی سخت اقدامات کر رہا ہے۔

    روس ہی یوکرین کی علاقائی سالمیت کا واحد ضامن ہو سکتا ہے،پیوٹن

    تین راستے جو فی الحال اس حکم نامے کے تحت آتے ہیں ان میں پیرس-اورلی ہوائی اڈے اور بورڈو، نانٹیس اور لیون کے درمیان سفر شامل ہیں۔ کچھ مجوزہ راستوں کو اس منصوبے سے خارج کر دیا گیا کیونکہ وہاں کوئی حقیقی ریل متبادل نہیں تھا۔

    اگرچہ پابندی کو ابتدائی طور پر ہوا بازی کی صنعت کی طرف سے پش بیک کے ساتھ پورا کیا گیا تھا، لیکن EC نے کہا کہ فرانس کے پاس اس اقدام کو متعارف کرانے کا جواز ہے بشرطیکہ یہ "غیر امتیازی، ہوائی جہازوں کے درمیان مسابقت کو مسخ نہ کرےریلیف دینے کے لیے ضروری سے زیادہ پابندی نہ ہو اس حکم نامے پر تین سال تک عمل کیا جائے گا، جس کے بعد کمیشن اس کا جائزہ لے گا۔

    فرانس کے وزیر ٹرانسپورٹ کلیمنٹ بیون نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ ایک بڑا قدم ہے، اور مجھے فخر ہے کہ فرانس اس شعبے میں ایک سرخیل ہے۔”

    افغانستان:طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار قتل کے مجرم کو سرعام…

    کلیمنٹ بیونے کا کہنا تھا کہ فرانس اب یہ قطعی طور پر برداشت نہیں کرے گا کہ امیر طبقہ نجی جہاز استعمال کرے جبکہ عوام توانائی کے بحران اور موسمیاتی تغیر سے نمٹنے کے لیے فراہمی کی کمی کا سامنا کر رہے ہوں۔

    وزیرِ ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کی پالیسی کے تحت لیا گیا ہے۔