Baaghi TV

Tag: گرین ہاؤس گیسیں

  • موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

    ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کیلئے انتباہ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے مئی میں ایک خبردار کیا تھا کہ اگلے پانچ سال میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے، جس کی وجہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ اور ایل نینو رجحان کی متوقع واپسی ہے مشرقی بحرالکاہل میں سطح آب کے غیر معمولی درجہ حرارت گرین ہاؤس گیسیں گلیشیئرز کے پگھلنے اور سمندر کی سطح میں اضافے کے ساتھ گرم سمندروں کا باعث بھی بن رہی ہیں جس سے موسم مزید شدید ہو جائے گا اور متحدہ عرب امارات ان سے متاثر ہو گا-

    بھارت نے دریائے ستلج میں ہزاروں کیوسک پانی چھوڑ دیا

    متحدہ عرب امارات کے قومی مرکز برائے موسمیات کے تحت بارش میں اضافے کے پروگرام کے حصے کے طور پر کام کرنے والے یوسف وہبی کے مطابق شدید گرمی اور شدید بارشوں سے روز مرہ کی زندگی سب سےزیادہ متاثر ہوگی یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق جولائی کو تاریخ کا گرم ترین مہینہ قراردیا گیا ہے جبکہ ناسا کے ایک سائنس دان کا کہنا ہے کہ یہ مہینہ ممکنہ طور پر’’ہزاروں نہیں تو سیکڑوں سال میں دنیا کا گرم ترین مہینہ‘‘ ہوگا۔

    بیٹی نے بوڑھے ماں باپ کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کے ٹکڑے کر ڈالے

    متحدہ عرب امارات میں گذشتہ سال جولائی میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹروں نے رواں سال جولائی میں خبردار کیا تھا کہ درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنے کے بعد لُو لگنے سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • گرین ہاؤس گیسوں کےباعث ہمالیائی گلیشیئرز 80 فیصد تک پگھل جائیں گے

    گرین ہاؤس گیسوں کےباعث ہمالیائی گلیشیئرز 80 فیصد تک پگھل جائیں گے

    ایک رپورٹ کے مطابق، کوہ ہندوکش ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں گلیشیئرز غیر معمولی شرح سے پگھل رہے ہیں اور اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی نہ کی گئی تو اس صدی میں ان کا حجم 80 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: کھٹمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹیڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ نے منگل کے روز جاری اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آنے والےبرسوں میں برفانی تودوں کے پگھلنے اور سیلاب آنے کے واقعات زیادہ تیزی سے رونما ہوں گے۔ اور اس سے پہاڑوں سے نکلنے والی 12 ندیوں کے کنارے آباد دو ارب سے زائد افراد کے لیے تازہ پانی کی دستیابی متاثر ہوگی کیونکہ ہندوکش ہمالیائی سلسلے کی برف ان ندیوں کے کنارے آباد لوگوں کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

    یہ ندیاں ایشیا کے 16 ملکوں سے ہو کر گزرتی ہیں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے 240 ملین کے علاوہ میدانی علاقوں میں رہنے والے تقریباً 1.65 ارب افراد کو تازہ پانی فراہم کرتی ہیں۔

    چین:ریسٹورنٹ میں دھماکا،31 افراد ہلاک متعدد زخمی

    رپورٹ مرتب کرنے والوں میں سے ایک اور مہاجرت کے امور کی ماہر امینہ مہارجن کا کہنا تھا کہ ان پہاڑوں میں رہنے والے لوگوں کا گلوبل وارمنگ بڑھانے میں کوئی کردار نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ بہت زیادہ خطرے میں ہیں ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کی موجودہ کوششیں مکمل طورپر ناکافی ہیں اور ہمیں انتہائی تشویش ہے کہ اگر ہم نے حتی الامکان زیادہ سے زیادہ تعاون نہ کیا تو یہ کمیونٹیز اس کے مضمرات سے نمٹنے کے قابل نہیں رہیں گی۔

    مختلف سابقہ رپورٹوں سے بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ، زمین اور برف سے ڈھکے ہوئے علاقے، یعنی کرائیو اسفیئر، ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ حالیہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کے گلیشیئر پچھلے صرف 30 سالوں میں 2000 سال کی برف کھو چکے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2010 کے بعد سے ہمالیائی گلیشیئر اس سے سابقہ دہائیوں کے نسبت 65 فیصد زیادہ تیزی سے غائب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں میدانی علاقوں میں رہنے والوں کو تازہ پانی کی دستیابی کم ہوتی جارہی ہے۔

    ٹائیٹن میں موجود سیاحوں کے بچنے کا امکان ایک فیصد سے بھی کم ہے،ماہرین

    رپورٹ کے مطابق پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے ماحولیاتی تبدیلی سے کہیں زیادہ متاثر ہوں گے ہندو کش ہمالیائی خطے میں گلوبل وارمنگ کے اثرات ’غیر معمولی اور ناقابل واپسی ہیں ہندو کش ہمالیہ افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، بھارت، میانمار، نیپال اور پاکستان میں 3,500 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلشیئرز کے پگھلنے کے اثرات محسوس بھی ہونے لگے ہیں۔ اس سال کے اوائل میں بھارت کا پہاڑی قصبہ جوشی مٹھ دھنسنے لگا تھا اور وہاں کے مکینوں کو جلدی میں دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا تھا۔ جوشی مٹھ ہندوؤں کا ایک اہم مذہبی مقام ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان علاقوں میں ایک بار برف پگھلنا شروع ہوگئی تو اسے روکنا بہت مشکل ہوگا امینہ مہارجن نے کہا کہ یہ کسی سمندر میں ایک بڑے جہاز کی طرح ہے۔ ایک بار جب برف پگھلنا شروع ہوتی ہے تو اسے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے گلیشیئز اور بالخصوص ہمالیہ کے بڑے گلیشیئرز کا بھی یہی معاملہ ہے۔ ایک بار وہ بڑے پیمانے پر پگھلنا شروع ہوں گے تو ایک طویل مدت تک اس کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    20 سال سے جل پری کا روپ دھا رکر پانیوں میں سفر کرنےوالی خاتون

  • موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا،ماہرین

    سول: سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک پر موجود برف اندازہ لگائے گئے وقت سے 10 سال پہلے ہی مکمل طور پر پگھل سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ آنےوالی دہائیوں میں ستمبر کے مہینے سے شروع ہونے والے موسمِ گرما میں آرکٹک سمندر کی برف مکمل طور پرپگھل سکتی ہےاگر دنیا آج سے ہی زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کو بڑے پیمانے پر کم کرنا شروع کر دے، تو یہ وقت 2050 کی دہائی تک جا سکتا ہے۔

    روس اور ایران کی فوجی شراکت داری گہری ہوتی جا رہی ہے،امریکا

    محققین نے 1979 سے 2019 تک اس خطے میں برف میں آنے والی تبدیلی کا جائزہ لیا اور مختلف سیٹلائیٹ ڈیٹا اور کلائیمٹ ماڈلز کا موازنہ کیاتاکہ آرکٹک سمندر کی برف میں آنےوالی تبدیلی کا معائنہ کیا جائزے میں ان کو معلوم ہوا کہ سمندری برف کےکم ہونےکی بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں جبکہ ماضی کے ماڈلز نے برف کے پگھلنے کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا۔

    ماہرین نے طویل عرصے سے 2050 تک آرکٹک کی برف کے تیرنے کے کم از کم ،کم سےکم سطح تک کم ہونےکاخدشہ ظاہر کیا ہے، جس کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ انسان زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتے ہیں۔ نئی تحقیق اگرچہ، یہ بتاتی ہے کہ کافی کم اخراج والے منظر نامے میں بھی جو کرہ ارض کی گرمی کو 2 ڈگری سیلسیس سے کم رکھتا ہے، 2050 کی دہائی میں موسم گرما میں آرکٹک سمندری برف کے بغیر باقاعدہ سال ہو سکتے ہیں۔

    ایمازون کے جنگلات میں طیارہ حادثہ،4 بچے معجزاتی طور پر 40 دنوں بعد زندہ مل …

    اخراج کی سطح بڑھنے کے ساتھ ہی یہ رجحان بدتر ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بدترین صورت حال میں، اس بات کا امکان ہے کہ آرکٹک میں 2030 کی دہائی کے ساتھ ہی ستمبر میں برف نہ ہو، پچھلی تحقیق سے ایک دہائی پہلے اشارہ کیا گیا تھا۔

    جنوبی کوریا کی پوہینگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ مصنف سی انگ-کی مِن کے مطابق سائنس دان یہ جان کر حیران تھے کہ موسمِ گرما میں آرکٹک برف کے بغیر ہوگا باوجود اس کے کہ (کاربن) اخراج میں کمی کے لیے کتنی ہی کوشش کر لی جائے۔

    آرکٹک کی برف موسمِ سرما میں بڑھتی ہے اور پھر موسمِ گرما میں پگھل جاتی ہے اور یہ سائیکل دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ستمبر میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جاتی ہے۔

    پچاس کلو چاندی لوٹنے کے واقعہ میں پولیس ہی ملوث نکلی

    سی انگ-کی مِن کا کہنا تھا کہ ایک بار آرکٹک کی برف موسمِ گرما میں مکمل طور پر پگھل جائے، سمندری برف کا سردی کے موسم میں دوبارہ بڑھنا مزید سست ہوجائے گا۔ جتنی زیادہ گرمی بڑھے گی، یہ خطہ اتنا زیادہ موسمِ سرما میں بغیر برف کے رہے گا۔