Baaghi TV

Tag: گلوبل صمود فلوٹیلا

  • گلوبل صمود فلوٹیلا پر تشدد اور بدسلوکی،پینے کو ٹوائلٹ کا پانی ملا

    گلوبل صمود فلوٹیلا پر تشدد اور بدسلوکی،پینے کو ٹوائلٹ کا پانی ملا

    غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنوں پر اسرائیلی فورسز کی جانب سے حراست کے دوران بدسلوکی اور تشدد کے لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    ملیشیا سے تعلق رکھنے والی معروف گلوکارہ و اداکارہ بہنیں حلیزہ ہلمی اور حضوانی ہلمی نے ترک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کے جہاز پر حملہ کیا اور گرفتاری کے بعد انتہائی غیر انسانی سلوک روا رکھا۔حضوانی ہلمی نے بتایا کہ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہمیں ٹوائلٹ کے پانی سے پیاس بجھانی پڑی؟ کئی افراد بیمار ہوگئے لیکن اسرائیلی اہلکاروں نے کہا اگر وہ مرے نہیں تو یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔

    ان کی بہن حلیزہ ہلمی نے کہا کہ مجھے تین دن تک کھانا نہیں دیا گیا۔ یکم اکتوبر کے بعد آج پہلی بار کچھ کھایا ہے۔ ان دنوں میں صرف ٹوائلٹ کے پانی سے زندہ رہی۔یہ بہنیں اس فلوٹیلا کا حصہ تھیں جو محصور عوام کے لیے امداد غزہ لے جا رہا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے کھلے سمندر میں کارروائی کرکے جہاز کو روکا اور عملے کو حراست میں لے لیا۔

    ذرائع کے مطابق 137 امدادی کارکن گرفتار کیے گئے۔ان میں 23 ملیشیائی اور 36 ترک شہری شامل تھے۔ان ہولناک انکشافات کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر اسرائیل کے رویے اور غزہ جانے والے امدادی مشنوں پر پابندیوں کی جانب مبذول ہوگئی ہے۔

    اسرائیل بمباری سے ٹرمپ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے،حماس

    صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے،ٹرمپ کی حماس کو پھر دھمکی

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، شہادتوں کی تعداد 19 ہوگئی

    غزہ میں جنگ ختم نہیں ہوئی، مزید اقدامات درکار ہیں،امریکی وزیرِ خارجہ

  • اسرائیلی قید میں اسلام قبول کرنے والے اطالوی کارکن  استنبول پہنچ گئے

    اسرائیلی قید میں اسلام قبول کرنے والے اطالوی کارکن استنبول پہنچ گئے

    گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل اطالوی کارکن ٹومی رابنسن نے اسرائیلی قید کے دوران اسلام قبول کرلیا۔

    استنبول ایئرپورٹ پر ان کے قریبی ساتھیوں نے خوشی سے گلے لگا کر استقبال کیا، اس موقع پر کئی کارکن آبدیدہ بھی ہوگئے۔ترک سماجی کارکن بکیر دیویلی نے بتایا کہ ٹومی نے جیل میں اسلام قبول کیا۔ ان کے مطابق جب ہم نے گاڑی میں اسے مبارکباد دی تو اسرائیلی پولیس نے فوراً دوبارہ اسے جیل میں ڈال دیا، تو میں نے کہا کہ ٹومی تم نے اسلام قبول کرنے کی قیمت صرف دسویں سیکنڈ میں ادا کر دی۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی حراست سے رہائی پانے کے بعد گلوبل صمود فلوٹیلا کے 137 سماجی کارکن استنبول پہنچے ہیں۔ ان میں 36 ترک شہریوں کے علاوہ امریکا، برطانیہ، اٹلی، اردن، کویت، لیبیا، الجزائر، موریطانیہ، ملائیشیا، بحرین، مراکش، سوئٹزرلینڈ اور تیونس کے کارکن شامل ہیں۔اب بھی صمود فلوٹیلا کے تقریباً 450 کارکن اسرائیلی قید میں موجود ہیں، جن میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

    قطر حملے کے بعد حماس رہنما خلیل الحیہ پہلی بار منظر عام پرآگئے

    گلگت: نامعلوم حملہ آوروں کے متاز عالم دین اور ہائی کورٹ جج کی گاڑیوں پر حملے، 5 زخمی

    بِٹ کوائن کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    8 مسلم ممالک کا امن منصوبے پر حماس کے اعلان کا خیرمقدم

  • کم عمر سوئیڈش ماحولیاتی کارکن سےاسرائیلی حراست میں غیر انسانی سلوک

    کم عمر سوئیڈش ماحولیاتی کارکن سےاسرائیلی حراست میں غیر انسانی سلوک

    سوئیڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیلی حراست میں انہیں سخت اور غیر انسانی حالات کا سامنا ہے۔

    برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق گریٹا نے سوئیڈش حکام کو بتایا کہ وہ ایک ایسے سیل میں قید ہیں جو کھٹملوں سے بھرا ہوا ہے، ناکافی خوراک اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے اور سخت فرش پر گھنٹوں بٹھایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق کھٹملوں کے باعث جلد پر خارش اور دانے نکل آئے ہیں۔ای میل میں مزید کہا گیا کہ ایک قیدی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکام نے گریٹا کو زبردستی جھنڈے پکڑوا کر تصاویر بنوائیں اور ایک نامعلوم دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔

    گریٹا ان 437 کارکنوں میں شامل ہیں جو گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھے۔ یہ فلوٹیلا 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل تھا جو غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسرائیلی فورسز نے ان کشتیوں کو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب روکا اور درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔رپورٹ کے مطابق زیادہ تر قیدیوں کو نیگیو ریگستان کی کیتزیوٹ جیل منتقل کیا گیا ہے، جہاں عام طور پر فلسطینی قیدی رکھے جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ نے کہا کہ کارکنوں کے بنیادی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور انہیں پانی، ادویات اور وکلا تک فوری رسائی نہیں دی جا رہی۔

    اطالوی وکلا کے مطابق قیدیوں کو کئی گھنٹوں تک کھانے پینے سے محروم رکھا گیا، صرف گریٹا کو کیمرے کے سامنے ایک پیکٹ چپس دیا گیا۔ وکلا نے جسمانی و زبانی تشدد کی بھی نشاندہی کی۔اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کو ایک ویڈیو میں کارکنوں کو دہشتگرد قرار دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جبکہ قیدی ’فری فلسطین‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

    گارڈین کے مطابق اسرائیلی وزارتِ خارجہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن جواب نہیں دیا گیا۔

    ایمل ولی خان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی

    بھارتی ٹیچر نے دولت میں شاہ رخ خان کو پیچھے چھوڑ دیا

    برطانیہ میں کوویڈ کی دو نئی اقسام کے پھیلاؤ میں تیزی

    برطانیہ میں کوویڈ کی دو نئی اقسام کے پھیلاؤ میں تیزی

  • اسرائیلی فوج کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، امدادی جہاز گھیرے میں لے لیے

    اسرائیلی فوج کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، امدادی جہاز گھیرے میں لے لیے

    رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر دیا اور جہازوں پر سوار ہوکر کیمرے بھی بند کرنا شروع کر دیے۔ صمود انتظامیہ نے قافلے میں شامل جہازوں کو گھیرنے کی تصدیق کر دی۔

    اس سے قبل فلوٹیلا کے منتظمین نے کہا تھا کہ اسرائیلی نیوی آئندہ ایک گھنٹے میں قافلے کی درجنوں کشتیوں کو روک سکتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جہاز "الما” پر موجود اراکین لائف جیکٹس پہنے ہوئے مداخلت کے انتظار میں تھے، جبکہ فلوٹیلا کمیٹی کی رکن یاسمین آقار نے بتایا کہ اسرائیلی بحری جہاز الما کو گھیر چکے ہیں۔رائٹرز نے مزید بتایا کہ بدھ کی رات تقریباً 20 نامعلوم بحری جہاز فلوٹیلا کے قریب آتے دیکھے گئے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیوں پر تقریباً 500 افراد سوار ہیں جن میں پارلیمنٹیرینز، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان اور سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

    یہ قافلہ ادویات اور خوراک لے کر اسرائیل کی وارننگز کے باوجود غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس وقت جنگ زدہ علاقے سے تقریباً 90 میل کے فاصلے پر ہے۔ امدادی سامان اور ادویات لے کر جانے والا گلوبل صمود فلوٹیلا ہائی رسک زون میں داخل ہوگیا ہے جہاں اس پر اسرائیلی حملے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں کی لائیو فیڈ اچانک بند ہوگئی، شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اسرائیلی بحریہ کی کارروائی کے نتیجے میں ہوا۔ اس سے قبل اطلاع ملی تھی کہ اسرائیلی جہاز نے فلوٹیلا کی کشتی "Alma” کو دونوں اطراف سے گھیر لیا ہے اور مداخلت قریب ہے۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی وقت اسرائیلی فورسز کے سوار ہونے کے لیے تیار ہیں۔40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا نے غزہ کے قریب ہائی رسک زون میں داخل ہوتے ہی لائیو ویڈیو فیڈ فعال کی تاکہ کسی ممکنہ کارروائی کی صورت میں دنیا بھر میں فوری ردعمل سامنے آسکے۔

    اطلاعات کے مطابق اسرائیلی جنگی جہازوں نے فلوٹیلا کی دو کشتیوں کا گھیراؤ کرتے ہوئے ان کے مواصلاتی آلات جام کر دیے، تاہم فلوٹیلا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا سفر جاری رکھے گا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق بعض کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔اسپین، اٹلی اور یونان نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا پر موجود افراد کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ادھر اقوام متحدہ کی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانچیسکا البانیزے اور کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی فلوٹیلا کو بلا رکاوٹ غزہ پہنچنے دینے پر زور دیا ہے۔

    ترکیہ کے ڈرونز فضائی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ اسپین اور اٹلی کے جہاز بھی فلوٹیلا کے ساتھ موجود ہیں، تاہم اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ اس کا جنگی جہاز واپس لوٹ جائے گا۔اسرائیل نے فلوٹیلا کو غزہ پہنچنے سے روکنے کی دھمکی دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ’’قانونی بحری ناکہ بندی‘‘ توڑنے کی کوشش ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق انسانی ہمدردی کی امداد کو روکا نہیں جا سکتا۔مبصرین کے مطابق اگر اسرائیل نے فلوٹیلا کو نشانہ بنایا تو یہ اقدام خطے میں بڑے انسانی اور سفارتی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے 2 آپریشنز، 13 دہشتگرد ہلاک

    برطانیہ میں ایمی‌طوفان جمعہ اور ہفتہ کو ٹکرانے کا امکان

    جاسوسی الزام، اسرائیلی فوج نے دو کم عمر فلسطینی بچے گرفتار کر لیے

    گوجرہ:کھیوڑہ مائینز کے کسان 20 سال سے نہری پانی کی قلت کا شکار