Baaghi TV

Tag: گلوبل وارمنگ

  • دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ ہیٹ ویو کا سامنا سطح پر رہنے والے جانداروں کو ہی ہوتا ہے مگر اب سائنسدانوں نے سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویوز کو دریافت کیا ہے جس سے دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک اور خطرناک اثر کا عندیہ ملتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہیٹ ویو کا سامنا ہماری زمین کی سطح پر رہنے والوں کو ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے بحری حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہےاس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے ٹیم نے یہ بھی پایا کہ نیچے کی سمندری گرمی کی لہریں سطح پر گرمی کے بہت کم یا کوئی ثبوت کے ساتھ بھی ہوسکتی ہیں۔

    امریکا کےNational Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ان ہیٹ ویوز کی خصوصیات اور سمندری دنیا پر اس کے اثرات کو مزید سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ NOAA کے سائنسدانوں نے تین دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے شمالی امریکہ کے مغربی اور مشرقی ساحلوں پر توجہ مرکوز کی۔

    محققین نے کہا کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویو سے دنیا بھر کے لیے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں اور پانی کے اندرونی درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے۔

    تحقیق کے مطابق گزشتہ 100 سالوں میں سمندر تقریباً 1.5 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہوا ہے اور اس نے گلوبل وارمنگ سے 90 فیصد اضافی گرمی لی ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہےیہ واضح ہے کہ ہمیں سمندروں کی گہرائی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہاں رہنے والے جانداروں کو سطح کے مقابلے میں بالکل مختلف قسم کی ہیٹ ویوز کا سامنا ہوتا ہے۔

    ان ہیٹ ویوز نے پوری دنیا میں سمندری ماحولیاتی نظام کی صحت کو ڈرامائی طور پر متاثر کیا ہے، جس سے پلانکٹن سے وہیل تک جانداروں کی نشوونما میں خلل پڑتا ہے۔ 2013 میں بننے والی سمندری ہیٹ ویو کو ’دی بلاب‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جو کہ ہیٹ ویوز سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کی ایک بہترین مثال ہے۔

    الاسکا کے ساحل کے قریب ترقی پذیر، اس وسیع، طویل گرمی کی لہر نے ماہی گیری کو تباہ کر دیا، زہریلے الگل پھولوں کا آغاز کیا اور تمام سمندری حیاتیات پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج طویل مدتی سمندری نگرانی کے نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر جب سائنس دان صرف نیچے کی سمندری گرمی کی لہروں کے اثرات کو سمجھنا شروع کر رہے ہیں۔ نئی مشاہداتی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے سائنسی دنیا کو سمندری گرمی کی لہروں کے ماضی، حال اور مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ اور زمینی ڈیٹا کی مدد سے 60 کے قریب سائنسدانوں نے ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں –

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق مطالعے میں زمین کے گرد زیرِ گردش، ناسا کاربن آبزرویٹری (رصدگاہ) یعنی او سی او ٹو اور زمین پر نصب آلات سے بھی مدد لی گئی ہے۔ یہ سروے 2015 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج اور انجذاب دونوں کے فرق کو بھی معلوم کیاگیا ہے۔

    اس فہرست میں مجموعی طور پر 100 ممالک کا جائزہ لیا گیا ہے جو صنعتی عمل، سواریوں اور دیگر ٹیکنالوجی کی بدولت فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی غیرمعمولی مقدار خارج کررہے ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو کرہِ ارض پر عالمی تپش یعنی گلوبل وارمنگ کی وجہ بھی بن رہی ہے۔ نقشے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے خطے سرخ رنگ میں نمایاں ہیں جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں کو سبز رنگ میں دکھایا گیا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست چین اور امریکہ شامل ہیں۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے والے خطوں میں جنگلات، سبزے کے مقامات اور دیگر مقامات شامل ہیں ناسا نے کہا ہے کہ وہ حکومتوں کو زور دیں گے کہ وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں کیونکہ ہم بہت تیزی سے مشکل ترین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    تاہم سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ قریباً 50 ممالک ایسے ہیں جنہوں نے گزشتہ 10 برس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے لیے اپنا ڈیٹا نہیں دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناسا نے سیٹلائٹ سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے-

  • 2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ 2100 تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکا کی کارنیگی میلن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زمین کو درپیش مختلف گرین ہاؤس گیس کے اخراج کے سبب ہونے والے برف کے پگھلاؤ کا اندازہ لگایا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    تحقیق میں سامنے آیا کہ زمین کا درجہ حرارت اگر 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود بھی کر دیا جائے تو زمین پر موجود تقریباً نصف گلیشیئر پگھل سکتے ہیں گلیشیئرز کا ختم ہونا مقامی آبی چکر پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے اور تودوں کے گرنے اور سیلابوں میں اضافے کا سبب ہوسکتا ہے۔

    ماضی میں بھی ماہرین خبردار کر چکے ہیں ہیں دنیا بھر میں گلیشیئرز گلوبل وارمنگ کے سبب تیزی سے پگھل رہے ہیں۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ایمیزون جنگلات کی تباہی سے بہت دور واقع مستقل برفانی ذخائر مثلاً ہمالیہ اور انٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے۔

    بیجنگ نارمل یونیورسٹی سے وابستہ سینی یانگ اور ان کےساتھیوں نے 1979 سے 2019 کےدرمیان آب و ہوا میں تبدیلی کےاثرات کےان دونوں مقامات کا جائزہ لیا ان رابطوں کو ٹیلی کنیکشن (دور سے روابط) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں بطورِ خاص ایمیزون پر توجہ دی گئی جو ایک جانب کاربن جذب کرنے کا اہم ترین مقام اور خود کلائمٹ چینج کی جگہ بھی ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون برساتی جنگلات کی تیزی سے کٹائی 15,000 کلومیٹر دور تبتی سطح مرتفع پر درجہ حرارت اور بارش کو متاثر کر سکتی ہے اس کی سادہ وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت اور نمی میں کمی سےدوردرازسطح مرتفع تبت اورانٹارکٹیکا کی برف پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں اگرچہ تبت اور ہمالیہ، ایمیزون سے 15000 کلومیٹردورہےلیکن چینی ماہرین نےان دونوں کے باہمی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔

    ماہرین نے دیکھا کہ 1979 سے ایمیزون کا درجہ حرارت بڑھنے سے تبت اور مغربی انٹارکٹک برف کی اطراف پر درجہ حرارت بڑھا لیکن ایمیزون میں بارش اور نمی کی زیادتی انٹارکٹک اور تبت پر نمی اور برسات کم ہوئی۔

    گزشتہ برس ستمبر میں سائنس دانوں نے بتایا کہ اینٹارکٹیکا کا تھویٹس گلیشیئر گزشتہ 200 سالوں سے زیادہ عرصے میں جتنا پگھلا ہے اس سے دُگنی رفتار سے گزشتہ چند سالوں میں پگھلا ہے۔

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    تیزی سے پگھلتا یہ گلیشیئر اکیلا ہی سطح سمندر میں 10 فِٹ کا اضافہ کر سکتا ہے لیکن دیگر محققین نے پیش گوئی کی ہے کہ دوسرے بڑے گلیشیئرز بھی سطح سمندر میں بڑا اضافہ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اینٹارکٹیکا کے پائن آئی لینڈ آئس شیلف 1.6 فِٹ جبکہ مشرقی اینٹارکٹیکا کی برف کی چادر 2500 تک 16 فِٹ تک کا اضافہ کرسکتے ہیں۔

    سطح سمندر میں اضافے سے شینگھائی اور لندن جیسے کئی شہر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    جرنل سائنس میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ریاست پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے ٹیم نے بتایا کہ اگر زمین کا درجہ حرارت اس ہی طرح بڑھتا رہا تو زمین پر موجود 2 لاکھ 15 ہزار گلیشیئرز میں سے کتنے باقی رہیں گے۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

  • گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    کیلیفورنیا: ایک نئی تحقیق میںماہرین نے بتایا ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ اپنی موجودہ رفتار سے بڑھتی رہی تو اس صدی کے آخر تک انٹارکٹیکا کے نصف سے زیادہ مقامی جاندار ناپید ہوجائیں گے۔

    باغی ٹی وی : جرنل پی ایل او ایس بائیولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اگر دنیا نے فاسل ایندھن سے خارج ہونے والی آلودگی پر قابو نہ پایا تو انٹارکٹیکا کے مقامی پودے اور جانوروں کی اقسام (بشمول پینگوئن) اس صدی کے آخر تک ممکنہ طور پر ختم ہوجائیں گی۔

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی کہ انٹارکٹیکا میں ماحول کے تحفظ کے لیے جاری کوششیں تیزی سے بدلتے برِ اعظم پر کارگر نہیں ہورہی ہیں محققین نے تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا کہ کم لاگت والے مزید لائحہ عمل کا اطلاق انٹارکٹیکا کے خطرے سےدوچار حیاتیاتی تنوع کو 84 فیصد تک محفوظ کر سکتا ہے۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ جیسمین لی کے مطابق چونکہ انٹارکٹیکا میں بڑی تعداد میں لوگ نہیں آباد اس لیے اس خطے کا موسمیاتی تغیر میں کوئی خاص حصہ نہیں ہے لہٰذا اس برِ اعظم کو سب سے زیادہ خطرہ اس خطے کے باہر سے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تغیر پر علاقائی سطح پر کی جانے والی ماحولیات کے تحفظ کی کوششوں کے ساتھ عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ انٹارکٹیکا میں جانداروں کو بقا کا بہترین موقع دیا جائے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ انٹارکٹیکا میں ختم ہوتی برف ایمپرر اور ایڈیل نسل کی پینگوئن کو خطرے سے دوچار کردے گی جو اپریل سے دسمبر تک برف پر انحصار کرتی ہیں۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

  • تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کلائمٹ چینج سے خود امراض کی شدت اور انسانوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : موسمیاتی تبدیلی نے 200 سے زیادہ متعدی امراض اور درجنوں غیر منتقلی حالات، جیسے زہریلے سانپ کے کاٹنے کو بڑھا دیا ہے۔ آب و ہوا کے خطرات لوگوں اور بیماری پیدا کرنے والے جانداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، جس سے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کچھ حالات کو مزید سنگین بھی بنا سکتی ہے اور متاثر کر سکتی ہے کہ لوگ انفیکشن سے کتنی اچھی طرح لڑتے ہیں۔

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    جامعہ ہوائی کے ڈیٹا سائنٹسٹ کیمیلو مورا نے بتایا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے نہ صرف دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں بلکہ ہم انسان ان سے لڑنے کی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں کئی ایک موسمیاتی شدتوں سے جراثیم کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور ان کا انسانی حملہ شدید ہوسکتا ہے بلکہ ہو بھی رہا ہے۔

    اس تحقیق میں کل 77 ہزار تحقیقی مقالوں، رپورٹ اور کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں موسم اور انفیکشن امراض کے درمیان تعلق موجود تھا گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کی وجہ سے مرض کی شدت بڑھ رہی ہے ان تبدیلیوں سے نصف سے زائد امراض انسانوں کو قدرے شدت سے بیمار کرسکتے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلی اور بیماری کے درمیان تعلق کے بارے میں سے پیدا ہونے والے دس خطرات بڑی موسمیاتی تبدیلیوں میں تپش، ہوا میں نمی، سیلاب، خشک سالی، طوفان، جنگلات کی آگ، گرمی کی لہر اور دیگر محرکات شامل کئے ہیں ان میں بیکٹیریا، وائرس، جانوروں، فنگس اور پودوں کے ذریعے پھیلنے والے یا متحرک ہونے والے انفیکشن شامل ہیں خلاصہ یہ ہے کہ تمام کیفیات جراثیم اور انسان کے درمیان رابطہ بڑھا رہی ہیں اور انسان بیمار ہو رہا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    کیمیلو مورا، یونیورسٹی آف ہوائی کے مانووا میں ڈیٹا سائنسدان، اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کے ثبوت کے لیے لٹریچر کا جائزہ لیا کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی ڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سطح سمندر میں اضافہ اور خشک سالی نے تمام دستاویزی متعدی بیماریوں کو متاثر کیا ہے

    ماہرین نے کہا ہے کہ خود انسان کے پاس بھی اس فوری تبدیلی سے نمٹنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں۔ گہرائی میں دیکھنے پر ایک تو موسم جراثیم یعنی بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ کے لیے طویل عرصے کے لیے موافق ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان کی افزائش کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ وائرس اور جراثیم کا وار سخت و شدید ہوتا جا رہا ہے۔

    گرمی بڑھنے سے مچھروں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور نتیجے میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر بارش اور طوفان کا پانی ہفتوں ایک جگہ موجود رہتا ہے جو جراثیم کے لیے ایک موزوں جگہ بن جاتا ہے اور اس طرح کئی طرح کے بخار، ویسٹ نائل فیور اور لیشمینیا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    رپورٹ کے مطابق فصل اور اجناس میں غذائیت کم ہونے سے خود انسان کا امنیاتی نظام بھی کمزور ہورہا ہے جس سے ہم طرح طرح کی بیماریوں کا ترنوالہ بن سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے تناظر میں انسانی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

    شارلٹس وِل میں یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے ایک وبائی امراض کے ماہر جوش کولسٹن کا کہنا ہے کہ "بنیادی طور پر تمام آب و ہوا کے اثرات اور تمام متعدی پیتھوجینز کو ایک کاغذ میں دیکھنا انتہائی پرجوش ہے وہ بہت اچھی طرح سے معلومات کی ایک بہت بڑی مقدار کی ترکیب کرتے ہیں۔

    مورا کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ ان بہت سے طریقوں کی پیمائش کرتا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی انسانی بیماریوں کو متاثر کرتی ہے۔ "ہم اپنی باقی زندگی کے لیے اس سنگین خطرے کے سائے میں رہیں گے-

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

  • گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    کوریا کے ماہرین نے گرمیوں کا موسم 3 ہفتے طویل ہونے کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’اینوائرونمنٹل ریسرچ لیٹرز‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کےمطابق، کوریا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اضافہ ہوگیا تو دوسرے کئی مسائل کے ساتھ ساتھ گرمیوں کا موسم بھی 3 ہفتے طویل ہوجائے گا –

    پوہانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ماحولیات کے پروفیسر، ڈاکٹر سونگ کی مِن اور ان کے شاگرد، بو جونگ پارک نے مختلف ماحولیاتی ماڈلز اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں دستیاب معلومات استعمال کرتے ہوئے ایک کمپیوٹر سمیولیشن تیار کی ہے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    اس سمیولیشن سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں صنعتی انقلاب سے پہلے کے اوسط سے صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اضافہ ہوگیا تو گرمیوں کے موسم کا دورانیہ 3 ہفتے (21 دن) تک بڑھ جائے گاجس کے نتیجے میں اوربھی کئی مسائل پیدا ہوں گے جن کے بارے میں فی الحال ہم سوچ بھی نہیں سکتے فی الحال ساری دنیا میں گرمیوں کا موسم 91 دن کا ہوتا ہے جو عالمی تپش میں 2 ڈگری اضافے کے بعد 112 دن تک پھیل جائے گاگرمیوں کی طوالت کا سب سے زیادہ اثر خطِ استوا (ایکویٹر) کے قریب اور بحیرہ روم سے متصل علاقوں پر سب سے زیادہ ہوگا جو مشرقی ایشیا سے لے کر وسطی امریکا تک پھیلے ہوئے ہیں۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    ماہرین مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ اضافہ 1.5 ڈگری یا اس سے زیادہ ہوگیا تو گلیشیرز کے پگھلنے، سطح سمندر بلند ہونے، غیرمعمولی بارشوں اور طویل خشک سالی سمیت کئی مسائل ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے اس سب کے باوجود انسان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور زمین کے ماحول پر رحم کھانے کو بالکل بھی تیار نہیں۔ اسی بناء پر خدشہ ہے کہ 1.5 ڈگری کا اضافہ ہمارے سابقہ اندازوں سے بہت پہلے ہوجائے گا اور پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچے گا۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    گرمیوں کا دورانیہ بڑھنے کے علاوہ، عالمی تپش میں 2 ڈگری اضافے سے جہاں سمندروں کی سطح بلند ہوگی وہیں دنیا کی 50 فیصد آبادی کو شدید آبی قلت کا سامنا بھی ہوگا تاہم ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ہم اس اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو گرمیوں کے دورانیے میں اضافے کو 12 سے 13 دن تک محدود کیا جاسکے گا البتہ، بہتر یہی ہے کہ درجہ حرارت بالکل نہ بڑھنے دیا جائے تاکہ ماحولیاتی مسائل مزید سنگین نہ ہوں۔

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق