Baaghi TV

Tag: گلوکار

  • برطانوی گلوکار نے اسلام قبول کرلیا

    برطانوی گلوکار نے اسلام قبول کرلیا

    2023 میں ریلیز ہونے والے مشہور انگریزی گانے ’ٹو مچ‘ کے برطانوی گلوکار و ریپر اور سینٹرل سی کے نام سے مشہور اوکلی نیل سیزر- سو نے نے اسلام قبول کرلیا۔

    گلوکار نے لائیو اسٹریمنگ کے دوران اسلام قبول کرنے اور اپنا نام تبدیل کرنے کی تصدیق بھی کی، انہوں نے ایک لائیو اسٹریم کے دوران اعلان کیا کہ میں نے ابھی اپنا نام تبدیل کیا ہے اور کلمہ شہادت پڑھ لیا ہے، اب میں مسلمان ہوں 27 سالہ ریپر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا پہلا نام اوکلی سے تبدیل کر کے عقیل رکھ لیا ہے۔ لائیو اسٹریم کے دوران انہوں نے کلمہ شہادت ادا کیا۔

    سینٹرل سی اپنی منفرد موسیقی اور عام زندگی سے جڑے لیریکس کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں مداحوں کی توجہ حاصل کر چکے ہیں،لائیو اسٹریم کے دوران ان کے ہمراہ موجود دوستوں نے انہیں مبارکباد دی، تاہم انہوں نے اپنے روحانی سفر سے متعلق مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

    4 جون 1998 کو لندن میں پیدا ہونے والے سینٹرل سی نے 2014 میں اپنے موسیقی کے کیریئر کا آغاز کیا اس کے بعد وہ برطانوی ڈرل اور ریپ میوزک کی دنیا کے نمایاں شخصیات میں شامل ہو گئے،2024 میں انہیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ سنے جانے والے برطانوی ریپر کا اعزاز حاصل ہوا، جن کے گانوں کو مختلف پلیٹ فارمز پر اربوں بار سنا گیا۔

  • ایران نے گستاخی رسول ﷺ  کرنے پر گلوکار کو موت کی سزا سنا دی

    ایران نے گستاخی رسول ﷺ کرنے پر گلوکار کو موت کی سزا سنا دی

    تہران: ایران نے پاپ گلوکار امیر حسین المعرف ٹیٹالو کو نبی پاک ﷺ کی توہین کرنے پر سزائے موت سنا دی۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق ایران کے معروف پاپ گلوکار کو توہین رسالت ﷺ پر گزشتہ برس ترکیہ سے بلا کر حراست میں لیا گیا تھاگلوکار کو توہینِ مذہب پر 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم یہ مقدمہ دوبارہ کھولا گیا اور اس بار نبی آخری الزماں ﷺ کی گستاخی بھی ثابت ہوگئی-

    تاہم سپریم کورٹ میں سرکاری پراسیکیوٹر نے اس سزا پر اعتراض کیا تھا کہ یہ سزا اس کے جرم کے مقابلے میں بہت کم ہے اسے سزائے موت سنائی جائے،سپریم کورٹ نے پراسیکیوٹر کی یہ استدعا قبول کر لی اور پراسیکیوٹر کے پچھلی 5 سال قید پر اعتراض کو تسلیم کرتے ہوئےنبی پاک ﷺ کی توہین کرنے پر 37 سالہ گلوکار کو موت کی سزا سنا دی۔

    کبریٰ خان نے فروری میں شادی کی تصدیق کردی

    واضح رہے کہ گلوکار امیر حسین 2018 سے استنبول میں مقیم تھے اور توہین مذہب و رسول ﷺ پر ایران کی درخواست پر ترک پولیس نے گرفتار کرکے دسمبر 2023 میں ایران کے حوالے کیا تھا اس سےقبل جسم فروشی کو فروغ دینےاسلامی جمہوریہ کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے اور فحش مواد شائع کرنے کا الزام میں بھی گلوکار کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

    پاسپورٹ کیلئے فاسٹ ٹریک کا دائرہ مزید26 شہروں تک بڑھا دیا گیا

    العربیہ کے مطابق حکومت مخالف ایرانی سیاست دان اسے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے تھےوہ 2015میں ایرانی جوہری پروگرام کی حمایت میں بھی ایک گانا ریکارڈ کر چکا تھا تاہم یہ گانا ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں منظر عام پر آیا تھا اس گلوکار نے 2017 میں صدر ابراہیم رئیسی سے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں ملاقات کی تھی۔

    چیمپئنز ٹرافی :سنیل گواسکر نے پاکستان کو فیورٹ قرار دے دیا

  • تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے گلو کاراسدعباس انتقال کر گئے

    تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے گلو کاراسدعباس انتقال کر گئے

    لاہور: پاکستان کے مقبول گلوکار اسد عباس انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : ضلع ستیانہ سے تعلق رکھنے والے سنگیت آئیکون وِنر، لکس میوزک ایوارڈ یافتہ، میکال حسن بینڈ کے سابق گلوکار اور کوک اسٹوڈیو 6 میں اپنی آواز کا جادو جگانے والے پاکستانی گلوکار اسد عباس کے انتقال کی تصدیق ان کے بھائی حیدر عباس نے کی ہے

    اسد عباس گزشتہ 7 سال سے گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، اور حالیہ دنوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہےتھےگلوکار کے خاندانی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ رات اسد عباس کی طبیعت بگڑنے کی وجہ سے وہ کومے میں چلے گئے تھے۔

    نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے گلوکار اسد عباس کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔

    خواتین اداکاروں کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹی مہم کیس کی سماعت ملتوی

    واضح رہے کہ گلوکار اسد عباس نے ” کدی آ مل سانول یار وے ” گانے سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا سال 2021 میں نشر ہونے والے مقبول ترین ڈرامہ رقص بسمل کا ٹائٹل سانگ اسد عباس نے ہی گایا تھا جسے شائقین نے بہت پسند کیا تھا، اسد عباس نے کوک اسٹوڈیو کے سیزن 6 میں فریحہ پرویز کے مدمقابل گانے ’ماہی گل‘ کے لیے نظر آئے جوکہ ’راگ ملہار‘ پر مبنی ایک لوک گانا ہے،یہ گانا سیزن کے سب سے زیادہ سراہے جانے والے گانوں میں شامل تھا اور یہ بہت سے بین الاقوامی فنکاروں کی میزبانی کرنے والا پہلا گانا تھا-

    ہمایوں سعید ، عدنان صدیقی و دیگر کے جشن آزادی کے خصوصی پیغامات

  • برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    برصغیر کے لیجنڈ پلے بیک گلوکارمحمد رفیع

    تم مجھے یوں بھلا نہ پاو گے
    جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
    سنگ سنگ تم بھی گنگناو گے

    محمد رفیع

    31 جولائی 1980: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کے ایک ورسٹائل اور لیجنڈ پلے بیک گلوکار، محمد رفیع 24 دسمبر 1924 کو کوٹلہ سلطان سنگھ، امرتسر، ریاست پنجاب، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ وہ ہندوستانی بالی ووڈ انڈسٹری کے نامور گلوکاروں میں سے ایک تھے اور ہندی گانوں پر ان ان کی ایک خاص گرفت تھی۔ سال 1944 سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنے والے، نامور سدا بہار گلوکار، محمد رفیع ایک ایسا نام ہے جسے ہمیشہ پورے احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔ ان کی آواز ہر ایک کی زندگی میں سکون بخش اور پرسکون عنصر بن گئی، جس نے لوگوں کے مزاج کو غمگین سے خوشی میں بدلنے میں مدد کی۔ محمد رفیع کا موسیقی کی طرف جھکاؤ بہت چھوٹی عمر سے شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بڑے بھائی نے اس کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور اپنے خاندان کو راضی کر لیا کہ وہ اسے موسیقی میں اپنا کیریئر بنانے دیں۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم پنڈت جیون لال مٹو سے لی۔ اس کے بعد استاد عبدالواحد خان اور استاد بڑے غلام علی خان اور فیروز نظامی سے تربیت حاصل کی۔ ان کے کیریئر کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے پہلی بار لاہور میں 13 سال کی عمر میں پرفارم کیا۔ اس کے بعد انہوں نے 1941 سے اے آئی آر (آل انڈیا ریڈیو) لاہور میں گانا شروع کیا۔

    ان کی شہرت کی ابتدا ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ جگنو فلم کیلئے گائے ہوئے دوگانے ” کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے” سے ہوئی اور نور جہاں کی شہرت کی ابتدا بھی اسی دوگانے سے ہوئی۔ تقریباً ہر ہندوستانی زبان میں گانے گا کر سپر اسٹار نے کل 7400 گانوں کو اپنی سریلی آواز دی ہے۔ حب الوطنی، اداس، رومانوی، غزلوں، قوالیوں تک، محمد رفیع نے تقریباً ہر قسم کے گیت گائے ہیں۔ان کی گائیکی کا انداز بالکل منفرد تھا جس نے دوسرے گلوکاروں سے آگے کھڑے ہونے میں مدد کی وہ نہ صرف گلوکار تھےبلکہ اپنے آپ میں ایک لیجنڈ اور سپر اسٹار تھے۔ انڈسٹری میں ہر کوئی ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا کیونکہ ان کی آواز میں کامیابی کا ٹیگ تھا۔ ان کی استعداد اور آواز کے معیار کے لیے، انھیں حکومت ہند کی طرف سے دیے گئے پدم شری کے ساتھ ساتھ متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا

    وہ حاجی علی محمد اور اللہ رکھی کے ہاں پیدا ہوئے ان کے 4 بھائی تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی کزن بشیرہ بانو سے شادی کی اور ان کے ہاں ایک بیٹا تھا جس کا نام سعید تھا تقسیم کے بعد انہوں نے اپنے ساتھ ہندوستان آنے سےانکار کردیا اوران کی شادی ختم ہوگئی اس کے بعد انہوں نے بلقیس بانو سے شادی کی اور اس جوڑے کے چار بچے ہوئے جن کے نام نسرین، پروین، خالد اور حامد تھے۔

    ان کا عرفی نام ‘فیکو’ تھا۔ محمد رفیع کا جنازہ اس وقت کا سب بڑا جنازہ تھا کیونکہ ان کی تدفین کے وقت 10,000 سے زیادہ لوگ آئے تھے۔ ہندوستان کی آزادی کی پہلی سالگرہ پر، انہوں نے جواہر لال نہرو سے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ باندرہ، ممبئی میں ایک چوک کا نام ان کے نام پر محمد رفیع چوک رکھا گیا۔ ان کا آخری ریکارڈ شدہ گانا "شام پھر کیوں اداس ہے دوست” تھا۔ محمد رفیع کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فلم کرودھ (1990) میں محمد رفیع تو بہت یاد آیا کے عنوان سے ایک گانا شامل کیا گیا تھا۔ اس گانے کو معروف گلوکار محمد عزیز نے گایا تھا۔ محمد رفیع نے اردو کے علاوہ ہندی، سندھی، پنجابی و دیگر متعدد زبانوں میں گایا ہے انڈیا پوسٹ نے ان کی یاد میں 15-05-2003 کو ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا رفیع صاحب کا مجسمہ ان کی جائے پیدائش کوٹلہ سلطان سنگھ، امرتسر (پنجاب) میں قائم کیا گیا ہے گوگل نے ان کی 94 ویں سالگرہ پر ڈوڈل کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیامحمد رفیع 31 جولائی 1980 کو ممبئی، انڈیا میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئےان کی عمر انتقال کے وقت 55 سال 7 ماہ تھی

    محمد رفیع کے گائے ہوئے سیکڑوں سپر ہٹ اردو گیتوں میں سے چند ایک منتخب بول
    ۔۔۔۔۔۔۔

    میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی

    یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہ تم ناراض مت ہونا

    یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں

    یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہوں گے

    ہوئے ہم جن کیلئے برباد وہ چاہے ہم کو کریں نہ یاد

    انصاف کا مندر ہے یہ بھگوان کا گھر ہے

    کبھی دکھ ہے کبھی سکھ ہے

    بڑی مستانی ہے میری محبوبہ

    کھلونا جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

    مجھے عشق ہے تجھی سے میری جان زندگانی

    تم مجھے یوں بھلا نہ پائو گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کےعظیم گلوکار مہدی حسن  جن کی آواز آج بھی زندہ ہے

    برصغیر کےعظیم گلوکار مہدی حسن جن کی آواز آج بھی زندہ ہے

    قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو

    مہدی حسن

    برصغیر کے عظیم گلوکار مہدی حسن 18 جولائی 1927کوراجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اْن کے والد اور چچا دْھرپد گائیکی کے ماہر تھے۔ انہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی۔خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔

    1947ء میں بیس سالہ مہدی حسن اہلِ خانہ کے ساتھ نقلِ وطن کر کے پاکستان آ گئے اور پنجاب کے ایک شہر چیچہ وطنی میں محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا انھوں نے مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر میکینک اور اس کے بعد ٹریکٹر کے میکینک بن گئے، لیکن رہینِ ستم ہائے روزگار رہنے کے باوجود وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ہر حال میں اپنا ریاض جاری رکھا-

    مہدی حسن پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رمُوز سے آشنا تھے مگر اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952ء میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا۔ اس وقت سے اپنے انتقال تک انہوں نے پچیس ہزار سے زیادہ فلمی، غیر فلمی گیت اور غزلیں گا ئیں 1956ء میں ایک طویل جدو جہد کے بعد مہدی حسن کو فلمی گلوکار بننے کا موقع ملا۔

    فلم کے لیے مہدی حسن نے جو پہلا گیت ریکارڈ کروایا وہ کراچی میں پاکستانی فلم ’’ شکار‘‘ کے لیے تھا۔ شاعر یزدانی جالندھری کے لکھے اس گیت کی دُھن موسیقار اصغر علی، محمد حسین نے ترتیب دی تھی۔ گیت کے بول تھے: ’’ نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے‘‘۔ اسی فلم کے لیے انہوں نے یزدانی جالندھری کا لکھا ایک اور گیت ’’میرے خیال و خواب کی دنیا لیے ہوئے۔ پھر آگیا کوئی رخِ زیبا لیے ہوئے‘‘ بھی گایا تھا۔

    خان صاحب مہدی حسن نے کل 441 فلموں کے لیے گانے گائے اور گیتوں کی تعداد 626 ہے۔ فلموں میں سے اردو فلموں کی تعداد 366 ہے جن میں 541 گیت گائے جب کہ 74 پنجابی فلموں میں 82 گیت گائے۔

    انہوں نے 1962ء سے 1989ء تک 28 سال تک مسلسل فلموں کے لیے گائیکی کی تھی۔فلمی گیتوں میں ان کے سو سے زیادہ گانے اداکار محمد علی پر فلمائے گئے۔ اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب ایک فلم ’’شریک حیات‘‘ 1968ء میں پردہ سیمیں پر بھی نظر آئے۔

    مہدی حسن کو بے شمار ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ جن میں 9 نگار ایوارڈ،تمغہ امتیاز، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل تھے۔

    مہدی حسن کو ملنے والے 9 نگار ایوارڈز کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں ۔

    سال 1964۔۔۔۔۔۔۔ فلم فرنگی ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1968۔۔۔۔۔۔۔ فلم صائقہ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1969۔۔۔۔۔۔۔ فلم زرقا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1972۔۔۔۔۔۔۔ فلم میری زندگی ہے نغمہ۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1973۔۔۔۔۔۔۔ فلم نیا راستہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1974۔۔۔۔۔۔۔ فلم شرافت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1975۔۔۔۔۔۔۔ فلم زینت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1976۔۔۔۔۔۔۔ فلم شبانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ

    سال 1977۔۔۔۔۔۔۔ فلم آئینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نگار ایوارڈ۔

    مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں 14 اگست 1985ء کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور علاوہ ازاں تمغہ امتیازاور ہلال امتیازسے نوازا گیا۔1979 ء میں انہوں نے جالندھر (انڈیا) میں کے ایل سہگل ایوارڈ حاصل کیا۔ 1983ء میں نیپال میں گورکھا دکشینا باہو ایوارڈ حاصل کیا اور جولائی 2001 ء میں پاکستان ٹیلی ویژن نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا ۔ لیکن مہدی حسن کے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ بے پناہ مقبولیت اور محبت تھی جو انہیں عوام کے دربار سے ملی۔ پاک و ہند سے باہر بھی جہاں جہاں اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ آباد ہیں، مہدی حسن کی پذیرائی ہوتی رہی ۔بھارت میں اُن کے احترام کا جو عالم تھا وہ لتا منگیشکر کے اس خراجِ تحسین سے ظاہرہے کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں مہدی حسن کا انتقال 13 جون 2012ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ کراچی ہی میں آسودہ خاک ہیں-

  • ہنی سنگھ کو بھی گولڈی برار کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی

    ہنی سنگھ کو بھی گولڈی برار کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی

    بھارتی گلوکار اور ریپر ہنی سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں گولڈی برار کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔

    باغی ٹی وی: گلوکار ہنی سنگھ نےکہا کہ مجھےجان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔ مجھے اور میرے عملے کو گولڈی برار کی طرف سے کالز موصول ہوئی ہیں۔ میں نے کمشنر آف پولیس سے درخواست کی ہے کہ وہ مجھے سکیورٹی دیں اور اس کی تحقیقات کریں۔ میں واقعی خوفزدہ ہوں۔

    ہنی سنگھ نے بتایا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ اس بارے میں زیادہ بات نہ کریں کیونکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ میں نے ثبوت دے دیئے ہیں۔ یہ میرے ساتھ زندگی میں پہلی بار ہوا ہے۔ لوگوں نے ہمیشہ مجھ سے محبت کی ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ مجھے ایسی دھمکی ملی ہے، میرا پورا خاندان خوفزدہ ہے، موت سے کون نہیں ڈرتا؟ میں ہمیشہ سے ایک چیز سےڈرتا رہا ہوں اوروہ ہےموت میں نے سکیورٹی مانگی ہے، تحفظ کے لیے۔ کال ایک بین الاقوامی نمبر سے ہے۔ ان میں سے کچھ کالز ہیں اور کچھ وائس نوٹ ہیں۔

     

    پٹھان فلم کی کامیابی کے لئے دعائیں‌مانگیں شعیب اختر

    خیال رہے کہ رواں سال اپریل میں، ممبئی پولیس کو ہنی سنگھ اور ان کی ٹیم کے ارکان کے خلاف ایک ایونٹ کی منسوخی پر تنازعے کے بعد ایک ایونٹ منیجمنٹ ایجنسی کے مالک کو مبینہ طور پر اغوا اور حملہ کرنے کی شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت کنندہ کے طور پر ایونٹ منیجمنٹ ایجنسی کے مالک کے نام کا ذکر کرتے ہوئے تحریری درخواست باندرہ کرلا کمپلیکس (BKC) پولیس اسٹیشن میں جمع کرائی گئی تھی۔

    اس طرح کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، ہنی سنگھ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز پر دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف یہ شکایت "جھوٹی” اور "بے بنیاد” ہے۔ میری کمپنی یا شکایت کنندہ کے درمیان کوئی تعلق یا معاہدہ نہیں ہے جو میڈیا دکھا رہا ہے۔

    پنجاب کونسل آف آرٹس میں غیر قانونی طور پر ترقیاں دینے کا سکینڈل منظر عام …

    واضح رہے کہ اس سے قبل گولڈی برار، لارنس بشنوئی کے ساتھ مبینہ طور پر گلوکار سدھو موسے والا کے قتل میں ملوث تھا سدھو موسے والا کو گزشتہ سال 29 مئی کو پنجاب کے مانسا ضلع میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لارنس بشنوئی گینگ کے رکن کینیڈا میں مقیم گینگسٹر گولڈی برارنے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی علاوہ ازیں اسی گینگ نے سلمان خان کو قتل کنے کی دھمکی دی تھی-

    طلاق ہونے پر راکھی نے منائی خوشی

  • برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار کو دھوکا دہی پرساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار کو دھوکا دہی پرساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار اکرم راہی کو دھوکا دہی کا جرم ثابت ہونے پر ساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : نامور نغمہ نگار ایس ایم صادق نے اپنے وکیل چوہدری شفقات محمود اور اپنے صاحبزادے وسیم صادق کے ہمراہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی عدالت نے پاکستانی گلوکار اکرم راہی کو 2 میوزک کمپنیوں مووی باکس اور اورینٹیل اسٹار کے ساتھ دھوکہ دہی پر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    قتل کی دھمکیاں،سلمان خان نے مقدمہ درج کراد دیا

    پاکستانی گلوکار کو 3 اپریل تک ایک لاکھ 50 ہزار پونڈ ادا کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ مجموعی طور پر ساڑھے 8 کروڑ روپے جرمانہ دینا ہو گا۔

    ایس ایم صادق نے کہا کہ اکرم راہی نے اپنی کتاب میں نہ صرف جگا اور سیف الملوک لکھنے کا دعویٰ کیا ہے بلکہ میرے بھی 250 سے زیادہ مشہور گانے اپنی کتاب میں شامل کیے ہیں اکرم راہی نے اپنے سیکورٹی گارڈ کے نام پر جعلی پیپر بنائے اور عدالت میں جعلی کاغذات پیش کیے دھوکہ دہی ثابت ہونے پر برطانیہ کی عدالت نے گلوکار کو ایک لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ کا جرمانہ 3 اپریل تک جمع کرانے کا حکم دیا۔

    ایس ایم صادق کے مطابق انہوں نے بھی پاکستان کی عدالت میں اکرم راہی کے خلاف مقدمہ کر رکھا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مجھے بھی عدالت سے انصاف ملے گا، اکرم راہی نے جعل سازی سے مختلف گانوں پر مبنی کتاب اپنے نام سے رجسٹرڈ کروائی ہے۔

    قتل کرنے کی دھمکیاں،ممبئی پولیس نے سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی

  • سدھو موسے والا قتل کیس:‌ بڑی گرفتاری

    سدھو موسے والا قتل کیس:‌ بڑی گرفتاری

    بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول سدھو موسے والا کے قتل کی تحقیقات ابھی تک جاری ہیں اس سلسلے میں کئی گرفتاریاں ہو چکی ہیں . لیکن حال ہی میں اس کیس میں جو گرفتاری ہوئی ہے وہ نہایت ہی اہم ہے. کہا جا رہا ہےکہ گولڈی برار کو گرفتار کر لیا گیا ہے. گولڈی برار امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں رہائش پذیر تھے وہیں سے انکی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے. یہ وہی گولڈی برار وہی ہیں جس نے سدھو موسے والا کے قتل کے بعد بشنوئی کے ساتھ سوشل میڈیا پر اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔گولڈی برار کے بارے میں‌کہا جا رہا ہے کہ یہ اس قتل کےماسٹر مائنڈ تھے. یاد رہے کہ سدھو موسے والا کو 29 مئی کو پنجاب میں ان کی گاڑی پر 30 گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا تھا سدھو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے.لارنس بشنوئی گینگ کا سربراہ پہلے ہی

    بھارتی پولیس کی حراست میں ہے جبکہ قتل میں ملوث کئی ملزمان بھی پولیس کی حراست میں سدھو کے قتل کا اعتراف کر چکے ہیں۔سدھو موسے والا انڈین نیشنل کانگریس کا حصہ تھے اور انہوں نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا تاہم وہ اپنی نشست ہار گئے تھے۔

  • ابرار الحق نے اپنے کنسرٹ کی کمائی سیلاب زدگان کے نام کردی

    ابرار الحق نے اپنے کنسرٹ کی کمائی سیلاب زدگان کے نام کردی

    اداکار و گلوکار اور ہلال احمر کے چئیرمین ابرار الحق بھی سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کافی متحرک ہیں. گزشتہ روز ایک معروف صحافی نے ایک ٹویٹ کیا اور طنز کے نشتر چلائے ابرار الحق پر کے وہ ہلال احمر کے چئیرمین ہیں اور ابھی تک وہ سیلاب زدگان کی مدد کے لئے میدان میں نہیں آئے. اطلاعات ہیں کہ ابرار الحق نے سیلاب زدگان کے لئے ایک کنسرٹ کیا ہے اور اس سے اکٹھی ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے نام کر دی ہے.
    ابرار الحق کا کہنا ہےکہ یہ کنسرٹ روٹین میں میری مصروفیات کے شیڈیول میں‌ تھا لیکن جب میں نے دیکھا کہ میرے بہن بھائی پریشانی اور آفت کی زد میں آگئے ہیں تو میں نے اس کنسرٹ سے حاصل ہونے والی ساری کمائی ان کو دینے کا فیصلہ کر لیا . انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوئی خوشی

    کا موقع نہیں ہے کہ ہم گانے گاتے پھریں لیکن یہ شو صرف اسلئے کیا گیا ہے تاکہ جو پیسے اکٹھے ہوں ان سے بے سروسامان بیٹھے لوگوں کی مدد ہو سکے. ابرار الحق کی طرح بہت سارے لوگ جو ہو سکے کررہے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے سیلاب زدگان کے لئے مدد کا بندوبست کیا جا سکے. یاد رہے کہ ابرار الحق تحریک انصاف کا بھی حصہ ہیں اور انہی کے پلیٹ فارم سے انہوں نے الیکشن بھی لڑا. ابرار الحق اس وقت ہلال احمر کے چیرمین کے طور پر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں.

  • عمران خان کوپاکستان کی سیاست کاناسورسمجھتا         ہوں:گلوکارجواداحمدچیئرمین برابری پارٹی

    عمران خان کوپاکستان کی سیاست کاناسورسمجھتا ہوں:گلوکارجواداحمدچیئرمین برابری پارٹی

    لاہور: معروف گلوکاراورسیاستدان چیئرمین برابری پارٹی جواد احمد پچھلے کئی ہفتوں سے اپنی توپوں کا رخ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب کیئے ہوئے ہیں اور وہ تنقید اورآڑے ہاتھوں لینے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دے رہے ، اس تازے بیان میں بھی جواداحمد نے عمران خان پرسخت تنقید کی ہے

    عمران خان کے خلاف ٹوئٹر پر جاری پیغام میں جواد احمد نے لکھا کہ ‘یہ خوش قسمت ہےکہ امیروں کابگڑا ہوا بچہ تھا، امیروں کے ایچیسن کالج میں پڑھتاتھا، امیروں کے جمخانہ کرکٹ کا ممبر تھا اور امیروں کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں فیس دے سکتا تھا توکرکٹ کھیل گیا اور بڑاکھلاڑی بھی بن گیا’۔

    برابری پارٹی کےچیئرمین جواد احمد جو کہ گلوکار بھی ہیں نے کہا ‘اگر عمران ہاکی کھیلتا ہوتا تو وزیراعظم بن کرپاکستان برباد تو نہ کرتا’۔

     

     

    عمران خان کے ہی خلاف اپنے ایک اور ٹوئٹ میں جواد احمد نے کچھ اس طرح اپنے جزبات کا اظہار کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ‘سمجھ نہیں آتا کہ پی ٹی آئی کو امریکا کے ساتھ لابنگ کرنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟، 14 اگست کو یوم آزادی تو گزر جانے دیتے، اس کے بعد غلام بن جاتے؟’

     

     

    جواد احمد نے آج کل عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی دو وجوہات بھی بتائیں، انہوں نے کہا ‘میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اس وقت پاکستان کی سیاست کا ناسور سمجھتا ہوں جو کہ اس ملک میں کرسی کےلیے فساد پھیلا رہا ہے اس لیے اس کی اصلیت بتانا ضروری ہے’۔

     

     

    گلوکار نے سخت ترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘میں اسے پاکستان کاسب سےگھٹیا آدمی سمجھتا ہوں جو جھوٹا، چور، منافق، لالچی، مکار ہے اور میں اپنےٹوئٹس میں اس کا ثبوت دیتاہوں’۔