Baaghi TV

Tag: گلوکارہ

  • نوشہرہ،پشتو اداکارہ خوشبو کی فائرنگ سے موت

    نوشہرہ،پشتو اداکارہ خوشبو کی فائرنگ سے موت

    خیبر پختونخواہ کے علاقے نوشہرہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، پشتو گلوکارہ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے.

    واقعہ نوشہرہ کے علاقے اکبر پورہ میں پیش آیا، ملزمان نے پشتو گلوکارہ خوشبو پر گولیاں چلا دیں جس سے خوشبو کی موت ہو گئی ہے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس کے مطابق ملزمان گلوکارہ خوشبو کو شوبزمیں کام کرنے سے منع کررہے تھے، قتولہ کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،گلوکارہ پشاور سے رہائش کیلیے نوشہرہ منتقل ہوئی تھی،

    درج مقدمے کے مطابق پشتو فلموں اور ڈراموں میں کام کرنے والی اداکارہ خوشبو کی لاش تھانہ اکبر پورہ کی حدود سے برآمد کی گئی ہے، خوشبو کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے،اداکارہ خوشبو کا تعلق صوابی سے ہے جبکہ وہ پشاور میں رہائش پذیر تھی ،مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں 2 ملزمان شوکت اور فلک نیاز کیخلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ۔پولیس نے لاش کو پوسٹمارٹم کیلئے پبی ہسپتال منتقل کیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کیا گیا۔مقتولہ کے بھائی شہریار کے مطابق شوکت نامی شخص کل رات کو اسکی بہن خوشبو کو اٹھا کر لے گیا ۔اس پر تشدد کیا اور پھر فائرنگ کر کے قتل کر دیا ۔ قتل کے بعد قاتل نے مجھے فون کر کے بتایا کہ فلاں جگہ سے بہن کی لاش اٹھا لو۔

    خیبر پختونخوا میں شوبز سے وابستہ خواتین پر زندگی کئی عرصے سے تنگ کی گئی ہے،کئی خواتین کی شوبز میں جانے کی وجہ سے موت ہو چکی ہے،2019 میں سوات میں ایک گلوکارہ کوشوبز میں کام کرنے کی وجہ سے چھریوں کے پے درپے وار کر کے قتل کر دیا تھا.2019 میں ہی مردان میں پشتو ڈراموں کی اداکار لبنیٰ عرف گلالئی کی جان لے لی گئی تھی، 2018 میں نوشہرہ میں پشتو گلوکارہ ریشم کو قتل کیا گیا تھا، ریشم کو اس کے شوہر نے قتل کیا تھا،2018 میں ایک ڈانسر سنبل خان کو قتل کیا گیا تھا،2015 میں پشتو کی گلوکارہ مسرت شاہین کو نوشہرہ میں قتل کیا گیا، 2014 میں گلوکارہ گل ناز کو پشاور میں قتل کیا گیا تھا.2012 میں پشتو گلوکارہ غزالہ جاوید پر گولیاں چلائی گئی تھیں جس سے گلوکارہ اور اس کے والد کی موت ہو گئی تھی

    بی جے پی کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا، مودی آؤٹ،گیم پلان پر کام شروع

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

  • گلوکارہ، اداکارہ، شاعرہ و موسیقار  ملکہ غزل بیگم اختر فیض آبادی

    گلوکارہ، اداکارہ، شاعرہ و موسیقار ملکہ غزل بیگم اختر فیض آبادی

    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
    تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    گلوکارہ، اداکارہ، شاعرہ و موسیقار ملکہ غزل بیگم اختر فیض آبادی

    ملکہ غزل بیگم اختر فیض آبادی 7 اکتوبر 1914 کو بھدرسا، فیض آباد، ریاست اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئیں وہ ایک ہندوستانی گلوکارہ، فلمی اداکارہ اور موسیقار تھیں بیگم اختر تعلیم میں دلچسپی نہیں تھی وہ صرف 7 سال کی تھیں جب انہوں نے موسیقی سے اپنا تعلق جوڑ دیا انہوں نے موسیقی کی تعلیم لیجنڈ استاد امداد خان سے لینا شروع کی امداد خان سے باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کے بعد، انہوں نے پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد عطا محمد خان سے موسیقی سیکھنا شروع کی انہوں نے خان صاحب کو اپنی بھرپور محنت سے متاثر کیا اور اس طرح انہوں نے ان کی تربیت شروع کر دی۔

    وہ ایک حساس آواز رکھنے کے علاوہ ایک پرکشش شخصیت کی مالک بھی تھیں اس لیے وہ فلموں میں اداکاری کے لیے موزوں امیدوار قرار دے دی گئی تھیں اس دوران گلوکاری اداکاروں کے لیے ایک لازمی چیز تھی 1933 میں نل دمیانتی اور کنگ فار اے ڈے جیسی فلموں میں کام کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا انھوں نے 1942 میں مشہور فلم” روٹی” میں کام کیا۔

    اداکاری کے علاوہ انھوں نے فلم میں چند غزلیں بھی گائیں انہوں نے اپنے کیریئر میں 400 سے زائد غزلیں اور ٹھمری گائے انہوں نے ایک معروف قانون دان بیریسٹر اشتیاق احمد عباسی سے شادی کی اور شادی کے بعد انہوں لیکن کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ گانا شروع کر دیا اور اپنی زندگی کے آخر تک گاتی رہیں انہوں نے بہت ساری غزلیں بھی لکھیں اور ان میں سے زیادہ تر راگ پر مبنی تھیں لیکن اپنی شاعری سے زیادہ انہوں نے بڑے شعراہ کے کلام گانے کو ترجیح دی ۔

    بیگم اختر ایک حقیقی لیجنڈ گلوکارہ تھیں جنہوں نے مختلف گلوکاروں کو موسیقی کا اپنا علم فراہم کیا وہ لکھنؤ میں مقیم ہو گئیں اور شاگردوں کو قبول کرنے لگیں انہوں نے تربیت کے لیے کبھی بھی داخلے کی رقم یا فیس نہیں لی انہوں نے یہ سب مفت میں کیا ان کا انتقال 30 اکتوبر 1974 کو احمد آباد، گجرات، انڈیا میں ہوا وہ 60 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں ان کی گائی چند مشہور غزلوں کے بول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    مومن خاں مومن
    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    مرزا غالب
    میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
    شکیل بدایونی
    الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
    میر تقی میر
    لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
    شیخ ابراہیم ذوقؔ
    اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
    کیفی اعظمی
    کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا
    سدرشن فاکر
    دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
    بہزاد لکھنوی
    دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
    مرزا غالب
    طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
    جگر مراد آبادی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • معروف  ہندوستانی گلوکارہ اور کمپوزر  روپندر ہانڈا

    معروف ہندوستانی گلوکارہ اور کمپوزر روپندر ہانڈا

    روپندر ہانڈا گلوکارہ اور کمپوزر

    روپندر ہانڈا 30 ستمبر 1985 کو ہندوستان کی ریاست ہریانہ کے شہر سرسا میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ایک ہندوستانی گلوکارہ اور کمپوزر ہیں جو پنجابی سنیما میں اپنی اداکاری کے لیے مشہور ہیں۔

    روپندر ہانڈا راتوں رات کامیاب اور مشہور نہیں ہوئیں بلکہ گرو بخشی رام کی اس پرعزم پیروکار نے مشق کی درستگی کے ذریعے اپنی روحانی آواز کی بنیاد رکھی ہے، اور ایک مکمل طریقہ کار موسیقی کی تربیت اور گرومنگ میں صحیح ہڑتال ہے۔ اس نے چندی گڑھ سے موسیقی میں ماسٹر کی ڈگری اور پٹیالہ سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔

    روپندر نے اس وقت گانے کی طرف قدم بڑھایا جب وہ تیسری جماعت میں تھی۔ اس نے لائیو سامعین کے سامنے پرفارم کیا۔ چونکہ وہ واضح تھیں کہ وہ موسیقی میں اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہیں، اس لیے اس نے جدت پسندی کی بجائے اپنی طاقتوں پر دن رات محنت کی۔ اس نے بالآخر 2006 میں موسیقی میں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا، جب اس نے مشہور MH1 چینل پر ‘آواز پنجاب کی’ کا مائشٹھیت ٹائٹل جیتنے کے بعد نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ہندوستان میں طوفان برپا کردیا۔

    T-Series نے اس سے معاہدہ کیا اور 2006 میں میرا ہیاں کے نام سے اپنا پہلا البم ریلیز کیا۔ تین سال بعد اس کا اگلا البم فلکاریاں ریلیز ہوا اور وہ اپنے کامیاب البمز کے بعد پنجابی گلوکاروں میں سے ایک بن گئیں روپندر ہانڈا کے دو اور البم بعد میں ریلیز ہوئے۔ انہوں نے ایک کنسرٹ میں لائیو پرفارم کیا ہے جہاں مہمان خصوصی کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام تھے۔ وہ پنجاب کی سب سے قیمتی ملکیت میں سے ایک ہے اور ان کی کامیابیاں بھی کم نہیں ہیں۔ اپنے موسیقی کے سفر کے دوران روپندر کو اس کے اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک قومی سطح کے مقابلوں تک مختلف ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ اسے پنجاب کی سیاست کے بڑے گنوں بی بی پرنیت کور اور سکھبیر سنگھ بادل کے ہاتھوں سے علاقائی اعزازات ملے ہیں-

  • رمیز راجہ کی سری لنکن گلوکارہ کے ساتھ گنگنانے کی ویڈیو وائرل

    رمیز راجہ کی سری لنکن گلوکارہ کے ساتھ گنگنانے کی ویڈیو وائرل

    دنیا بھر میں اپنی کمنٹری کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے پاکستان کے سابق کپتان اور کمنٹیٹر رمیز راجا کی سری لنکن گلوکارہ کے ساتھ گانے کی ویڈیو وئرل ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: رمیزراجا ان دنوں سری لنکا میں ہونے والی لنکا پریمیئر لیگ کےسلسلےمیں سری لنکا میں موجود ہیں جہاں انہوں نے معروف لنکن گلوکارہ ‘یوہانی’ کے ساتھ ان کے مشہورِ زمانہ گانے مانیکے مگے ہتھے گنگنانے کی کوشش کی رمیز راجا اور یوہانی کی یہ دلچسپ ویڈیو لنکا پریمیئر لیگ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی-


    ویڈیو کے کیپشن میں لکھا گیا کہ یہ ایک بیٹنگ لیجنڈ ہیں لیکن رمیز راجا کی گلوکاری کی مہارت یوہانی کے ساتھ کتنی اچھی ہے؟ کیا رمیز یوہانی کو چیلنج کرسکتے ہیں؟

    ورلڈکپ2023: ٹیموں کو میگا ایونٹ شروع ہونے سے قبل بڑا ریلیف

    واضح رہے کہ یوہانی لنکا پریمیئر لیگ کی سفیر ہیں، 2020 میں ان کا گانا مانیکے مگے ہتھے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں مقبول ہوا تھا، 2022 میں اس گانے کو بالی وڈ فلم ‘تھینک گاڈ’ میں شامل کیا گیا تھا، گانے کی ویڈیو میں سدھارتھ ملہوترا اور نورا فتیحی تھے یہ گانا سری لنکا کی سنہالی زبان میں گایا گیا ہے-

    واضح رہے کہ رمیز راجا کی پاکستان اور سری لنکا کے درمیان حال ہی میں ختم ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں بطور کمنٹیٹر واپسی ہوئی ہے سابق اوپنر ستمبر 2021 سے کمنٹری باکس سے دورتھے کیونکہ وہ تین سال کی مدت کےلیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔

    پاکستان انگلینڈ کرکٹ میچ،کلکتہ پولیس نے میچ کا شیڈول تبدیل کی درخواست دیدی

  • برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    برصغیرکی کلاسیکل گلوکارہ،اداکارہ ،صحافی، شاعرہ اوروکیل ڈاکٹرسشیلا رانی پٹیل

    ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    برصغیر کی کلاسیکل گلوکارہ ، اداکارہ ، صحافی، شاعرہ اور وکیل ڈاکٹر سشیلا رانی پٹیل 20 اکتوبر 1918 کو بمبئی آنند رائو وکیل کے گھر میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک بہت پڑھی لکھی خاتون تھیں انہوں نے ایم ایس سی، ایل ایل ایم اور ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ سشیلا نے 7 سال کی عمر میں موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کر دیا۔

    1942 میں انہوں نے کلاسیکل گائیکی کا آغازکیا اوربعد ازاں انہوں نے School for music shiv sangeetanjali کی بنیاد رکھی۔ موسیقی کے اس اسکول میں ان کے کئی مشہور فنکار شاگرد پیدا ہوئے ڈاکٹر سشیلا نےکچھ عرصےبمبئی ہائیکورٹ میں وکالت کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا نے متعدد فلموں میں اداکاری بھی کی جن میں فلم عالم آرا، خدا کی شان، یاد رہے اور سندیسہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    موسیقی اور اداکاری میں فلم پروڈیوسر بابو رائو پٹیل نے ان کی بہت بڑی مدد کی اور بعد میں انہوں نے بابو رائو پٹیل سے شادی کی۔ شادی کے بعد بابوراؤ پٹیل اور ڈاکٹر سشیلا نے ایک فلمی رسالے ” Filmindia کا جاری کی جبکہ ڈاکٹر سشیلا مختلف اخبارات میں کالم بھی لکھتی رہیں اور شاعری بھی کرتی رہیں ۔ 24 جولائی 2014 بمبئی میں 96 برس کی عمر میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے قائم کردہ میوزک کو ” سشیلا بابو رائو پٹیل” کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔

  • گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ مصنفہ , ہدایت کارجدن بائی

    گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ مصنفہ , ہدایت کارجدن بائی

    گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ مصنفہ , ہدایت کارجدن بائی بالی ووڈ کی ایک ابتدائی گلوکارہ، موسیقار، اداکارہ ، مصنفہ ، فلم ساز اور ہندوستانی سنیما کے علمبرداروں میں سے ایک تھیں۔ وہ معروف اداکارہ نرگس کی والدہ اور سنجے دت کی نانی تھیں۔ وہ ہندوستانی فلم انڈسٹری کی پہلی خاتون میوزک ڈائریکٹر تھیں۔

    جدن بائی 1892 میں الہ آباد، شمال مغربی صوبے، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک مصنفہ اور ہدایت کار تھیں، جنہیں میڈم فیشن (1936)، ہردے منتھن (1936) اور موتی کا ہار (1937) کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 8 اپریل 1949 کو ہوا۔

    موتی لال نہرو اور دلیپا بائی کی بیٹی۔ نرگس، انور حسین اور اختر حسین کی والدہ۔ سنجے دت، پریا دت اور انجو دت کی نانی سنیل دت کی ساس ہندوستانی سنیما میں موسیقی کی پہلی خاتون موسیقار۔

    جدن بائی حسین 1892 میں پیدا ہوئیں ان کی پرورش ان کی والدہ اور سوتیلے والد نے بطور مسلمان کی۔ دلیپ بائی اور اس کے شوہر بعد میں پنجاب اور بعد میں الہ آباد کے چلبیلا گاؤں چلے گئے، جہاں انہوں نے طوائف کا کام کیا۔ اس کے سوتیلے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ پانچ سال کی تھیں۔ جدن بائی شہر چلی گئیں اور گلوکارہ بن گئیں لیکن باقاعدہ تربیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں اس نے کلکتہ کے شریمنت گنپت راؤ (بھیا صاحب سندھیا) سے رابطہ کیا اور ان کی طالبہ بن گئیں۔ شریمنت گنپت راؤ کا 1920 میں انتقال ہو گیا جب وہ ابھی طالب علم ہی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنی تربیت استاد معین الدین خان سے مکمل کی۔ بعد ازاں اس نے استاد چدو خان ​​صاحب اور استاد لب خان صاحب سے بھی تربیت حاصل کی۔

    اس کی موسیقی مقبول ہوئی۔ اس نے کولمبیا گراموفون کمپنی کے ساتھ غزلیں ریکارڈ کرنا شروع کیں۔ وہ میوزک سیشنز میں حصہ لینے لگی۔ انہیں کئی ریاستوں جیسے رام پور، بیکانیر، گوالیار، کشمیر، اندور اور جودھ پور کے حکمرانوں نے مدعو کیا تھاانہوں نے ملک کے مختلف ریڈیو سٹیشنوں پر گانے اور غزلیں بھی پیش کیں۔

    اس نے بعد میں اداکاری شروع کی جب لاہور کی پلے آرٹ فوٹو ٹون کمپنی نے 1933 میں اپنی فلم راجہ گوپی چند میں ایک کردار کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ اس نے ٹائٹل کردار کی ماں کا کردار ادا کیا۔ بعد ازاں اس نے کراچی کی ایک فلم کمپنی میں انسان یا شیطان میں کام کیا۔

    اس نے سنگیت فلمز کے نام سے اپنی پروڈکشن کمپنی شروع کرنے سے پہلے دو اور فلموں، پریم پریکشا اور سیوا سدن میں کام کیا۔ کمپنی نے 1935 میں طلشے حق تیار کیا، جس میں انہوں نے اداکاری اور موسیقی ترتیب دی۔ انہوں نے اپنی بیٹی نرگس کو بھی بطور چائلڈ آرٹسٹ متعارف کروایا۔ 1936 میں اس نے میڈم فیشن کے لیے اداکاری، ہدایت کاری اور موسیقی لکھی۔

    ان کی پہلی شادی ایک ہندو شخص نروتم داس کھتری عرف بچی بابو سے ہوئی جس نے اسلام قبول کیا اور "نذیر محمد” کا نام اپنایا ان کے بیٹے کا نام اختر حسین تھا۔ ان کی دوسری شادی استاد ارشاد میر خان سے ہوئی اور ان کا ایک بیٹا انور حسین ہے۔ اس کی تیسری شادی موہن چند اتم چند تیاگی عرف موہن بابو سے ہوئی، جو اصل میں ایک موہیال سرسوات برہمن ہندو تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور عبدالرشید نام اپنایا۔ فلمی اداکارہ، نرگس (اصل نام، فاطمہ راشد) ان کی بیٹی تھیں۔

    تلشے حق (1935) (موسیقی موسیقار)
    میڈم فیشن (1936)
    دل منتھن (1936)
    پرل کے بال (1937)
    جیون خواب (1937)

  • بھارتی معروف گلوکارہ  الکا یاگنک

    بھارتی معروف گلوکارہ الکا یاگنک

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    گلوکارہ الکا یاگنک

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف گلوکارہ الکا یاگنک 23 مارچ 1966 میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی ماں شوبھا یاگنک ایک کلاسیکل گلوکارہ تھی اسی وجہ سے الکا کو بچپن میں ہی گھر میں موسیقی کا ماحول ملا جس سے متاثر ہو کر انہوں نے 6 سال کی عمر میں ہی آل انڈیا ریڈیو کے آکاشوانی اسٹیشن سے چائلڈ اسٹار کے طور پر اپنے فنی سفر کا آغاز کر دیا ۔ ان کی ماں نے ان کی بھرپور فنی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ ایک کامیاب گلوکارہ بن گئیں ۔

    الکا نے پہلا فلمی گیت 14 سال کی عمر میں 1980 میں فلم پائل کی جھنکار کیلئے گایا جبکہ 1988 میں فلم تیزاب کیلئے انہوں نے ” ایک دو تین ” گانا گایا جس سے ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی جس کیلئے ان کو فیمیل پلے بیک سنگر نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا ۔ الکا یاگنک اب تک 7 فلم فیئر ایوارڈز اور دو نیشنل فلم فیئر ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں ۔

    الکا یاگنک کو 2019 میں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام سشیشما کپورہےشادی کے بعد 8 سال بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ عرصے کیلئے علیحدگی ہو گئی لیکن بعدازں دونوں کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا ہو گئی۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق الکا یاگنک 2022 دنیا میں یوٹیوب پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ سنی گئی۔

    ٹائمز آف انڈیا نے الکا یاگنک کوشہد کی آواز کی گلوکارہ Honey Vioce Singer جبکہ ہندوستان ٹائمز نے انہیں جادوئی آواز کی گلوکارہ Magical Vioced Singer کے خطاب سے نوازا ہے۔ الکا یاگنک مہدی حسن کی بہت بڑی مداح ہیں ان کا کہنا ہے کہ مہدی حسن بیت بڑے گلوکار تھے میں ان کی غزلیں سن کر بڑی ہوئی ہوں۔

    الکا یاگنک کی آواز میں گائے گئے چند گیتوں کے بول

    تم آئے تو آیا مجھے یاد گلی میں آج چاند نکلا

    یہ دعا ہے میری رب سے تجھے دوستوں میں سب سے میری دوستی پسندآئے

    تم سے بڑھ کر دنیا میں نہ دیکھا کوئی

  • رونا لیلی’  3 ممالک کی مشترکہ گلوکارہ کے چرچے

    رونا لیلی’ 3 ممالک کی مشترکہ گلوکارہ کے چرچے

    ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رونا لیلی’ 3 ممالک کی مشترکہ گلوکارہ

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    17 نومبر 1952 کو پیدا ہونے والی خوب صورت گلوکارہ رونا لیلی جنوبی ایشیا کی واحد گلوکارہ ہیں جنھوں نے پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت سمیت، تین بڑی فلم انڈسٹریز اور کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ 1965 میں پاکستان سے فنی سفر شروع کرنے والی رونا لیلی 1966 تک صرف 14 سال کی عمر میں ہی پاکستان کی لیڈنگ پلے بیک سنگر بن گئیں۔۔ 1974 میں بنگلہ دیش میں گانے کا آغاز کیا۔۔اور 1991 تک 7 نیشنل ایوارڈز حاصل کر چکی تھیں۔۔

    1974 میں ہی انہوں نے ہندوستان میں بھی گانا شروع کر دیا تھا۔ ۔1983 تک وہ سپر رونا کیلئے گولڈن ڈسک جیت چکی تھیں۔۔بپی لہری کی موسیقی میں اس البم کی ایک لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں۔۔۔1966-91 کے دوران وہ تینوں بڑی فلمی صنعتوں کی لیڈنگ پلے بیک سنگر تھیں۔۔پاکستان، بنگلہ دیش اور اس وقت دنیا کی سب سے بڑی فلمی منڈی انڈیا یعنی بولی وڈ۔

    17 نومبر 2022 کو رونا لیلی 70 برس کی ہو گئی ہیں وہ بلا شبہ ساؤتھ ایشیا کی مشترکہ سپر سٹار ہیں۔۔ان کو ہر کوئی celebrate کر رہا ہے۔ انہوں نے اردو، ہندی، سندھی ، پنجابی ، بنگالی اور پشتو سمیت 17 زبانوں میں گا کر ایک عظیم گلوکارہ کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ رونا لیلیٰ آجکل اپنے بچوں سمیت لندن میں مقیم ہیں ۔

    رونا لیلیٰ کی آواز میں گائے ہوئے چند یادگار اور سدا بہار گیت اور نغمے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1. ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا
    2. میرا بابو چھین چھبیلا میں تو ناچوں گی
    3. مر جائے گی محبت اشکوں کا زہر ہی کر
    4. ملی گل کو خوشبو ، مجھے مل گیا تو
    5. افر میں بتا دوں میرے دل میں کیا ہے
    6. جب پیار کسی سے ہوتا ہے تو ہوتا ہے یہ انجام
    7. ذرا ٹھیر جا وے چوری چوری جانڑ والیا

  • رابی پیرزادہ نے دکھایا سڑکوں پہ گند ڈالنے والوں  کو آئینہ

    رابی پیرزادہ نے دکھایا سڑکوں پہ گند ڈالنے والوں کو آئینہ

    ”رابی پیرزادہ” جو کہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں وہ کوئی نہ کوئی ایسی پوسٹ لگاتی رہتی ہیں جس کو پڑھ کر یقینا انسان سوچتا ضرور ہے کہ ہاں جو لکھا گیا ہے وہ ٹھیک ہے ایسا ہونا چاہیے. رابی پیرزادہ نے حال ہی میں ٹویٹر پر ایک پوسٹ شئیر کی اس میں انہوں نے ایک تصویر بھی لگائی اس تصویر میں وہ جھاڑو پکڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں . اس تصویر کا کیپشن انہوں نے یہ لکھا ہے کہ اگر صفائی کرنے والے چُوڑے ہیں تو پھر گند پھیلانے والے کون ہوئے؟‌ صرف پیسے نہیں جمع داروں کی عزت بھی کریں ، انکی وجہ سے ہم صاف ہوا میں سانس لیتے ہیں. یوں رابی

    پیرزادہ کی اس پوسٹ کے نیچے بہت سارے صارفین نے کمنٹس کئےاور اس بات سے اتفاق کیا کہ ہاں صاف ستھرائی تو ہونی چاہیے اپنے ملک کو صاف رکھنا چاہیے لیکن جو اس ملک کو صاف رکھتے ہیں ہمیں صاف ماحول دیتے ہیں کہ ہم سڑکوں پر چل ٔپھر سکتے ہیں انکی عزت کی جائے. یاد رہے کہ رابی پیرزادہ ایک عرصہ تک شوبز کا حصہ رہیں لیکن اس کے بعد انہوں نے شوبز کو خیرباد کہہ کر اپنی باقی کی زندگی دین اسلام کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کر لیا. رابی پیرزادہ کیلی گرافی بھی کرتی ہیں اور ان کی کیلی گرافی کی پینٹنگز خاصی خوبصورت ہوتی ہیں، رابی پیرزادہ ان پینٹنگز کو فروخت کر کے غریبوں کی مدد کرتی ہیں.

  • آئمہ بیگ ہو گئیں شرمندہ لیکن کیوں؟

    آئمہ بیگ ہو گئیں شرمندہ لیکن کیوں؟

    نوجوان نسل کی نمائندہ گلوکارہ آئمہ بیگ بہت پاپولر ہیں ان کی آواز میں گائے ہوئے گیت پاکستانی کی نامور ہیروئینز پر پکچرائز ہوتے ہیں. آئمہ بیگ نے گلوکاری کو باقاعدہ کیرئیر بنانے سے پہلے ٹی وی کے پروگرامز کئے. آئمہ بیگ چونکہ گلوکاری کے شعبے میں ہی جانا چاہتی تھیں لہذا انہوں نے گلوکاری کے کیرئیر کو اپنا لیا. آج آئمہ کا شمار پاکستان کی صف اول کی گلوکاروں میں ہوتا ہے. آئمہ ساحر علی بگا جیسے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کر چکی ہیں. پی ایس ایل کا اینتھم بھی گا چکی ہیں. آئمہ بیگ نے بے شک اردو میں کافی پروگرامز کئے ہیں لیکن آج بھی وہ اردو بولنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتی ہیں. ان سے اگر کوئی مسلسل اردو میں بات کرنا چاہے تو وہ گھبرا جاتی ہیں.ایسا ہی حال ہی میں ہوا اس وقت جب

    ایک صحافی نے ان سے انٹرویو کیا آئمہ مسلسل انگلش میں بات کررہی تھیں صحافی نے گلوکارہ کو بار ہا منع کیا اور کہا کہ آئمہ آپ اردو میں بات کریں. آئمہ ایک لمحے کو اردو میں بات کرتیں تو دوسرے ہی لمحے پھر انگلش میں بات کرنے لگ جاتیں جب صحافی نے بار بار ٹوکا تو ایک وقت میں وہ شرمندہ ہوکر کہنے لگیں اصل میں ارد گرد کا جیسا ماحول ہو آپ ویسی ہی زبان بولنے لگ جاتے ہو.مجھے اچھی اردو بولنی آتی ہے لیکن انگلش میں زرا روانی ہے اس لئے شاید بے اختیار انگلش منہ سے نکلنا شروع ہو جاتی ہے.