Baaghi TV

Tag: گلگت

  • وفاقی حکومت جواب دے کس قانون کے تحت پابندی لگائی،عدالت

    وفاقی حکومت جواب دے کس قانون کے تحت پابندی لگائی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،وزیر اعلی گلگت بلتستان کی سیکیورٹی پر جی بی پولیس دوسرے صوبوں میں جانے پر پابندی کیس کی سماعت ہوئی

    وزارت داخلہ کے پابندی کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سطح کے افسر کو کل طلب کر لیا ،عدالت نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت جواب دے کس قانون کے تحت پابندی لگائی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کے درخواست پر سماعت کی ،وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن وزیر اعلی گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان حکومت نے چیلنج کیا تھا ،درخواست گزاروں کی جانب سے وکلا میاں علی اشفاق ، قدیر جنجوعہ ، احد کھوکھر پیش ہوئے ،عدالت نے کل تک متعلقہ حکام کو عدالت پیش ہو کر جواب دینے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ وزارت داخلہ نے جی بی پولیس اہلکاروں کو دوسرے صوبوں میں ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کی ،گلگت بلتستان کے گورنر اور وزیراعلی کی سیکیورٹی سے متعلق احکامات جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعلی اور گورنر جہاں بھی جائیں گے متعلقہ صوبہ سیکیورٹی فراہم کرے گا وزیر اعلی کے ساتھ جی بی پولیس کو دوسرے صوبوں میں سیکورٹی سے روکنا غیر قانونی ہے گلگت بلتستان پولیس کے حوالے امتیازی سلوک پر مبنی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکتا ، وزارت داخلہ کے 24 مارچ کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے ،

    عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سطح کے افسر کو کل طلب کرلیا، عدالت نے استفسار کیا وفاقی حکومت جواب دے کس قانون کے تحت پابندی لگائی؟

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

    سرکاری وکیل کی جانب سے بیان حلفی لاہور ہائیکورٹ میں جمع 

  • گلگت بلتستان میں نامعلوم افراد نے بچیوں کے اسکول کو آگ لگادی

    گلگت بلتستان میں نامعلوم افراد نے بچیوں کے اسکول کو آگ لگادی

    گلگت:پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک بار پھرسکولوں پر حملے کی خبر ہے ،اس سلسلے میں تازہ ہونے والے واقعہ میں گلگت بلتستان کے علاقے داریل میں نامعلوم افراد نے بچیوں کے اسکول کو آگ لگادی جب کہ چوکیدار کو بھی اغوا کرکے لے گئے۔

    گلگت بلتستان پولیس کے مطابق دیامر کی تحصیل داریل میں پیر اور منگل کی درمیانی رات نامعلوم افراد نے بروگی گرلز اسکول کو آگ لگادی اور چوکیدار کو بھی اغواء کر کے لے گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے اسکول کو ملزمان کی گرفتاری اور مغوی چوکیدار کی بازیابی کے لئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔

    وزیراعلٰی گلگت بلتستان خالد خورشید نے واقعے کا نوٹس لیترے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    خالد خورشید نے انتظامیہ، پولیس و دیگر اداروں کو فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے اسکول کی فوری بحالی کا بھی حکم دے دیا ۔

    یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں کافی عرصے سے کچھ ایسے واقعات سامنے آرہےہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے ان علاقوں کو جان بوجھ کرعدم استحکام کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس کے لیے ذمہ داران کی طرف سے نوٹس لینا ضروری ہے

  • ہاکی اسٹیکس گلگت کے کالجز اور سکولوں کے طالبات میں تقسیم

    ہاکی اسٹیکس گلگت کے کالجز اور سکولوں کے طالبات میں تقسیم

    لاہور:پاکستان ہاکی فیڈریشن کی طرف سے بجھوائی گئی ہاکی اسٹیکس گلگت کے کالجز اور سکولوں کے طالبات میں تقسیم کردی گئیں۔ بدھ کے روز گلگت بلتستان ہاکی ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ہاکی سٹیڈیم جوٹیال گلگت میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کے مہمان خصوصی چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی تھے جبکہ ڈائریکٹر گلگت بلتستان سپورٹس بورڈ حسین علی میر محفل بھی انکے ہمراہ تھے۔اس موقع پر چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی نے پی۔ایچ۔ایف کی طرف بجھوائی گئیں ہاکیاں پبلک سکول اینڈ کالجز,ڈگری کالج گلگت اور دنیور ڈگری کالج کے طالبات میں تقسیم کیں۔

        

    اس موقع چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نے طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان میں ہاکی کھیل کو فروغ دینے کیلئےاقدامات اٹھارہے ہیں,ہاکی کھیل کی ترقی کیلئے گلگت بلتستان ہاکی ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہتے ہیں,گلگت بلتستان میں کھیلوں کے فروغ کیلئے تمام تر وسائل فراہم کرینگے,سپورٹس گالا کے انعقاد سے گلگت بلتستان میں صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ ملے گا,سپورٹس گالا ایونٹ صرف خواتین کیلئے منعقد کیا جارہا ھے جس میں مختلف کھیلوں کے مقابلے ہونگے۔

    انہوں نے کہاکہ گلگت میں جدید طرز کے ہاکی سٹیدیم کی تعمیر خوش آئند اقدام ھے,سٹیڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان کے کھلاڑی بین الاقوامی اور نیشنل سطح پر ملک و گلگت بلتستان کا نام روشن کرینگے,گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی ہر سطح پر معاونت کرینگے۔تقریب کے آخر میں گلگت بلتستان ہاکی ایسوسی ایشن کے صدر کمال حسین نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی اور ڈائریکٹر سپورٹس بورڈ گلگت بلتستان حسین علی کی شرکت تقریب میں شرکت اور پی۔ایچ۔ایف کے صدر بریگیڈیئر خدلد سجاد کھوکھر اور سیکرٹری جنرل سید حیدر حسین کے تعاون اور علاقے میں ہاکی کھیل کے فروغ کیلئے اقدامات پر شکریہ ادا کیا۔

     

  • گلگت،سیلاب متاثرہ علاقے میں پاک فوج کا ریلیف آپریشن

    گلگت،سیلاب متاثرہ علاقے میں پاک فوج کا ریلیف آپریشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    پاک فوج کے جوان ریسکیو و ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، گلگت کے علاقے میں سیلاب آیا تو پاک فوج کے جوان شہریوں کی مدد کے لئے پہنچ گئے، پاک آرمی کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ گورو جگلوٹ میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مریضوں کو علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کی گئی،

    پاک آرمی میڈیکل کور کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کو خصوصی طور پر اس میڈیکل کیمپ میں تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب متاثرین میں پاک فوج کے زیر انتظام کشمیر آرفنز ریلیف ٹرسٹ کی طرف سے امدادی سامان کی پیکجز تقسیم کی گئی۔ اس موقع پر کشمیر آرفنز ریلیف ٹرسٹ کے نمائندے رضاکاروں کے ساتھ موجود تھے۔

    گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی رہائش کے لیے شاہراہ قراقرم پر عارضی ٹینٹ ولیج قائم کردئیے گئے ہیں، پاک فوج کی جانب سے متاثرین کے لے ٹینٹ، اشیائے خورونوش، ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کے مکانات، لاکھوں روپے مالیت کی قیمت زمین اورپھل دار درخت تباہ ہو گئے جس پر صوبائی حکومت خاموش ہے،پاک فوج ہی مشکل کی گھڑی میں ہماری مددکو آئی ہے، ہم سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مشکل وقت میں ہماری مدد کرنے پر پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں سیلاب سے متاثرہ لوگوں نے میڈیکل کیمپ اور ریلیف کیمپ کے انعقاد پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

  • گلگت بلتستان:کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سےزبردستی ماہانہ100روپےفیس ہتھیانےکاسلسلہ

    گلگت بلتستان:کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سےزبردستی ماہانہ100روپےفیس ہتھیانےکاسلسلہ

    گلگت بلتستان :کھرفق پرائمری سکول:مفت تعلیم کےباوجود بچوں سے زبردستی ہرمہینے100روپے فیس ہتھیانے کا سلسلہ جاری ہے جہاں ایک طرف پاکستان میں مفت تعلیم کے سرکاری سطح پردعوے کیے جاتے ہیں،مگروہاں بعض سکولوں میں بچوں سے زبردستی ماہانہ 100 روپے فیس کے نام سے بٹورے جارہے ہیں مگرحکام کو اس کی پرواہ تک نہیں ہے ، ایسا ہی ایک پرائمری سکول گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے گاوں کھرفق ہے جہاں بچوں سے ہر ماہ فیس کی مد میں 100 روپے لیا جاتا ہے

    باغی ٹی وی کو گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے کھرفق گاوں سے ملنے والی مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہاں ایک پرائمری اسکول ہے جہاں مقامی بچے زیرتعلیم ہیں اوریہاں کا عملہ حکومت کی طرف سے مفت تعلیم کے باوجود بچوں سے فیس کے نام سے ہرمہینے 100 روپے ہتھیا رہا ہے ، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سکول میں تعینات عملے کی طرف سے بچوں کے والدین کودھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اوراس قسم کے تاثرات پیش کیے جاتے ہیں کہ جن سے ثابت کیا جاسکے کہ یہ 100 روپے حکومت کی طرف سے وصول کرنے کا حکم ہے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ضلع گانچھے کا کھرفق گاوں اورگردونواح میں انتہائی غریب اورمفلوک الحال خاندان مقیم ہیں‌ جن کے لیے اپنے بچوں کوہرمہینے 100 روپے فیس کی ادائیگی بہت مشکل ہوجاتی ہے ،لیکن والدین کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے ہر مہینے 100 روپے فیس کی مد میں جمع کرواتے ہیں

    اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ کیا واقعی بچوں سے ہر مہینے وہاں کے اساتذہ 100 روپے فیس کی مد میں لیتے ہیں تو مقامی لوگوں‌ نے اس بات کی تصدیق وتائید کی اوراس خبرکو درست قرار دیا کہ واقعی بچوں سے 100 روپے زبردستی وصول کیا جاتاہے

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں میٹرک تک تعلیم مفت ہے ،ایسے ہی گلگت بلتستان میں بھی میٹرک تک تعلیم مفت ہے مگرپھر ہمارے بچوں سے کس بات کے ہر مہینے فیس کی مد میں سو روپے لیے جاتے ہیں ،مقامی آبادی نے باغی ٹی وی کے توسط سے حکام سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کی انکوائری کی جائے اور اس واقعہ میں ملوث عملے کے خلاف کارروائی کی جائے

    کھرفق گاوں اورارد گرد کے دیہات کے باسیوں نے اس سلسلے میں‌ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اوروزیرتعلیم گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں اور مقامی بچوں کو ان کامفت تعلیم حاصل کرنے کا حق واپس کریں تاکہ والدین اپنے بچوں کو بغیرفکروفاقہ تعلیم دلواسکیں

  • گلگت:کوہ پیما شہروزکاشف نے8 ہزارمیٹرسےبلند دنیا کی ایک اورچوٹی سرکرلی

    گلگت:کوہ پیما شہروزکاشف نے8 ہزارمیٹرسےبلند دنیا کی ایک اورچوٹی سرکرلی

    گلگت: پاکستان کے نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف نے 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی ایک اور چوٹی سر کر لی۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے شہروز کاشف نے 8035 میٹ رنویں بلند چوٹی گیشر برم ٹو سر کی، اس سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سمیت 8 چوٹیاں سر کر چکے ہیں، وہ چند روز میں جی ون سر کرنے کی مہم کا آغاز کریں گے۔

    خیال رہے کہ یہ شہروز کی دسویں 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹی ہو گی، اس مہم میں کامیاب ہوئے تو شہروز کاشف 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی 10 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما ہوں گے۔

     

    گیشر برم ٹو چوٹی سر کرنے والوں میں شہروز کاشف، ساجد سد پارہ اور امتیاز سدپارہ شامل ہیں۔

     

    کوہ پیما شہروز کاشف لاہور پہنچ گئے

    دوسری طرف سیاحتی شعبے میں پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی۔ عالمی سیاحتی انڈیکس میں 6 درجہ ترقی سے پاکستان 83ویں پوزیشن پر براجمان ہوگیا۔ ۔ عالمی سیاحتی انڈیکس میں 6 درجہ ترقی سے پاکستان 83ویں پوزیشن پر براجمان ہوگیا۔

    یہ انڈیکس ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ جس میں دنیا بھر کے 117 ممالک کی سیاحتی اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے۔ پاکستان کی 6 درجہ ترقی سیاحتی شعبہ کی تعمیروترقی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

    نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    عالمی ادارے کی جانب سے سیاحوں کو دی جانے والی سہولیات اور سفری اور سیاحتی شعبے کے لیے طے کردہ پالیسیز سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی سیاحتی انڈیکس میں جاپان، امریکا، اسپین، فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، سنگاپور اور اٹلی سمیت دیگر ممالک سرِ فہرست ہیں۔

  • گلگت ائیرپورٹ پر پرندوں کے خطرے سے آگاہی مہم کا آغاز

    گلگت ائیرپورٹ پر پرندوں کے خطرے سے آگاہی مہم کا آغاز

    کراچی: گلگت ائیرپورٹ پر پرندوں کے خطرے سے آگاہی مہم کا آغازوقت کی ضرورت بن کررہ گیاہے ، ادھر اطلاعات کے مطابق اس شعبے سے منسلک افراد اورتنظیموں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایئرپورٹس پرپرندوں کے خطرات کے حوالے سے جب تک آگاہی مہم نہیں چلائے جائے گی اس وقت تک اس سےمتعلق اقدامات بھی بے معنی ہوں گے، اس لیے کراچی سے لیکرگلگت تک یہ مہم چلائی جارہی ہے

    اس حوالے سے کراچی میں مہم کا آغاز کرتے ہوئےلوگوں کا کہنا تھا کہ عوام کی آگاہی کے لیے نمایاں مقامات پر پینافلیکس کی نمائش سے بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے ، یہ پینا فلیکس شہرکی بڑی شاہرات پرلٹکائے گئے ہیں‌

    اس کے علاوہ اے پی ایم کے ذریعے ہوائی اڈے کی قریبی مسجد میں مقامی لوگوں کے لیے آگاہی سیشنز کا بھی انعقاد کیا گیا ہے،کراچی سے ذرائع کےمطابق اس مقصد کے تحت ملحقہ مقامی مارکیٹ میں شہریوں میں فلائیرز کی بھی تقسیم کیئے گئے

    اے پی ایم کا کہنا تھا کہ تعلیم اور آگاہی کی غرض سے ملحقہ علاقوں میں تعینات ٹیم کی طرف سے فلائر تقسیم کرنے کی سرگرمی عید تک جاری رہے گی۔

     

     ادھر اسی حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ناقص حکمت عملی کے باعث بڑے ایئر پورٹس پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    اے آر وائی نیوز کے مطابق سی اے اے نے طیاروں سے پرندے ٹکرانے سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے، جنوری 2018 سے مئی 2022 تک کی رپورٹ کے مطابق لاہور ایئر پورٹ پر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔

    ساڑھے 4 سالوں میں ایئر پورٹ پر پرندے ٹکرانے کے 662 واقعات رونما ہوئے، ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز دونوں کے طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    لاہور ایئر پورٹ پر سب سے زیادہ 198 واقعات رپورٹ کیے گئے، دوسرے نمبر پر کراچی ایئر پورٹ پر 192 واقعات رپورٹ ہوئے، اسلام آباد ایئر پورٹ پر 100 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    سیالکوٹ ایئر پورٹ پر 53، پشاور ایئر پورٹ پر 40، ملتان ایئر پورٹ پر 26 حادثات، فیصل آباد ایئر پورٹ پر 22 اور کوئٹہ ایئر پورٹ پر 17 حادثات رپورٹ ہوئے۔

    اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 60 فی صد حادثات مون سون کے سیزن میں رپورٹ ہوئے، جون، جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینوں میں حادثات میں اضافہ دیکھا گیا۔

    گزشتہ سال 2021 میں 142 حادثات رپورٹ ہوئے، جنوری 2022 سے مئی 2022 تک 48 حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں، سی اے اے کے مطابق حادثات کے باعث ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

  • گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں

    گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں

    اسکردو:گیشربرم2سرکرنےوالی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما:کے2کوسرکرنے کےلیےمنزل کی طرف چل پڑیں،اس وقت یہ اطلاعات گردش کررہی ییں کہ گزشتہ سال پاکستان میں گیشر برم 2 سر کر کے 8 ہزار میٹر سے بلند کسی چوٹی کو سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والی نائلہ کیانی نے اب کے ٹو مہم کا آغاز کردیا ہے۔

    نائلہ کیانی کی اس کامیابی کو اس امر نے مزید دلچسپ بنا دیا کہ انہوں نے گزشتہ سال زندگی میں پہلی بار کوئی پہاڑ سر کرنے کی ٹھانی تھی اور بیٹی کی پیدائش کے محض 7 ماہ بعد 8ہزار 35 میٹر بلند گیشر برم پہاڑ سر کرلیا۔

    دبئی میں مقیم، بیکنگ کے شعبے سے وابستہ نائلہ کیانی نے بتایا کہ ’میری بیٹی محض ساڑھے 7 ماہ کی تھی جب میں نے گیشر برم 2 سر کیا‘۔

    پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما اگلے ماہ "کے ٹو” سرکرنے کی مہم پر نکلیں گی

    ٹیم بریفنگ کے بعد سکردو کے لیے روانہ ہونے والی نائلہ کیانی کے ہمراہ پاکستانی کوہ پیما سرباز خان اور سہیل سخی بھی ہوں گے جو مرحوم علی رضا سدپارہ کے ساتھ گیشر برم 2 سر کیے جانے کے وقت بھی ان کے ساتھ تھے۔

    نائلہ کیانی نے کہا کہ ’گیشر برم 2 سر کرنے والی ٹیم ہی اب کے ٹو سر کرنے جارہی ہے، ہم نے یہ مہم چچا علی رضا سدپارہ کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔

    ساجد سدپارہ کی صحت کے متعلق تشویشناک خبرسامنے آ گئی:افسوسناک ویڈیو وائرل

    نائلہ کیانی نے علی رضا سدپارہ کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب میں گیشر برم 2 سر کرنے کے بعد بیس کیمپ پہنچی تو یہ علی رضا چاچا ہی تھے جنہوں نے مجھے کہا کہ آپ کے ٹو بھی سر کرسکتی ہیں، مجھے یہ اعتماد انہوں نے ہی دیا‘۔

    انہوں نے کہا کہ ’ان کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی وہ شاندار حس مزاح تھی، ان کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی، مہم کے دوران جب کوئی کٹھن لمحہ آتا تو وہ کوئی لطیفہ سناتے اور ہم سب ہنس پڑتے‘۔

    8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں سے مشکل ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کے لیے اپنی تیاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ ناقابل یقین حد تک مشکل رہا ہے، میں زچگی کی چھٹیوں کے دوران گیشر برم-2 سر کرنے نکل گئی تھی اور مہم سے واپس آنے کے بعد فوراً کام پر چلی گئی تھی‘۔

    پنجاب حکومت کاطلحہ طالب، ارشد ندیم اور کوہ پیماؤں ساجد علی سدپارہ اور شہروز کاشف…

    اپنی کم عمر بیٹی کے علاوہ نائلہ کیانی ایک 3 سالہ بیٹے کی بھی ماں ہیں اور اس مہم میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، اس مشکل فیصلے کے حوالے سے سوال پر نائلہ کیانی نے جواب دیا کہ ’ہم یہ سوال مردوں سے نہیں پوچھتے، حتیٰ کہ بیرون ملک بھی لوگوں نے مجھ سے یہ سوال پوچھا کیونکہ ماؤں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال کریں نہ کہ اس قسم کے سرگرمیوں پر توجہ دیں‌

    انہوں نے بتایا کہ گیشر برم 2 کی مہم پر سرباز خان میرے ہمراہ تھے جبکہ میری بیٹی کی پیدائش کے ایک دن بعد ان کی بھی بیٹی پیدا ہوئی لیکن کسی نے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ آپ 14 چوٹیوں کے مشن پر کیسے گئے اور سال کے بیش تر وقت گھر سے دور کیسے رہ لیتے ہیں؟

    انٹرنیشنل کوہ پیما ساجد علی سدپارہ کا ریسکیو ہیڈکوارٹر کا دور:ڈی جی ریسکیونے کے…

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو غیرمعمولی شرح اموات کے باوجود خصوصاً پاکستانی کوہ پیماؤں کے لیے کشش رکھتی ہے، اس حوالے سے بات کرتے ہوئے نائلہ کیانی نے کہا کہ ’یہاں جو سکون ملتا ہے وہ آپ کو ان پہاڑوں میں واپس لاتا رہتا ہے، جب میں نے اپنی پہلی مہم کا منصوبہ بنایا تھا اس وقت میں صرف اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کو جانچنا چاہتی تھی، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ میں کتنی بلندی پر جا سکتی ہوں‘۔

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

  • گلگت شاہراہ قراقرم پر سیاحوں کی گاڈی حادثے کا شکار ہوگئی۔

    گلگت شاہراہ قراقرم پر سیاحوں کی گاڈی حادثے کا شکار ہوگئی۔

    گلگت شاہراہ قراقرم پر سیاحوں کی گاڈی حادثے کا شکار ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گلگت میں شاہراہ قراقرم پر سیاحوں کی گاڈی حادثے کا شکار ہوگئی۔

    مزید تفصیلات کے مطابق گلگت میں بہت سے لوگ ہر سال سیر و تفریح کیلئے جاتے ہیں ۔ابھی حال میں بھی ایک گاڑی میں کچھ افراد سیر و تفریح کیلئے روانہ ہوۓ تھے ۔کہ ان کی گاڑی ٹریفک حادثےکا شکار ہو گئی تھی۔
    مزید یہ کہ تفتیش سے پتا چلتا ہے کہ حادثے میں 4 سیاح جاں بحق ہوگئے اور 8زخمی ہوٸے ہیں۔ .

    اس واقعے کی فورن بعد وہاں پر موجود لوگوں نےفوری طور پر ریسکیو1122 کو کال کی ۔
    پھر اس کے بعد گلگت بلتستان ایمرجنسی سروسزگلت ریسکیو1122کی ایمبولینسز اور محکمہ صحت کی ایمبولینسز میں زخمیوں کو پی ایچ کیو ہسپتال اور سٹی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
    مزید یہ کہ گلگت گاڑی میں 12سیاح سوار تھے۔ جاں بحق اور زخمیوں کا تعلق کراچی سے ہے۔ ریسکیو 1122 نے بتایا ۔

  • سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس پرردعمل دےدیا

    سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس پرردعمل دےدیا

    اسلام آباد:سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے سلیکٹیڈ وزیر اعلی خالد خورشید کی پریس کانفرنس کا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی گلگت بلتستان کی پریس کانفرنس جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہپں وزیر اعلی کے اپنی کابینہ کے ممبران اس کے ساتھ پریس کانفرنس میں بیٹھنے کے لئے تپار نہیں اور دو وفاقی جھوٹوں مراد سعید اور علی امین گنڈا پور کے ساتھ بیٹھ کر جھوٹ بولے گئے وزیر اعلی کا منصب ایک زمہ دارمنصب ہے اس کا تقاضہ ہے کہ عوام کو حقائق پہنچآئیں جائیں نہ کہ عوام تک باجماعت جھوٹ کا پرچار کیا

    سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ وزیر اعلی خالد خورشید نے سراسر سفید جھوٹ بولا کہ گلگت بلتستان کا پچاس فیصد ترقیاتی بجٹ کاٹا گیا ہے وزیر اعلی کا یہ جھوٹ بھی عمران نیازی کے جھوٹ سیرئز کی طرح ایک سیریئز ہے حقیقت تو یہ ہے کہ جو بجٹ عمران خان کے دور میں گلگت بلتستان کو مل رہا تھا وہی بجٹ اب بھی مل رہا ہے سلیکٹیڈ وزیر اعلی خالد خورشید ہمت کریں اور عوام کو سچ بتائیں کہ گلگت بلتستان کے بجٹ میں کٹوتی عمران خان دور میں ہوئی گلگت بلتستان کے پی ایس ڈی پی منصوبوں کو عمران خان کے دور حکومت میں التوا میں ڈالا گیا میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان کے سات ارب کے ترقیاتی بجٹ کو اکیس ارب تک پہنچایا تھا عمران خان نے بر سر اقتدار آتے ہیں اس بجٹ کو کاٹ کر چورہ ارب کر دیا میاں نواز شریف کے دور میں گلگت شںدور ایکسپریس وے کا منصوبہ ستائیس ارب کا تھا اسے پی ایس ڈی پی سے خارج کیا گیا دو سال کے بعد اب وہی ستائس ارب کا منصوبہ اکیاون ارب تک پہنچایا گیاہینزل پاور پراجیکٹ کا منصوبہ ہمارے دور میں ساڈھے نو ارب کا ٹینڈر ہوا تھا گنڈا پور نے اسے روک کر اب چودہ ارب کا ٹینڈر کر دیا ہمارے دور میں اگر سات ارب کے بجٹ کو اکیس ارب تک پہنچایا گیا تو اس کی وجہ بجٹ کا سو فیصد استعمال تھا بجٹ کے صحیح استعمال پر میاں نواز شریف نے پہلے تیرہ ارب کیا پھر اکیس ارب تک پہنچا دیا پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت جب ختم ہوئی تو اکیس ارب بجٹ تھا جیسے ہی عمران خان کی حکومت آئی اسے چودہ ارب کر دیا اب کس منہ سے بجٹ کٹوتی کا الزام موجودہ وفاقی حکومت پر لگا رہے ہیں

    حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اتنی نا اہل ہے کہ اسے بجٹ کے استعمال کا ادراک ہی نہیں اور سات ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ واپس ہو چکا ہے بجٹ تو انہیں ملتا ہے جنہیں عوام پر خرچ کرنے کا طریقہ معلوم ہو اور ان کی ترجیع عوام ہو نہ کہ کواڈینٹروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج رکھنے وفاق کے خلاف مہم جوئی کے لئے کروڑوں خرچ کرنے اور پی ٹی آئی کے وفاقی وزرا کو گلگت بلتستان کی سیر کرانے کے لئے خرچ کرتے ہوں اور مبینہ طور پر بنی گالہ کے لئے کروڑوں کا آٹا اور بکرے خرید کر پہنچانے کی زمہ داری ہو۔حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی خالد خورشیدپریس کانفرنس کر کے سفید جھوٹ بولنے سے پہلے ان سوالوں کا جواب بھی عوام کو دیں کہ آپ کے دور میں حکومتی اخراجات کے لئے گیارہ ارب روپے مختص تھے وہ کہاں خرچ کئے جبکہ ہمارے دور میں صرف تین ارب روپے تھے انہیں بھی ہم نے بچا کر ویسٹ منیجمنٹ 1122 جیسے ادارے اور اضلاع بنائے آپ نے کیا بنایا سوائے کواڈینٹروں کی فوج بھرتی کرنے کے؟ہم نے بجٹ کا پورا استعمال کیا تو ہمارا بجٹ سات ارب سے اکیس ارب تک پہنچ چکا تھا آپ کے بجٹ سے سات ارب کیوں واپس ہوئے کیا یہ آپ کی نا اہلی نہیں آپ کو کیسے ادراک ہو کہ گلگت بلتستان کے مسائل کیا ہے دو سال میں بارہ مہینے تو آپ اسلام آباد اور دبئی میں رہے گلگت بلتستان دورے پر آتے رہے جس اسمبلی کے آپ قائد ایوان ہیں اس اسمبلی کی بے توقیری کا یہ عالم ہے کہ رول آف بزنس میں اسمبلی کارروائی کےلئے جتنے دن مختص ہیں اس کا ایک فیصد وقت بھی اسمبلی کی کارروائی نہیں ہوئی کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہوئی اس کے باوجود تیس کروڑ روپے کا بجٹ اسمبلی اخراجات کی مد میں پھونک دیئے جس اسمبلی کی کارروائی آپ کا اپوزیشں کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے چل نہیں رہی تو سوال بنتا ہے کہ اسمبلی کے نام پر تیس کروڑ کہاں خرچ ہوئے وفاق پر الزام لگانے اور تحریک انصاف کے وفاقی جھوٹوں کے ساتھ پریس کانفرنس کے نام پر جھوٹ کی منڈی سجانے سے قبل ان سوالوں کے جواب دیں

    حافظ حفیظ الرحمن نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں گزشتہ دو سال سے ایفاد جیسے عوامی فلاح کےمنصوبے جس کی مدد سے ہم نے دو لاکھ کنال زمین آباد کر کے عوام کو دی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے کیا یہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ؟ اس کا جواب کون دے گا انہوں نے کہا کہ سلیکٹیڈوزیر اعلی خالد خورشید نے کتنا بڑا جھوٹ بولا کہ 2005سے اب تک گلگت بلتستان میں پولیس میں بھرتیاں نہیں ہوئیں عجیب بات ہے کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں سپیشل پولیس یونٹ کے نام سے سات سو بھرتیاں کیں اور پانچ سال میں مجموعی طور پر دو ہزار کے قریب پولیس میں بھر تیاں ہوئیں وہ انہیں کیوں نظر نہ آئیں اتنے بڑے جھوٹ بولنے سے قبل انہیں سوچنا چاہئے کہ رسوائی ہوگی لیکن افسوس کہ تحریک انصاف کے وفاقی رہنماوں کی طرح انہیں بھی منہ کی بواسیر کا عارضہ لاحق ہے ورنہ سوچ سمجھ کر بات کرتے۔