Baaghi TV

Tag: گلیشئرز

  • دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    کینیڈین سائنسدانوں نے دنیا بھر کے لوگوں کیلئے وارننگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے-

    باغی ٹی وی: دی گارجئین کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کے خبردار کیا ہے کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق اگلی وبائی بیماری چمگادڑوں یا پرندوں سے نہیں بلکہ برف پگھلنے والے مادے سے آسکتی ہے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے نتیجے میں پگھلتے گلیشیئرز ممکنہ طور پر اگلی مہلک عالمی وبا کا سبب ہوسکتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے قطب شمالی کی جھیل ہیزن سے حاصل کیے گئے نمونوں کا معائنہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح موسمیاتی تغیر کسی دوسرے جاندار میں وائرس کے منتقل ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ سیکڑوں سالوں سے گلیشیئرز میں جمے ہوئے مہلک وائرس عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے کے سبب دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں۔

    نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جیسے جیسے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ گلیشیئرز اور پرما فراسٹ میں بند وائرس اور بیکٹیریا مقامی جنگلی حیات کو دوبارہ بیدار اور متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ان کی رینج بھی قطبوں کے قریب ہو جاتی ہے۔

    مثال کے طور پر، 2016 میں شمالی سائبیریا میں اینتھراکس کی وبا پھیل گئی جس نے ایک بچے کی جان لے لی اور کم از کم سات دیگر افراد کو متاثر کیا، اس کی وجہ ہیٹ ویو تھی جس نے پرما فراسٹ کو پگھلا دیا اور ایک متاثرہ قطبی ہرن کی لاش میں وائرس دریافت کیا گیا اس سے پہلے خطے میں آخری وبا 1941 میں پھیلی تھی۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    منجمد وائرس سے لاحق خطرے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، کینیڈا کی اوٹاوا یونیورسٹی کے ڈاکٹر سٹیفن ایرس بروسو اور ان کے ساتھیوں نے جھیل ہیزن سے مٹی اور تلچھٹ کے نمونے اکٹھے کیے، جہاں مقامی گلیشیئرز سے چھوٹے، درمیانے اور بڑی مقدار میں پگھلا ہوا پانی بہہ رہا تھا-

    اس کے بعد، انہوں نے ان نمونوں میں آر این اے اور ڈی این اے کو ترتیب دیا پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی میں شائع ہونے والی تحقیق نے تجویز کیا کہ نئے میزبانوں میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ ان مقامات پر زیادہ ہوتا ہے جہاں برفانی پگھلنے والے پانی کی بڑی مقدار بہتی ہوتی ہے ایسی صورت حال جس کا امکان آب و ہوا کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھ جاتا ہے۔

    ٹیم نے اس بات کا اندازہ نہیں لگایا کہ انہوں نے جن وائرسز کی نشاندہی کی ہے ان میں سے کتنے پہلے نامعلوم تھے جو وہ آنے والے مہینوں میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ آیا یہ وائرس انفیکشن کو متحرک کرنے کے قابل تھے۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    تاہم، دوسری حالیہ تحقیق نےتجویز کیا ہےکہ نامعلوم وائرس گلیشیئر برف میں گھوم سکتے ہیں، اور کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، پچھلے سال، امریکہ کی اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے اعلان کیا کہ انہیں چین میں تبتی سطح مرتفع سے لیے گئے برف کے نمونوں میں 33 وائرس سے جینیاتی مواد ملا ہے جن میں سے 28 نوول ہیں۔ ان کے محل وقوع کی بنیاد پر، وائرس کا تخمینہ لگ بھگ 15,000 سال پرانا تھا۔

    2014 میں، Aix-Marseille میں فرانس کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کے سائنسدانوں نے سائبیرین پرما فراسٹ سے الگ تھلگ ایک بڑے وائرس کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب کیا، اور اسے 30,000 سالوں میں پہلی بار دوبارہ متعدی بنا دیا۔ اس تحقیق کے مصنف جین مشیل کلیوری نے اس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ برف کی ایسی تہوں کو بے نقاب کرنا "تباہی کا ایک نسخہ” ہو سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے دنیا کے تنہا ترین درخت سے امیدیں باندھ لیں

  • اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    اقوام متحدہ کا پاکستان میں 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ

    اقوام متحدہ نے پاکستان کے شمال میں موجود 5 ہزار گلیشیئرز کی میپنگ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیئرز کا نقشہ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ گرمی کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے برف کے پگھلنے کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکے اور حال ہی میں سیلاب سے متاثرہ ملک کو مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے بہتر انداز میں ڈھالنے میں مدد کے لیے قبل از وقت وارننگ سسٹم قائم کیا جا سکے۔

    اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی یونائٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) کے نمائندے کنوٹ اوسٹبی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام اگلے 18 مہینوں میں 5000 گلیشیئرزکا نقشہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہےجنوبی ایشیائی ملک دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئرز کا گھر ہے۔

    کنوٹ اوسٹبی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں، ان گلیشئیرز کی میپنگ کا عمل اس لیے بہت جلد مکمل کرنا ضروری ہے کیونکہ تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کی وجہ سے پھاڑوں میں جھیلیں بن گئی ہیں جو کہ مستقبل میں موجودہ خطرناک سیلاب کی طرح نشیبی علاقوں میں دوبارہ کسی بڑے سیلاب کی تباہ کاریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رواں برس آنے والے سیلاب کے نتیجے میں جون سے اب تک 15 سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 10 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ پاکستان کا کم و بیش ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب چکا ہے حالیہ سیلابی تباہی نے دنیا کے آگے موسمیاتی تبدیلیوں کی طاقت اور کسی ملک کی تیاری اور اس سے نمٹنے کی استعداد کو واضح کر دیا ہے۔

    انہوں نے برف سے ڈھکے ہندوکش، ہمالیہ اور کراکرم پہاڑی سلسلوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس لیے اس منصوبے کے ذریعے دنیا میں تھرڈ پول سمجھے جانے والے اس علاقے میں برف پگھلنے کی رفتار میں کمی لانے اور مستقبل میں سیلابی تباہی سے بچنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس حکمت عملیاں طے کی جائیں گی۔

    کنوٹ اوسٹبی کا کہنا تھا کہ ان تینوں پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز دنیا میں موجود مستقل برف کا سب سے بڑا زخیرہ ہونے کے ساتھ نارتھ اور ساؤتھ پول کے علاوہ زمین پر کہیں بھی موجود سب سے بڑا پرما فروسٹ (permafrost) ہیں۔

    کنوٹ اوسٹبی نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار سرفہرست 10 ممالک میں سے پاکستان کو کلائمیٹ فنڈز میں سے 154 ملین ڈالرز مل چکے ہیں، یو این ڈی پی، حکومت کے ساتھ بین الاقوامی ری انشورنس کمپنیوں سے ڈزاسٹر رسک انشورنس پلان کے حوالے سے بھی بات چیت کر رہی ہےاقوام متحدہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے 160 ملین ڈالرز جمع کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی یو این ڈی پی کی جانب سے اس سے قبل رواں برس سیلاب کا شکار ہونے والی خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی 24 وادیوں میں پیشگی انتباہ جاری کرنے کا نظام متعارف کروایا گیا تھا، بلکل ویسے ہی سسٹم کی ملک کے شمالی علاقوں میں موجود 110 وادیوں میں موجودگی ضروری ہے۔