Baaghi TV

Tag: گل پلازہ

  • سانحہ گل پلازہ سے متعلق حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار

    سانحہ گل پلازہ سے متعلق حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار

    کمشنر کراچی نے سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی،کمشنر کراچی گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی رپورٹ وزیر اعلیُ سندھ کو پیش کریں گے-

    رپورٹ کے مطابق سانحہ گل پلازہ کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے، کمشنر کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گےرپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات اور آگ بجھانے سمیت ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں اس کے علاوہ رپورٹ میں متاثرین، عینی شاہدین اور ریسکیو حکام سے حاصل معلومات درج ہیں۔

    ذرائع کے مطابق رپورٹ میں لکھا ہے کہ گراؤنڈ فلور پر موجود بچے کے ہاتھوں فلاور شاپ میں آگ لگی، آگ تیزی سے پھیلی اور ایئرکنڈیشن کے ڈکٹس کی طرف سے پھیلی، آگ لگنے سے 79 اموات ہوئیں، زیادہ تر اموات گل پلازا کے میزنائن فلور پر ہوئیں،گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی،پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا، ڈپٹی کمشنر جنوبی 10:30 پر گل پلازہ پہنچے،زیادہ تر اموات گل پلازہ کے میزنائن فلور پر ہوئیں۔

  • گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں،شرجیل میمن

    گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی تعمیر میں کم از کم 2 سال لگیں گے،گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں-

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد لوگوں کی جانیں بچانا اور تاجروں کی بحالی ہے، وزیراعلیٰ نے سانحے کی انکوائری کا حکم دیا ہے، انکوائری رپورٹ کسی بھی وقت آسکتی ہے، اگر انکوائری رپورٹ اطمینان بخش نہ ہوئی تو فوراً جوڈیشل انکوائری کرائیں گے، رپورٹ میں جسے بھی ذمہ دار نامزد کیا گیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    شرجیل میمن کہ سندھ حکومت گل پلازہ کو دوبارہ تعمیر کرنے جارہی ہے، اس کی تعمیر میں کم از کم 2 سال لگیں گے، گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں، تاجروں کو قریبی پلازوں کی دکانوں میں شفٹ کیا جائے گا کراچی چیمبر حکومت کے ساتھ مل کر مارکیٹ ایسوسی ایشن سے ایس او پیز پر بات کررہی ہے، جن مارکیٹوں میں ایس او پیز مکمل نہیں ہوں گی ان مارکیٹوں کو بند کریں گے۔

  • سانحہ گل پلازہ:ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی

    سانحہ گل پلازہ:ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی

    کراچی:پولیس سرجن کراچی کو ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے رزلٹ موصول ہوگیا جس کے بعد سانحہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی۔

    پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ سید کا کہنا ہے کہ مرنے والے ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کا کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں، سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سےایک پازیٹیو ڈی این اے رزلٹ ملا ہے، ملنے والے ڈی این اے کا کوئی بھی ریفرنس سیمپل جمع نہیں کروایا گیا،اس کا مطلب ایسے بھی لوگ گل پلازہ میں جاں بحق ہوئے جن کا کچھ پتہ نہیں، ممکن ہے ملنے والا ڈی این اے شہر سے باہر کے کسی شخص کا ہو۔

    پولیس سرجن نے کہا ہے کہ پولیس سرجن کراچی آفس میں کل صبح 9 سے شام 5 بجے تک ڈی این اے کے لیے سیمپل جمع کروایا جاسکتا ہے، ڈی این اے سے کوئی پہچان عمر یا جنس نہیں بتائی جاسکتی، وہ لوگ جنہوں نے اپنے سیمپل جمع نہیں کروائے جلد جمع کروادیں۔

  • گل پلازہ میں سرچ آپریشن مکمل، عمارت کو سیل کرنے کا فیصلہ

    گل پلازہ میں سرچ آپریشن مکمل، عمارت کو سیل کرنے کا فیصلہ

    کراچی: گل پلازہ میں لاشوں کی تلاش کے لیے جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل کر لیا گیا عمارت کو آج یعنی 26 جنوری کو سیل کر دیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں جاری سرچ آپریشن مکمل ہونے کے قریب ہے اور کسی کا پیارا لاپتا ہے تو وہ متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکتا ہے اب تک عمارت کے ملبے سے ملنے والی انسانی باقیات کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہو گئی ہے جن میں سے 23 لاشوں کی شناخت ہو چکی، جبکہ 16 کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی گئی،30 لاشوں کا ڈیٹا حکومت کو بھیج دیا گیا ہے جو معاوضے کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا جبکہ شناخت اور جانچ کے عمل کے بعد جلد ورثاء میں چیک تقسیم کیے جائیں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ لاپتا افراد کی فہرست 79 تک پہنچ چکی ہے، تاہم ان میں سے 13 افراد کے لواحقین تاحال ڈی این اے نمونے فراہم کرنے نہیں آئے اور نہ ہی ان کا کوئی رابطہ ہوا ہے اب تک 55 افراد کے لواحقین ڈی این اے جمع کرا چکے ہیں، جبکہ باقی افراد کو پیر تک کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر انہیں فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔

    جاوید نبی کھوسو کے مطابق بعض کیسز میں ایک ہی خاندان کے 3 یا 4 افراد بھی شامل ہیں، جبکہ ابتدائی دن ہی 6 لاشوں کی شناخت کر لی گئی تھی اب تک مجموعی طور پر 23 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہےگل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فرسٹ فلور کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے، جبکہ ایک حصہ تاحال سرچ کے مرحلے میں ہے۔

    دوسری طرف ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے کہا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد بیانات لینے کا سلسلہ جاری ہے اور گل پلازہ کے چوکیداروں اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات حاصل کر لیے گئے ہیں،غفلت اور لاپروائی کے پہلو سامنے لائے جائیں گے گل پلازہ میں حادثے کے وقت موجود 6 سیکیورٹی گارڈز کے بیانات لیے جا چکے ہیں ایک ڈی وی آر بھی ملا ہے جس کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دروازے کیوں بند کیے گئے اور آگ کے بعد کیوں نہیں کھولے گئے، عمارت کے مکمل سیل اور تحقیقات کے بعد واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے گا تاکہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

  • سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    کراچی: سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ نہیں آئی اس لئے مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا،مقدے میں کہا گیا کہ بجلی بند کردی گئی تھی جس سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گل پلازہ کے کئی دروازے بند تھے جس سے صورتحال خراب ہوئی۔

    گل پلازہ واقعے کے مقدمے تاحال کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کاٹنے کے بعد گل پلازہ سیل کر دیا گیا ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ: مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیرمحفوظ قرار

    سانحہ گل پلازہ: مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیرمحفوظ قرار

    سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خاکستر گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کوغیرمحفوظ قرار دے دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کے بعد ہولناک آتشزدگی کے اس سانحے میں شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے،لاشوں کی شناخت محمد شہروز، محمد رضوان اور مریم کے نام سے ہوئی جن کی میتیں اہل خانہ نے وصول کیں، ان کے علاوہ دیگر جاں بحق افراد میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی، تنویر شامل ہیں۔

    واضح رہےکہ سانحے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں، شناخت کے لیے 50 فیملیز کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے موصول ہوچکے ہیں،چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ کے تہہ خانے کے اوپن ایریا کی مکمل تلاشی لے لی گئی ہے تاہم وہاں سے کوئی لاش برآمد نہیں ہوئی، تہہ خانے کا وہ حصہ جو ملبے تلے دبا ہوا ہے، تاحال سرچ کیا جانا باقی ہے، جبکہ عمارت کی دوسری اور تیسری منزل کو کلیئر کردیا گیا ہے۔

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈپٹٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گاپہلے دن سے انفارمیشن ڈیسک قائم کر دی تھی اور تمام سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں مشکل پیش آرہی ہے، اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے تاہم کولنگ بھی کی جا رہی ہے، جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے۔ بلڈنگ پر موجود بھاری سامان اتار لیا گیا ہے، اس وقت مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جا رہا ہے 28 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے 11 شناخت ہو چکی ہیں جبکہ 85 شہری لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں، کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔

    سوشل میڈیا پر ایک غلط کلک یا غیر محتاط پوسٹ جیل پہنچا سکتی ہے،این سی سی آئی اے

    جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ساتھ والے رمپا پلازہ کو سیل کیا گیا ہے، ایس بی سی اے کی رپورٹ کے بعد کہا جا سکے گا کہ رمپا پلازہ خطرناک ہے یا نہیں۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے ہمارے پاس تکنیکی ٹیم موجود ہے جو اس حوالے سے مکمل جانچ کر رہی ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھے ہوئے ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہےایک سوال کے جوان میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والے دو ڈمپر کے حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

    دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ سے متصل عمارت رمپا پلازہ کا ابتدائی معائنہ مکمل کرنے کے بعد اسے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے،حکام کے مطابق گل پلازہ میں تیسرے درجے کی شدید آتشزدگی کے باعث رمپا پلازہ کے ستونوں کو شدید نقصان پہنچا ہےاس صورتحال کے پیش نظر رمپا پلازہ کی انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ پلازہ کے خطرناک حصوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے رمپا پلازہ میں کسی بھی غیرقانونی یا غیر اجازت شدہ سرگرمی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے کہا ہے کہ 3 روز میں کراچی کی تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی آلات نصب کرنا ممکن نہیں،ان کے مطابق اس ضمن میں اس وقت مطلوبہ آلات دستیاب ہی نہیں ہیں۔

    ملک شفیع کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

    منگل کی شام جاری کی گئی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ گئی ہیں،رپورٹ میں جن عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے متعدد عمارتیں 30 سے 35 سال پرانی ہیں، انہوں نے کہا کہ آباد کے اراکین کی جانب سے گزشتہ 15 سے 20 برسوں میں تعمیر کی گئی بیشتر عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات موجود ہیں تاہم اس سے قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کے بلڈرز کو فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کراچی بھر کی عمارتوں میں 3 روز کے اندر فائر سیفٹی سسٹم نصب کرنے کا الٹی میٹم جاری کیا تھ،لاپتا افراد کے لواحقین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اتوار کے دن سے ملبہ اٹھایا جانا شروع کیا گیا، ملبے میں کہیں انسانی باقیات تو نہیں جا رہی، ہمیں شک ہے کہیں ایسا نہ ہو۔

    غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت:بحرین نے بھی امریکی دعوت قبول کر لی

  • گل پلازہ میں 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، ڈپٹی کمشنر  کراچی

    گل پلازہ میں 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، ڈپٹی کمشنر کراچی

    کراچی:ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا-

    گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صبح تیسری اور چوتھی منزل پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا ہے لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی،گل پلازہ میں آگ لگنے کے فوری بعد15 سے 20 منٹ میں ہم نے تین جگہوں سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن آگ میں اتنی شدت تھی کہ کوئی قریب نہیں جا پا رہا تھا ایم اے جناح روڈ سے ریسکیو اہلکاروں نے داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں سے کچھ لوگوں کو ریسکیو بھی کیا جبکہ اس دوران ہمارے ریسکیو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    ڈی سی نے کہا کہ جہاں جہاں سے ہم داخل ہونے کی کوشش کر سکتے تھے وہاں سے داخل ہونے کی کوشش کی گئی، جہاں سے ریسکیو کر سکتے تھے وہاں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کیا،ہمیں شک ہے کہ گل پلازہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے،آگ کی شدت بہت زیادہ اور تیز تھی، اسی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش آیا آگ کی شدت کے باعث ریسکیو اہلکار گل پلازہ میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا، ہم نے 32 مرتبہ عمارت میں جانے کی کوشش کی ہے۔

    سانحہ گل پلازہ :وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ سندھ کو تعزیتی خط

    ڈی سی کا کہنا تھا کہ ہم نے4 پوائنٹ کی نشاندہی کرکے وہاں ہولز بھی بنائے، بندے بھی بھیجے اور کچھ حد تک اندر بھی گئے لیکن آگ کی شدت کی وجہ سے بندے زیادہ اندر نہیں جا سکےبلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہے تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔

    ڈی سی کا کہنا تھا کہ عمارت کے اندر داخل ہوکر سرچنگ کی جائے گی، لاپتا افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں جبکہ بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق ہے، 39 افراد کی لوکیشن گل پلازہ آئی ہے ایس بی سی اے کی ڈی مولش ٹیم ہمارے ساتھ موجود ہے، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمیں کس طرح آپریشن کرنا ہے چھت پر موجود گاڑیاں اتار کر مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، کچھ موٹر سائیکلیں موجود ہیں انہیں بھی اتروا لیا جائے گا۔

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

  • میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

    میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا میں ریسکیو آپریشن کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان کے ورثا کے لیے ایک کروڑ روپے کی مالی معاونت کا اعلان کر دیا۔

    میئر کراچی شہید فائر فائٹر فرقان کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیااس موقع پر میئر کراچی نے کہا کہ شہید فرقان نے بہادری، دلیری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی جان قربان کر کے قومی خدمت کی نئی مثال قائم کی ہے، ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہید فرقان کی بیوہ کو ملازمت فراہم کرے گی جبکہ ان کے بچے کے تمام تعلیمی اخراجات بھی ادارہ برداشت کر ے گا،شہید فرقان کی لازوال خدمات کے اعتراف میں ناظم آباد فائر اسٹیشن کو شہید فرقان کے نام سے منسوب کیا جائے گا، اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ سے متعلق تمام مالی فوائد اور تنخواہیں باقاعدگی سے شہید فرقان کی بیوہ کو ملتی رہیں گی۔

    بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے بہادر فائر فائٹرز کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ان کا بھرپور ساتھ دیتی رہے گی۔ اس موقع پر میونسپل کمشنر کراچی سید محمد افضل زیدی اور دیگر افسران بھی میئر کراچی کے ہمراہ موجود تھے۔

    غیر ملکی سفارتخانوں کا گل پلازہ سانحے پر اظہار افسوس

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    ‎مستونگ میں بڑی کارروائی، کالعدم بی ایل اے کے 5 دہشتگرد ہلاک

  • گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

    کراچی بار کا کہنا ہے کہ کراچی بار گل پلازہ میں پیش آئے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتی ہےاور لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے-

    تفصیلات کے مطابق کراچی بار کا کہنا تھا کہ گل پلازہ محض ایک تجارتی عمارت نہیں تھا بلکہ کراچی کی معاشی اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ تھا گل پلازہ دہائیوں سے ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ روزگار رہا، اس سانحے میں جاںبحق افراد کی درست تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے تاہم تباہی کا حجم نا قابل تردید ہے تقریبا 1200 دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور 20 سے 25 ملین امریکی ڈالر مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیامجموعی نقصان تقریبا 100 ملین امریکی ڈالر کے قریب ہے اصل المیہ انسانی جانوں کا نقصان، روز گار کا خاتمہ اور خاندانوں کا بے چینی اور کرب میں مبتلا ہونا ہے۔

    بار نے کہا کہ یہ سانحہ کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ مسلسل غفلت، کمزور طرز حکمرانی اور انسانی جانوں سے لاپرواہی کا منطقی نتیجہ ہے کراچی بار لواحقین اور تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے سانحہ سے متعلق تمام قانونی کارروائیاں بلا معاوضہ سر انجام دی جائیں گی،سینئر وکلا اور قانونی ماہرین پر مشتمل پروبونو لیگل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے کمیٹی تمام متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کرے گی۔

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    واضح رہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کراچی کے چند ان صف اول کے کاروباری مراکز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ خریداری کے لیے آتے تھے اور یہاں سے تھوک کا کام بھی ہوتا تھا لیکن بد قسمتی سے چند گھنٹوں میں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی

  • گل پلازہ  میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    کراچی: گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آگئیں-

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے تمام اہم دستاویزات میں نقشے کے مطابق جتنی دکانیں بنانے کی اجازت دی گئی اس سے کئی زیادہ دکانیں بنائی گئیں جبکہ خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف ہوا ہے،گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دستاویزات کے مطابق 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی، پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا تھاگل پلازہ کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا تھا گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت دی گئی تھی۔

    ہائی اسپیڈ ٹرین کا ٹکراؤ، 39 ہلاک , 100 سے زائد زخمی

    نقشے کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں، گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں۔ گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں، ممکنہ طور پر جو غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کی گئیں اس کے سبب لوگ پلازہ سے باہر نہیں نکل سکے تاہم اس حوالے سے تحقیقاتی ٹیم ہی حتمی رپورٹ دے سکتی ہے-

    سانحہ گل پلازہ:جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی