Baaghi TV

Tag: گوادر پورٹ

  • گوادر پورٹ کی آپریشنل صلاحیت اور عالمی تجارتی اہمیت میں مزید اضافہ

    گوادر پورٹ کی آپریشنل صلاحیت اور عالمی تجارتی اہمیت میں مزید اضافہ

    گوادر پورٹ کی جدید بندرگاہی سہولیات علاقائی اور عالمی تجارتی ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں –

    گوادر پورٹ نے 53 ہزار 277 میٹرک ٹن سے زائد کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا،چین سے آنے والے بحری جہاز ایم وی بی جیا شان کو کامیابی سے گوادر پورٹ پر لنگر انداز کیا گیا،عمان کی بندرگاہ صحار جانے والے جہاز کو ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کیلئے گوادر پورٹ منتقل کیا گیا، بحری جہاز ایم وی بی جیا شان پر موجود تقریباً20 ہزار669 اسٹیل بلٹس کی کامیاب ہینڈلنگ مکمل کی گئی-

    12.8 میٹر ڈرافٹ کے حامل بڑے بحری جہاز کی محفوظ برتھنگ گوادر پورٹ کی جدید سہولیات اور صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے ایم وی بی جیا شان کی کامیاب ہینڈلنگ گوادر پورٹ پر بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے بڑھتے اعتماد کی عکاس ہےگوادر پورٹ چین، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے-

  • گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

    گوادر پورٹ کے حوالے سے حکومت کا اہم فیصلہ

    وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ کو مکمل آپریشنل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 60 فیصد سرکاری درآمدات اور برآمدات گوادر پورٹ سے کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور قیصر احمد شیخ نے اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل میری ٹائم پالیسی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بحری امور کا شعبہ معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے بحری تجارت کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور دیگر بندرگاہوں پر انتہائی مہارت رکھنے والی ٹیم موجود ہے جو بحری معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ میری ٹائم سیکٹر مستقبل میں پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    وزیر بحری امور نے بتایا کہ گزشتہ سال بحری شعبے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا، لیکن اس سال 100 ارب روپے منافع کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کی قوی امید ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 32 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف چار سال میں 60 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستانی بندرگاہیں اپنی گنجائش سے 50 فیصد کم کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر درآمدات اور برآمدات کا حجم 90 ارب ڈالر ہے تو توقع ہے کہ اگلے چار سالوں میں یہ دگنا ہو جائے گا۔

    قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سنٹرل ایشیائی ممالک میں تجارتی مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی بندرگاہیں نہیں ہیں، اس لیے وہ پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف سنٹرل ایشیائی ممالک کے دورے کر رہے ہیں تاکہ اس حوالے سے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستانی بندرگاہوں پر بڑے بحری جہازوں کے لیے مزید گنجائش پیدا کی جا رہی ہے، اور آئندہ چار کنٹینرز کے بجائے 20 ہزار کنٹینرز کے حامل بحری جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی بحری کمپنیاں اور سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کئی ممالک اپنی جی ڈی پی کا 40 فیصد میری ٹائم سیکٹر سے حاصل کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں جی ڈی پی کا 7 فیصد میری ٹائم صنعت سے وابستہ ہے۔ پاکستان بھی اپنی جی ڈی پی کا 5 فیصد اس شعبے سے حاصل کر سکتا ہے۔قیصراحمد شیخ نے کہا کہ پاکستان میں ماہی گیری کی برآمدات 400 ملین ڈالر ہیں، جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک اس شعبے میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دنیا بھر کی کمپنیاں پاکستان میں ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کورنگی فش ہاربر کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور نئے ایکشن ہالز کی تعمیر پر بھی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ 60 فیصد سرکاری درآمدات اور برآمدات گوادر پورٹ سے ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کے مطابق سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ اسے ایک جدید اور مکمل بندرگاہ میں تبدیل کیا جا سکے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ ورکشاپ میری ٹائم سیکٹر کی ترقی اور کاروباری فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس شعبے کے فروغ کے لیے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز میری ٹائم پالیسی پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام پر یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی بحری صنعت مستقبل میں ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

    سعودی عرب میں رمضان المبارک کاچاند نظر آگیا

    آسٹریلیا افغانستان میچ بارش کے باعث منسوخ

    بنگلہ دیش میں بڑی تبدیلی ،تعلیمی نصاب سےشیخ مجیب ،بھارت کا ذکر غائب

    سندھ حکومت 10 مارچ کو گرین لائن، بی آرٹی کا کنٹرول سنبھالے گی

    پیکا کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن جھوٹ پھیلانیکی سزا ہونی چاہیے،شرجیل میمن

    چیمپئنز ٹرافی میں خراب کارکردگی ،جوز بٹلر کا انگلینڈ ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان

  • گوادر پورٹ پرجدید ترین سیکیورٹی سسٹم لگانے کا فیصلہ

    گوادر پورٹ پرجدید ترین سیکیورٹی سسٹم لگانے کا فیصلہ

    گوادر پورٹ اتھارٹی نے گوادر پورٹ پرجدید ترین سیکیورٹی سسٹم لگانے کا فیصلہ کیا ہے،منصوبے کے تحت گوادر کے لیے حفاظتی اقدامات کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے لگ بھگ 675 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوادر پورٹ اتھارٹی نے شہر کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ بنانے کی غرض سے گوادر پورٹ پر جدید ترین سکیورٹی سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے کمپنیوں سے ٹینڈرز بھی طلب کر لئے گئے ہیں۔

    دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 کیلئےمتبادل ٹریفک روٹ پلان جاری

    پری میٹر سکیورٹی سسٹم گوادر پورٹ ایک بلٹ ان ملٹی پرپز سسٹم ہوگا جو خطرات کا پتہ لگاتا ہے، نگرانی کرتا ہے اور حملے کے نمونوں کا تجزیہ کرتا ہے-

    گوادر پورٹ اتھارٹی نے پیپرا رولز کے مطابق پری میٹرک سکیورٹی سسٹم کی تنصیب کے لئے متعلقہ شعبے میں تجربہ رکھنے والی کمپنیوں سے ٹینڈرز طلب کئے ہیں۔

    عمران خان نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے: امریکی اخبار

    بولی دہندگان یا ان کے نمائندوں کی موجودگی میں 29 نومبر 2022 کو گوادر پورٹ اتھارٹی کے ہیڈ آفس پاک چائنا فرینڈ شپ ایونیو گوادر میں ٹینڈرز کھولے جائیں گے۔

    ٹینڈڑز کی تفصیلات، شرائط اور شرائط پر مشتمل ٹینڈر دستاویزات گوادر پورٹ اتھارٹی کے صدر دفتر گوادر میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کے دفتر اور اتھارٹی کے کیمپ آفس کراچی سے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    اسد عمر کا جھنگ میں پاور شو ناکام ،3 ایم این اے ،6 ایم پی اے 4 ہزار کرسیاں بھی نہ…