Baaghi TV

Tag: گوادر

  • بلوچستان کی خوشحالی اوراسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں :گورنربلوچستان سید ظہورآغآ

    بلوچستان کی خوشحالی اوراسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں :گورنربلوچستان سید ظہورآغآ

    گوادر:بلوچستان کی خوشحالی اوراسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں : گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا ہے کہ صوبے کے ایک آئینی سربراہ کی حیثیت سے ہم نے روز آول سے صوبہ بھر کے حالات واقعات پر کڑی نظر رکھی ہیں. انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کو اجاگر کرنے، باڈر ٹریڈز کو فعال بنانے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ثمرات سے نئی نسل کو مستفید کرانے، مرکز اور صوبوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی شعوری کاوشیں کی جارہی ہیں تاکہ فوری نوعیت کے عوامی مسئلے بروقت حل ہو جائے. اس ضمن میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت تمام وفاقی وزراء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں.

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہم صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے اس سے قبل بھی بلوچستان کے دورے کے موقع پر صوبہ بھر کے سیاسی اور قبائلی عمائدین سے ہماری درخواست پر ملاقات کی اور ان کی مشکلات و شکایات کو براہ راست سنا اور آج ایک دفعہ پھر گوادر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرصدارت بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بارڈر اینڈ ٹریڈ مینجمنٹ کے حوالے سے فالو اپ اجلاس منعقد کیا جو ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے.

    گورنر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بارڈر اینڈ ٹریڈ مینجمنٹ کے حوالے سے فالو اپ اجلاس سے نہ صرف پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد پار تجارت کو تقویت ملے گی بلکہ اس فالو اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں کے پاکستان بالخصوص بلوچستان کی پائیدار معاشی ترقی اور خوشحالی پر بھی تعمیری اثرات مرتب ہوں گے.

    گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم صوبہ میں عوامی مسائل اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کیلئے بھی ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں. ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کے مسائل فوری طور پر حل ہوجائے اور عوامی شکایات کا ازالہ جلد سے جلد ممکن ہو جائے. اس سلسلے میں صوبہ میں کام کرنے والے وفاقی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شکایات کے ازالہ کے حوالے سے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس ہو رہے جن کے معنی خیز نتائج برآمد ہو رہے ہیں .

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے سربراہان کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا کر ہم بآسانی عوامی مشکلات اور شکایات کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور یہی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دیرینہ خواہش اور ویژن ہیں.#*

  • گوادراپنےرہنےوالوں کےپاوں تلےدب گیا:مولانا کا پھردھرنےاورکوسٹل ہائی وے بند کرنےکااعلان

    گوادراپنےرہنےوالوں کےپاوں تلےدب گیا:مولانا کا پھردھرنےاورکوسٹل ہائی وے بند کرنےکااعلان

    گوادر: گوادراپنےرہنےوالوں کےپاوں تلےدب گیا:مولانا کا پھردھرنےاورکوسٹل ہائی وے بند کرنےکااعلان ،اطلاعات کے مطابق حق دوتحریک کےسربراہ مولاناہدایت الرحمان نےکوسٹل ہائی وےکی بندش کا اعلان کر دیا۔

    ایئرپورٹ روڈ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ گزشتہ ماہ حکومت ‏سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا تھا وزیراعلیٰ نے مطالبات پر عمل درآمد کا یقین دلایاتھا لیکن ‏ایک ماہ گزرنے پر ہمارےمطالبات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

    ہدایت الرحمان نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 20 جنوری کو اورماڑہ کوسٹل ‏ہائی وے پر دھرنا دیاجائےگا اور 3 فروری کو مکران کوسٹل ہائی وے بلاک کیا جائےگا۔

    انہوں نے کہا کہ 10فروری کو سربندن کراس پر مکران کوسٹل ہائی وے بند ہو گی جب کہ 27 ‏فروری اوتھل زیرو پوائنٹ پر دھرنا ہو گا اور یکم مارچ کو غیرمعینہ مدت کیلئےدوبارہ گوادر میں ‏دھرنا دیا جائےگا۔

    واضح رہے کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں گوادر دھرنا ایک ماہ سے زائد عرصے جاری رہا جس کا وزیراعظم نے نوٹس لیا اور حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا گیا تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کے مابین ہونے والے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

    یاد رہےکہ گوادر کی عوام اس وقت ایک طرف بنیادی سہولیات سے بہت دور ہیں اور دوسری طرف وہاں کی سیاسی اور مذہبی قیادت عوام کو اپنی سیاسات چمکانے کےلیے بار بار دھرنوں اور احتجاجوں پر مجبور کررہی ہے

  • ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری

    ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری

    راولپنڈی:ہم حاضر:ہم قربان:اے اہل بلوچستان:گوادرمیں پاک فوج کی طرف سے بارشوں اورسیلاب سے متاثرین کی مدد جاری،اطلاعات کے مطابق پاک فوج ، نیوی اور ایف سی کے دستوں کا گوادر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری جبکہ سیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ بھی لگایا جارہا ہے ۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں سے بلوچستان کی ساحلی پٹی شدید بارشوں کی زد میں ہے، پاک فوج ، نیوی اور ایف سی کے دستوں کا گوادر میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ کلانچ اور سردشت میں خصوصی امدادی سرگرمیاں شروع کی جا رہی ہیں ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرین میں خیمے ، کمبل اورراشن ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچائےگئے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے جبکہ پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے پسنی میں امدادی سامان پہنچایاگیا ۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کلانچ، سردشت اور سن سٹار کی وادیوں اور دور دراز دیہات میں ریلیف کی خصوصی کوششیں جاری ہیں، گوادر کے پرانے علاقوں سے بھی پانی نکالنے کا عمل جاری ہے، آرمی ، ایف سی اور پاکستان کوسٹ گارڈ کی طرف سے متاثرین کے لئے میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے ہیں جبکہ گوادر اولڈ ٹاؤن بھی پانی نکالنے کے آپریشن کا مرکز رہا ہے اورمتاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی کو نکالنے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔

    ادھر کمشنرمکران ڈویژن شبیراحمدمینگل نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مکران ڈویژن کے ضلع گوادر اور ضلع کیچ کے بیشتر علاقوں گوادرشہر ،سنٹسر ، پسنی اور ضلع کیچ کےسب تحصیل بلنگورمیں طوفانی بارشوں سے کافی نقصانات ہوئے ہیں اورلوگوں کے گھر زیرآب آگئے تھے جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع گوادراورکیچ کے سب تحصیل بلنگورکو آفت زدہ قراردیاہے،

    انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت اورکسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکران کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے اورضروری اقدامات کرنے کا حکم دے دیا گیاہے ، انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تربت کے ڈپٹی کمشنرنے آج بھی دشت سمیت مختلف علاقوں کا دورہ کرکے امدادی سرگرمیوں اورنقصانات کا جائزہ لیاہے،جبک پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان بھی پہنچ چکے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امداد دینے کے لیے ہمارے پاس سامانوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید امدادی سامان بھی منگوائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ،پی ڈی ایم اے،لیویز،پولیس،پاک فوج،ایف سی ،تحصیل انتظامیہ ،نیوی سمیت تمام ادارے مکران ڈویژن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ضلع کے افسران کی چھٹیاں بھی منسوخ کردیئے ہیں۔انہوں نے کیچ ،گوادرسمیت مکران کے عوام سے اپیل کی کہ کمزور بندات اورندیوں کے پاس کم از کم رات کو نہیں ٹھہریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں ۔اگر کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوا تو اپنے اپنے علاقوں کے انتظامیہ کو فوری طور پر اطلاع دیں تاکہ انہیں ریسکو اور امدادی سرگرمیاں وقت پر پہنچائی جاسکیں ۔

    رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کی حالیہ طوفانی بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے نمنٹے کے لئے پسنی میں ہنگامی اجلاس صدارت کی ۔ جس میں رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ کمشنر مکران شبیر جان مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کیپٹن ر جمیل احمد بلوچ اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ اور دیگر مختلف محکموں کے آفیسران نے شرکت کی ۔

    اسسٹنٹ کمشنر پسنی محمد جان بلوچ نے حالیہ طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں اور اب تک کی پیش رفت سے رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی کو تفصیلی بریفینگ دی ۔ رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

    اس مشکل کی گھڑی میں پسنی کی عوام کے ساتھ ہوں ہم ہر ممکن کوشش اور اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کر سکیں ۔ طوفانی بارشوں سے ہونی والی تباہی اور نقصانات کا جائزہ لے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے گا ۔اس موقع پر انہوں نے پریس کلب پسنی کے سامنے بیھٹے احتجاجی میونسپل کمیٹی پسنی ڈیلی ویجیز ملازمین سے بھی ملاقات کی ۔

    میونسپل کمیٹی پسنی کے ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ آپ کے تنخواہوں اور مستقل ملازمت کے مطالبے کو وزیراعلی بلوچستان اور اسمبلی میں آواز اٹھاؤں گا ۔

    رکن صوبائی اسمبلی میرحمل کلمتی رکن صوبائی اسمبلی ثنا بلوچ کمشنر مکران شبیر احمد مینگل ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ پسنی میں طوفانی بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور جائزہ لیا

  • اعلیٰ سطحی عمانی تجارتی وفد کی وزیر خارجہ سے ملاقات،اہم گفتگو اوراہم مذاکرات

    اعلیٰ سطحی عمانی تجارتی وفد کی وزیر خارجہ سے ملاقات،اہم گفتگو اوراہم مذاکرات

    اسلام آباد: اعلیٰ سطحی عمانی تجارتی وفد کی وزیر خارجہ سے ملاقات،اہم گفتگو اوراہم مذاکرات ،اطلاعات کے مطابق عمان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے چیئرمین انجینئر۔ ردا الصالح نے 25 رکنی وفد کے ہمراہ آج وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق اس موقع پر وفد کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان تعلقات کی مستقل نوعیت پر زور دیا جو مشترکہ ایمان اور تاریخی روابط پر مبنی ہیں۔ جیو اکنامکس، اقتصادی سلامتی اور علاقائی روابط پر پاکستان کی توجہ پر زور دیتے ہوئے، وزیر خارجہ نے بہترین دوطرفہ تعلقات کے مطابق عمان کے ساتھ گہرا اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون قائم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

    انہوں نے پاکستان کے انسانی وسائل کے تعاون کو سراہتے ہوئے اومان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مختلف شعبوں میں ہنر مند افرادی قوت سے استفادہ کرے۔ وزیر خارجہ نے عمانی کاروباریوں اور پاکستانی تارکین وطن کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے منصوبوں اور مشترکہ منصوبوں میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

    وزیر خارجہ نے عمان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مل کر علاقائی ‘اقتصادی راہداری’ کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کی جو عمان کو خشکی میں گھرے وسطی ایشیا اور افغانستان سے منسلک کرے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط عوام سے عوام کے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے لوگوں سے لوگوں کے قریبی روابط کے لیے سیاحتی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    انجینئر ردا الصالح نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے جامع جائزہ اور باہمی دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر خارجہ کو عمان کے ’وژن 2040‘ کے بارے میں بتایا جس میں عمان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔۔ انہوں نے سیاحت، صنعت، کان کنی، صحت اور مواصلات اور نقل و حمل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے اپنے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ پاکستان میں متعلقہ حکام بشمول وزارت خارجہ ان کوششوں میں ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔

    عمان کے تجارتی وفد کے دورے میں‌ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس، پھل اور سبزیاں/ کھانے پینے کی اشیاء، دواسازی، رئیل اسٹیٹ، آلات جراحی، فرنیچر اور فرنشننگ، ماربل، کان کنی اور سیاحت سمیت موجودہ اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت فراہم کرے گا

  • گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی ،پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا

    گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی ،پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا

    گوادر:گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی:پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں‌ جاری:پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے معاشی حب گوادر میں شدید بارشوں اور سیلاب کی ابتر صورت حال پر پاکستان آرمی مقامی انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ہے۔

    پسنی میں بارشوں سے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ضلعی انتظامیہ کی مدد کیلئے پاکستان آرمی اور پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیموں کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، ریسکیو آپریشن کے لئے آرمی ہیلی کاپٹرز کو استعمال کیا جارہا ہے، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے متاثرین میں جلد از جلد بنیادی ضروریات کو فراہم کرنا ہے۔

    اسی تناظر میں پاک فوج نے پسنی ، گوادر کے نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ٹینٹ ،کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں۔

    ادھر بلوچستان کےعلاقےضلع کیچ میں سیلابی بارشیں تباہی مچانے کے بعد تھم گئیں، لیکن معمولات زندگی بحال نہ ہو سکی ،طوفانی بارشوں نے کیچ کے متعد دعلاقوں کو شدید متاثر کیا، متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی علاقوں میں سیلابی ریلا سڑکوں کو بھی بہا لےگیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے, لیویز اور ایف سی کا بھی ریلیف آپریشن جاری ہے، ڈی سی کیچ نےطوفانی بارشوں کے پیش نظربلنگور کو آفت زدہ قرار دے کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی نمبر جاری کردئیے ہیں۔

    پاک فضائیہ کا C-130 طیارہ گوادر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان لے کرپسنی ائیر پورٹ پہنچ گیا۔ پاک فضا ئیہ، حکومت پاکستان کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن سر انجام دے رہی ہے۔ طیارہ 39,860 پاؤنڈ سے زائد امدادی سامان لے کر روانہ ہوا جن میں خوراک، ٹینٹ اور ادویات شامل ہیں۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق حالیہ سیلاب نے گوادر کے نشیبی علاقوں میں بہت تباہی مچائی ہےجس سے دیہات اور انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ نے ہمیشہ فضائی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران عوام کی امداد کے لیے اپنا کردار بھرپور ادا کیا ہے۔

  • بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    گوادر:بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری ،اطلاعات کے مطابق گوادر میں سیلابی صورتحال کے بعد پاک فوج اور نیوی کے دستوں کا ریلیف اور ریسکیو جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق گوادر میں بارشوں سے کامیاب سیلابی صورتحال کے بعد ریلیف اور ریسکیو جاری ہے۔ پاک فوج اور نیوی کے دستے کے علاوہ میں ریسکیو اور ریلیف میاں بیوی میں۔ مقامی افراد کو محفوظ مقام میں منتقلی کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی کے مطابق درست افراد میں پھنسے افراد کو خوراک اور غذائی اشیا کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔

    یاد رہے کہ کل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیو سروس فراہم کی گئی تھیں اور مسلسل فراہم بھی کی جارہی ہیں‌

    کل بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کا امدادی کام جاری ہے، پسنی، جیوانی، سربندر، نگور میں خوراک اور شیلٹرز کی فراہمی بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔

  • پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا

    پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا

    پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے:مولانا ہدایت الرحمان نے ایسے کیوں کہا؟اہم خبرنے سب کوحیران کردیا،اطلاعات کے مطابق گوادر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو صوبہ نہیں کالونی سمجھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، بلوچستان کے شہریوں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والی سوئی گیس پورے ملک میں پہنچی، بلوچستان میں آج بھی لکڑیاں جلا کر کھانا بنایا جاتا ہے، بلوچستان کو صوبہ ہی نہیں سمجھا جا رہا ہے، جو حق کلبھوشن کو دیا گیا ہے، اگر اس کا 50 فیصد بلوچستان کو حق دیں تو مسائل حل ہو جائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پھانسی کا حق صرف عدلیہ کو ہے، بلوچستان میں معدنیات سب سے زیادہ ہے، پوری دنیا کے سونے کا تیسرا بڑا ذخیرہ بلوچستان میں ہے، گوادر کے رہائشی بخار کا علاج بھی کراچی سے کراتے ہیں، ہم بنیادی سہولیات کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو کیا یہ تعصب کی بات ہے، بلوچستان کی سوئی، سونے اور گوادر کے پورٹ پر پہلا حق وہاں کے رہائشیوں کا ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ جب ہم نے دھرنا دیا تو کہا گیا کہ ہم سیپیک کے خلاف ہے، بلوچستان میں سی پیک کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، بلوچستان میں ایک کلو میٹر بھی سی پیک کی سڑک نہیں بنی، کسی ایک چیز کی نشاندہی کر دیں کہ بلوچستان میں سی پیک منصوبے کے تحت ترقیاتی کام ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اعلان کے بعد نہ اسکول ملا، نہ اسپتال ملا، نہ روڈ ملا، نہ بس چیک پوسٹیں ملی ہے، وزیر اعظم جن کو ناراض بلوچ سمجھتے ہیں وہ بیرون ملک بہترین زندگی گزار رہے ہیں، ادھر جو ناراض بلوچ ہیں ان کی فکر کریں۔

    انہوں نے کہا کہ سوا کروڑ بلوچ ناراض ہے، ترقی کون نہیں چاہتا؟ صاف پانی کون نہیں چاہتا؟ تعلیم کون نہیں چاہتا؟ ہمیں ترقی چاہیے لیکن تذلیل برداشت نہیں کر سکتے، کسی کے ماں باپ کو گالی دینا اگر کلچر ہے تو ہمارے لیے بلوچ والدین کو گالی دینا، آگ لگانے کے برابر ہے۔

    مولانا ہدایت الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے دھرنے کو کوریج نہیں ملی کیونکہ کترینہ باجی کی شادی ہو رہی ہے، کترینہ باجی کو شادی کی کوریج ملی، گوادر حق دو تحریک کے دھرنے کو کوریج نہیں ملی، تین ماہ بعد کوئٹہ دھرنا دینے جا رہے ہیں جس میں ہماری ایک ہی بات ہوگی کہ کیا ہمیں پاکستانی سمجھتے ہیں؟

    گوادر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے مزید کہا کہ اگر ہمیں پاکستانی سمجھتے ہیں تو ہم اس زبان میں بات کریں گے، اگر ہمیں پاکستانی نہیں سمجھتے تو اس زبان میں بات کریں گے، کم از کم ہم کلبھوشن سے زیادہ پاکستانی ہے۔

  • گوادر: غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف بڑا ایکشن، 40 گرفتار:پھردھرنے کا امکان

    گوادر: غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف بڑا ایکشن، 40 گرفتار:پھردھرنے کا امکان

    گوادر:گوادر: غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف بڑا ایکشن، 40 گرفتار:پھردھرنے کا امکان ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف آپریشن کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور محکمہ فشریز نے بلوچستان کے سمندری حدود میں غیرقانونی ماہی گیری کے خلاف گرینڈ آپریشن کیا، آپریشن کپڑ، گوادر اور پشوکان میں غیر قانونی ماہی گیری کےخلاف کیا گیا۔

    حکام کے مطابق آپریشن کے دوران ماہی گیروں کی متعدد کشتیوں کی تلاشی لی گئی جبکہ پسنی میں بھی غیر قانونی جال استعمال کرنے پر 3ٹرالرز ضبط اور 40 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں گوادر میں پورٹ روڈ پر ’گوادر کو حق دو‘ تحریک نے جنم لیا تھا، جس کا پہلا مطالبہ بلوچستان کے ساحلوں سے غیر قانونی ماہی گیری کا خاتمہ شامل تھا۔

    ماہی گیروں کا مطالبہ تھا کہ انہیں آزادی کے ساتھ سمندر میں جانے دیا جائے، سمندر میں جانے کے لیے خصوصی ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کیا جائے۔

    جس پر وزیراعظم عمران خان نے گوادر کے ماہی گیروں کے مطالبات کو “انتہائی جائز” قرار دیتے ہوئے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

  • گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے

    گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے

    گوادر :گوادر میں بنیادی سہولیات کی جلد فراہمی:ڈی سی گوادر نے اہم فیصلے کرلیے ،اطلاعات کے مطابق ضلع گوادر میں غیر قانونی فشنگ ٹرالنگ،باڈر ٹریڈ، چیک پوسٹوں کے خاتمہ پانی بجلی گیس کی فراہمی سمیت دیگر امور سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ ڈی ائی جی مکران جاوید جسکانی ڈاٹریکٹر جنرل ماہی گیری طارق الرحمٰن ضلعی افسر پولیس طارق الہیٰ ،ایکسن پلبک ہیلتھ انجینئرنگ شکیل احمد بلوچ ایکسن واپڈا اور سوئی گیس کے محمد عارف بلوچ اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان اور حسین وڈایلیہ سمیت دیگر افسران اور حق دو تحریک کے کارکنوں نے شرکت کی

    اجلاس میں کہا ہے کہ ماہی گیری کے شعبہ سے ہزاروں لوگوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے بلوچستان کے سمندر میں غیر قانونی فشنگ کی کس کو اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ اس پر مکمل طور پابندی عائد کردی گئی مقامی ماہی گیروں کے روز گار اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خاص طور پر غیر قانونی ماہی گیری کا تدارک کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے تحت محکمہ فشزیز نے ایک مختصر مدت میں ابھی تک 8 کشتیاں پکڑلیے جو غیر قانونی طور پر فشنگ کررہے تھے

    اجلاس میں بتایا گیا ہے ساحلی علاقوں میں لوگوں اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی ترقی ، ماہی گیروں کی فلاح و بہبود اور ان کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے غیر قانونی ماہی گیری سے مقامی ماہی گیروں کا روز گار بھی متاثر ہورہا ہے جلاس میں بتایا گیا ہے کہ غیرقانونی قشنگ کی روک تھام کے لئے موثر حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے ۔ اور اس کی روک تھام کیلیے اقدامات اُٹھائیں جارے ہیں اجلاس میں بتایا گیا ھے غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کیلیے حکومت بلوچستان عنقریب اپنا ایک فورس بنائے گی

    ادھر ڈاٹریکٹر جنرل ماہی گیری بلوچستان طارق الرحمٰن بلوچ نے اپنے ایک پریس بریف میں بتایا ھے کہ صوبائی حکومت غیر قانونی فشنگ کے خلاف اقدامات کررہے اور حکومت غیر قانونی فشنگ پر سنجیدہ ہے صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں وفاق اور سندھ حکومت کو بھی غیر قانونی ٹرالرنگ کے معاملے پر آن بورڈ لیا ہوا ہے ضلعی انتظامیہ فشریز اور دوسرے سکورٹی ادرے ٹرالرنگ کے خلاف بھرپور اقدامات کررہے ہیں اچھی پیش رفت ہورہی ہے مستقبل میں مزید بہتری آئیگی اب تک محکمہ فشزیز نے 8 غیرقانونی ٹرالرز کو پکڑا ھے جو محکمہ بڑی حد تک ٹرالرنگ کو روکنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو ستر سالوں میں نہیں ہوا ہم نے کردیکھا ہے انشاءاللہ مستقبل میں غیر قانونی ٹرالرنگ کو زیرو پرسنٹ لائیں گے

  • اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :ڈپٹی کمشنر گوادر

    اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :ڈپٹی کمشنر گوادر

    گوادر:اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ نے کہا ھے کہ طلبا و طالبات کے تعلیمی تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا کسی بھی طلبا و طالبات کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور تمام تصدیقی عمل میرٹ کی بنیاد پر ھونگے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع گوادر سے میڈیکل کالجز کے لیے نامزد امیدوارں کا لوکل سرٹیفکیٹ کی تصدیقی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ھے اجلاس میں لوکل سرٹیفکیٹ کمیٹی کے ممبران میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ راجہ طہر عباس،ضلعی افسر صحت ڈاکٹر موسیٰ بلوچ اے ڈی ایچ ڈاکٹر شاہنواز بلوچ اور ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر عبدالیظف دشتی نے شرکت کی

    اجلاس میں ضلع گوادر کے مقررہ کردہ کوٹہ میڈیکل کالجز کی نشستوں پر مختلف میڈیکل کالجز کے تمام نامزد امیدوارں نے ڈپٹی کمشنر اور بنائی گئی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے لوکل سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرائی اجلاس میں ضلع گوادر کے 18 نامزد امیدوارں کے لوکل سرٹیفکیٹ کی جانچ پڑتال اور تصدیقی عمل کا صاف شفاف طریقے سے جائرہ لیا گیا اس سلسلے میں ضلع گوادر کے میڈیکل کالجز کے نامزد 18امیدوارشامل تھے جن میں چار فیمل امیدوار تھے ان 18 امیدوارں میں سے 15 امیدوار جن میں چار فیمل امیدوار شامل تھے

    ڈپٹی کمشنر گوادر کے سامنے پیش ہوئے اور لوکل سرٹیفکیٹ سمیت اپنے تعلیمی کوائف صدیق کے لیے پیش کیے جبکہ تین امیدوار غیر حاضر رہے جن میں مدید خالد ولد محمد خالد،ماریہ بنت عبدالقادر اور باسط علی ولد شیر محمد کے نام شامل ہیں اجلاس میں بتایا گیا کہ میڈیکل کالجز کے تمام نامزد امیدوارں کے تصدیق عمل انتہائی صاف وشفاف طریقے سے انجام دی جائے گی کس بھی امیدوار کی حق تلفی ہرگز نہیں کی جائے گی جن میداورں پر اعتراضات اور خدشات ظاہر کیے گئے ہیں ان امیدوارں کے کوائف چیک کیے جائیں گے اگر کوئی بھی لوکل سرٹیفکیٹ جعلی نکلا تو اس امیدوار کا لوکل سرٹیفکیٹ منسوخ کرکے اس کے خلاف قانون کاروائی عمل لائی جائے گی