Baaghi TV

Tag: گوادر

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • سرحدوں کے محافظ ۔۔۔ حامد المجيد

    سرحدوں کے محافظ ۔۔۔ حامد المجيد

    سرحد کا محافظ صرف سرحد کا نہیں اپنے وطن کی شان بان اور آن کا محافظ ہوتا ہے وطن کے باسیوں کی عزت و آبرو جان مال کا محافظ ہوتا ہے۔۔
    حفاظت کے اس عظیم فریضہ کو سر انجام دینے میں اس کی راہ میں کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بنتی اس کی نگاہیں گاہے بگاہے کی رنگینیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی منزل پہ منجمد رہتی ہیں۔۔۔
    اس کا حوصلہ کوہ گراں کی طرح مضبوط و توانا ہوتا ہے جسے آگ اگلتا سورج اور سردیوں کی یخ بستہ راتیں بھی کمزور نہیں کرسکتی۔۔۔
    سرحدوں کے محافظ ضروری نہیں کہ سرحد پہ معمور ہوں کچھ گمنام محافظ بھی ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی حب الوطنی ہی ان کی شناخت بنتی ہے اور وطن کی سرحدوں کے طرف بڑھنے والے سبھی ناپاک قدم ان کی نظر میں ہوتے ہیں جنہیں وہ مسل کر رکھ دیتے ہیں ہر اٹھنے والی بری آنکھ کی نظر کو کافور کردیتے ہیں۔۔ ناپاک ارادوں کے بڑے بڑے محلات اپنی عقلمندی سے مسمار کرتے ہیں۔۔۔۔
    ہم جو سکھ کی نیند سوتے ہیں چین کی زندگی گزار رہے ہیں وہ صرف اس وجہ سے کہ ہماری سرحدوں کے محافظ ہر لمحہ ہماری حفاظت کے لیے چوکس ہیں۔۔
    قابل رشک ہیں وہ مائیں جن کے جواں چراغ اس عظیم راہ میں روشن و تابناک ہیں۔۔
    شہادت نامی بیج جس قلب میں بویا جائے وہاں شجاعت و بہادری کا پودا پھوٹتا ہے جس کا پتہ پتہ ڈالی ڈالی صبر و استقامت سے لبریز ہوتا ہے۔۔
    اور ہمارے وطن کے ہر محافظ کے سینے میں یہ پودا پوری آب و تاب سے موجود ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی فوج بھی ہمارے جوانوں کو زیر نہیں کرسکتی۔۔
    ہمارے فوجی جوانوں کا اوڑھنا بچھونا مطلوب شہادت اور رضا خداوندی ہے جو ان کے جذبات کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔۔۔
    کوئی بھی فرد تب تک مضبوط و ثابت قدم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا اپنے خدا پہ یقین کامل نہیں ہو جاتا اور ہماری سرحدوں کے محافظ اسی لیے سب سے منفرد و اعلیٰ ہیں ان کے دلوں میں یقین کامل کے ایسے چراغ روشن ہیں جن کی کرنوں کے سامنے انہیں بس آخرت کی زندگی دکھائی دیتی ہے یہی وجہ ہے وہ شہادت کو بڑے شوق اور ولولے سے اپنے گلے لگاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں ہمارے خون کا پہلا قطرہ ابھی زمین پہ نہیں گرنا اور وہاں ہماری کامیابی کا پروانہ پہلے جاری ہوجانا ہے۔۔
    ہماری سرحدوں کے محافظ ہمہ تن جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور یہ ایسا جذبہ ہے جو انہیں ہر میدان کا فاتح اور سکندر بناتا ہے۔۔
    ہر محب وطن اپنے وطن کا محافظ ہے ضروری نہیں خاکی وردی پہننے والے پہ ہی اپنے وطن کی حفاظت لازم بلکہ خاک سے بنے ہر خاکی پہ لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کرے اور جس طرح سرحدوں کے محافظ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں ویسے ہی وہ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔۔۔
    گنتی کے چند عناصر پسند اور شدت پسند لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے ہر لمحہ اپنے ان جوانوں کے دست بازو بنے رہیں جو اپنی تمام تر خوشیاں ہماری خوشیوں اور وطن کی سرفرازی پہ قربان کررہے ہیں۔۔۔
    جن کی رگوں میں وطن کی محبت خون بن کے گردش کرتی ہے۔۔۔
    جن کی سانسوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی تازگی دیتی ہے۔۔
    جو بغیر کسی لالچ کہ اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی جان تک لٹانے کو تیار ہیں۔۔
    ہم ہم وقت دست بازو ہیں اپنے ان جوانوں کے جو ہمارے وطن کے چمکتے دمکتے ستارے اور اس پاک مٹی کے گوہر نایاب ہے جس کی زرخیزی میں کئی شہیدوں کا لہو شامل ہے۔۔

  • گوادر حملہ، ایک سیکورٹی اہلکار شہید، آپریشن کلیرنس جاری

    گوادر حملہ، ایک سیکورٹی اہلکار شہید، آپریشن کلیرنس جاری

    ‏گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کی عمارت پر حملہ، ایک سیکورٹی اہلکار شہید، مہمانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا. ڈی جی آئی ایس پی آر کے کے پرسنل ٹویٹر اکاؤنٹ کے مطابق آپریشن ابھی جاری ہے، تاہم تمام مہمانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا، حملہ آوروں نے ہوٹل کے مین گیٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر کے انٹری کی تھی جس میں ایک اہلکار کی شہادت ہو گئی. مزید انکا کہنا تھا اطلاعات کیلئے آفیشل سورسز کا انتظار کریں، سوشل میڈیا پر من گھڑت خبریں پھیلانے والے کی معلومات پر یقین نا کریں، ان میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں ہے. درست معلومات کی رسائی کیلئے انتظار کریں.