Baaghi TV

Tag: گورنر اسٹیٹ بینک

  • اسلامی بینکاری معیشت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی،گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلامی بینکاری معیشت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی،گورنر اسٹیٹ بینک

    گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ روایتی بینکاری سے اسلامی بینکاری کی جانب منتقلی ایک اہم پیشرفت ہے جو معیشت کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےگورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ تین سال قبل پاکستان کی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا تھا، تاہم حکومت اور اسٹیٹ بینک کے بروقت اقدامات کے باعث معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے مارچ میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 0.7 فیصد پر آگئی تھی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2022 میں پاکستان پر غیر ملکی قرضہ 100 ارب ڈالر تھا، مگر گزشتہ تین سالوں کے دوران بڑی حد تک قرضہ اتارا گیا ہےہ زرمبادلہ کے استحکام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان نے گولڈن ٹیمپل پر حملہ نہیں کیا، دفتر خارجہ کی بھارتی الزامات کی تردید

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ مارچ 2025 تک اسلامی بینکوں کے مجموعی اثاثے 11,300 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسلامی بینکوں کے ڈپازٹس 8,400 ارب روپے سے زائد ہو چکے ہیں ملک میں اسلامی بینکنگ برانچز کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، اسلامی بینکاری کے نظام کو مزید وسعت دے کر معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کیا جا سکے گا۔

    کراچی: کالعدم بلوچ عسکری تنظیم کا سہولت کار گرفتار

  • آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے،گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مئی 2023ء میں مہنگائی 38 فیصد پر پہنچ چکی تھی، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت پالیسی اختیار کی-

    باغی ٹی وی: سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہواگورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قائمہ کمیٹی کو معاشی صورتِ حال پر بریفنگ دی۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ مئی 2023ء میں مہنگائی 38 فیصد پر پہنچ چکی تھی، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت پالیسی اختیار کی، جون 2022ء میں شرحِ سود 22 فیصد پر پہنچ گئی تھی، جون 2022ء کے بعد مہنگائی کم ہوئی تو شرحِ سود کو کم کیا گیا۔

    وزیراعظم کا انسانی سمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی ضبطگی کا حکم

    گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ آج سے 3 سال قبل گروتھ کا ایکسیلیٹر دبایا گیا تھا، اس کے بعد بیلنس آف پیمنٹ کا دباو بڑھ گیا تھا،جتنا مرضی دباؤ آئے ایکسیلیٹرز نہیں دبائیں گے، گزشتہ 10 ماہ میں ایل سیز نہ کھلنے کی کوئی شکایت نہیں ملی، کسی بھی غیر ملکی کمپنی کو منافع باہر لے جانے سے نہیں روکا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کرنسی پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

    گورنر خیبرپختونخوا کی ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود اور دیگر زخمیوں کی عیادت

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سر پلس رہنے کی توقع ہے، ملکی برآمدات میں 10 سے 12 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، رواں سال ترسیلات زر 35 ارب ڈالرز تک رہنے کا امکان ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 70-75 ڈالرز فی بیرل پر آ چکی ہیں،میڈیم ٹرم مہنگائی 5 سے 7 فیصد تک رہنے کا ہدف ہے، آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی رسک برقرار رہیں گے، ہمارے خیال میں مالی سال کی آخری سہ ماہی میں اتار چڑھاؤ رہے گا۔

    امریکا میں سردی سے اموات میں اضافہ

  • بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ہدایت کی ہے کہ بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں-

    باغی ٹی وی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرسربراہی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے زرعی شعبے میں نمو کی ضرورت پر زور دیا کہا کہ بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں، 2023 میں زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف 97.6 فیصد حاصل کیا، 2024 میں زرعی شعبہ مزید مستحکم ہونے کی امید ہے، 2024 میں زرعی قرضوں کی تقسیم کا ہدف2250 ارب ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ہر بینک کےساتھ رابطہ رکھے گا، بینک زراعت اور دیہی قرضوں کی رسائی بڑھانے کے لیے مائیکرو فنانس اداروں کے ساتھ بھی اشتراک کریں، بینک کسانوں کو کرایہ پر زرعی مشینری اور آلات دینے والے اداروں کو قرضے دینے کی فیزیبلٹی کاجائزہ لیں،اور ماحولیاتی تبدیلی کےخطرات کو کم کرنےکے آلات اور بیمہ اسکیموں پرمتوجہ ہوں اور بین الاقوا می ڈونر ایجنسیو ں سے اشتراک کریں، تمام بینکس زرعی قرضوں کی پروسیسنگ کے لیے پنجاب کا لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جون 2024 تک پوری طرح اپنالیں، دیگر صوبے بھی لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن میں تیزی لائیں تاکہ قرضوں کی فوری پروسیسنگ کے لیے وہ بینکوں کے ساتھ مربوط ہو سکیں۔

    قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک نے اسٹرٹیجک پلان برائے 2023 تا 2028 جاری کیا تھا گورنر جمیل احمد نے کراچی میں منعقدہ تقریب میں اسٹیٹ بینک کا اسٹرٹیجک پلان برائے 2023 تا 2028’’ایس بی پی وژن 2028‘‘ جاری کیا، ’’اسٹیٹ بینک وژن 2028‘‘ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم کے بعد جاری کیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے، اس میں مرکزی بینک کا نصب العین، مشن اور اگلے پانچ سال کے لیے متعین کلیدی اہداف بتائے گئے ہیں، اسٹریٹجک پلان اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ ایک مشاورتی اور جامع عمل کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ ’’اسٹیٹ بینک وژن 2028 ‘‘ اسٹیٹ بینک کے اس عزم کا اظہار ہے کہ قیمتوں کا استحکام اورمالی استحکام حاصل کیا جائے گا اور ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی میں حصہ لیا جائے گا، ’’ایس بی پی وژن 2028‘‘ میں چھ اہم اسٹریٹجک مقاصد کا احاطہ کیا گیا ہے۔

  • پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد: گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی: گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ملک میں پر ہر شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں،پاکستان کو آگے بڑھانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا،غیر ملکی سرمایہ کاری اسی صورت میں آئے گی جب مقامی سرمایہ کار مطمئن ہوگا،سرمایہ کاری کرنے والوں کو سہولت دینگے تو دیگر بھی سرمایہ کاری کریں گے-

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے، سیاسی جماعتوں، تمام سٹیک ہولڈرز اور اداروں کو استحکام کیلئے کام کرنا ہو گا،سرمایہ کاری کیلئےسازگارماحول دینا تمام سٹیک ہولڈرزکی ذمہ داری ہے،سرمایہ کاروں کا ہاتھ پکڑنے کی ضرورت ہے انکے مسائل کے حل کی ضرورت ہے-

    گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ حکومتوں میں طویل مدتی پالیسیوں کا فقدان ہے،پائیدار اور طویل مدتی پالیسی نہ ہونا ملک ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے،دنیا بھر میں دنیا میں 2 ارب لوگوں کو پینےکا صاف پانی میسرنہیں،کوروناکی وبا کے بعدانفراسٹرکچرکے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت بڑھ گئی ہے-

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے 80ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،پاکستان کو انفرسٹرکچر کے منصوبوں کی کمی کا سامنا ہے-

  • جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدہ کی ذمے داریاں سنبھال لیں

    جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدہ کی ذمے داریاں سنبھال لیں

    اسلام آباد: جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدہ کی ذمے داریاں سنبھال لیں۔

    باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے تقررنامہ پر دستخط کے بعد جمیل احمد نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔


    اسٹیٹ بینک کے آفیشل ٹویٹر پر جاری ٹویٹ کے مطابق جمیل احمدکی تقرری صدر مملکت نے اسٹیٹ بینک کے ایکٹ 1956 کے آرٹیکل 11اے(1) کی روشنی میں 5 سال کی مدت کے لیے عمل میں لائی ہے۔

    پی آئی اے کی پرواز میں ایئر ہوسٹس کو ہراساں کرنے کا واقعہ، شکایت پر نہیں ہوئی…

    جمیل احمد کا 30 سال سے زائد مختلف اہم عہدوں پر سٹیٹ بنک آف پاکستان اور سعودی مرکزی بنک میں تجربہ ہے۔جمیل احمد نے 1988میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا، وہ 1994 سے آئی سی ایم اے پاکستان کے فیلو ہیں۔

    جمیل احمد نے بطور ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک بینکوں کی ڈیجیٹلائزیشن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، رضا باقر کی مدت پوری ہونے کے بعد مستقل گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ مئی سے خالی تھا، ڈاکٹر مرتضی سید قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

    26 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھنے والے جمیل احمد ایک ماہر بینکر ہیں، وہ اس سے قبل مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

    مریم اورنگزیب کی صدرلاہور پریس کلب اعظم چوہدری کو دھمکی کی مزمت

    جمیل احمد نے 11 اپریل 2017 سے 15 اکتوبر 2018 تک اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر (بینکنگ اور ایف ایم آر ایم) کے طور پر خدمات سرانجام دی تھیں۔

    بطور ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک تعینات ہونے سے قبل انہوں نے آپریشنز، بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشنز ڈپارٹمنٹ، ڈیولپمنٹ فنانس ڈپارٹمنٹ اور فنانشل ریسورس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ گروپ ہیڈ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

    وہ سعودی عربین مانیٹری ایجنسی (سما) کے لیے بھی کام کر چکے ہیں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے 1988 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا تھا۔

    وہ 1994 سے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے فیلو ممبر، 1993 سے انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز پاکستان کے فیلو ممبر اور 1992 سے فیلو ممبر انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ سیکریٹریز آف پاکستان ہیں۔

    عمران خان کے خلاف ٹویٹ،صحافی وقار ستی کیخلاف مقدمہ درج

  • گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کیلئے نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ارسال

    گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کے لیے 6 نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوا دیئے گئے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کےمطابق وزارت خزانہ نےگورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی کےلیے 6 نام وزیراعظم سیکرٹریٹ کوبھجوائے ہیں وزیرا عظم سیکرٹریٹ کو بھیجے گئے ناموں میں سابق صدر نیشنل بینک ڈاکٹر سعید احمد، عاصم معراج حسین، قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک مرتضیٰ سید، ایم ڈی پنجاب بینک ظفر مسعود کے نام شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک محمد جمیل اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک محمد اشرف خان کا نام بھی گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ منگل کو ہونے والے اجلاس میں کسی گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے ایک نام کی منظوری دے گی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک سابق گورنر کے مطابق کیبنٹ ڈویژن اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے گورنر کی تقرری دو ایک روز میں کابینہ کے ارکان میں سرکولیٹ کرے گی۔

    وزارت خزانہ کی خواہش ہے کہ کسی ماہر اقتصادیات کو گورنر اسٹیٹ بینک لگانا چاہئے تاکہ وہ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کو بخیرو خوبی مکمل کرائے‘ ویسے بھی ملک و قوم کو سنگین اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے-

    جبکہ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر پی ٹی آئی حکومت نے جو ترامیم کی ہیں اُن کے نتیجے میں گورنر اسٹیٹ بینک آل پاورفل بنا دیا گیا ہے اور وہ وفاقی حکومت کا مرہون منت نہیں ہے‘ اپنے تمام فیصلے حکومتی ہدایت کی بجائے آئی ایم ایف کے اصولوں پر کرے گا پی ٹی آئی نے گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے کی معیاد آئی ایم ایف کے کہنے پر تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی ہے۔

  • نئی تعیناتی تک گورنر اسٹیٹ بینک کی ذمہ داریاں کون سنبھالےگا؟ وزیر خزانہ نے نام جاری کر دیا

    نئی تعیناتی تک گورنر اسٹیٹ بینک کی ذمہ داریاں کون سنبھالےگا؟ وزیر خزانہ نے نام جاری کر دیا

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مرتضیٰ سید گورنر اسٹیٹ بینک کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی مدت ملازمت ختم ہو گئی ہے نئی تعیناتی تک ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضیٰ سید عہدہ سنبھالیں گے –

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈاکٹر مرتضیٰ سید آئی ایم ایف کا بھرپور تجربہ رکھتے ہیں-

    حکومت کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اس حوالے سے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کے گورنر کی حیثیت سے مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی اور وہ آج عہدہ چھوڑ دیں گے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے لکھا تھا کہ بدھ سے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی تین سالہ معیاد ختم ہو رہی ہے ، ان کی پاکستان کے لیے خدمات کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، میں نے ان سے بات کی ہے اور انہیں حکومت کے فیصلے کے بارے میں بتایا ہے۔

    وزیر خزانہ نے رضا باقر کے بارے لکھا تھا کہ وہ ایک غیر معمولی قابل آدمی ہے اور ہم نے اپنے مختصر وقت میں ساتھ کام کیا، ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

    عہدوں کا فائدہ تب ہوتا ہے جب ساتھ عزت بھی ملے،پرویز الٰہی

    خیال رہے کہ مئی 2019ء میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سابق عہدیدار رضا باقر نے بطور گورنر اسٹیٹ بینک ذمہ داریاں سنبھالی تھیں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے گزشتہ روز رضا باقر کو تین سال کی مدت کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

    اس سے قبل ہارورڈ اور بیکرلے یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر رضا باقر 2000ء سے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک تھے اور ابھی بطور سینیئر ریزیڈنٹ ریپریسینٹیٹو مصر میں خدمات انجام دے رہے تھے اس کے علاوہ ڈاکٹر رضا باقر آئی ایم ایف مشن رومانیہ اور عالمی مالیاتی ادارے کے ڈیپٹ پالیسی ڈویژن کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نجی دورے پر قطر روانہ

  • گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کون کونسی مراعات لے رہے ہیں؟بڑے حیران کن انکشافات آگئے

    گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کون کونسی مراعات لے رہے ہیں؟بڑے حیران کن انکشافات آگئے

    اسلام آباد :گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کون کونسی مراعات لے رہے ہیں؟بڑے حیران کن انکشافات آگئے،اطلاعات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی ماہانہ تنخواہ کتنی ہےاور انہیں کون کونسی سہولیات اور مراعات ملتی ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کے سینٹرعرفان صدیقی نے ایوان بالا میں گورنر اسٹیٹ بینک کو ملنے والی تنخواہ کی تفصیلات پر سوال کیا تھا، اور پوچھا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آئی ایم ایف میں کتنے عرصہ کیلئے ملازم رہے، پاکستان میں بطور گورنر اسٹیٹ بینک ملنے والی تنخواہ اور مراعات کتنی ہیں۔

    جس پر وزارت خزانہ کی جانب سے دستاویزات فراہم کی گئیں جس کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی تنخواہ ماہانہ 25 لاکھ روپے تنخواہ ہے جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

    تنخواہ کے علاوہ گورنر اسٹیٹ بنک کو ملنے والی مراعات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں جس کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو فرنشڈ گھر یا اس کے برابر کرایہ اور مینٹیننس کی سہولیات فراہم دی جاتی ہیں۔

     

     

     

     

    وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بنک کو دو گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں اور انہیں 600 لیٹر پیٹرول دیا جاتا ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بنک کو ڈرائیور کی بھی سہولت حاصل ہے۔

    علاوہ ازیں گورنر اسٹیٹ بینک کو بجلی، گیس، پانی اور جنریٹر کے اخراجات بھی حکومت بھی ذمہ داری ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک کو مفت لینڈ لائن، موبائل فونز اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے۔

    دستاویزات کے مطابق ان کے بچوں کی 75 فیصد فیس ادا کی جاتی ہے جبکہ گورنر اوراسکی فیملی کو مکمل علاج معالجے کی بھی سہولیات حاصل ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک 4 ملازمین رکھ سکتے ہیں اور ہر ملازم کی تنخواہ 18 ہزار روپے ماہانہ ہے، انہیں 24 گھنٹے سکیورٹی اور سکیورٹی گارڈز کی سہولت حاصل ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بنک کی گریجویٹی ایک ماہ کی تنخواہ سالانہ ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کو ہر ماہ تین دن چھٹی کی سہولت حاصل ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کو کلب کی ماہانہ چارجز سمیت سہولت حاصل ہے۔