Baaghi TV

Tag: گورنر

  • گورنرپنجاب نےآرڈیننس جاری کرکےنہایت غیرقانونی کام کیا ہے:چوہدری پرویز الٰہی

    گورنرپنجاب نےآرڈیننس جاری کرکےنہایت غیرقانونی کام کیا ہے:چوہدری پرویز الٰہی

    لاہور:اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب نے آرڈیننس جاری کر کے نہایت غیر قانونی کام کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی سے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی ملاقات ہوئی جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال سمیت پنجاب میں آئینی بحران کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوا۔

    اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے آرڈیننس جاری کر کے نہایت غیر قانونی کام کیا ہے، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے سب سے بڑے جمہوری ادارے پنجاب اسمبلی کو نقصان پہنچایا، گورنر کے ذریعے پنجاب اسمبلی کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے علاوہ کسی اور جگہ اجلاس بلانے کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں جیسے مہمانوں کی گیلری میں الیکشن کی کوئی حیثیت نہیں، اسمبلی سے باہر غیر آئینی اجلاس سیکرٹری پنجاب اسمبلی اور سٹاف کے بغیر اجلاس طلب کر کے غیر قانونی کام کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کے مطابق اسپیکر کا طلب کردہ اجلاس اسپیکر ہی ختم کر سکتا ہے، کسی اور کے پاس اسپیکر کے طلب کردہ اجلاس کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے، اسپیکر کے ہوتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر کے پاس اجلاس کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
    پنجاب میں سیاسی اور آئینی بحران تیزسے تیز تر ہورہا ہے ادھر آج گورنرپنجاب نے ایوان اقبال میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا،اطلاعات کے مطابق گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ایوان اقبال میں ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق ایوانِ اقبال میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کیلئے گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں، بجٹ اجلاس میں آج دوسرے روز بجٹ پر بحث ہوگی، اپوزیشن اور ق لیگ نے ایوانِ اقبال میں طلب اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا۔اجلاس کی صدارت ڈپٹی دوست محمد مزاری کریں گے، ایوانِ اقبال میں پولیس نے سیکیورٹی محاز سنبھال لیا، حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہونے پر گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایوانِ اقبال میں طلب کیا۔

    گورنر پنجاب نے ایوان اقبال کو اسمبلی قرار دے رکھا ہے، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس پیر کو ہوگا، اپوزیشن کے ایوانِ اقبال میں بائیکاٹ کے باعث بجٹ پر کٹوتی کی تحریک پیش نہیں کر سکیں گے۔

  • گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی :ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

    گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی :ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

    اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی کے معاملے میں وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری کی انٹرا کورٹ اپیل پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو 27 جون تک تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنرگلگت بلتستان کا عہدہ 19 اپریل سے خالی ہے۔ گورنرکا عہدہ خالی رہنا خلاف آئین ہے۔

    ہم بتاتے ہیں کہ رانا شمیم کیا چیز ہےاوراس کے کارہائے نمایاں کیا ہیں:گلگت بلتستان…

    عدالت نے سیکریٹری کابینہ، سیکریٹری وزارت کشمیر افئیرز کو بھی نوٹس جاری کردیے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے نوٹس جاری کیے۔

    عدالت نے کیس میں ریمارکس دیے کہ سنگل بنچ نے گورنرگلگت کی تعیناتی کی درخواست آبزرویشن کے ساتھ نمٹائی۔ سنگل بنچ نے کہا توقع ہے صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر تعیناتی کریں گے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو انٹراکورٹ اپیل میں بتایا گیا ابھی تک پراسیس شروع نہیں ہوا۔

    لانگ مارچ،وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سمیت پی ٹی آئی کارکنان پر مزید مقدمے درج

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں محمد خان نامی درخواست گزار نے گورنر گلگت بلتستان کی تعیناتی کیلئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔اورعدالت سے نوٹس لینےکی درخواست بھی کی تھی

    یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان کے بعد گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہےتھا

    گلگت بلتستان سی پیک کا دروازہ:وفاق کی طرف سےبجٹ میں50فیصدکٹوتی کی گئی:وزیراعلیٰ…

    خیال رہے کہ گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے 30 ستمبر 2018 کو حلف لیا تھا۔

    راجہ جلال حسین مقپون کا بطور گورنر گلگت بلتستان تعیناتی کی مدت 3 سال 6 ماہ کا عرصہ ہوا ہے، وہ چیئرمین تحریک انصاف، سابق وزیر اعظم عمران خان کے نظریاتی اور وفادار ساتھیوں میں شامل ہیں، انہوں نے گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی مضبوطی اور حکومت سازی میں مرکزی کردار کیا۔

  • گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

    گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

    لاہور: پنجاب میں جہاں انتظامی بحران ہے وہاں آئینی بحران بھی اپنے عروج پر ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ پنجاب پچھلے دوماہ سے چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہا ہے ، ادھرتازہ آئینی بحران میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کی جانب سے جاری کیے گئے تین آرڈیننس کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ملک میں مسائل کا الیکشن کے علاوہ کوئی اور حل نہیں،شاہ محمود قریشی

    بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے جاری کئے گئے آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا ہے۔جس کے لیے ماہرین قانون کی ٹیمیں اس کیس کا جائزہ لے رہی ہیں

    صوبہ پنجاب میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا، آئینی و قانونی ماہرین کا وزیراعلیٰ…

    یہ آرڈیننس جوجاری کیا گیااس میں گورنر بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ختم کرنے کے لیے سیکرٹری قانون کولکھا۔ سیکریٹری قانون کو سیکرٹری اسمبلی کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔اجلاس طلبی کے بعد سیکریٹری قانون کو اسمبلی سیکرٹری کے اختیارات دیے۔ گورنر کسی آرڈیننس کے ذریعے اسپیکر کے اختیارات ختم نہیں کر سکتے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے اختیارات میں صرف اسمبلی ہی کمی بیشی کر سکتی ہے، اسمبلی اجلاس طلبی کے بعد آرڈیننس جاری کرنا غیر آئینی ہے۔دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ کیس بڑی اہمیت کا حامل ہے اوراگرسپریم کورٹ اس کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے آرڈیننس کو غیرقانونی قراردیتی ہےتوپھرپنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کونقصان پہنچ سکتا ہے

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

  • صوبہ پنجاب کے نامزد گورنر بلیغ الرحمان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    صوبہ پنجاب کے نامزد گورنر بلیغ الرحمان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    لاہور: صوبہ پنجاب کے نامزد گورنر بلیغ الرحمان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے تقرری سے متعلق نوٹی فکیشن پڑھ کر سنایا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق حلف برداری تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی شریک ہوئےاس کے علاوہ پارلیمنٹیرینز،لاہور ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے بھی تقریب میں شرکت کی بلیغ الرحمان سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد امیر بھٹی نے حلف لیا۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے بلیغ الرحمان کو گورنر پنجاب کا حلف اٹھانے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ بلیغ الرحمن گورنرپنجاب کے منصب کو عوامی فلاح کیلئے استعمال کریں گے-

    انہوں نے کہا کہ آج آئین اور قانون کی بالادستی ہوئی ہے، آئین سے کھلواڑ کرنے والوں نے نا صرف وزیراعلیٰ بلکہ گورنر کے حلف میں بھی رکاوٹیں ڈالیں ہم مل کر صوبے کے عوام کی خدمت کریں گے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلیغ الرحمٰن کی بطور گورنر پنجاب تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ صدر مملکت نے یہ منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 101 (1) کے تحت دی تھی۔

    واضح رہے کہ 7 مئی کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بلیغ الرحمن کا نام گورنر پنجاب منصب کے لیے صدر مملکت کو ارسال کیا گیا تھا لیکن انہوں نے وزیراعظم کی ارسال کی گئی سمری کو مسترد کر دیا تھا –

    سمری مسترد کرنے وقت صدر مملکت نے مؤقف اپنایا تھا کہ عمر سرفراز چیمہ اب بھی گورنر پنجاب کے عہدے پر فائز ہیں، نئی تقرری کا کوئی جواز نہیں ہے۔

  • صدر اور گورنرعمران نیازی کی ذاتی غلامی سے نکلیں، تاریخ کو داغدار نہ کریں،حمزہ شہباز

    صدر اور گورنرعمران نیازی کی ذاتی غلامی سے نکلیں، تاریخ کو داغدار نہ کریں،حمزہ شہباز

    نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان عارف علوی اور گورنر پنجاب ہوش کے ناخن لیں اور عمران نیازی کی ذاتی غلامی سے نکلیں-

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ صدر پاکستان عارف علوی اور گورنر پنجاب کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے،آئین بڑا اور انا چھوٹی ہے،آئین کے تحت کام کریں صدر اور گورنر عمران نیازی کی ذاتی غلامی سے نکلیں-

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے کل تک گورنر خود یا کسی نمائندے کے ذریعے حلف لیں، لاہور ہائی کورٹ

    نو منتخب وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گورنر اور صدر تاریخ کو داغدار نہ کریں میرا حلف نہ لینے کا ایک ہی آدمی ذمہ دار ہے جس نے آئین توڑ ہے عمران نیازی اداروں پر چڑھ دوڑنے کی بات کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے انتخاب کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

    حمزہ شہباز کی جانب سے معاملہ لاہور ہائیکورٹ میں لے جانے پر عدالت نے صدر پاکستان کو حلف لینے کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کا حکم دیا تھا تاہم صدر کی جانب سے کوئی نمائندہ مقرر نہ کرنے پر حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا ہے حمزہ شہباز کی درخواست پر یف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے محفوظ فیصلہ آج سنایا –

    عدالت نے حکم دیا کہ گونر پنجاب 28 اپریل تک حلف کروائیں گورنر پنجاب کو فوری بھیجا جائے، آئین کے تحت صدر اور گورنر پنجاب اپنے حلف کی پاسداری کے پابند ہیں اس وقت عثمان بزدار وزیر اعلی ٰکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں-

    جسٹس امیر بھٹی نے مختصر فیصلے میں کہا کہ 25 دن سے صوبے میں حکومت موجود نہیں، حلف میں تاخیر آئین کے خلاف ہے،گورنر پنجاب پابند ہیں کہ وہ قانون کے مطابق حلف لیں، کل تک گورنر پنجاب وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں،گورنر پنجاب حلف نہیں لیتے تو کسی اور کو نامزد کریں، ہائیکورٹ آفس آج ہی فیصلہ صدر اور گورنر کو بھیجے۔

    بلاول بھٹو شہبازشریف کی کابینہ کا حصہ: سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں فیصلہ

  • وزیر اعلیٰ پنجاب سے کل تک گورنر خود یا کسی نمائندے کے ذریعے حلف لیں، لاہور ہائی کورٹ

    وزیر اعلیٰ پنجاب سے کل تک گورنر خود یا کسی نمائندے کے ذریعے حلف لیں، لاہور ہائی کورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازکی درخواست پرمحفوظ فیصلہ سنادیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازکی درخواست نمٹادی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا کیس کا مختصر فیصلہ سنایا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ گونر پنجاب 28 اپریل تک حلف کروائیں گورنر پنجاب کو فوری بھیجا جائے، آئین کے تحت صدر اور گورنر پنجاب اپنے حلف کی پاسداری کے پابند ہیں اس وقت عثمان بزدار وزیر اعلی ٰکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں-

    جسٹس امیر بھٹی نے مختصر فیصلے میں کہا کہ 25 دن سے صوبے میں حکومت موجود نہیں، حلف میں تاخیر آئین کے خلاف ہے،گورنر پنجاب پابند ہیں کہ وہ قانون کے مطابق حلف لیں، کل تک گورنر پنجاب وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں،گورنر پنجاب حلف نہیں لیتے تو کسی اور کو نامزد کریں، ہائیکورٹ آفس آج ہی فیصلہ صدر اور گورنر کو بھیجے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے ریمارکس دیئے تھے کہ صدر مملکت سو رہے تھے، عدالت نے اپنے فیصلے سے انہیں جگایا عدالت نے صدر کو یاد کرایا کہ آپ ریاست کے سربراہ ہیں، شاید انہیں سمجھ نہیں آئی، عدالت کو یہ بتا دیں کہ کیا صدر اسے حل کر رہے ہیں؟ صدر کو احساس نہیں ہوسکا کہ صوبے کا کیا کرنا ہے، تو کوئی فیصلہ کر کے بھیج دیتے ہیں۔

    خیال رہے کہ حمزہ شہباز شریف نے عدالتی حکم کے باوجود حلف نہ لینے کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

  • ای ایف پی کا  شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

    ای ایف پی کا شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ
    شرح سود میں ڈھائی فیصد، ایکسپورٹ فنانسنگ کی شرح سود میں ڈھائی فیصد اضافہ معیشت کو تباہ کردے گا،اسماعیل ستار
    سنگین سیاسی بحران کی موجودگی میں کاروباری لاگت میں اضافے سے گریز کیا جائے، صدر ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان

    ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ڈھائی فیصد اضافے اور ایکسپورٹ ری فنانس کی شرح بھی ڈھائی فیصد بڑھانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو ملکی معیشت، تجارت اورصنعت کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا ہے اورگورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدامات سے گریز کریں جو معاشی لحاظ سے ملک کے لیے شدید نقصانات کا باعث ہو۔

    اسماعیل ستار نے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں جاری سنگین سیاسی بحران کی موجودگی میں شرح سود 12.25فیصد کی بلند سطح پر پہنچے سے تاجر برادری الجھن کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ ان اقدامات کے نتیجے میں کاروباری لاگت میں نہ صرف بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ مہنگائی کا طوفان آجائے گا جس کو سنبھالنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے مرکزی بینک کے دعوے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ شرح سود میں یہ اضافہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ بڑھتی ہوئی ملکی سیاسی بے یقینی صورتحال کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ ملک میں شرح سود میں اضافے کے اچانک اور غیر مستحکم فیصلے کی وجہ سے پاکستان 2022 کے آغاز سے خطے کے سب سے زیادہ مہنگائی والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھوٹان جیسے ملکوں میں شرح سود اب بھی 4 فیصد سے 7.16 فیصد کے درمیان ہے۔ اس کے باوجود پاکستان جیسا ملک جو سماجی و اقتصادی عدم استحکام کا شکار ہے مگر پھر بھی استحکام کے نام پر غیردانشمندانہ فیصلوں پر اکتفا کیاجارہا ہے۔

    ان کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے فیصلے نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت ایکسپورٹ فنانسنگ کے لیے شرح سود میں بھی 2.5 فیصد اضافہ کیا ہے جس کا اعلان حال ہی میں ہونے والے ایم پی سی اجلاس کے دوران پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اگر اس طرح کے اقدامات برقرار رہے تو پاکستان کی تاجر برادری کو برآمدات کے حوالے سے ایک بڑا دھچکا لگے گا کیونکہ معیشت مخالف فیصلے درحقیقت پاکستان کو عالمی مارکیٹوں میں مصنوعات کی قیمتوں کی دوڑ سے باہر کردے گا۔

    صدر ای ایف پی نے مزید کہا کہ ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کا موجود معاشی اسٹرکچر کا تجزیہ اس یقین کی پاسداری کرتا ہے کہ پاکستان کا معاشی اسٹرکچر درحقیقت لاگت کو بڑھانے والا افراط زر کا نظام ہے جہاں شرح سود میں اضافہ قیمتوں میں زبردست اضافہ کا سبب بنے گا۔ گزشتہ چند دہائیوں کے تاریخی رجحانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ شرح سود میں اضافے نے پاکستان کی معیشت کو بار بار بری طرح متاثر کیا۔انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور شرح سود میں اضافے کا روایتی نظام پاکستان میں معاشی اسٹرکچر کے خاتمے کا باعث بن رہا ہے۔ اگر مقررہ وقت پر کوئی اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اسماعیل ستار نے کہا کہ کہ ابتر معاشی اسٹرکچر کے باعث کاروباری لاگت میں اضافے، افراط زر کے مسئلے سے سخت انتظامی یا مالیاتی پالیسیوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اہم اداروں پر غور و فکر اور تجزیہ یقیناً پائیدار نظام کے قیام میں بہت اہم کردار ادا کرے گا جس سے خطے میں تاجر برادری کا اعتماد بڑھے

    گا

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

  • گورنرخیبرپختونخوا نے 8 شخصیات کو یوم پاکستان پر صدارتی سول اعزازات سے نوازا

    گورنرخیبرپختونخوا نے 8 شخصیات کو یوم پاکستان پر صدارتی سول اعزازات سے نوازا

    پشاور: گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے یوم پاکستان پر صوبے کی 8 شخصیات کو اپنے متعلقہ شعبوں میں مثالی خدمات سرانجام دینے پر صدارتی سول اعزازت سے نوازا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یوم پاکستان کے موقع پر گورنر ہاؤس پشاور میں تقسیم اعزازات کی پروقار تقریب ہوئی۔ تقریب میں گورنر شاہ فرمان نے صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کی جانب سے خیبرپختونخوا کی 8 شخصیات کو صدارتی سول اعزازت دیئے گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنرشاہ فرمان نے سید ممتازعلی شاہ کو فن و ڈرامہ اور اداکاری میں گراں قدر خدمات پر صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا جبکہ شوکت محمود کو موسیقی و گلوکاری کی وجہ سے صدارتی ایوارڈ سے نوازا اورمحترمہ قمرو جان کو فن اور لوک گلوکاری کے شعبہ میں غیرمعمولی خدمات پرصدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔

    گورنرشاہ فرمان نے طاہر آفریدی(مرحوم) کو ادب کے شعبہ میں غیر معمولی خدمات پر صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی(بعد از وفات) سے نوازا ان کا ایوارڈ ان کے بھانجے محمد عمر خان نے وصول کیا۔

    سلیم صافی اور شہباز گل کے درمیان سخت ’ الفاظ‘ کا تبادلہ

    شہزادہ سکندر الملک کو شعبہ پولو اور کھیل میں غیر معمولی خدمات پر صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی، پروفیسر ڈاکٹرعثمان حسن کو شعبہ تعلیم و انجینئرنگ، لعل محمد اعوان کو فن و اداکاری اوراعجاز سرحدی کو فن، سازندہ سازی کے شعبہ میں غیرمعمولی کارکردگی پر صدارتی ایوارڈ تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد تقریب میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر محمود جان کے علاوہ مختلف محکموں کے انتظامی سربراہان سمیت صدارتی اعزازات حاصل کرنیوالوں کے اہلخانہ نے شرکت کی۔

    اس موقع پرگورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان نے صدارتی سول اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات کو مبارکبادپیش کی۔

    عدم اعتماد کی تحریک میں ملک کا نقصان نہیں ہو گا،مراد علی شاہ

  • خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    خاموش رہنے پر صدر یا نائب صدر بننے کی پیش کش کی گئی تھی:سابق گورنر کا انکشاف

    نئی دلی:
    بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے جو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گورنر بھی رہ چکے ہیں کہاہے کہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر تنقید نہ کریں کیونکہ اگر وہ خاموش رہیں تو انہیں ملک کا صدر یا نائب صدر بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ انہیں ان عہدوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔

    ستیہ پال ملک نے یہ انکشاف جنڈ کے گائوں کنڈیلا میں کنڈیلا کھاپ اور ماجرا کھاپ کے زیر اہتمام کسان سمان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین سمیت متعدد معاملات پر بی جے پی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے رہے ہیں ۔ جنوری میں ستیہ پال ملک نے دعویٰ کیاتھا کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے معاملے پر وزیرا عظم سے ملنے گئے تھے ۔

    تاہم انہوں نے کہاکہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ پی ایم مودی نے انہیں کیا جواب دیا، لیکن یہ بہت تکلیف دہ ملاقات تھی اور مودی نے اس موقع پر ان سے لڑائی کی ۔ تاہم انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں آخر تک بات کریں گے ۔ستیہ پال نے کہاکہ ان کے دوستوں نے انہیں مشورہ دیاتھا کہ اگر آپ خاموش رہیں تو انہیں صدر یا نائب صدر بنایاجا سکتاہے۔

    تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ان عہدوں کو لات مارتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس سارے واقعے سے ناراض ہوکر انہوں نے گورنر کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اورکسانوں کی تحریک میں حصہ لینے کا سوچا۔ وہ بھارتی حکومت کے ایک وزیر کے پاس یہ بتانے کیلئے بھی گیا کہ وہ استعفی دے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے ان سے کہا کہ وہ یہ غلطی نہ کریں، کسانوں کے لیے بولیں، ان کے لیے لڑیں، دھرنے پر بیٹھیں لیکن تب تک استعفیٰ نہ دیں جب ان سے اس بارے میں کہاجائے۔

    ستیہ پال ملک نے کسانوں پرنئی دلی میں حکومت کی تبدیلی کیلئے متحدہونے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ اب سڑکوں پر بیٹھنا اور دھرنا دینا بند کریں۔ اپنی حکومت بنائیں، حکومت بدلیں، کسی سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ 2سال بعد لوک سبھا کے انتخابات ہیں۔ اگر کسان متحد ہو کر ووٹ دیں گے تو یہ سارے لیڈر دہلی سے بھاگ جائیں گے اور وہاں کسانوں کی حکومت ہوگی۔

  • بلوچستان کی خوشحالی اوراسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں :گورنربلوچستان سید ظہورآغآ

    بلوچستان کی خوشحالی اوراسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں :گورنربلوچستان سید ظہورآغآ

    گوادر:بلوچستان کی خوشحالی اوراسے امن کا گہوارہ بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں : گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا ہے کہ صوبے کے ایک آئینی سربراہ کی حیثیت سے ہم نے روز آول سے صوبہ بھر کے حالات واقعات پر کڑی نظر رکھی ہیں. انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں کو اجاگر کرنے، باڈر ٹریڈز کو فعال بنانے، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ثمرات سے نئی نسل کو مستفید کرانے، مرکز اور صوبوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی شعوری کاوشیں کی جارہی ہیں تاکہ فوری نوعیت کے عوامی مسئلے بروقت حل ہو جائے. اس ضمن میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سمیت تمام وفاقی وزراء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں.

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہم صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا خصوصی طور پر شکر گزار ہیں جنہوں نے اس سے قبل بھی بلوچستان کے دورے کے موقع پر صوبہ بھر کے سیاسی اور قبائلی عمائدین سے ہماری درخواست پر ملاقات کی اور ان کی مشکلات و شکایات کو براہ راست سنا اور آج ایک دفعہ پھر گوادر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرصدارت بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بارڈر اینڈ ٹریڈ مینجمنٹ کے حوالے سے فالو اپ اجلاس منعقد کیا جو ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے.

    گورنر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بارڈر اینڈ ٹریڈ مینجمنٹ کے حوالے سے فالو اپ اجلاس سے نہ صرف پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد پار تجارت کو تقویت ملے گی بلکہ اس فالو اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں کے پاکستان بالخصوص بلوچستان کی پائیدار معاشی ترقی اور خوشحالی پر بھی تعمیری اثرات مرتب ہوں گے.

    گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم صوبہ میں عوامی مسائل اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کیلئے بھی ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں. ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کے مسائل فوری طور پر حل ہوجائے اور عوامی شکایات کا ازالہ جلد سے جلد ممکن ہو جائے. اس سلسلے میں صوبہ میں کام کرنے والے وفاقی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شکایات کے ازالہ کے حوالے سے باقاعدگی سے جائزہ اجلاس ہو رہے جن کے معنی خیز نتائج برآمد ہو رہے ہیں .

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے سربراہان کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا کر ہم بآسانی عوامی مشکلات اور شکایات کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور یہی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی دیرینہ خواہش اور ویژن ہیں.#*