Baaghi TV

Tag: گوشت

  • عیدالاضحیٰ  پر کون کون  مزیدار پکوان کیے جا سکتے ہے؟

    عیدالاضحیٰ پر کون کون مزیدار پکوان کیے جا سکتے ہے؟

    عید الاضحیٰ کے موقع پر گوشت کے پکوان دسترخوان کی شان بنتے ہیں۔خواتین عید الاضحیٰ پر پکوان بنانے میں مصروف رہتی ہیں اور مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ چاہے قربانی گائے کی ہو یا بکرے کی، دنبے کی ہو یا اُونٹ کی عید الاضحیٰ پر کھانوں میں پہلا پکوان کلیجی ہی ہوتی ہے اور سب اسے شوق سے بھی کھاتے ہیں ۔ کلیجی کے بعد دوسرا نام بریانی کا آتا ہے کیونکہ دن میں روٹی کھانے کے بعد لوگ شام میں چاول جیسے یخنی کا پلاؤ یا مصالحے والی بریانی کھانا پسند کرتے ہیں ، گھر میں قربانی ہو اور نئے نئے پکوان نہ بنیں یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ آئیے جانئے عید الاضحیٰ پر پکائے جانے والے چند نہایت آسان اور لزیز کھانوں کے بارے میں۔
    گائے کے گوشت کی بریانی
    عید کا موقع ہو اور بریانی نہ ہو٬ ایسا ہو نہیں سکتا- اس عیدالاضحیٰ پر اپنے دسترخوان کی شان بڑھائیں گائے کے گوشت سے تیار کردہ بریانی کی ڈشز سے- دم پخت بریانی٬ خراسانی بریانی٬ سندھی بریانی٬ زعفرانی بریانی جیسی مزیدار ڈشز سے آپ اپنے مہمانوں کی تواضع کر سکتے ہیں

    پشاوری چپلی کباب
    خیبر پختونخواہ کی مشہور سوغات٬ پشاوری چپلی کباب بھی عید الاضحیٰ کے دسترخوان کی شان بڑھانے میں پیش پیش ہیں- یہ ڈش آسانی سے گھر پر تیار ہوجاتی ہے- پشاوری چپلی کباب کو آپ رائتے ارو نان کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں-

    بار بی کیو آئٹم
    جیسا کہ ان دنوں عزیز و اقارب سے ملنے ملانے پر زور ہوتا ہے تو طرح طرح کے پکوان تیار کئے جاتے ہیں جن میں مٹن کڑاہی، اسٹو، بیف بریانی وغیرہ عام ہیں لیکن باربی کیو نہ ہو تو بقرہ عید کا مزہ کیسا۔۔۔ عید کے دنوں گھروں میں تکّے بنانے کا رواج بہت پرانا ہے اور تکے بنانے میں گھر کے مرد حضرات اور بچے زیادہ حصہ لیتے ہیں رات کو گھر کی چھتوں پر یا صحن میں بیٹھ کر تکے بوٹی کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ باربی کیو میں کافی سارے ائٹم ہوتے ہیں جیسے تکہ بوٹی، ملائی بوٹی، افغانی کباب ، بہاری تکہ بوٹی اور کشمیری سیخ کباب شامل ہیں-

  • جاپان میں گوشت فراہم کرنے والی اے ٹی ایم مشین

    جاپان میں گوشت فراہم کرنے والی اے ٹی ایم مشین

    ٹوکیو: جاپان میں ایسی مشینیں متعارف کرا دی گئی ہیں جو اے ٹی ایم مشینوں کی طرح پیسے نہیں بلکہ گوشت فراہم کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپان کے کچھ علاقوں میں ایسی مشینیں لگا دی گئی ہیں جن سے سیاہ ریچھ کا گوشت نکلتا ہے۔ ان مشینوں سے خودکار طریقے سے گوشت حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    چین نے تائیوان کے اطراف میں جنگی جہاز تعینات کر دیئے

    یہ گوشت ان ریچھوں کا ہے جنہیں انسانی آبادی میں گھس آنے پر ماردیا جاتا ہے یا وہ کسی شکنجے میں پھنس جاتے ہیں ۔ اگرچہ سیارہ ریچھ زد پر رہنے والے جاندار ضرور ہیں لیکن ان کی بقا کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں۔

    یہ کالے ریچھ انسانی آبادیوں پر حملہ آور ہونے پرمارے جاتے ہیں یا پھرانسانوں کا شکار بنتےہیں جاپان میں ریچھ کاگوشت کھانےکی قانونی اجازت ہے اور لوگ شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں،جبکہ ان مشینوں سے ریچھ کے گوشت کے علاوہ خشک مچھلی اور مویشیوں کا گوشت بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    سعودی عرب نے یمن کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا

    جس طرح اے ٹی ایم مشینوں میں کارڈ ڈال کر پیسے وصول کیے جاتے ہیں اسی طرح ان مشینوں سے بھی کارڈ کے ذریعے گوشت حاصل کیا جا سکتا ہےان ریچھوں کا گوشت اب این نوڈل دکان کےباہر مشین پر فروخت کیا جارہا ہے جو ٹوکیو سے 400 کلومیٹر دور آکیتا پرفیکچر میں واقع ہے۔

    واضح رہے کہ جاپان ایسی وینڈنگ مشینوں کی سرزمین ہے جو تازہ کیڑے مکوڑے، وھیل، اور دیگر اقسام کے گوشت بھی فراہم کرتی ہیں اب ریچھ کا گوشت اس فہرست میں شامل ہے اور کمپنی کو توقع ہے کہ لوگ اس نئے اضافے کو ضرور پسند کریں گے۔

    چیٹ جی پی ٹی کےخلاف قانونی کارروائی اعلان

  • مئی 2021 سے افغانستان کو گوشت کی برآمد معطل

    مئی 2021 سے افغانستان کو گوشت کی برآمد معطل

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سینیورٹی اینڈ ریسرچ کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر مظفر حسین شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-

    کمیٹی اجلاس میں پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ اٹھایا گیا-حکام غذائی تحفظ نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے ملازمین کو 9 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی- 2016 سے ٹیکسٹائل انڈسٹری نے کاٹن سیس ادا نہیں کیا-ان کا کہنا تھا کہ کاٹن سیس کے واجبات ساڑھے 3 ارب روپے بنتے ہیں-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ کاٹن سیس نہ ملنے کے باعث ملک میں کپاس کی ریسرچ رک گئی ہے-کمیٹی نے چیف سیکرٹریز کو لکھا تھا کہ اس کاٹن سیس کو لینڈ ریونیو کی طرز پر ٹیکسٹائل ملوں سے وصول کیا جائے- لیکن اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا-سیکریٹری فوڈ سیکورٹی نے بتایا کہ اپٹما نے اس معاملے کو عدالت چیلینج کیا ہوا ہے

    چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ کاٹن سیس وصولی نہ ہونے سے کپاس کی فصل 2016 سے نقصان میں ہے-قانون کے تحت اگر کاٹن سیس بروقت ادا نہ کیا جائے تو اس کو لینڈ ریونیو کے طور پر وصولی کی جائے-کمیٹی کی ہدایات کے باوجود پنجاب کی صوبائی حکومت نے سیس وصولی کیلئے مطلوبہ اقدامات نہیں لیے-کمیٹی کو معاملہ پر بریفنگ کیلئے چیف سیکرٹری پنجاب آئندہ اجلاس میں پیش ہوں-آپٹما کیخلاف کیس میں وزارت غذائی تحفظ کے وکیل بھی آئندہ اجلاس میں پیش ہو کر تفصیلات بیان کریں-وزارت غذائی تحفظ بھی آئندہ اجلاس میں کاٹن سیس واجبات کا تمام ڈیٹا پیش کرے-

    کمیٹی میں افغانستان کو گوشت برآمد کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا- صدر لائیو سٹاک فارمرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آصف اعوان نے بتایا کہ مئی 2021 سے افغانستان کو گوشت کی برآمد معطل ہے  پشاور میں ایک سو پچاس کیٹل فارمز تھے جن میں سے کئی بند ہو چکے-حکام فوڈ سیکورٹی نے بتایا کہ افغانستان نے فروزن گوشت کی درآمد پر پابندی لگائی ہوئی ہے-افغانستان نے پولٹری کی درآمد پر پابندی اٹھا لی ہے جبکہ گوشت پر پابندی ابھی بھی برقرار ہے-آصف اعوان کا کہنا تھا کہ حکومت اس پابندی کو ختم کرانے کیلئے اقدامات کرے-حکام نے بتایا کہ پاکستان میں گوشت کی برآمدات کیلئے 35 ذبیحہ خانے رجسٹرڈ ہیں -افغانستان سے اس معاملے پر مذاکرات کی ضرورت ہے افغانستان سے فروزن گوشت کو حرام قرار دینے کے حوالے سے افغانستان کے فتویٰ پر بات چیت ہونی چاہیے چئیرمین کمیٹی نے تجویز دی کہ وزارت تجارت اور وزارت خارجہ مل کر اس مسئلہ کو حل کروائیں-

    فصلوں کی امدادی قیمت مقرر نہ کرنے پر چئیرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت میں 18 فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کی جاتی ہے گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے بروقت امدادی قیمت دی جانی چاہیے کمیٹی نے اگست میں گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے کی سفارش کی تھی لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا سندھ میں 4 ہزار روپے من اور پنجاب میں 3 ہزار روپے من مقرر کی گئی ہے-وفاقی وزیر غذائی تحفظ اس معاملے کو حل نہیں کرے سکے-سیکریٹری غذائی تحفظ کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب سے ساری گندم سندھ جائے گی -پاسکو کو پنجاب میں تین ہزار روپے من گندم خریداری میں مشکلات آئیں گی-درآمدی گندم 373 فی ٹن خریداری کی ہے-حکام کا کہنا تھا کہ 93 ہزار روپے ٹن گندم درآمد کی ہے-3 ہزار 721 روپے من گندم درآمد کی جا رہی ہے-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ تیل والی فصلوں کی قیمت 9 ہزار روپے من ہے-اس صورتحال میں گندم کون اگائے گا-

    حکام غذائی تحفظ کا کہنا تھا کہ یکم جون کو ویٹ بورڈ کے اجلاس میں صوبوں نے یکساں گندم قیمت کی حامی بھری تھی-اس سال گندم کے زر کاشت رقبہ میں چار فیصد کمی آئی ہے-اس سال 2 کروڑ 80 لاکھ ٹن گندم پیداوار کا تخمینہ ہے-اس سال 2 ارب ڈالر کی لاگت سے 26 لاکھ ٹن گندم درآمد کی گئی ہے جبکہ اس سال کپاس کی درآمد پر بھی 2 ارب ڈالر کے اخراجات آئیں گے-چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت غذائی تحفظ نے ان درآمدات کو روکنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی-کپاس کی فصل میں کمی کی بنیادی وجہ اچھے بیج کی عدم دستیابی ہے-کسان اچھا بیج خریدنے کیلئے مارا مارا پھرتاہے-ملک میں معیاری بیج نہیں مل رہا تو فصل کس طرح بہتر ہو گی-اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کیے-ان کا کہنا تھا مجھے کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے نو سال گزر گئے مگر حکومت ایک بھی مسئلہ حل نہیں کر سکی-

    سیکریٹری غذائی تحفظ نے بتایا کہ اس سال کپاس کی امدادی قیمت 7 ہزار روپے من رکھنے کی تجویز تیار کی ہے-چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کپاس کے بیج کی قیمت 18 ہزار روپے من ہے-جو 170 ارب روپے کے ٹیکس عائد کیے ہیں اس سے کاشت کاری کے اخراجات بہت زیادہ ہو گئے ہیں-کسان کے مسائل حل کیے بغیر زرعی خود کفالت حاصل نہیں کی جا سکتی-

    سینیٹر جام مہتاب ڈاہر نے کہا کہ سندھ میں ابھی بھی پانی کھڑا ہے خیر پور کا ابھی چوتھائی حصہ پانی کے اندر ہے نوشیرو فیروز، نواب شاہ ، چوتھائی اور دادو آدھا پانی کے اندر ہے-اس سال گنا 310 روپے پر بک گیا ہے لوگ اب گندم اور کپاس کو چھوڑ کر گنے کی فصل کی طرف جا رہے ہیں

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • گوشت کا کم استعمال موسمیاتی بحران سے بچا سکتا ہے ،تحقیق

    گوشت کا کم استعمال موسمیاتی بحران سے بچا سکتا ہے ،تحقیق

    برلن: ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر ہفتے فی شخص کھائے جانے والے دو برگر میں استعمال کیے جانے والے بیف کے برابر گوشت کی کھپت میں کمی سے موسمیاتی بحران کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی :اسٹیٹ آف کلائمیٹ ایکشن 2022 کی رپورٹ میں 40 اشاروں پر عالمی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا جو 2030 تک عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نصف کرنے کے لیے کلیدی ہوں گے-

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    200 صفحات پر مشتمل ہی میں شائع کی گئی اسٹیٹ آف کلائمیٹ ایکشن 2022 رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پیرس معاہدے میں طےکیے گئے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے انسانیت کو کتنا کام درکار ہے-

    انسانوں کی جانب سے ’کونسے کام کیے جانے چاہیئں‘ کی فہرست میں رپورٹ نے گوشت خور افراد سے گلوبل وارمنگ کم کرنے کے لیے اپنا حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے۔

    ان تمام خطوں میں جہاں گوشت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے 2030 تک گوشت کی روزانہ کھپت کو 79 کلو کیلوریز تک اور 2050 تک 60 کلو کیلوریز تک محدود کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ مقدار ہر ہفتے دو بیف برگر کھانے ک برابر ہے۔

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تو دنیا پر اس کے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے. اقوام…

    لیکن یہ صرف ایک عمل ہے جو پیرس معاہدے میں طے کیے جانے والے مقصد یعنی عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیئس تک محدود کرنے میں مدد کرے گا۔

    رپورٹ کے مطابق دیگر کاموں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو چھ گُنا تیز کرنا، جنگلات کے کاٹے جانے کی سالانہ شرح میں کمی لانے میں 2.5 گُنا تیزی لانا اور کوئلے کا بطور بجلی کی پیداوار کے ذریعے کے استعمال میں تیزی سے کمی شامل ہیں صحت مند غذا پر منتقلی کی شرح موجودہ شرح سے پانچ گُنا زیادہ تیز کرنے ہوگی۔

    سیمنٹ اور سٹیل جیسی بھاری صنعتیں اپنے اخراج کو کم کرنے میں تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہی ہیں، اور قابل تجدید توانائی اور برقی گاڑیوں کو اپنانے کی تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

    برطانیہ میں موسم سرما کا آغاز گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے

    سب سے زیادہ تشویش گیس کا استعمال تھے، جو ایک ایسے وقت میں تیزی سے بڑھ رہی ہے جب اسے قابل تجدید توانائی کے حق میں کم کیا جانا چاہیے۔ سٹیل سازی، جہاں اخراج میں کمی کی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا نہیں جا رہا ہے مسافر گاڑیوں میں سفر، مینگرو کے جنگلات کے نقصان کی شرح؛ اور زراعت سے اخراج۔

    رپورٹ کے ذمہ دار اداروں میں سے ایک ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کی چیف ایگزیکٹیو انی داس گپتا نے اس سال دنیا بھر میں دیکھے جانے والے شدید موسم کی طرف اشارہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا نے تباہی کو صرف 1.1C درجہ حرارت سے دیکھا ہے۔ لوگوں اور کرہ ارض کی حفاظت کی لڑائی میں ڈگری کا ہر حصہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں اہم پیشرفت دیکھ رہے ہیں لیکن ہم اب بھی کسی بھی شعبے میں جیت نہیں رہے ہیں-

    شہد کی مکھیاں اور دیگر اڑنےو الے کیڑے برساتی بادل سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتی…

  • ایک ہفتے میں آٹا، گوشت، گھی سمیت  28 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ

    ایک ہفتے میں آٹا، گوشت، گھی سمیت 28 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ

    ایک ہفتے میں آٹا، گوشت، گھی سمیت 28 اشیا کی قیمتیں‌ بڑھ گئیں۔

    باغی ٹی وی : ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.49 فیصد اضافہ ہوگیا ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کا تھیلا 403 روپے 85 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 1370 روپے ہوگئی۔

    ایک ہفتے میں زندہ مرغی 33 روپے 87 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی انڈوں کی فی درجن قیمت میں 7 روپے 16 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

    آلو 2 روپے 46 پیسے، پیاز 3 روپے 37 پیسے فی کلو مہنگے ہوئے۔ ایک ہفتے میں دال مسور 10 روپے 80 پیسے اور دال چنا 3 روپے 80 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی۔

    دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اوگرا نے مئی کیلئے درآمدی ایل این جی کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا ہے مئی کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    جاری کردہ نوٹی فکیشن کے تحت سوئی ناردرن سسٹم کے لیے ایل این جی کی فی یونٹ قیمت میں 6.2152 ڈالرز اضافہ کیا گیا ہے جب کہ سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 6.8772 ڈالرز فی یونٹ اضافہ ہوا ہے۔

    نوٹی فکیشن کے تحت سوئی ناردرن سسٹم پر ایل این جی کی نئی قیمت 21.8317 ڈالرز فی یونٹ مقرر کی گئی ہے جب کہ سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی نئی قیمت 23.7873 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہوئی ہے

    سوئی ناردرن سسٹم پر اپریل میں ایل این جی کی قیمت 15.6165 ڈالرز فی یونٹ تھی اورسوئی سدرن سسٹم پر اپریل میں ایل این جی کی قیمت 16.9101 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔

    وفاقی وزیر صحت نےفی الحال ائیر پورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ شروع کرنے سےروک کر دیا

  • ناقص گوشت کی فروخت کا دھندہ عروج پر

    ناقص گوشت کی فروخت کا دھندہ عروج پر

    اوکاڑہ(علی حسین) شہربھر میں مضر صحت اور ناقص گوشت کی فروخت کا دھندہ عروج پر ہے۔ قیمتیں بھی زیادہ ہیں ۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ شہریوں نے حکام سے ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گوشت کی قیمت کیساتھ ہڈی کا وزن بھی مقرر کیا جائے

    گوشت کی قیمت کیساتھ ہڈی کا وزن بھی مقرر کیا جائے

    قصور
    بکرے و گائے بھینس کی قیمت بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری جر دیا گیا
    تفصیلات کے مطابق قصور میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بکرے،گائے اور بھینس کی قیمت بڑھا دی گئی ہے بکرے کے گوشت کی قیمت 820 روپیہ جبکہ گائے و بھینس کے گوشت کی فی کلو قیمت 410 روپیہ مقرر کی گئی ہے واضع رہے کہ قصائی حضرات اس نوٹیفیکیشن سے پہلے ہی بکرے کا گوشت 950 اور گائے بھینس کا گوشت 420 روپیہ فروخت کر رہے ہیں جبکہ ایک کلو گوشت میں ہڈیوں کی مقدار کا تعین نہیں اس لئے گائے بھینس کے فی کلو گوشت میں تقریبا 250 گرام ہڈیاں لازمی ہوتی ہیں اس پر جب شہری قصائیوں سے بغیر ہڈی کے گوشت طلب کرتے ہیں تو قصائی 410 کی بجائے 500 روپیہ فی کلو وصول کرتے ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں گوشت کی قیمت مقرر کی گئی ہے وہاں فی کلو گوشت میں ہڈی کا مقدار کا بھی وزن مقرر کیا جائے تاکہ قصائی حضرات لوگوں سے ناجائز پیسے نا لے سکیں

  • گوشت بھی عوام کی پہنچ سے دور

    گوشت بھی عوام کی پہنچ سے دور

    قصور
    پتوکی حبیب آباد گہلن شیخم اور گردونواح میں عید سے پہلے ہی قصابوں نے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنا شروع کر دیا انتظامیہ اور پرائس کنٹرول والوں نے آنکھیں بند کر لیں قصابوں نے من مرضی کے ریٹ لگا لیے کوٸی پوچھنے والہ نہیں پراٸس کنٹرول کمیٹیاں بھی ناکام

    تفصیلات کے مطابق پتوکی اور اسکے گردونواح میں بڑے گوشت کا سرکاری ریٹ 380 مقرر ہے جبکہ قصاب 450/500 سو روپے تک فروخت کرنے لگے ہیں چھوٹا گوشت 800 سے ایک ہزار روپے میں فروخت کرنے لگے ہیں جبکہ چکن کا ریٹ 280 روپے سے بھی تجاوز کر گیا عوام نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان قصابوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مؤثر انتظام کیا جائے

  • ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ہے کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔
    کیونکہ ملاوٹ کرنے والا انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے اور ایک دھوکہ بار شخص منافق تو ہو سکتا ہے مومن نہیں ۔
    مگر معاشرے میں جہاں دوسری برائیوں کو برائی نہیں سمجھا جاتا وہاں ملاوٹ بھی آجکل کا روبار کا لازم جزو بن چکا ہے ۔ دودھ ۔ گوشت۔ گھی ۔ آٹا۔ دالیں ۔ مرچیں ۔ چائے کی پتی ۔ غرض ہر چیز میں ملاوٹ کرکے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے ملاوٹ کے ایسے ایسے گھنآنے طریقے اپنائے جاتے ہیں عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ملاوٹ کرتے وقت حلال اور حرام کے تصور کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ گڑوں کی گندگی سے چربی نکال کر بیوٹی سوپ ۔ کپڑے اور برتن دھونے کے صابن کی تیاری میں بڑی بڑی فیکڑیاں ملوث ہیں ۔ حرام جانوروں کا گوشت دوسرے گوشت کے ساتھ ملا کر فروخت کرنا تو عام سی بات ہو گئی ہے ۔ جب ٹی وی لگاو ایسی خبریں نظر آتی رہتی ہیں ۔ گوشت کا وزن بڑھانے کے لیے جانور کے دل میں پانی بھرنا بھی قصائیوں کی روٹین کا حصہ ہے ۔ برائیلر مرغیوں کی خوراک کی تیاری میں جانوروں کا خون ۔ آنتین اور غیر حلال مادوں کے استعمال کا سب کو پتہ ہے ۔ مگر برائیلر کھانا سب کی مجبوری ۔۔۔ کیوں ؟

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    دودھ میں پہلے گوالہ پانی ملاتا تھا جس سے دودھ پتلا ہو جاتا اور ملاوٹ پہچان لی جاتی تھی ۔ مگر اب گوالہ اتنا سائنٹیفک ہوگیا ہے کہ ایک کلو دودھ میں بلیچنگ پاوڈر، یوریا اور دوسرے زہریلے مادے ڈال کر ایک من دودھ اتنا گاڑھا تیار کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے خالص دودھ بھی شرما جا ئے ۔ کہا جاتا تھا زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا ۔ مگر پاکستان میں یہ مثال ہر جانور پر ٹھیک بیٹتھی ہے جہاں مردہ جانور چاہے حلال ہو یا حرام ضائع نہیں جاتا ۔ بلکہ اسکی آنتوں ، ہڈیوں اور دیگر اعضاء کو ابال ابال کر ان میں سے ساری چربی نکال لی جاتی ہے جس سے تیار ہونے والا خالص تیل اور دیسی گھی فوڈ ایسنز ڈال کر بازار میں کھلے عام ملتا ہے ۔
    مرچ اور مصالحے جن کے بغیر ہمارے کھانوں میں مزہ نہیں ہے ان میں لکڑی کا برادہ ۔ اینٹوں کا چورہ تو ملایا ہی جاتا تھا مزید یہ کہ انھیں سیمنٹ کی بوریوں کو کاٹ کر بنائے گئے لفافوں میں بھر کر فروخت کیا جا تا ہے ۔ اس طرح سیمنٹ کا فلیور بھی ہمارے مصالحوں میں شامل ہو جا تا ہے ۔ چائے کی پتی میں بھی پرانی استعمال شدہ پتی ۔ خون اور رنگ ملا کر مقدار کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ ابالنے پر رنگ بھی زیادہ آنا شروع ہوجا تا ہے ۔


    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پرانی ادرک اور لہسن کو تیزاب سے دھویا جاتاہے جس سے وہ نہ صرف تروتازہ نظر آتی ہے ۔ بلکہ اس کا وزن بھی کافی بڑھ جاتا ہے ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ آج کل زہر بھی خالص نہیں ملتا تو غلط نہ ہو گا کیونکہ کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات میں پانی بھر کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے جس سے کیڑے تو نہیں مرتے البتہ فضل ضرور مر جاتی ہے ۔
    بے حس ناجائز منافع خور راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کے نشے میں ناقص سے ناقص مضر صحت اجزائ کی ملاوٹ سے گریز نہیں کرتے ۔ انھیں نہ قانون کا ڈر ہے نہ خوف خدا انکا ضمیر بالکل مردہ ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کی نسلیں برباد کرنے پر تلے ہو ئے ہیں ۔
    یہ سب کچھ اتنا حیران کن اور ناقابل یقین ہے کہ دل تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب کچھ کوئی کیسے کرسکتا ہے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ہم سب مرنا بھول چکے ہیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں