Baaghi TV

Tag: گڈو بیراج

  • گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    گڈو بیراج پر اونچے، سکھر پر درمیانے درجے کا سیلاب

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گڈو بیراج پر اونچے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔

    صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت تمام بیراجوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں میں مکمل طور پر مصروف ہے،سکھر میں دریائے سندھ کی لہریں تیز ہونے پر کچے کے متعدد دیہات زیر آب آگئے، 30 فیصد سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا-

    گھوٹکی میں قادرپور اور رونتی کے متعدد دیہات زیر آب آنے سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، دادو کی تحصیل میہڑ کے کچے میں بھی دریا کی سطح میں بلند ہوگئی جبکہ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا ریلہ پہلے سے ہی سیلاب میں ڈوبے سیہون کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے اگلے ایک دو روز میں صورتحال مزید المناک ہونے کا خدشہ ہے،نواب شاہ میں بھی سیلاب سے 20 سے زائد دیہات ڈوب گئے، متاثرین کو گھریلو سامان، مال مویشی اور اناج کے ساتھ محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاک پر پابندی کی قرارداد جمع

    ،پنجند میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم کا بہاؤ 402,919 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، گڈو بیراج پر اپ اسٹریم کا بہاؤ 612,269 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم کا بہاؤ 582,942 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ سکھر بیراج پر اپ اسٹریم 488,820 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 438,390 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، کوٹری بیراج پر اپ اسٹریم کا بہاؤ 274,129 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 261,399 کیوسک ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5269 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، اب تک منتقل ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 163,364 ہوگئی ہے، کچہ کے علاقوں سے 252 افراد ریلیف کیمپس میں منتقل ہوئے، ریلیف کیمپس میں موجود افراد کی مجموعی تعداد 469 ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے 177 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ سائٹس قائم کی گئی ہیں جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6,596 مریضوں کا علاج کیا گیا، اب تک مجموعی طور پر 84,118 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11,569 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد اب تک منتقل ہونے والے مویشیوں کی تعداد 438,835 تک پہنچ گئی ہے، 51,308 مویشیوں کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں ویکسین اور علاج فراہم کیا گیا، جس کی مجموعی تعداد 1,232,223 ہوگئی ہے۔

    سیلاب کے دوران ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں،محمد اورنگزیب

    ادھرصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کا مون سون بارشوں کے 11 ویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا،ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 16 سے 19 ستمبر تک دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر کمشنر ز ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران الرٹ ہیں،محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک کو الرٹ جاری کیا گیا۔

    ایشیاکپ:پاک-بھارت ٹاکرا، گودی میڈیا سیخ پا، میچ کے بائیکاٹ پر زور

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں، آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں غیر ضروری سفر سے گریز کریں،ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

  • دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع

    دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع

    دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے جس کے باعث سندھ کے کچے کے علاقے زیرِ آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تک پہنچنے کے بعد درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب جاری ہےسیہون میں دریائی پٹی کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی بندوں کی کمزور جگہوں پر کام جاری ہے،صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کے مطابق سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    ادھر پنجاب کے مختلف اضلاع بھی شدید متاثر ہیں۔ ملتان میں شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کا دباؤ برقرار ہے جبکہ جھنگ میں دریائے چناب پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 88 ہزار کیوسک تک جا پہنچا جس سے کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں،دریائے راوی میں مائی صفوراں کے مقام سے نکلنے والے ریلے نے کبیروالا کے 40 دیہات ڈبو دیے۔ اس سیلاب کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے بہاولنگر میں سیلاب نے 143 دیہات متاثر کیے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔