Baaghi TV

Tag: گھریلو ملازمہ

  • رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    سول جج کے گھر میں کمسن 14 سالہ ملازمہ رضوانہ کے دلخراش کیس نے قوم کو صدمے میں ڈال دیا۔ اس تکلیف دہ واقعے نے جج کی اہلیہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل کر لی، سول جج کی اہلیہ کی شناخت مرکزی مجرم کے طور پر کی گئی ۔ رضوانہ کو دوران ملازمت ڈنڈوں سے بے تحاشا مارنے کے ساتھ ساتھ جج کی بیوی کی طرف سے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر، تشدد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور وہ کئی دنوں تک ایک کمرے میں بند رہتی تھی، اسے بھوکا رکھا جاتا تھا، اور کمرے سے باہر کسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ رضوانہ نے یہاں تک انکشاف کیا کہ ملازمت کے دوران اسے اپنے والدین سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا اور اس کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا۔

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے بعد تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کی گئی۔ رضوانہ کو ملازم رکھنے والے سول جج کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے بلایا گیا، لیکن وہ جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ قانونی نظام میں موجود افراد بھی قانون کا احترام نہیں کرتے۔ ان کی اہلیہ، صومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا لیکن 100,000 روپے کے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس نے رضوانہ پر تشدد اور ناروا سلوک کے تمام الزامات کی تردید کی، جبکہ معجزانہ طور پر رضوانہ اس خوفناک آزمائش سے بچنے میں کامیاب ہو گئی۔

    افسوسناک بات یہ ہے کہ رانی پور سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ فاطمہ کی کہانی بھی اسی طرح کی اور ایک تاریک داستان بیان کرتی ہے، فاطمہ کو ایک امیر مقامی مذہبی رہنما کے گھر میں ایک وحشیانہ انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں اسے نہ صرف انتہائی جسمانی تشدد بلکہ جنسی زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عصمت دری کے بھی ثبوت ملے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اسے پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کی لاش کو نکالا گیا۔ میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم سے ڈی این اے ٹیسٹ اور سیرولوجی کے لیے نمونے جمع کیے گئے تھے، جن میں حویلی میں رہنے والے ممکنہ مجرموں بشمول مالک، پیر اسد شاہ کی شناخت کی گئی تھی،

    رضوانہ اور فاطمہ کے کیس اس پریشان کن حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاف کے نظام مستقل طور پر انصاف کے وعدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ مقدمات بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ کے لیے نظام عدل کے اندر جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کی واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گھناؤنے کاموں کے ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • اسد شاہ کی ایک اور سابقہ ملازمہ سامنے آ گئی،بولی،کام کم،تشدد زیادہ کیا جاتا تھا

    اسد شاہ کی ایک اور سابقہ ملازمہ سامنے آ گئی،بولی،کام کم،تشدد زیادہ کیا جاتا تھا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقے رانی پور میں کمسن بچی کی تڑپتے ہوئے موت ہوئی، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور ملزم کو گرفتار کیا گیا، اب اسی ملزم اسد شاہ کے ہاں ایک اور سابق ملازمہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،

    اجالا نامی لڑکی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسد شاہ کے گھر میں کام کرتی تھی، اس نے اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے، حنا شاہ بہت تشدد کرتی تھی، اگر کوئی غلطی ہو جاتی تو دیگر ملازموں سے تشدد کرواتی تھی،اجالا کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ کہتی ہیں کہ ایک روز فائل گم ہو گئی تو حنا شاہ نے خود مجھے ڈنڈے سے مارا، جب کوئی غلطی ہوتی تو پانی ابال کر پلایا جاتا اور بچہ ہوا کھانا دیا جاتا جبکہ صرف چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی،

    سابقہ ملازمہ اجالا نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ اس نے حنا شاہ کے مظالم سے تنگ آ کر کئی بار خودکشی کرنے کا بھی سوچا تھا ایک دن وہ موقع پا کر حویلی سے بھاگ کر اپنے رشتے داروں گھر گئی اور وہاں پناہ لی جبکہ اس کے رشتہ دار اسے حویلی واپس جانے کا کہتے رہے لیکن میں نے کہا کہ میں مرجاؤں گی لیکن واپس حویلی نہیں جاؤنگی

    واضح رہے کہ تشدد سے مرنے والی بچی کی والدہ نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ بچی کی موت طبعی ہے، جس کی وجہ سے پولیس نے بچی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا، بچی کے جسم پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئیں تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعہ کا نوٹس لیا،اسکے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی،

    پولیس کی جانب سے بچی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بھی تفتیش کی جارہی ہے نجی ہسپتال کے ڈاکٹرعبد الفتاح میمن نے پولیس کو بتایا کہ گیسٹرو میں مبتلا بچی کو لایا گیا تھا انہوں نے صرف متاثرہ بچی کا علاج کیا جبکہ ایس ایس پی خیرپور روحیل کھوسو کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا جیسے ہی مزید شہادتیں ملیں گی مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بچی کے پوسٹ مارٹم کیلئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

    نوشہرو فیروز کے رہائش ندیم علی کی بیٹی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • رضوانہ تشدد کیس کے بعد عندلیب تشدد کیس سامنے آ گیا

    رضوانہ تشدد کیس کے بعد عندلیب تشدد کیس سامنے آ گیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ خالد حسین جتوئی نے کی ،گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے والی خاتون ملزمہ ثمرا کو عدالت پیش کر دیا گیا انویسٹیگیشن آفیسر کی جانب سے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

    واضح رہے کہ کمسن گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات میں کمی نہ آ سکی،رضوانہ تشدد کیس کے بعد عندلیب تشدد کیس سامنے آگیا ،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مالکن نے 13 سالہ بچی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے، عندلیگ فاطمہ پر اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی 15 میں مقیم ثمرہ نامی خاتون نے تشدد کا نشانہ بنایا، بچی کی والدہ خالدہ جب بیٹی کو ملنے ثمرہ کے گھر گئی تو خاتون نے بچی کی والدہ کو کمرے میں بند کر دیا اور اسے بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی

    بچی کی والدہ تھانے پہنچ گئی اور تھانہ ترنول میں کاروائی کے لئے درخواست دے دی، عندلیب فاطمہ کا کہنا ہے کہ مالکن مجھے روز تشدد کا نشانہ بناتی اور کسی کو بتانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکی دی ، خالدہ بی بی کا کہنا ہے کہ میری بچی کے ساتھ برا سلوک کیا گیا مالکن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،

    واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ، درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میری بیٹی ایک ماہ نو دن سے کام کر رہی تھی ملنے آئی تو وہ روپڑی، اسکے منہ ، سر اور جسم کے باقی حصوں پر زخم تھے،بیٹی نے بتایا باجی زیتوں عرف ثمرہ روز مارتی ہیں،رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں بیٹی کو ملنے آئی تھی کیونکہ مالکن بیٹی سے بات نہیں کرواتی تھی،ثمرہ نے مجھے بھی کمرے میں بند کر دیا اور کہا کہ میں تمہیں مزہ چکھاتی ہوں، میں نے باجی کے پاؤں پکڑے کہ ہمیں جانے دو، تو بغیر تنخواہ کے ہمیں گھر سے دھکے دے کر نکال دیا،اور دھمکیاں بھی دیں، درج ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ ثمرہ تعویذ کا کام کرتی ہے،وہ میری بیٹی کو کہتی ہے کہ چوہے اور گوشت کو جلاؤ، اور اسی چمچ سے میری بیٹی کو مارتی تھی،جسم پر گرم چمچ لگاتی تھی، ہینگر سے مارتی تھی،باجی نے کمرے میں بند کر کے میری ویڈیو بھی بنائی،جس میں یہ بولنے کا کہا گیا تھا کہ اعجاز کے لئے میری مرضی کا بیان دو

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسلام آباد بچی تشدد کیس،مقدمے میں وحشیانہ تشدد کے نئے دفعات شامل

    اسلام آباد بچی تشدد کیس،مقدمے میں وحشیانہ تشدد کے نئے دفعات شامل

    اسلام آباد میں سول جج کی بیوی کی جانب سے گھریلو ملازمہ بچی پر مبینہ تشدد کے مقدمے میں نئی دفعہ شامل کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کی جانب سےگھریلو ملازمہ بچی پر مبینہ تشدد کی ایف آئی آر میں وحشیانہ تشدد کرکے اعضا توڑنے کی دفعہ 328 اے شامل کر لی گئی ہے، اس سے پہلے ایف ائی آر میں لگائی گئی دفعات قابل ضمانت تھیں، دفعہ 328 اے میڈيکل رپورٹ کی روشنی میں لگائی گئی ہے۔
    اس سے پہلے اسلام آباد پولیس نے یہ مقدمہ صرف حبس بے جا میں رکھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کی دفعات کے تحت درج کیا تھا، قانونی طور پر کمزور ایف آئی آر کی وجہ سے اسلام آباد کے سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ نے عدالت سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی تھی۔ واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    لاہور ہائیکورٹ: گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کا معاملہ ،عدالت نے سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    جسٹس فاروق حیدر نے سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے سومیہ عاصم کی یکم اگست تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور گرفتار کرنے روک دیا ،سومیہ عاصم کیخلاف اسلام آباد کے پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ خوف کے مرض کا شکار ہوگئی ہے، رضوانہ ہسپتال میں داخل ہے اور جب کوئی اسکے قریب آتا ہے تو وہ چیختی اور چلاتی ہے کہ مجھے نہ مارو، والدین قریب آتے ہیں تو وہ انکو دیکھ کر بھی مسکرا نہیں پاتی، کمسن بچی کے سر کے زخم میں کیڑے ہیں، سر کا انفکیشن آنکھوں میں اتر گیا ہے، گردے اور جگر بھی متاثر ہوئے ہیں،

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • روٹی چُرانے کا الزام، کمسن گھریلو ملازمہ بہنوں پر غیر انسانی تشدد

    روٹی چُرانے کا الزام، کمسن گھریلو ملازمہ بہنوں پر غیر انسانی تشدد

    روٹی چُرانے کا الزام، کمسن گھریلو ملازمہ بہنوں پر غیر انسانی تشدد
    فیصل آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ بہنوں پر روٹی چرانے کے الزام میں مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔ تھانہ مدینہ ٹاؤن کے علاقے میں گھریلو ملازمہ دو بہنوں 12 سالہ ایمان فاطمہ اور 8 سالہ زہرہ اویس کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    دونوں بہنوں پر روٹی چرانے کا الزام عائد کرکے مالکان نے مرغا بنا کر چمٹوں اور پائپ سے تشدد کیا۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے مبینہ تشدد کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن بیورو فیصل آباد نے گھریلو تشدد کا شکار ملازمہ بہنوں ایمان فاطمہ اور زہرہ اویس کو تحویل میں لے لیا ہے۔ تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بہنوں کو مالکان نے تھپڑ، مکوں، چھری، پائپوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچیوں کے جسم کو گرم چھریوں سے داغا جاتا رہا۔

    دونوں گھریلو ملازمہ بہنوں کو مالکان چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلاوجہ اکثر تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ دونوں ملازمہ بہنوں کےچہرے، بازو، کمر اور جسم کے دیگر حصوں پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔چیئرپرسن سارہ احمد کے مطابق 3 خواتین سمیت 6 ملزمان کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن بیورو فیصل آباد کی جانب سے آفیسر روبینہ اقبال کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، جس کے بعد خواتین سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزم گرفتار،ملازمہ بازیاب

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزم گرفتار،ملازمہ بازیاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنیوالے ملزم کو پولیس نے گرفتار کر کے ملازمہ کو بازیاب کروا لیا ہے،.

    واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پیش آیا،پولیس نے فوری کاروائی کی اور ملزم کو حراست میں لے لیا، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ  پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر گھریلو ملازمہ مریم کو بازیاب کروایا اور ڈیوٹی پر مامورسیکورٹی گارڈ کو گرفتارکرلیا ہے،گھر کے سیکیورٹی گارڈ شہباز نے ریسکیو آپریشن کے دوران مزاحمت کی تھی ریسکیو کیلئے پی آر یو سیکٹر انچارج چوہنگ، ڈولفن ٹیم نے مشترکہ کارروائی کی تھی

    پولیس حکام کے بعد پولیس ٹیم نے مریم کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے کراس کے اہلخانہ سے رابطہ کیا بعد ازاں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے اس کے والد کو بلوا کر لڑکی کو حوالے کردیا گیا ،گھریلو ملازمہ مریم پر تشدد کیا گیا تھا اور اسے گھر والوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی، اسے گھر میں قید کیا گیا تھا،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    قبل ازیں ایک اور واقعہ میں اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

  • نوکرانی کے روپ میں ڈاکو رانی آشنا سمیت گرفتار

    نوکرانی کے روپ میں ڈاکو رانی آشنا سمیت گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہو رمیں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کی کاروائی جاری ہیں

    نوکرانی کے روپ میں ڈاکو رانی گرفتار کر لیا گیا،ساندہ انویسٹی گیشن پولیس نے کارروائی کی، گھریلو ملازمہ آشنا اور ساتھی سمیت گرفتار کر لی گئی، ملزمہ شہری قاضی محسن کے گھر ملازمہ تھی، واردات کے بعد فرار ہو گئی تھی،ڈیٹا اینالسز اور موبائل لوکیشن کی مدد سے ملزمان کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا،ملزمان سے 10 لاکھ روپے نقدی، 7 لاکھ روپے مالیت کا 4 تولے سونا بھی برآمد کر لیا گیا، گرفتار ملزمان میں مریم بی بی، آشنا زاہد سلیم اور ساتھی مجاہد شامل ہیں، ایس پی انویسٹی گیشن اقبال ٹاؤن عقیلہ نیازی نقوی کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سہیل اختر سکھیرا کی ہدایات پر اشتہاری ملزمان کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا، انویسٹی گیشن ونگ کارروائیاں، 4 اشتہاری ملزم گرفتار کر لئے گئے، رنگ محل انویسٹی پولیس کی کارروائی، اشتہاری ملزم شناور، عمر عباس اور امین کو گرفتار کر لیا ،ملزمان ڈکیتی، چیک ڈس آنر اور دھوکہ دہی کے مختلف مقدمات میں قصور اور لاہور پولیس کو مطلوب تھے،اچھرہ انویسٹی گیشن پولیس کی کارروائی، ڈکیتی کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری ملزم رحمت علی گرفتار کر لیا گیا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن انوش مسعود کا کہنا ہے کہ اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں،

  • 20 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی اورزیور چوری کرنے والی گھریلو ملازمہ گرفتار

    20 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی اورزیور چوری کرنے والی گھریلو ملازمہ گرفتار

    20 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی اور زیور چوری کرنے والی گھریلو ملازمہ گرفتار کر لی گئی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ملت پارک پولیس نے کارروائی کی،ایس پی اقبال ٹاؤن محمد عثمان ٹیپو نے ڈی ایس پی غلام دستگیر خان کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی ملزمہ کی گرفتاری کو یقینی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا گیا ،ملازمہ راحیلہ بی بی نے مالکان گھر پر موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھایا لیکن چوری پکڑی گئی سی سی ٹی وی ویڈیو میں ملزمہ خالی ہاتھ گھر کے اندر جاتی اور واپسی پر چوری کیا گیا سامان لئے رفوچکر ہو جاتی ،ملزمہ راحیلہ نے گھر کی دوسری چابی پہلے ہی چھپا لی تھی مالکان کے جانے پر گھر کا صفایا کیا

    ملزمہ راحیلہ کو ایس ایچ او ملت پارک عدیل انجم نے ٹیم کے ہمراہ گرفتار کیا ،ملزمہ کے قبضہ سے 10 لاکھ 50ہزار روپے نقدی اور چوری کیا گیا 06 تولہ زیور برآمد کر لیا گیا، مقدمہ درج مزید تفتیش عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • 17 سالہ لڑکے نے فلپائنی گھریلو ملازمہ کو زیادتی کے بعد زندہ جلا دیا

    17 سالہ لڑکے نے فلپائنی گھریلو ملازمہ کو زیادتی کے بعد زندہ جلا دیا

    کویت میں فلپائن سے تعلق رکھنے والی 35 سالہ گھریلو ملازمہ کو کفیل کے 17 سالہ بیٹے نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد زندہ جلادیا-

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق تین روز قبل صحرائی علاقے کی سڑک سے ایک جلی ہوئی لاش ملی تھی جس کی شناخت 35 سالہ فلپائنی خاتون جولیبی رانارا کے نام سے ہوئی تھی اس کی کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اوراس کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد جلا دیا گیا تھا لاش کے پوسٹ مارٹم اور فرانزک ٹیسٹ میں خاتون کے ساتھ زیادتی کی تصدیق بھی ہوئی۔

    ایران کا حکومت مخالف مظاہروں میں گرفتار ہزاروں افراد کو عام معافی دینے کا اعلان

    اس گھریلو ملازمہ نے گذشتہ ماہ کے آغازمیں اپنے گھروالوں سے بات کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ اپنے آجر کے بیٹے سے ڈرتی ہےپولیس رپورٹس اور فلپائنی ملازمہ کے اہل خانہ سے حاصل ہونے والی معلومات کی وجہ سے 17 سالہ سفاک قاتل تک پہنچ گئی جس کے گھر وہ کام کیا کرتی تھی –

    زیادتی اور قتل کی اس ہولناک واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے فلپائن نے کویت کے لیے ملازمین کے بھرتی کے دفاتر کو بلیک لسٹ کردیا اور فلپائنیوں کو ملازمت کے لیے کویت جانے سے روک دیا۔

    گذشتہ ہفتے فلپائنی حکومت نے کہا تھا کہ وہ خلیجی ملک میں فلپائنی کارکنوں کی عصمت ریزی اور ان سے بدسلوکی کے واقعات کا جائزہ لے گی اوراس طرزِعمل کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے گی۔

    16 سالہ لڑکی شارک کے حملے میں ہلاک

    فلپائن میں تارکین وطن مزدوروں کی وزارت نے کویت کے لیے بھرتی کے دفاتر کو بلیک لسٹ کردیا اور فلپائنی کارکنوں کو کویت میں کام کے لیے بھیجنے سے روک دیا گیا ہے۔

    بہیمانہ قتل کے بعد سے صرف چار روز میں 114 فلپائنی گھریلو ملازمائیں اپنے آبائی وطن لوٹ چکی ہیں جب کہ 400 سے زیادہ فلپائنی باشندوں نے ہنگامی مرکز میں پناہ لی ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت کویت میں 2 لاکھ 68 ہزار فلپائنی ملازمت کی غرض سے مقیم ہیں اور ان میں زیادہ تر گھروں میں امور خانہ داری کا کام کرنے والی ملازمائیں ہیں فلپائن کی آبادی ساڑھے 11 کروڑ ہے جن میں سے 10 فی صد غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔