کراچی کورنگی گھر میں دھماکہ،خواتین، بچوں سمیت 9 افراد زخمی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی کے علاقے کورنگی میں دھماکہ ہوا ہے
دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد زخمی ہوئے ہیں، دھماکہ کورنگی کے علاقے میں الہیٰ مسجد کے قریب گھر میں ہوا، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، دھماکے سے نو افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لئے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،ایدھی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں
دھماکے کے زخمیوں میں 5 سالہ آمنہ،11سالہ عمران،22سالہ عبداللہ،50 سالہ عجرہ بی بی،22سالہ عظمی،5سالہ ربینہ،2سالہ بسمہ،35سالہ صائمہ اور 20 سالہ سعدیہ شامل ہیں، دھماکہ کیسے ہوا اس حوالہ سے پولیس تحقیقات کر رہی ہے، پولیس کے مطابق دھماکا ٹینک میں گیس بھرجانے کے باعث ہوا ہے تا ہم تحقیقات کر رہے ہیں
بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا ہے دھماکے سے گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے، اہلیان علاقہ بھی بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں ایدھی رضاکاروں کی مدد کی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو کلمہ سے آزاد کرنا ہے
عمران خان اقتدار میں آئے تو ریاست مدینہ کا نام لے کر آئے، عوام کو سنہری خواب دکھائے لیکن ساڑھے تین سال حکمرانی کر کے پھر عوام کو وہی سنہرے خواب دکھانے لگے، تین برسوں میں عمران خان نے پاکستانی قوم کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر احتساب اور انصاف کے نعرے لگائے اور ساتھ ہی فرح گوگی کے ذریعے ،توشہ خانہ کے تحائف کے ذریعے احتساب اور انصاف کے نعرے کو زمین بوس کر دیا
عمران خان اپنے خطابات میں ریاست مدینہ کے ساتھ ساتھ اسلامی گفتگو بھی کرتے ہیں تا ہم دوسری جانب انکے جلسوں میں مناظر کچھ اور ہوتے ہیں، خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ہے، عمران خان کے جلسے میں جانے والی خواتین کے ساتھ بدتمیزی، ہراساں کرنے کے واقعات کئی بار رپورٹ ہو چکے ہیں، ریاست مدینہ کا نام لے کر عمران خان ہمیشہ ایسے کلمات کہتے رہتے ہیں جس سے ایک عام مسلمان کو بھی دکھ پہنچتا ہے، اب عمران خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ میرا ایمان ہے ہم نے پاکستانیو اپنے آپکو "لا الہ الااللہ”سے آزاد کرنا ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عمران خان کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے،. ایک صارف کا کہنا ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے آزاد کروا رہا تھا آج لا اله الا الله سے بھی آزاد کروا رہا ہے اور کہا کہ حکومت میں اور پیچھے کھڑے لوگوں کو اللہ معاف نہیں کرے گا مورخ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ عمران احمد خان نیازی اس صدی کا سب سے وڈا اور بدترین فتنہ ہے۔
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ رب کعبہ کی قسم عمران نیازی اس وقت دنیا میں سب سے بڑا فتنہ ہے اللہ اسکو اور اسکی نسلوں کو غرق کرے آمین اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا پاکستانیو
وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت اجلاس ہوا
وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے ر حجان پر سخت تشویش کااظہار کیا،اور تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے سخت قانون سازی کا فیصلہ کیا، وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کی خصوصی ہدایت پر پنجاب کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2022کا مسودہ تیار کر لیا گیا، وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے قانون کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ ایکٹ کو پنجاب اسمبلی سے منظو رکرایا جائے گا سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال، خرید و فروخت پر سخت سزائیں دی جائیں گی تعلیمی اداروں میں منشیات کی خرید و فروخت اوراستعمال روکنے کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے
منشیات کی خرید و فروخت اور استعمال پر سزائیں بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، کم از کم سزا 2 سال قید اور زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید رکھنے کی تجویز دی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ منشیات کے سدباب کیلئے خود مختار ادارہ قائم کیا جائے گا اور خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی۔ اینٹی نارکوٹکس پولیس سٹیشن بھی بنائے جائیں گے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی اوراستعمال پر ادارے کے مالکان اورملازمین بھی ذمہ دار ہوں گے۔ نئی نسل کو ہر قیمت پر منشیات کے زہر سے بچائیں گے۔تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ نئی نسل کو ہر صورت منشیات سے بچانا ہے۔
وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے ایکٹ کو مزید موثر بنانے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت کر دی، اور کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ایکٹ کو مزید موثر بنانے کیلئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا عمل شروع کریں ،اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز نے پنجاب کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2022 کے مسودے کے اہم خد و خال کے بارے میں بریفنگ دی ، صوبائی وزیر ایکسائز سردار محمد آصف نکئی، مشیر وزیراعلیٰ عامر سعید راں،انسپکٹر جنرل پولیس فیصل شاہکار، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی،سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ جی ایم سکندر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹریز، خزانہ، ریگولیشن، قانون، ڈی جی نارکوٹکس کنٹرول اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی
چارسدہ ،پی ٹی آئی کے جلسہ کے موقع پر چارسدہ فاروق اعظم چوک میں سیلاب زدگان نے احتجاجی مظاہرہ کیا
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیلاب کے موقع پر عمران خان نے پختونوں کو پوچھا تک نہیں۔ عمران خان صرف ووٹ لینے چارسدہ آیا۔ کپتان صاحب ہمیں آپ کی کوئی ضرورت نہیں۔ صوبائی حکومت کی طرف سے چارسدہ میں ریلیف کی کوئی سرگرمی نہیں ۔ سیلاب نے تباہی مچائی ۔لوگ اب بھی ٹینٹوں میں رہائش پذیر ہیں، صوبائی حکومت جھوٹی ہے اور ان کا خان بھی جھوٹا ہے ۔ صوبائی حکومت نے چارسدہ میں کوئی ٹینٹ اور راشن تقسیم نہیں کیا عمران خان کو چارسدہ تب یاد آیا جب ضمنی انتخابات آئے ۔ ہمیں عمران خان کی کوئی ضرورت نہیں ۔ نیازی کو اپنے نیازی قوم کے پاس لے جاﺅ پختونوں کو اس کی کوئی ضروت نہیں ۔
چارسدہ میں عمران خان کی آمد کے موقع پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پرپولیس نے لاٹھی چارج کیا اور کچھ مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا .سیلاب متاثرین کی گرفتاریوں اور لاٹھی چارج کی عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے مذمت کی اور کہا کہ چارسدہ میں سیلاب زدگان کے احتجاج پر کریک ڈاؤن اور گرفتار کرنے والے پولیس اہلکار یاد رکھیں کہ آج مداری کی نوکری کریں لیکن کل بھی آئے گا۔پانچ منٹ کے اندر اگر سیلاب زدگان کو رہا نہیں کیا گیا تو پورا چارسدہ بند ہوگا۔ ہم پولیس کی ہمت دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح عوام کا سامنا کرتے ہیں۔
دوسری جانب چارسدہ میں عمران خان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ غلام وزیر اعظم شہباز شریف سرکاری خرچے پر ایک اشتہاری مجرم نواز شریف سے ملنے لندن جارہے ہیں ایک سازش کےتحت امپورٹڈ حکومت ہم پر مسلط کی گئی،امریکا چاہتا تھا کہ ایسا حکمران آئے جب حکم کریں تو جوتے پالش کریں،شہباز شریف نے کہا ہم مانگنے نہیں آیا لیکن مجبوری ہے،جب تک ایک انسان اپنے خوف پر قابو نہیں پاتا وہ بڑا انسان نہیں ہوتا، انہوں نے اسلام کو بیچنے کی دکانیں بنائی ہوئی ہیں،ہماری قوم ایک عظیم قوم بنے گی حقیقی آزادی کیلئے جلد کال دوں گا ،چارسدہ کے عوام آپ نے حقیقی آزادی کیلئے ساتھ دیناہے،ہمیں سپر پاور کی غلامی نہیں کرنی ہے، سازش کے تحت ہماری حکومت گرائی گئی، اقتدار میں آتے ہی اربوں روپے کرپشن کیسز معاف کرائے،اس قوم کو انہوں نے دنیا کے سامنے شرمندہ کیا ہے، وقت آئے گا جب میرا پاکستانی دنیا میں فخر سے گھومے گا،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 15 سالہ لڑکے سے بدفعلی کرنے والے ملزم کو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا
واقعہ میانوالی میں پیش آیا جہاں ملزم نے 15 سالہ لڑکے کے ساتھ بدفعلی کی، لڑکے نے گھر والوں کو بتایا تو پولیس میں مقدمہ درج کروایا گیا،پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے،میانوالی تھانہ کمرمشانی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے 15سالہ لڑکے سے بدفعلی کرنے والا ملزم کو ایک گھنٹہ میں گرفتار کر لیا ،ڈی پی او میانوالی محمد نوید کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد، زیادتی اور جنسی استحصال میں ملوث ملزمان کے خلاف میانوالی پولیس زیرو ٹالیرنس پر عمل پیرا ہے۔
دوسری جانب سندھ یونیورسٹی بوائز ہاسٹل میں طالب علم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنے پر تین ملزمان گرفتار کر لئے گئے، ملزمان نے طالب علم کے ساتھ زیادتی کی تھی، ملزمان نے طالب علم کو نشہ آور چیز کھلا کر بیہوشی کی حالت میں بدفعلی کی، شکایت پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے تین طلبا کو گرفتار کر لیا، جس طالب علم کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی وہ ہاسٹل میں بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا، سندھ یونیورسٹی ہاؤسنگ سوسائٹی پولیس چوکی کے انچارج ایاز علی بگھیو کا کہنا ہے کہ 17 سالہ لڑکا شہباز ولد شہربان علی کھوسو پولیس چوکی پہنچا اور بتایا کہ وہ قاسم آباد کا رہائشی ہے اسکے ساتھ گھناؤنا کام ہوا ہے جس کے بعد پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کیا ہے
گگو منڈی کے لیڈیز کالج کی آڑ میں قحبہ خانہ کھل گیا۔
استاد اپنی طالبہ سے رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا، ویڈیو وائرل ہو گئی، ۔ٹیچروں کے کرتوت ظاہر کرنے پر چوکیدار کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں،وڈیو وائرل ہونے پر مذہبی و سماجی حلقوں میں غم وغصہ پایا جانے لگا۔
گزشتہ روز لیڈیز کالج گگو منڈی کے چوکیدار محمد افضل نے صحافیوں کو بتایا کہ! کالج کا مالک ایک عیاش قسم کا شخص ہے، جو چوری کے مقدمہ میں جیل بھی بھگت چکا ہے۔لیڈیز کالج گگو منڈی میں بھی قحبہ خانہ کھول رکھا ہے، جہاں آئے روز طلباء و طالبات کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کالج کا ہی ایک ٹیچر عابد آکاش آفس میں ایک طالبہ سے نازیبا حرکتیں کرتا پکڑا گیا تھا، جس کی وڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔ محمد افضل نے بتایا کہ! اس سے پہلے بھی کالج کے متعدد ٹیچرز بچوں کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بناتے ہوئے پکڑے گئے تھے، جن کے ثبوت بھی میرے پاس ہیں۔ ٹیچر کی اپنی طالبہ سے رنگ رلیاں منانے کی وڈیو وائرل ہوتے ہی مذہبی و سماجی حلقوں میں غم و غصہ پایا جانے لگا ہے اور والدین نے اپنے بچوں کو نجی کالجز و اکیڈمیوں سے تعلیم ادھوری چھڑوا کر گھروں میں بٹھا لیا ہے۔
شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بابت موقف لینے کیلئے لیڈیز کالج کے مالک محمودالحسن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ! کالج کی بلڈنگ میں ہی بیس اکیڈمی ہے۔ یہ واقعہ وہاں ہوا ہے کالج کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اے ٹی ایمز سمیت دیگر ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث دو خطرناک ڈکیت پولیس نے گرفتار کر لئے
سی آئی اے کراچی پولیس نے کاروائی کی .ایس آئی یو نے خفیہ اطلاع پر نزد پیٹرول پمپ بالمقابل سفاری پارک مین ابوالحسن اصفہانی روڈ سے دو ڈکیٹ گرفتار کرلیے۔گرفتار ملزمان کی شناخت خالد حسین رانجھانی ولد بہادر خان رانجھانی ،عبدالقادر عرف مزاری خان چانڈیو ولد ھدہ خان چانڈیو کے طور پر ہوئی،گرفتار ملزمان سے ایک ہینڈ گرنیڈ، ایک پستول اور موٹرسائیکل برآمد کر لیا گیا، ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کافی عرصہ سے مبینہ ٹاؤن، گلستان جوہر، عزیز بھٹی، شارع فیصل، سچل، سکھن، لانڈھی، الفلاح، کھوکھراپار، ناظم آباد ، گزری، بوٹ بیسن ملیر کینٹ کے قریبی مقامات و دیگر علاقوں میں بینکوں ، اے ٹی ایمز اور دیگر ڈکیتی کی وارداتیں کرتے رہے ہیں۔
ملزم خالد رانجہانی نے سال 2020 میں شاہ لطیف ٹاون میں ایک اے ایس آئی کو گولی مار کر زخمی کیا تھا۔ جس کا مقدمہ الزام نمبر 265/2020 تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن میں درج ہے۔ ملزم خالد رانجھانی تھانہ بوٹ بیسن کی 14 لاکھ ڈکیتی کے مقدمہ الزام نمبر 353/2022 اور تھانہ گزری کی 4 لاکھ 80 ہزار ڈکیتی مقدمہ الزام نمبر 282/2022 میں مفرور ہے۔ گرفتاری سے چند روز قبل ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں سے ملکر صفورہ سے ملیر کینٹ جانے والے روڈ پر بینک سے رقم لے کر نکلنے والے ایک شخص سے ساڑھے چھ لاکھ روپے لوٹے تھے۔اسی دن ملزمان نے ایک اور واردات میں گلستان جوہر بلاک 13 میں دن دہاڑے روڈ پر ایک بزرگ شہری سے 3 لاکھ نقدی لوٹی تھی۔ اس وقوعہ کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
ملزمان اس سے قبل متعدد بار ڈکیتی، پولیس مقابلہ اور ناجائز اسلحہ کے مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔ملزمان سے برآمد شدہ موٹر سائیکل پنچ شدہ ہے جس کا ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔ملزم خالد رانجھانی کا بھائی ارشاد رانجھانی دوران ڈکیتی سکھن کے علاقے میں ہلاک ہوا تھا۔گرفتار ملزمان سے برآمدہ ہینڈ گرنیڈ اور اسلحہ کے مقدمات تھانہ ایس آئی یو میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
میرا شوہر ایک اور لڑکی کے ساتھ بھاگ گیا، تلاش کرنے میں مدد کریں اور حاصل کریں 2 لاکھ نقد،بیوی کی اپیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شوہر گھر چھوڑ کر بھاگا تو بیوی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ وائرل کر دی اور کہا کہ تلاش کرنے میں مدد دیں اور انعام حاصل کریں،واقعہ بھارت کا ہے، بھارت کے علاقے آلوٹ میں مرد گھر سے گیا توبیوی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شوہر کی تصویر کے ساتھ وائرل کر دی اور کہا کہ میرا شوہر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بھاگ گیا ہے، اسکو تلاش کرنے مین میری مدد کریں اور جو مجھے تلاش کر کے دے گا اسکو دو لاکھ روپے انعام دوں گی،
آلوٹ کے رہائشی وکرم نوٹیہ کی بیوی نے تھانے میں بھی اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی ہے، تھانے مین وکرم کی بیوی سپنا نے درخواست میں کہا کہ ہماری شادی 2012 میں ہوئی تھی، ہمارے دو بچے ہیں، لیکن اب میرے شوہر کی ایک اور لڑکی سے دوستی ہو گئی تھی، لڑکی سے دوستی کے بعد شوہر مجھ پر تشدد کرتا تھا اور مجھے جہیز لانے کا کہتا تھا، بات بات پر تشدد سے میں پریشان تھی لیکن خاموش تھی، اب میرا شوہر اپنی گرل فرینڈ جو وکرم گڑھ کی رہائشی ہے کے ساتھ بھاگ گیا ہے، اسکو تلاش کرنے میں میری مدد کی جائے، میرے شوہر کو واپس لایا جائے، شوہر گھر سے جاتے ہوئے دو لاکھ کیس، زیورات اور موٹر سائیکل بھی لے گیا ہے
سپنا کا مزید کہنا تھا کہ اسکا شوہر ایک شاطر بدمعاش ہے، وہ لڑکیوں کا جنسی استحصال کرتا ہے اسلئے لڑکیاں اس سے دور رہین اور کہیں بھی نظر آئے تو مجھے اطلاع کریں، جو مجھے شوہر ڈھونڈ کر دے گا اسکو دو لاکھ کیش ملے گا،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے پولیس نے مقدمہ آئی پی سی کی دفعہ 498A، 294 اور 323 کے تحت درج کیا ہے
سال 2022 کے پہلے چھ ماہ کے دوران کم از کم 2211 بچوں کے ساتھ کیا گیا گھناؤنا کام
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
سانحہ قصور کے بعد شہریوں کی جانب سے ملزمان کو سزائیں دینے کی مہم چلی تھی تا ہم ایک واقعہ کے کچھ عرصے بعد عوام سب بھول جاتی ہے اور انہیں کسی نئے مسئلے کی طرف متوجہ کر دیا جاتا ہے، کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے واقعات لمحہ فکریہ ہیں
مقامی این جی او ساحل کی جانب سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے حوالہ سے اعدادوشمار کی رپورٹ کی گئی ہے جس کے مطابق سال 2022 کے پہلے چھ ماہ کے دوران کم از کم 2211 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی،یعنی روزانہ 12 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوئے،رپورٹ کے مطابق کم از کم 1207 لڑکیوں اور 1004 لڑکوں کے کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی،ساحل مقامی این جی او ہے جو بچوں کے جنسی استحصال کے حوالہ سے اعدادوشمار جمع کرتی ہے ،ساحل کی رپورٹ کے مطابق یہ تعداد گزشتہ سال کے جنوری سے جون کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھی ھے جس میں 1896 واقعات رونمار ہوئے ہیں
ساحل کی جانب سے جمع شدہ رپورٹ کے مطابق بچوں کے ساتھ زیادتی کے اعدادوشمارڈیجیٹل میڈیا، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے لئے جاتے ہیں، بچوں کو اغوا، زیادتی، قتل کے واقعات بھی نوٹ کئے جاتے ہیں، رواں برس بچوں کے اغوا کے 803 واقعات ہوئے ہیں، جن میں عصمت دری کے 243، اجتماعی عصمت دری کے 41، گینگ سڈومی کے 87 جبکہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد 17 لڑکے اور 13 لڑکیاں قتل کی گئیںعصمت دری کے دیگر واقعات میں دو لڑکوں اور ایک لڑکی کو قتل کردیا گیا تھا، رواں برس کم از کم 212 بچے گھروں سے لاپتہ ہوئے
بچوں کے جنسی استحصال کی دیگر اقسام میں کم عمری میں بچوں کی جبری شادی کے 17 مقدمات درج ہوئے ہیں، تمام 2211 کیسز میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں میں سے کم از کم 1050 افراد بچوں کے جاننے والے تھے، 409 کیسز ایسے تھے جن میں اجنبی لوگوں نے بچوں کے ساتھ زیادتی کی، زیادتی کا شکار ہونے والے 131 بچوں کی عمر پانچ سال سے کم تھی 401 کیسز میں بچوں کی عمر چھ سے دس سال کی تھی ،710 کیسز میں بچوں کی عمر گیارہ سے دس سال جبکہ 254 کیسز میں بچوں کی عمر سولہ سے اٹھارہ سال کے درمیان تھی
ساحل کی رپورٹ کے مطابق 451 بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام انکے جاننے والی جگہ پر ہوا،356 بچوں کو کھیتوں گلیوں یا جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا 279 بچوں کے ساتھ ان کے اپنے گھروں میں ہی زیادتی کی گئی، ایک بچے کو حویلی میں، 21 بچوں کو مدرسوں میں اور اتنے ہی 21 بچوں کو کام کی جگہوں پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا
پنجاب میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات1564ہوئے، اس کے بعد سندھ 338، خیبر پختونخوا 77، بلوچستان 23، آزاد کشمیر 10 جبکہ اسلام آباد میں زیادتی کے 199 واقعات سامنے آئے،
گزشتہ چند سالوں کے اعداد و شمار سے یہ دیکھا گیا ہے کہ زیادتی کرنے والے اکثر متاثرین کو بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے کے لئے ان کی تصاویر یا ویڈیوز بنا لیتا ہے تاکہ وہ آئندہ بھی متاثرین کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہے یا متاثرہ شخص کو خاموش کروایا جا سکے،تاہم2021 کے مقابلے میں 2022 میں فحش مواد کے واقعات میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔جنوری جون 2021 میں فحش مواد کے 67 واقعات رپورٹ ہوئے
حیدرآباد پولیس کا احسن اقدام، ہیومن ٹریفکنگ اور ٹرانجینڈر مسائل بخوبی حل
حیدرآباد پولیس جہاں کرائم، شہر میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کیلئے متحرک اور پیش پیش ہے وہاں دیگر مسائل کو بھی زیر غور رکھتے ہوئے ان پر عملا کام جاری ہے، ایسی ہی مثال ہماری سوسائٹی میں رہنے والے ٹرانسجینڈر کے درمیان عرصہ دراز سے جاری مسائل کو بخوبی انداز سے حل کرنے کی پیش خدمت ہے
ایس ایس پی حیدرآباد امجد احمد شیخ کی زیر نگرانی کمپلینٹ سیل ایس ایس پی آفس میں قائم وومن اینڈ ٹرانسجینڈر ڈیسک انچارج ماریہ نوید سمیجو جو خواتین و ٹرانسجینڈر کے مسائل کو بخوبی انجام دے رہی ہیں، جہاں گزشتہ دنوں ٹرانسجینڈر کے درمیان ہیومن ٹریفکنگ سمیت دیگر مسائل کو بخوبی انداز سے حل کیا گیا اور متفقہ طور پر ٹرانسجینڈر کمیونٹی کے تمام ذمہ داران کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ وہ آئندہ ہیومن ٹریفکنگ جیسے عمل کو کبھی سپورٹ نہیں کریں گے البتہ اس طرح کے کسی بھی عمل سے مکمل طور پر اجتناب کریں گے بصورت دیگر انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی
ٹرانسجینڈر ہماری سوسائٹی میں اہمیت کے حامل ہیں اور انہیں باقاعدہ تمام حقوق حاصل ہیں اور ہر شہری کا فرض ہے کہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے اور انکی کبھی حق تلفی نہ کرے جس سے انکی حوصلہ شکنی ہو