سکول میں طالبات کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا چوکیدار گرفتار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 15 سالہ طالبہ کو ہراساں کرنے والا سکول کا چوکیدار گرفتار کر لیا گیا ہے
واقعہ بھارت میں پیش آیا، بھارت کے شہر ممبئی میں مقامی سکول میں 15 سالہ طالبہ کو سکول کے چوکیدار نے جنسی طور پر ہراساں کیا، جس کے بعد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے سکول کے چوکیدار کو گرفتار کر لیا، پولیس حکام کے مطابق یہ کیس اسوقت سامنے آیا جب لڑکی کے گھر والوں نے لڑکی کے رویئے میں تبدیلی دیکھی، اسکے بعد لڑکی کے گھر والوں نے سکول میں رابطہ کیا جہاں وہ پڑھ رہی تھی
بھارتی میڈیا کے مطابق پانچ ستمبر کو سکول کے چوکیدار نے لڑکی کو بلایا اور اسے غیر اخلاقی طریقے سے چھوتا رہا،چوکیدار نے لڑکی کے ساتھ غلط کام کرنے کی بھی کوشش کی، جب والدین نے سکول انتظامیہ سے رابطہ کیا تو سکول انتظامیہ نے پولیس میں مقدمہ درج کروا دیا، پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے چوکیدار کو گرفتار کر لیا ہے، چوکیدار کی گرفتاری کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ ملزم اس سے قبل بھی کئی لڑکیوں کو ہراساں کر چکا ہے، ملزم چوکیدار نے لڑکیوں سے ان کے موبائل فون نمبر بھی لے رکھے تھے اور انکو نہ صرف سکول میں ہراساں کرتا تھا بلکہ فون پر کالز کرنے کی بھی کوشش کرتا تھا
چوکیدار کی گرفتاری کے بعد دیگر لڑکیوں نے بھی پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے، والدین نے چوکیدار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے، سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم بھی چوکیدار کو سزا دلوانے میں والدین کے مطالبے کے ساتھ ہیں،
بغاوت کیس میں شہباز گل کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر شہباز گل کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی ،عدالت نے کیس کی سماعت 15 ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی
علاوہ ازیں اسلام آباد کی مقامی عدالت میں اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی پیش ہوئے اور کہا کہ مجھے پتہ چلا تھا کہ 14 ستمبر کو کیس سماعت کے لیے مقرر ہے،کچھ وقت تیاری کے لیے دے دیں عدالت نے کیس 15 ستمبر کو حتمی دلائل کے لیے مقرر کردیا
شہباز گل کی درخواست ضمانت کے سماعت کے موقع پر کوئی پارٹی کا رہنما یا کارکن عدالت کے باہر موجود نہ تھا، شہباز گل پر غداری کا مقدمہ درج ہونے کے بعد پارٹی رہنماؤں نے شہباز گل کے بیان کو غلط تسلیم کیا ہے اور کاروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے تا ہم عمران خان ابھی تک شہباز گل کے حق میں بیان دکھائی دیتے ہیں، آئین شکنی کے مرتکب عمران خان غداری کے ملزم کے لئے ریلی نکال کر اور اسکے حق میں بیان دے کر کیا یہ پیغام نہیں دے رہے کہ وہ غداری کے ملزم کے ساتھ ہیں ،
خیال رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی رہنما شہبازگل نے اسلام آباد کی سیشن عدالت میں بھی درخواست ضمانت دی تھی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرکے خارج کردیا تھا۔شہباز گل کے وکیل برہان معظم نےعدالت میں دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا تھا کہ اُن کے موکل اپنے بیان کے حوالے سے پیدا ہونے والی کسی بھی غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ وکیل برہان معظم نے اپنے دلائل میں کہا کہ شہباز گل معافی مانگنے کیلئے بھی راضی ہیں لیکن عدالت یہ بھی دیکھے کہ اُن کی گفتگو کے مختلف نکات کو اٹھا کر کس طرح بغاوت کا الزام لگایا گیا۔
واضح رہے کہ شہباز گل کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا ہے ،شہباز گل نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ جنسی تشدد ہوا ہے، شہباز گل کو گرفتار کیا گیا تھا تو دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد انہیں اگلے ریمانڈ سے قبل ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا تا ہم پولیس نے شہباز گل کے ساتھ چال چلی اور پھر دو روز کا مزید ریمانڈ لے لیا، شہباز گل کے کمرے پر چھاپہ مارا گیا تو وہاں سے پستول برآمد ہوا جس کے بارے میں شہباز گل نے کہا کہ یہ میرا نہیں ہے، پستول کی برآمدگی کا مقدمہ بھی شہباز گل کے خلاف درج کیا جا چکا ہے
دس سالہ بچی کھانا دینے گئی تو نیت ہوئی خراب،کیسے کیا گھناؤنا کام؟ ملزم سچ بول پڑا
تھانہ محمود آباد پولیس سے کم سن بچی کی لاش ملنے کا نوٹس ایس ایس پی ایسٹ سید عبدالرحیم شیرازی کے احکامات پر اصل مجرم سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا
بچی 10 سالہ بچی دعا فاطمہ کے قاتل ذیشان نے اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے کم سن بچی کی جان لے لی۔ ابتدائی تفتیش کی مطابق کم سن بچی قاتل کو کھانا دینے گئ تھی۔ بے رحم درندے نے بچی اس کی جان لے لی۔ایس ایچ او محمود آباد ٹیکنیکل بنیاد پر اصل قاتل تک پہنچے۔ قتل کی واردات میں ملوث سفاک ملزم ذیشان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم نے بچی سے زبردستی کی تو بچی نے چلایا۔جس پر ملزم نے دروازہ بند کرکے بچی کے دوپٹہ سے ہی گلا دبا کر قتل کر دیا۔ملزم نے بچی کو قتل کرنے کے بعد حوس کا نشانہ بنایا ملزم نے ابتداٸی تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا۔ملزم ذیشان کم سن بچی کے رشتے دار کا ملازم تھا۔
ترجمان ایس ایس پی ضلع ایسٹ پولیس کے مطابق ایس ایس پی ایسٹ نے کہا کہ بچی دعا فاطمہ کے قاتل کو سلاخوں کے بیچ ڈالنا میرا مقصد اور کراچی پولیس کی اہم کامیابی ہے۔مزید ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے سمپل ترسیل کئے جاٸینگے۔پولیس نے شک کے بنیاد پر دوسرے مشتبہ شخص (ش) کو بھی حراست میں لیا ہے گرفتار ملوث ملزم اور مشتبہ سے مزید تفتیش جاری ہے۔
قبل ازیں مکی شاہ پولیس نے منشیات فروشوں اور اشتہاری و روپوش ملزمان کے خلاف مختلف کاروائیوں میں 4 ملزمان گرفتار کر لئے، ایس ایس پی حیدرآباد امجد احمد شیخ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت پر عملدرآمد کرتے ہوئے حیدرآباد پولیس کا اشتہاری و روپوش ملزمان اور منشیات فروش کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، ڈی ایس پی حالی روڈ شکیل احمد سولنگی کی سربراہی میں ایس ایچ سب انسپیکٹر عطاء محمد کاکا نے اپنے اسٹاف کے ہمراہ کاروائیاں کیں، دوران پیٹرولنگ مختلف مقامات سے کاروائیاں کرتے ہوئے 3 ملزمان بنام فیضان شیخ، باسط شیخ اور حنیف بلوچ کو چرس فروخت کرتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا گرفتار ملزمان کے قبضے سے برآمد چرس پولیس تحویل میں لیکر نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئےمکی شاہ پولیس نے مزید کاروائی کرتے ہوئے جعلسازی کے مقدمے میں روپوش ملزم بنام رحمان علی لاشاری کو گرفتار کرلیا گرفتار ملزم مقدمہ کرائم نمبر 30/2021 زیر دفعہ 489-F تعزیرات پاکستان میں روپوش تھا
تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب سے عمران خان نے روایتی سیاست سے ہٹ کر ملک کو سیاسی بحران میں دھکیلا ہے تب سے ان کا سیاسی مقدر بھی سو گیا ہے ۔
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جارحانہ طرز سیاست سے ایک کے بعد ایک بحران ان کی پارٹی کے اندر بھی جنم لے رہا ہے۔ یہ بحران کبھی آئینی ہو تا ہے تو کبھی قانونی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ توہین عدالت ، ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ ریفرینس اور اب بغاوت کے مقدمے عمران خان کی سیاست پر کاری ضرب لگا رہے ہیں ۔ عمران خان جتنے مقبول ہیں اتنے ہی ان کے عوامی نمائندوں کے منہ سوجھے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کو پارٹی کے اندر سے بھی ایک بڑے بحران کا خدشہ ہے کیونکہ سیاست کے پنڈت اس وقت تحریک انصاف کی بقاء پر سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں ۔ کچھ افواہیں یہ بھی اڑ رہی ہیں کہ تحریک انصاف کو قیادت کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔آج ہم بات کریں گے کہ کس طرح تخت پنجاب پر ایک بار پھر کالے بادل منڈلا رہے ہیں ، اس کے علاوہ عمران خان کے گرد موجود خوشامدی ٹولا کیسے تحریک انصاف کی جڑیں کاٹ رہا ہے ۔ایک ہی ملک میں رہنے والے دو شہریوں کےلیے قانون اور انصاف کی تعریف مختلف کیوں ہے Corruption Queen کو کیسے بچایا جا رہا ہے ؟اور تحریک انصاف کی بقا کو کس سے خطرہ لاحق ہے ؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت عمران خان ایک شدید کشمکش کے عالم میں ہیں کیونکہ ان کی پارٹی کے اندر کے لوگ آپس میں دست گریبان ہور ہے ہیں ۔ ۔ ایک مشکل سے نکلتے ہیں تو نئی مشکل ان کا راستہ تک رہی ہوتی ہے ۔ ان دنوں فواد چوہدری جنھیں سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے اور جو اپنی زبان سے ہمیشہ اس معاشرے کے اخلاقیات کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں ، ان کے درمیان اور عمران خان کے وکیل حامد خان کے دوران لفظی گولہ باری جاری ہے ۔یہ جنگ پہلے اتنی زیادہ شدید نہیں تھی لیکن جب سے عمران خان نے حامد خان کو توہین عدالت کیس میں اپنا وکیل رکھا ہے تب سے اس جنگ میں شدت آ گئی ہے اور آہستہ آہستہ اس آگ کے شعلے تحریک انصاف کے باقی رہنماوں کو بھی گھائل کر رہے ہیں ۔۔کل عمران خان توہین عدالت کیس میں پیش ہوئے اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد معزز عدالت نے ان کا موقف غیر تسلی بخش قرار دیا اوراس کے ساتھ ہی ان پر فرد جرم بھی عائد ہو گیا۔اب فواد چوہدری اور عمران خان کے قریب گردش کرنے والے ٹولے کے مطابق حامد خان ٹھیک سے کیس نہیں لڑ رہے ۔ فواد چوہدری نے تو یہ تک کہہ دیا کہ حامد خان کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی وہ تحریک انصاف کو Represent کرتے ہیں ،۔ حامد خان اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق کیس لڑیں ۔اس کی وجہ کیا ہے ؟ فواد چوہدری اور تحریک انصاف کے باقی اراکین میں حامد خان کی وجہ سے کیوں اتنا غصہ ہے؟ وہ وجہ یہ ہے کہ حامد خان شروع دن سے عمران خان کے ساتھ رہے ہیں ۔ حامد خان کا شمار تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔ اور فواد چوہدری جس کا کام ہی لوگو ں کو آپس میں لڑوانا اور پھوٹ ڈلوانا ہے ، اب اس مشن پر ہے کہ حامد خان اور عمران خان کے درمیان کچھ ایسا ہو جائے جس سے حامد خان سے ہمیشہ کےلیے جان چھوٹ جائے۔در اصل یہ وہ ٹولہ ہے جو عمران خان کی ہر سیاسی شکست کا ذمہ دارہے ۔ انھی کے مشوروں اور خوشامد سے تحریک انصاف آج بحرانوں کی زد میں ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں اور جان بوجھ کر چاہتے ہیں کہ عمران خان کو کیسز میں پھنسا دیں تا کہ پارٹی ان کی جھولی میں آ گرے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب آ جاتے ہیں پنجاب میں بڑھنے والے سیاسی درجہ حرارت کی طرف ۔ میں نے کچھ دن پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ پنجاب میں ایک بڑی ہلچل ہونے والی ہے اور عمران خان سمیت چوہدری ایک بڑی پریشانی کے عالم میں مبتلا ہیں ۔اب اس تبدیلی کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں اور عمران خان نے ایک بار پھر اپنے جلسوں میں رونا پیٹنا شروع کر دیا ہے۔۔ مسٹر ایکس اور مسٹر وائی کا تذکرہ بھی ایک بار پھر زور پکڑنے لگا ہے ۔ جیسا کی ان کی عادت ہے جب حالات ان کے قابو میں نہیں ہوتے تو وہ الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں ۔ عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے تو عدالت کے خلاف، الیکشن کمیشن ان کے خلاف فیصلہ دے تو الیکشن کمیشن کے خلاف ہو گئے اور جب کوئی منجن نا بچا تو فوج کو بدنام کرنا شروع کر دیا ۔ لیکن جیسے ضمنی الیکشن میں اداروں کو متنازعہ بنانے کی ساری کوششیں ناکام ہوئی تھیں اس بار بھی ہر کوشش ناکام ہو گی۔پنجاب میں پرویز الہی کی حکومت صرف دس ووٹوں کے بل بوتے ٹکی ہوئی ہے ۔ جیسے ہی ان دس ووٹوں کی بیساکھی کھسکی تو پرویز الہی کے نیچے سے تخت پنجاب بھی سرک جائے گا۔منصوبہ یہ ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب سے کچھ ایم پی ایز تحریک انصاف چھوڑیں گے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے استعفی دے کر مسلم لیگ نواز میں شامل ہو جائیں کیونکہ جنوبی پنجاب کی اکثریت ن لیگ ہی سے تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھی ۔اور اس کے بعد ق لیگ کے کچھ ایم پی ایز بھی ہو سکتا ہے کہ چوہدری پرویز الہی کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ ق لیگ کے ایم پی ایز تو پہلے بھی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقاتیں کر چکے ہیں ۔ اور چند اور ملاقاتوں کی اطلاع بھی میرے تک پہنچ چکی ہے ۔ اس لیے حالات بیان کر رہے ہیں کہ بہت جلد پنجاب میں ایک بڑی تبدیلی آ جائے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد ایک بڑی اور ہوش اڑانے والی خبر میری آنکھوں سے گزری او ر میں ابھی تک سکوت کے عالم میں ہوں ۔ یہ خبر تھی فرح گوگی کے حوالے سے ۔ آپ کو مبارک ہو کہ فرح گجر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ اب خارج ہو گیا ہے ۔ اس مقدمے میں فرح گجر پر فیصل آباد میں غیر قانونی طور پر دس ایکڑ زمین الاٹ کروانے کا الزام تھا ۔ آج ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم جن کے پاس ڈی جی اینٹی کرپشن کا اضافی چارج بھی ہے انھوں نے یہ مقدمہ خارج کیا اور ساری تحقیقات کوبھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ فرح گجر کی کرپشن کی داستانیں تو میں نے خود دکھائی تھیں ۔ اس کے سارے ثبوت بھی ٹیلی ویژن پر میں نے دکھائے تھے لیکن اس کے باوجود یہ مقدمہ بند کر دیا گیا ۔اور یہ مقدمہ خارج کیسے ہوا؟ اس کی تو بڑی واضح وجہ ہمارے سامنے ہے ۔ جب دس سیٹوں کے عوض آپ کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت مل جائے تو پھر آپ مالک کی حکم عدولی تو نہیں کر سکتے ۔ یا فرض کرو اگر آپ کریں بھی تو کب تک آپ Resistکر سکتے ہیں ۔اس لیے پہلے عثمان بزدار کے خلاف بنائے گئے سارے کیس بند ہوئے اور اب فرح گجر جو ایک طرح سے Corruption Queen تھی، جس نے اربوں روپے کے گھپلے کیے ۔ اس پر قائم کیے گئے مقدمے بھی خارج ہو رہے ہیں۔تحریک انصاف کی تو تاریخ رہی ہے کہ جو جب تک عمران خان کے سامنے سر جھکاتا ہے تب تک وہ نوازا جاتا ہے اور جیسے ہی کوئی عمران خان کی Favorite Listسے نکلتا ہے تب اس کے برے دن شروع ہو جاتے ہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ہ میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ ایک طرف پنجاب میں فرح گوگی پر کرپشن اور بے ضابطگیوں کے کیس بند ہو رہے ہیں ، وہیں دوسری طرف تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی کے خلاف کرپشن کے کیس کھولے جا رہے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے ممبر محمد فہیم نے کچھ دن پہلے پارٹی چھوڑی ۔ اور عمران خان کے یوٹرن سے تنگ آ کر پارٹی چھوڑی ۔ اس کے بعد آج اس گستاخی پر انھیں اینٹی کرپشن کا نوٹس موصول ہو گیا ۔یہ وہ محمد فہیم ہیں جن کا خیبر پختونخواہ کی سیاست میں ایک اہم کردار ہے اور یہ تحریک انصاف میں ایک نیا Forward Block بھی بنا سکتے ہیں ۔ اس لیے اب انھیں Pressurizeکیا جا رہا ہے کہ آپ نے تحریک انصا ف چھوڑنے اور اختلاف کرنے کی جرات کیسے کی ہے ؟اب تو عمران خان جس رخ سفر کر رہے ہیں ہو سکتا ہے وہ اختلاف کرنے والے کو اسلام سے خارج ہونے کا بھی فتوی صادر کر دیں ۔ کیونکہ ان کے بقول تو جو وفاداری بدلتا ہے اورSpecificallyتحریک انصاف سے وفاداری بدلتا ہے تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ یہ میں کوئی طنز نہیں کر رہا بلکہ عمران خان واقعی آج کل جلسوں میں ایسے جملے کہہ رہے ہیں اور برملا کہہ رہے ہیں کوئی انھیں روکنے والا نہیں ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کل رات ملتان میں تو انھوں نے نعوذباللہ تحریک انصاف میں شرکت کو اسلام قبول کرنے سے Link کر دیا ۔اب ایسے شخص کی عقل پر بندا ماتم نا کرے تو اور کیا کرے ؟ایک طرف غریب مر رہا ہے ، سیلاب متاثرین کے بچے بلک بلک کر خیموں کے اندر دم توڑ رہے ہیں ، بے روزگاری اور پسماندگی عروج پر ہے ۔ جمہوری مسائل ایک طرف ہیں ۔ سیاست میں رواداری ، احترام، اختلاف کے حسن کو دیمک چاٹ رہی ہے اور ہمارے حکمران ہمیشہ کی طرح غفلت کی نیند سو رہے ہیں ۔ غداری کے ، شرک کے فتوے بانٹ رہے ہیں ۔۔۔ لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دے رہے ہیں اللہ ہی پاکستان کا ہامی و ناصر ہو۔
بیٹی پیدا ہونا جرم، خاتون پر بہیمانہ تشدد، گھر سے نکال دیا گیا
شیخوپورہ کے علاقہ جھبراں میں ایک دل دہلا دینے والا واقع پیش آیا جہاں شوہر اپنی بیوی پر تشدد کر رہا ہے۔ ڈی پی او شیخوپورہ کو اس ضمن میں درخواست دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سائلہ نسیم اختر محنت مزدوری کرتی ہوں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہوں سائلہ کی بیٹی کا نکاح اعجاز سے ہوا، بیٹی کی بیٹی پیدا ہوئی ،17 اگست کو میری بیٹی پر شدید اور بہیمانہ تشدد کیا گیا صدر تھانہ شیخوپورہ میں کاروائی کے لئے درخواست دی گئی مگر پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی، میری بیٹی کو گھر سے نکال دیا گیا
ملزم نے میرے گھر آ کر مجھے پستول دکھا کر دھمکیاں دیں اور کہا کہ جان سے مار دیں گے،مجھے تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزم کے خلاف کاروائی کی جائے،خاتون کا کہنا ہے کہ بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے ملزم نے میری بیٹی پر تشدد کیا اور اسے گھر سے نکالا، تا ہم اس حوالہ سے پولیس نے ابھی تک کسی قسم کی کاروائی نہیں کی، خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں اس بات کا ذکر نہیں کیا،
قبل ازیں پنجاب کے شہر میانوالی میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا پہلی اولاد بیٹی پیدا ہونے پر سفاک باپ نے 7 دن کی بیٹی کو 5 فائر مار کر قتل کردیا پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ محلہ نور پورہ میں پیش آیا جہاں باپ کی فائرنگ سے 7 روز کی نومولود جاں بحق ہو گئی ہے، ملزم جائے وقوعہ سے بھاگ گیا ہے ،پولیس کے مطابق ملزم بیٹے کا خواہشمند تھا اور بیٹی پیدا ہونے پر اسے مار دیا،
چیئرپرسن نیشنل کمیشن برائے وقار نسواں نیلوفر بختیار کا کہنا ہے کہ باپ نے7 دن کی بچی کو اس لیے قتل کیا کہ اس کو بیٹے کی خواہش تھی ملزم کی گرفتاری کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔ ہمارے ملک میں انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ میانوالی میں جس باپ نے اپنی پہلی اولاد جو بدقسمتی سے بیٹی ہو گئی اس کو پانچ فائر مار کر زندہ درگور کر دیا اس معاشرے میں کچھ نہیں بدل سکتا اگر کوئی ہمت کر کے عورتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھاے تو اس کو ہر طرح کی گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے پدر سری معاشرے میں عورت ہونا جرم ہے
گوجرانوالہ جانے کیلئے ہیلی کاپٹر پر سوار عمران خان کو اتار لیا گیا
گوجرانوالہ مین جلسے کے لئے عمران خان بذریعہ ہیلی کاپٹر جا رہے تھے تا ہم انہیں ہیلی کاپٹر سے اتار لیا گیا ہے، عمران خان اب براستہ روڈ گوجرانوالہ کے لئے روانہ ہو چکے ہیں، ہیلی کاپٹر میں فنی خرابی کی وجہ سے وہ اس پر سفر نہ کر سکے عمران خان کے طیارے میں فنی خرابی کے بعد عمران خان کے طیارے کے کپتان نے بحفاظت لینڈنگ کر لی ہے اڑان بھرتے ہی طیارے میں فنی خرابی ہوئی طیارے کے کپتان نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرکے بحفاطت لینڈنگ کی،
عمران خان آج گوجرانوالہ مین جلسہ سے خطاب کریں گے، عمران خان کو جے آئی ٹی میں بھی طلب کیا گیا تھا مگر عمران خان نے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کی بجائے جلسے میں جانے کو ترجیح دی، پولیس کی جے آئی ٹی نے انہیں 5 بجے پیش ہونے کا نوٹس دیا تھا پولیس کی جےآئی ٹی نے عمران خان کو اس سے پہلے 9 ستمبر کو بھی پیش ہونے کا کہا تھا، لیکن وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے پولیس کی جے آئی ٹی نے عمران خان کو پیش ہونے کے لیے دوسرا موقع دیا
تحریک انصاف کی حقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین اجتماع آج گوجرانوالہ میں ہوگا ،اسد عمر نے 36 بڑے شہروں کی فہرست جاری کی تھی، تحریک انصاف کے کارکنان اورعوام آج 36 مقامات پرجمع ہوں گے، جس میں راولپنڈی مری روڈ،اسلام آباد ایف نائن پارک اور پشاور میں حشت نگری چوک ، صوابی چوک، مردان پریس کلب، نوشہرہ میں شوبراچوک اورخیبرمیں خیبر چوک باڑہ شامل ہیں کندھ کوٹ میں انصاف ہاؤس بکشاپور، جیکب آباد میں ڈی سی چوک گھوٹکی میں پریس کلب ، شیخوپورہ میں انصاف سیکرٹیریٹ، قمبر شہداد کوٹ میں تحریک انصاف دفتر پرعوام جمع ہوں گے۔مقامات میں خیرپور پریس کلب، سکھر انصاف ہاؤس حیدرآباد پریس کلب ، کراچی میں گلستان جوہراورکوئٹہ میں پریس کلب ، لاہور میں لبرٹی چوک اوت اوکاڑہ میں صنم سینما سے پریس کلب شامل ہیں۔دیپالپور میں انصاف ہاؤس سے مدینہ چوک تک ، چنیوٹ میں سیٹلائیٹ ٹاؤن،رینالہ خورد میں لائبہ چوک ، ساہیوال میں جوگی چوک، فیصل آباد میں گھنٹہ گھر پر عوام جمع ہوں گے۔اسی طرح خانیوال میلاد مصطفی چوک، سرگودھا خیام چوک، پاکپتن نگینہ چوک ، لیہ پرانا بلوچ اڈا ، لودھراں میں تحریک انصاف سیکریٹریٹ ، بہاولپورمیں سٹی چوک اور ڈی جی خان میں ٹریفک چوک میں عوام اپنے کپتان سے اظہار یکجہتی کریں گے۔ان مقامات پر بڑی اسکرینیں نصب کی جائیں گی جن پرعمران خان کا خطاب براہِ راست دکھایا جائے گا ، میڈیا و سماجی میڈیا کے مقامی نمائندوں کو ان ملک گیر اجتماعات کی مکمل کوریج کیلئے مدعو کیا جائے گا۔
عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دے دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جب سے حکومت گئی ہے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں
میں کال دوں گا کا نعرہ لگا کر کارکنان کو اکٹھا کرتے ہیں اور پھر خود کبھی بنی گالہ، کبھی خیبر پختونخوا ہاؤس چھپ جاتے ہیں، اداروں پر تنقید عمران خان نے وطیرہ بنا لیا ہے، الیکشن کمیشن کے خلاف بھی عمران خان نے محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے، عمران خان سمجھتے ہیں کہ بس صرف میں ہی ٹھیک ہوں باقی سب غلط، پاکستان میں جس نے جو بھی کرنا ہے وہ مجھ سے پوچھ کر ہی کرے، خواہ آئین و قانون کو پاؤں تلے کیوں نہ روند دیا جائے لیکن جو میں کہوں وہی ہو، کیونکہ آئین شکنی میں عمران خان کا نام آ چکا ہے
عمران خان مسلسل اداروں پر تنقید کر رہے ہیں، اب انہوں نے ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دے دیا ہے، عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو گھٹیا آدمی قرار دیا او کہا کہ انہیں شرم ہی نہیں آتی کبھی توشہ خانہ کا کیس آ جاتا ہے، کبھی فنڈنگ کا کیس آ جاتا ہے ، تحریک انصاف کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ انہیں سیاست سے الگ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔
موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی عمران خان نے ہی کی تھی، انکے دورحکومت میں ہی اپنی مرضی سے عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کو تعینات کیا تھا، اب عمران خان حکومت جانے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نہ صرف احتجاج کرتے ہیں بلکہ انہیں گھٹیا آدمی بھی کہتے ہیں، عمران خان کو فارن فنڈنگ کیس سمیت دیگر کئی مقدمات میں نااہل ہونے کا خوف ہے اسی وجہ سے انہیں سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا بولیں،کس کو بولیں کیونکہ سب تعیناتیاں و تقرریاں انہوں نے اپنے دور میں خود کیں اور اب پھر غصہ بھی نکالتے ہیں
ن لیگی رہنما، رکن پنجاب اسمبلی، حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کیلئے نازیبا الفاظ کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ یہ شخص اداروں کے سربراہوں کو دباؤ میں لانے کیلئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے، سلیوٹ ہے ان تمام سربراہوں کو جو اس گھٹیا فتنے کے دباؤمیں نہیں آ رہے۔
عمران خان کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کیلئے نازیبا الفاظ کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ یہ شخص اداروں کے سربراہوں کو دباؤ میں لانے کیلئے اس طرح کے الفاظ استعمال کرتا ہے، سلیوٹ ہے ان تمام سربراہوں کو جو اس گھٹیا فتنے کے دباؤمیں نہیں آ رہے۔۔۔ #گھٹیا_فتنہ
یوں محسوس ہوتا ہے کہ بنی گالہ کے اندر ع سے عمران، ع سے عثمان بزدار والی جو پریکٹسز چل رہی تھیں وہ سب الٹی ہو گئی ہیں اور سب عمل کا ردعمل الٹا آنا شروع ہو چکا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں تاجر سے سات کروڑ بھتہ مانگنے والے ملزمان گرفتار کر لئے گئے
سی آئی اے پولیس نے کاروائی کی اور تاجر سے 7 کروڑ بھتہ طلب کرنے والے 2 ملزمان گرفتار کئے، ایس آئی یو نے شاہ لطیف ٹاؤن نزد عثمانیہ ریسٹورنٹ سے دو بھتہ خور 1۔ محمد عاصم ولد محمد اعظم 2۔ نعمان ولد عبدالخالق کو گرفتار کر لیا۔ملزمان نے آل کراچی فریش ملک ہول سیلرز ایسوسیئیشن کے صدر محمد جمیل سے بذریعہ ٹیلیفون کال 7 کروڑ بھتہ طلب کیا تھا۔ملزمان سے تاجر کو بھتہ کی کال میں استعمال ہونے والی سم بھی برآمد کر لی گئی، بھتہ طلبی کا مقدمہ الزام نمبر 478/2022 بجرم دفعہ 384/385/386 ت پ، 7 اے ٹی اے تھانہ سکھن میں درج ہو تھا جس کی تفتیش ایس آئی یو کے سپرد ہوئی۔ایس آئی یو نے تفتیش ملنے کے پہلے ہی دن ٹیکنیکل مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا۔
ملزمان کو تفتیش کے پہلے ہی دن گرفتار کرنے پر ایس ایس پی ایس آئی یو نے تفتیشی افسر اور ٹیکنیکل ٹیم کو 50 ہزار نقدی انعام اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔دونوں گرفتار ملزمان مدعی تاجر کے پاس ملازمت کرتے تھے۔ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
علاوہ ازیں تھانہ عوامی کالونی پولیس نے انٹیلجنس اطلاع پر کامیاب پولیس کارواٸی کی اور اسٹریٹ کراٸم و موٹرساٸیکل چوری لفٹنگ کی وارداتوں میں ملوث گینگ برسٹ کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا ۔ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے 3 مسروقہ موٹرساٸکلیں اور 6 عدد مختلف مسروقہ موٹرساٸکلوں کے چیچس بھی برآمد کئے گئے، گرفتار ملزمان میں آصف ولد یونس, رحمت ولد نعیم اور عبداللہ ولد نیازالدین شامل ہیں ۔گرفتار ملزمان عادی پیشہ مجرم ہیں اور پہلے بھی موٹرساٸیکل چوری کے دیگر مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکے ہیں ۔ گرفتار ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے مزید انٹیروگیشن کیلۓ تفتیشی حکام کے سپرد کردیا گیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کی درخواست ضمانت 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقررکردی گئی ہے.
گزشتہ روز وزیراعظم کی پیشی کے باعث شہباز گل کیس کی کازلسٹ منسوخ ہوگئی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے نئی کاز لسٹ جاری کی ہے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ شہباز گل کی ضمانت کی درخواست پر 14 ستمبر کو سماعت کریں گے۔ عدالت نے شہباز گل کی درخواست پر پراسیکوشن کو نوٹس کرکے جواب طلب کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کو 9 اگست کو بنی گالا چوک سے گرفتار کیا تھا، ان پر اداروں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات اور ان کے سربراہوں کے خلاف بغاوت پر اکسانے سمیت 10 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق ایک نیوز چینل پر نشر کیے گئے پروگرام میں شہباز گل نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بریگیڈیئر کے رینک سے نیچے اور اس سے اوپر کے افسران کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ شہباز گل نے بریگیڈیئر کے عہدے سے نیچے کے افسران کو سیاسی جماعت سے منسلک کرنے کی کوشش کی۔
تاہم خیال رہے کہ: گزشتہ ماہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی’ نیوز کو اپنے شو میں سابق وزیرِا عظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان ‘مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا’۔ اے آر وائی کے ساتھ گفتگو کے دوران ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے’۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا ‘اسٹریٹجک میڈیا سیل’ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔
شہباز گل نے کہا تھا کہ جاوید لطیف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق سمیت دیگر حکومتی رہنماؤں نے ماضی میں فوج پر تنقید کی تھی اور اب وہ حکومتی عہدوں پر ہیں۔ پیمرا کی جانب سے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اے آر وائی نیوز پر مہمان کا دیا گیا بیان آئین کے آرٹیکل 19 کے ساتھ ساتھ پیمرا قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
توہین مذہب کے مقدمہ میں صحافی وقار ستی کی عبوری ضمانت 19ستمبر تک منظور کر لی گئی
ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں درخواست ضمانت دائر کی گئی تھی ،عدالت نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 50ہزار کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا، وقار ستی کی عدالت پیشی کے موقع پر اسلام آباد راولپنڈی کے صحافیوں کی بڑی تعداد اظہار یکجہتی کے لئے عدالت کے باہر جمع تھی
ضمانت کے بعد صدر پی ایف یو جے افضل بٹ صحافیوں اورسول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ خوشی کا اظہار کرتے ہوے عدالت سے باہر آ رہے ہیں۔ ضمانت کے بعد ۔ وکیل قاضی حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کامثالی اتحاد ،ایک اور فتح مبارک،پنجاب حکومت کی ایما پر ہوئے جھوٹے مقدمے میں صحافی وقار ستی کی عبوری ضمانت راولپنڈی کی عدالت سے منظور کر لی گئی ہے
پنجاب حکومت کی جانب سے قائم کئے گئےجھوٹے مقدمے میں سینئر صحافی وقار ستی کی عبوری ضمانت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے منظور کر لی،ضمانت کے بعد صدر پی ایف یو جے افضل بٹ صحافیوں اورسول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ خوشی کا اظہار کرتے ہوے عدالت سے باہر آ رہے ہیں۔#waqarsatti#وقارستیpic.twitter.com/TWWcxey18D
وقار ستی کے خلاف مقدمہ آر اے بازار تھانہ میں کیبل آپریٹر چوہدری ناصر قیوم کی مدیت میں درج کیا گیا تھا، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ وقار ستی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کئی باتیں کی ہیں جن کا عمران خان کے خطاب سے کوئی تعلق نہیں ہے عمران خان سے منسوب وقار ستی کی باتیں حقائق کے منافی ہیں اور ان کی باتوں سے میرے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے.
صحافیوں کی جانب سے وقار ستی کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی مزمت کی گئی ہے ،وقار ستی کے خلاف سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے ٹرینڈ بھی چلایا تا ہم پاکستان بھر کے صحافیوں نے وقار ستی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور انکے خلاف مہم اور اندراج مقدمہ کی مذمت کی گئی،