ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے نوٹس پر شہری عامر کے قتل میں ملوث ملزم گرفتارکر لیا گیا
گرفتارملزم لبھا نے کچھ عرصہ قبل شہری عامر کو چھریوں کو پے در پے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا، مقتول عامر نے ملزم لبھا سے تعلقات کے شبہ پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی،ملزم لبھا نے مقتول عامر کو طلاق دینے کی رنجش پر قتل کیا،ملزم قتل کی سنگین واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گیا تھا
انچارج انویسٹی گیشن شیرا کوٹ نے ہمراہ ٹیم ملزم کو گرفتار کیا،ایس پی انویسٹی گیشن اقبال ٹاؤن کا کہنا ہے کہ سفاک ملزم کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی طرف سے خطرناک ملزم کی گرفتاری پر پولیس ٹیم کو شاباش دی گئی ہے
قبل ازیں گجر پورہ پولیس ان ایکشن،بیوی کے قتل میں ملوث سفاک شوہر گرفتارکر لیا گیا ایس ایچ او گجر پورہ افضل سندھو کے مطابق گجر پورہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ملزم احسان کو فوری گرفتار کیا۔مرکزی ملزم احسان نے اپنی بیوی کو گھریلو ناچاقی پر پسٹل سے فائر کر کے قتل کیا تھا احسان کی بیوی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہوئے موقع پر جاں بحق ہو گئی تھی۔ گجر پورہ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مقتولہ خاتون کے والد کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کیا تھا
مرکزی ملزم احسان سابقہ ریکارڈ یافتہ جس پر ناجائز اسلحہ چوری اور دھمکیوں کے مقدمات درج تھے مرکزی ملزم احسان کی بروقت گرفتاری پر ایس ایچ او گجر پورہ اور ان کی ٹیم کو ایس پی سول لائنز کی جانب سے شاباش دی گئی اور کہا گیا کہ سفاک قاتل کو جلد از جلد عبرتناک سزا دلوائی جائے گی
گھریلو ناچاقی پر بیوی کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار
گجر پورہ پولیس ان ایکشن،بیوی کے قتل میں ملوث سفاک شوہر گرفتارکر لیا گیا
ایس ایچ او گجر پورہ افضل سندھو کے مطابق گجر پورہ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر کے ملزم احسان کو فوری گرفتار کیا۔مرکزی ملزم احسان نے اپنی بیوی کو گھریلو ناچاقی پر پسٹل سے فائر کر کے قتل کیا تھا احسان کی بیوی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہوئے موقع پر جاں بحق ہو گئی تھی۔ گجر پورہ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے مقتولہ خاتون کے والد کی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ درج کیا تھا
مرکزی ملزم احسان سابقہ ریکارڈ یافتہ جس پر ناجائز اسلحہ چوری اور دھمکیوں کے مقدمات درج تھے مرکزی ملزم احسان کی بروقت گرفتاری پر ایس ایچ او گجر پورہ اور ان کی ٹیم کو ایس پی سول لائنز کی جانب سے شاباش دی گئی اور کہا گیا کہ سفاک قاتل کو جلد از جلد عبرتناک سزا دلوائی جائے گی
قبل ازیں جناح ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے والے ملزمان گرفتارکر لئے گئے، گارڈن ٹاؤن پولیس نے بروقت کاروائی کی اولیڈی ڈاکٹر کو ہراساں کرنے والے نوجوان پولیس کی گرفت میں آ گئے، متاثرہ لیڈی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی ختم کرکے ہوسٹل واپس جا رہی تھی تو دونوں لڑکوں نے چھیڑ خانی سمیت ہراساں کیا ،سکیورٹی سپروائزر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے ،ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز کا کہنا ہے کہ خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے ملزمان کو قرارواقعی سزا دلوانے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے،
قبل ازیں لاہور کے علاقے گجرپورہ میں شادی سے انکار پر ناکام عاشق نے محبوبہ کے گھر کے باہر جا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، مقتول کی شناخت افضال بٹ کے طور پر ہوئی، پولیس کے مطابق ملزم نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کیا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ بن گیا
گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں دو خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا ہے کراچی کے علاقے کرسچن کالونی سے خواجہ سرا کی لاش برآمد ہوئی ہے، خواجہ سرا ساجد عرف بجلی کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے، مقدمہ مقتول خواجہ سرا کے والد کی مدعیت میں تھانہ صدر میں درج کیا گیا، مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ خواجہ سرا ساجد کو ازار بند سے گلے میں پھندا لگا کر قتل کیا گیا ،پولیس کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا ساجد عرف بجلی کی لاش 13دسمبر کو گھر سے ملی تھی مقتول خواجہ سرا تنہا صدر کرسچن کالونی کے مکان مین رہائش پذیر تھا
Two trans women have been killed today, one in the morning and another just right now near Kala Pull and I'm at Jinnah Hospital right now with her body.
This is Karachi, and we are helpless and hopeless. What is Sindh Government doing to protect us? pic.twitter.com/l9juinySCD
دوسرے واقعہ میں خواجہ سرا کو کراچی کے علاقے کالا پل کے نزدیک قتل کیا گیا ہے ،دو خواجہ سراؤں کے قتل کے بعد خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا ہے اور قاتلوں کی گرفتاری کے ساتھ خواجہ سراؤں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ، خواجہ سراؤں کا کہنا تھا کہ ہم جناح ہسپتال آئے ہیں، ایک خواجہ سرا کا قتل ہوا، ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ بے دردی سے قتل کیا گیا ہے، اس سے قبل ایک خواجہ سرا کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا، ہم کہاں جائیں
خواجہ سراؤں کا مزید کہنا تھا کہ یہ کراچی ہے اور ہم بے بس اور ناامید ہیں۔ سندھ حکومت ہمارے تحفظ کے لیے کیا کر رہی ہے؟خواجہ سرا کمیونٹی کو روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور صنفی تشدد کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
شہر قائد میں دو مزید خواجہ سراؤں کے قتل کے بعد رواں برس شہر قائد میں قتل کئے گئے خواجہ سراؤں کی تعداد 6 ہو گئی، دو کو اغوا بھی کیا گیا ہے جو تاحال بازیاب نہ کروائے جا سکے، رواں برس شہر قائد کراچی میں خواجہ سراؤں پر تشدد کے 54 مقدمات درج کئے گئے ہیں
13 سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والے درندہ صفت دو ملزمان گرفتار
تھانہ شبقدر کی حدود میں 13 سالہ بچےکے ساتھ مبینہ زیادتی کی کوشش کرنے والے ملزمان کو چند ہی گھنٹوں میں گرفتار کیا۔ملزمان نے بچے پر پستول رکھکر دھمکایا تھا ملزمان موقع سے فرار ہوگئے تھے، تھانہ شبقدر میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، ڈی پی او چارسدہ آصف بہادر خان نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایس پی شبقدر سبزعلی خان کو فوری کاروائی کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا ٹاسک حوالہ کیا،
ڈی ایس پی شبقدر سبزعلی خان نے انسپکٹر گلشید خان ایس ایچ او شبقدر اور دیگر نفری کے ہمراہ علاقہ میں ملزمان کی سرچ شروع کی اور چند ہی گھنٹوں کی محنت کے بعد ملزم عبدالحمیدسکنہ مردانہ اور سلمان سکنہ پشاور کو گرفتار کئے۔ملزمان سے آلہ خوف پستول 30 بور بھی برآمد کیا گیا ہے۔ملزمان کومزید کاروائی کے لئے تھانہ شبقدر منتقل کرکے تفتیش شروع کی گئی۔متاثرہ بچے کےرشتہ داران نے پولیس کی بروقت کاروائی کو سراہتے ہوئے شبقدر پولیس حراج تحسین پیش کیا۔
قبل ازیں معظم جاہ انصاری انسپکٹر جنرل آف پولیس کے وژن کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران خان کی سربراہی میں نوشہرہ پولیس کا دُشمنیوں کو دوستی میں تبدیل کرنے کے سفر میں ایک اور دُشمنی کو دوستی میں تبدیل کر دیا گیا۔06-09-2021 سے جائیداد کے تنازعہ پر دو فریقین فضل امین اور گل فراز کے مابین دُشمنی شروع ہوئی۔جس میں ایک فریق سے ایک جانبحق جبکہ دوسرے فریق سے ایک شدید زخمی ہو چکا ہے۔ظفر خان SHO جلوزئی نے علاقہ مشران کے ذریعے اس قتل مقاتلے کی دُشمنی کو دوستی میں بدلنے کی بھرپور کوششیں شروع کر دی۔علاقہ مشران نے دونوں فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں کی۔پولیس اور علاقہ مشران کی کاوشاں رنگ لے آئی۔آج جامع مسجد شیخان (جلوزئی) میں پولیس ،علاقہ مشران اور سینکڑوں افراد کی موجودگی میں دونوں فریقین نے راضی نامہ کر لیا۔دونوں فریقین نے پُرانی عداوتیں بُلاکر ایک دوسرے سے بغلگیر آئندہ کیلئے امن وامان کیساتھ رہنے کا عہد کیا۔ فریقین نے پولیس اور علاقہ مشران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خصوصی شکریہ ادا کیا۔
قبل ازیں ڈی پی او لکی مروت شہزادہ عمر عباس بابر کے ہدایات پر ضلع بھر میں مجرمان اشتہاریوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف مزید گھیراتنگ کرتے ہوے تھانہ نورنگ پولیس کا آیس ایچ او جاوید خان کی قیآدت میں پولیس پارٹی نے خفیہ انفارمیشن پر ہاتھی کلہ میں کاروائی کرتےہوئے ،ضلع بنوں پولیس کو قتل کے مقدمہ سال 2017 سے مطلوب مجرم اشتہاری رحمن اللہ ولد محمود عرف ماماجی سکنہ کوٹکہ اسم دین فاطمہ خیل حال شمسی خیل کو گرفتار کرلیا۔
تعلیمی ادارے میں 14 سالہ بچے کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی AVLS سمیت دیگر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ہے
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ وہیکل سنیچر و چور 10 گینگز کے25 پیشہ ورملزمان سمیت130ملزمان گرفتار کئے ہیں، ملزمان سے3کروڑ43 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 29 گاڑیاں ،534موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں،ملزمان گن پوائنٹ پر شہریوں کو ان کی سواری سے محروم کر دیتے تھے،ملزمان گھروں،پلازوں اور پارکنگ اسٹینڈز کے باہر کھڑی گاڑیوں کو ماسٹر چابیوں کے ذریعے کھول کر فرار ہو جاتے تھے،ملزمان کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں وہیکل چھیننے اور چوری کے560مقدمات ٹریس کئے گئے ہیں تمام ملزمان سابقہ ریکارڈ یافتہ اور عرصہ دراز سے لاہور کے مختلف علاقوں میں وہیکل چوری کی وارداتیں کرتے تھے،شہریوں کے جان و مال کی حفاظت پولیس کی اولین ترجیح ہے،جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،
قبل ازیں سبق یاد نا کرنے والے طالب علم پر تشدد کرنے کا معاملہ،گارڈن ٹاؤن پولیس نے استاد مفتی نوید کو گرفتار کر لیا،بچے صائم ایثار کے والد نے تھانہ میں درخواست دیدی،بچے کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کی اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی ہے اور اساتذہ بھی اس بات سے آگاہ ہیں، ایس ایچ او گارڈن ٹاؤن عمران انوار کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے کا میڈیکل کروایا جا رہا ہے، میڈیکل رپورٹ کے مطابق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،معصوم بچوں پر تشدد کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے،
قبل ازیں لاہور پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مفرور مجرمان کے گرد گھیرا تنگ کر لیا ہے،ایس پی سٹی رضوان طارق کی قیادت میں مفرور مجرمان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے،داتا دربار اور لوہاری گیٹ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے تین مفرور اشتہاری گرفتار کر لئے،داتا دربار پولیس نے کاروائی کرتے دھوکہ دہی فراڈ اور چوری کے مقدمات میں مفرور دو اشتہاری گرفتار کیے لوہاری گیٹ پولیس نے کاروائی کے دوران مفرور اشتہاری شیر محمد کو گرفتار کیا مفرور اشتتہاری راجن پور, سیالکوٹ اور قصور پولیس کو مطلوب تھے گرفتار اشتتہاریوں میں صدیق, عمران اور شیر محمد شامل ہیں مفرور مجرمان کو گرفتار کر کے متعلقہ پولیس کے حوالے کیا گیا,
اسلام آباد محفوظ ترین یا جرائم کا گڑھ، ایک دن میں پانچ سو سے زائد مقدمے درج
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا آئی جی تو بدل گیا لیکن جرائم میں کمی نہ آ سکی، نئے آئی جی کے چارج لینے کے چند دن بعد ہی ایک دن میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چوری و ڈکیتی کے 554 مقدمے درج کیے گئے ہیں
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، گزشتہ دنوں آئی جی اسلام آباد کے گھر کے سامنے دن دہاڑے ڈکیتی کی واردات ہوئی تو چند دن بعد آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کر دیا گیا ، انکی جگہ لاہور سے احسن یونس کو آئی جی اسلام آباد لگا دیا گیا، نئے آئی جی کے چارج لینے کے بعد بھی اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں ذرہ بھر کمی نہ آئی، چور، ڈاکو دن دہاڑے واردادتیں کر رہے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی نظر آتی ہے،
اسلام آباد میں گزشتہ ایک روز میں 554 چوری اور ڈکیتی کے مقدمات درج کئے گئے ہیں، سب سے زیادہ مقدمے تھانہ بہارہ کہو میں درج کئے گئے، تھانہ آبپارہ 40 مقدمات، تھانہ سکیرٹریٹ 53، تھانہ کوہسار 40، تھانہ بھارہ کہو 62، تھانہ مرگلہ 11، تھانہ کراچی کمپنی16، تھانہ گولڑہ 20، تھانہ ترنول 17، تھانہ رمنا 3، تھانہ شالیمار 42، تھانہ آئی نائن 18، تھانہ سبزی منڈی 9، تھانہ شمس کالونی 11، تھانہ نون 6، تھانہ شہزاد ٹاؤن 15، تھانہ کھنہ 30، تھانہ کورال 44، تھانہ نیلور 19، تھانہ سہالہ 42، تھانہ لوہی بھیر میں 60 مقدمات درج کئے گئے ہیں
دوسری جانب تھانہ سہالہ نے 15 نومبر سے قبضہ مافیا کے خلاف دی گٸی درخواست پر ایف آئی آر نہ کاٹی۔ مدعی در در کے دھکے کھانے پر مجبور ہو گیا۔ آئی جی احسن یونس سے انصاف کی اپیل کر دی گئی ،تھانہ سہالہ کے علاقے موضع ہمک جی ٹی روڈ پر واقع مدعی کے 2 کنال کے پلاٹ پر قبضہ مافیا نے قبضہ کر لیا مدعی کو بہت سالوں سے عدالتوں کے چکر لگواتے رہے ۔ عدالتوں سے جب ان کو منہ کی کھانی پڑی تو پلاٹ کی دیواریں گرا دیں قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ مدعی کی دادی نے یہ پلاٹ 1976 میں خریدا۔ 1985 میں مدعی کی دادی کا انتقال ہو گیا۔ مدعی کی دادی کے انتقال کے بعد اصغر علی نے 1995 میں مدعی کی دادی کے نام سے ایک جعلی اٹارنی بنوائی اور یہ پلاٹ علی اصغر کے نام بیچ دیا۔ مدعی نے اس جعلی اٹارنی کوچیلنج کیا جس پر 2001 میں سول کورٹ نے اٹارنی کو جعلی قرار دیتے ہوئے زمین کی رجسٹری اور انتقال کینسل کردیا 2006 میں ملزمان نے دوبارہ عدالت میں اپیل کردی۔ یہ سارا کچھ کرنے کے دوران سائیں انعام نامی شخص نے یہ پلاٹ اصغر علی اور علی اصغر سے 2013 میں اسٹام پر خرید لیا۔ اب جب مدعی نے پلاٹ پر چار دیواری لگائی تو سائیں انعام نے آ کر ساری دیواریں توڑ دی۔
مدعی نے مزمان کے خلاف ایک مہینہ پہلے مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی مگر ملزمان اتنے بااثر ہے کہ پولیس مقدمہ درج کرنے سے قاصر ہے۔ مدعی نے آئی جی اسلام آباد احسن یونس سے مقدمہ درج کرنے اور انصاف دلانے کی اپیل کی ہے
سکول میں گھس کر خاتون ٹیچر سمیت دیگر کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار
نوشہرہ کے تھانہ اکوڑہ پولیس نے پرائیوٹ سکول کے خاتون ٹیچر سمیت دوسرے اساتذہ پر ہاتھ اُٹھانے اور سنگین دھکمیاں دینے والے ملزم کو چند گھنٹوں کے اندر گرفتار کر ل
خیبر ماڈل سکول اینڈ کالج کی پرنسیپل صاحبہ مسماة(ث)نے پولیس کو رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا کہ لیاقت فرید کے بچے ہمارے سکول میں پڑھ رہے ہیں جن کی سکول فیس گزشتہ ڈیڑھ سال سے بقایاہے۔ لیاقت میرے آفس آیا اس وقت ہمارے اکاونٹنٹ نے فرید کو فیس جمع کرنے کیلئے کہا۔جس پر وہ غُصہ ہوا اور اکاونٹنٹ کیساتھ مار پیٹ شروع کی ۔شور پر کلاس رومز سے دوسرے ٹیچرز بھی آئے لیاقت نے مجھے اور دوسرے اساتذہ کو مار پیٹا۔توڑ پھوڑ کرکے مجھے اور اساتذہ کو سنگین دھکمیاں دی۔
ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان نے اساتذہ کیساتھ بدتمیزی اور سکول میں توڑ پھوڑ کا نوٹس لیتے ہوئے ارشد احمد DSP اکوڑہ اور غافراللہ خان SHO اکوڑہ کو فوری طور پر ملزم کی گرفتار کا ٹاسک حوالہ کیا۔چند گھنٹوں کے اندر ملزم لیاقت فرید ساکن اکوڑہ کو گرفتار کرکے تھانہ اکوڑہ منتقل کر دیا گیا۔ڈسٹرکٹ پولیس افیسر عمران خان نے کہا کہ اساتذہ ہمارے قوم کے معمار اور قابل عزت ہیں۔اساتذہ کیساتھ بدسلوکی بالکل برداشت نہیں ہوگی اور بدسلوکی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
قبل ازیں تھانہ رسالپور پولیس نے پبلک ٹرانسپورٹ میں منشیات سمگل کرنے کی کوشش نا کام بنادی۔خاتون کے سینڈل جبکہ مرد کے چپلوں سے منشیات برآمد کر لی،شاکر خان انچارج چوکی بارہ بانڈہ کو باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ ایک مرد و عورت پبلک ٹرانسپورٹ میں منشیات سمگل کر رہے ہیں۔جس پر لیڈی کانسٹیبل کے ہمراہ رشکئی انٹر چینج کے قریب ناکہ بندی کی۔دوران چیکنگ ایک کوسٹر کو روک کر مرد کی تلاشی لیکر مرد کے چپلوں سے ہیروئن کر لی گئی۔ملزم کیساتھ موجود خاتوںکی تلاشی بذریعہ لیڈی کانسٹیبل لیکر خاتون کے سینڈل سے بھی ہیروئن برآمد کر لی گئی۔وزن کرنے پر ہیروئن ٹوٹل 1.2 کلو گرام نکلی۔دونوں ملزمان محمد حنیف ولد محمد صادق ساکن ایبٹ آباد اور نسرین زوجہ مشتاق ساکن مظفر گڑھ کو موقع پر گرفتار کرکے تھانہ رسالپور منتقل کر دیا گیا۔دونوں کیخلاف منشیات سمگل کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔
3 ملزمان کی دو لڑکیوں کے ساتھ گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں تین افراد نے ملکر دو لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا،تینوں ملزمان گھر میں گھسے اور گھر میں موجود دو لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، دو ملزمان فرار ہو گئے ہیں، ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے موبائل فون اور پیسے بھی چھین لئے .پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا،.
دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ڈیفنس میں 2 لڑکیوں سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکیوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مفرور ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں
قبل ازیں لاہور کے علاقے امامیہ کالونی میں گھریلو جھگڑے پر شوہر نے گرم پانی اپنی بیوی کے اوپر پھینک ڈالا جس سے وہ بری طرح جھلس گئی امامیہ کالونی کے رہائشی حسنین رضا اور بیوی نورین بی بی کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوگئی حسنین رضا نے مشتعل ہوکر گرم پانی بیوی پرپھینک دیا جس سے اس کا جسم اور بازو ٹانگ بری طرح جھلس گئے اسے ہسپتال داخل کرایا گیا ۔ فیروزوالہ پولیس نے حسنین رضا کو حراست میں لے لیا اورواقعہ کا مقدمہ درج کر لیا
پانچ سالہ معصوم بچے کیساتھ بدفعلی کی کوشش کرنے والا درندہ صفت ملزم گرفتار کر لیا گیا
لاہور کے علاقے غالب مارکیٹ پولیس نے ہیلپ لائن کال 15 پر فوری کارروائی کی اور چند گھنٹوں میں ملزم سجاول گرفتار کر لیا، بچے کے والد کا کہنا تھا کہ بچے کو گھر میں اکیلا پا کر مالک مکان کے ملازم نے بدفعلی کی کوشش کی، ایس ایچ او غالب مارکیٹ انسپکٹر عمران خان کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچے کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، مزید تحقیقات کیلئے انویسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے، ایس پی ماڈل ٹاؤن صاعد عزیز نے ملزم کی فوری گرفتاری پر غالب مارکیٹ پولیس کو شاباش دی اور کہا کہ معصوم بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والے ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے گا،
دوسری جانب 01 کروڑ روپے کے بوگس چیک کے مقدمات میں مطلوب مفرور اشتہاری گرفتار کر لیا گیا،گلشن راوی پولیس نے کارروائی کی، 03 سال سے مفرور اشتہاری ملزم امجد گرفتارکر لیا، مفرور ملزم کے خلاف تھانہ ڈیفنس اے میں 03 مقدمات جبکہ نیو انارکلی میں بھی مقدمہ درج تھا۔مفرور اشتہاری ملزم کے خلاف 01 کروڑ سے زاید مالیت کے بوگس چیک کے مقدمات درج تھے۔ملزم کو گرفتار کرکے متعلقہ پولیس اسٹیشن انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔
قبل ازیں ڈی آئی جی آپریشنز احسن یونس کی ہدایت پرشیراکوٹ پولیس نے کارروائی کی ،سنیپ چیکنگ کے دوران 02 سگے بھائی منشیات فروش علی حسن اور علی حمزہ گرفتار کر لئے گئے، ایس پی اقبال ٹاؤن کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضہ سے 05 کلو گرام سے زائد چرس برآمد کر لی گئی، ابتدائی تحقیقات میں ملزمان نے تعلیمی اداروں کے اردگرد چوک چوراہوں میں منشیات فروخت کرنے کا انکشاف کیا،طلعت پارک شیراکوٹ سے سنیپ چیکنگ کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔ درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ